فیض احمد فیض کے نام خط


فیض صاحب!

میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں۔ ایک اس بنا پر کہ آپ اولڈ راوین ہیں اور دوسری وجہ یہ کہ آپ نے زندگی میں ”کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا“ اور ادب والوں کو محنت کا درس دے گئے۔ آپ شاعر ہیں اور ادب میں آپ کا مقام بلند ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی من مانی کرتے پھریں۔

آج 13 فروری ہے اور آج ہی کے دن آپ کا جنم ہوا تھا۔ آج کی تقریب بھی آپ نے اسی خوشی میں ترکیب دی ہے۔ شاید آپ کے علم میں نہیں کہ ہم آپ کا جنم دن بڑے اہتمام سے مناتے ہیں۔ اس وجہ سے آپ کو اپنے جنم دن کی پارٹی کے لیے تردد کی ضرورت نہ تھی۔ چلو کوئی بات نہیں۔ جنت میں آپ فارغ ہوتے ہوں گے اور کوئی کام کرنے کو نہیں ہو گا تو آپ نے جشن تولد منانے کا پروگرام بنایا ہو گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خیال مشتاق احمد یوسفی کی ذہنی اختراع ہو۔

مگر ایک بات تو بتائیے کہ اس جشن میں امجد اسلام امجد اور ضیاء محی الدین کو بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ ناصر کاظمی، اقبال، ن م راشد، اور زیادہ شوق ہوتا تو پطرس بخاری کو مدعو کر لیتے۔ آپ نے اپنی محفل میں لفظی جادوگری کا رنگ جمانے کے لیے ضیاء محی الدین کو دعوت نامہ بھیج دیا۔ آپ کا خط ملے اور وہ انکار کر دیں، ایسا تو ممکن نہ تھا۔ مگر دعوت نامہ بھیجنے سے قبل آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ اس رن سے جسے ایک بار بلاوا آ جاتا ہے وہ واپس نہیں آیا کرتے۔

آج آپ کے لیے ”جشن کا دن“ ہے۔ آپ ضیاء صاحب کی آمد پر کہہ رہے ہوں گے ”اج آ ویہڑے وچھڑے یار میرے“ اور محفل کے بعد آپ ان کے سامنے اپنے غم عیاں کریں گے اور ان کی آواز فکر رفو میں ہو گی۔ مگر ہمارے لیے ”یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے۔“ ہم ساکنان جہان خراب بھلا کس کی آواز سے روح کے گھاؤ بھریں گے۔ آپ اپنی کرنی تو کر گزرے، کاش ”میرے درد کو جو زباں ملے“ تو آپ کو بتاؤں کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ اردو ادب کو ایک ہی تو قاری ملا تھا، اسے بھی آپ نے چراغ محفل بنا لیا۔ آج سے آپ کی راتیں روشن اور شعلہ ادب سیاہ پوش ہو گیا۔ آپ نے ضیاء محی الدین کو کیوں دعوت نامہ بھیجا، اور ہماری دنیا کی آواز کیوں سلب کر لی؟ اب یہ نہ کہیے گا کہ ”اب کوئی چارہ نہیں“ اور ”غم نہ کر“ کی صورت جھوٹی تسلی نہ دیجیے گا۔

جواب کا منتظر
اویس

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais