ترکوں سے اظہار یک جہتی: محبت قرض ہوتی ہے


ترکوں کو پاکستان اور پاکستانیوں سے جو خصوصی محبت ہے اس کا ایک الگ رنگ ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں سے ان کی گرم جوشی اور محبت کا احوال ہم ہمیشہ سنتے آئے ہیں۔ ترکیہ جانے والے اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ سب اس پر متفق ہیں کہ ترک عوام پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ دل سے محبت کرتے ہیں اور یہ صرف سنی سنائی بات یا بیانیہ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب ترکوں پر افتاد آ پڑی اور ترک فوجیوں نے اپنی آزادی کی جنگ لڑی، اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں نے ان کا بھرپور ساتھ دینے کی نیت سے تحریک خلافت چلائی، بے شمار مسلمان خواتین نے اپنے زیور عطیہ کیے کہ یہ رقم ترک فوجیوں کو بھجوائی جائے تاکہ وہ اسلحہ وغیرہ لے سکیں۔ اس کا اثر اتنا گہرا اور دوررس پڑا کہ آج ایک صدی گزر جانے کے باوجود ترک قوم کے حافظے اور دل سے وہ یادیں محو نہیں ہو سکیں۔ ایک پاکستانی نے ترک میزبان سے پوچھا کہ تین چار نسلیں گزر گئیں، ابھی تک آپ کو وہ بات یاد ہے؟

مسکرا کر وہ بولے کہ ترک اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتے۔ وہاں کی سیاحت کر کے آنے والے بتاتے ہیں۔ کہ بازاروں میں گھومتے، خریداری کرتے جس کسی کو پتہ چلتا ہے آنے والے پاکستانی ہیں تو وہ محبت سے گلے لگاتا اور برملا کہتا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ خریداری میں خصوصی رعایت کی جاتی ہے اور اکثر گفٹ دے کر رخصت کرتے ہیں۔

عبدالرحمن کو ترکیہ میں ہیرو کا مقام حاصل ہے، ان کا مقبرہ ترکی کے شہر استنبول میں ہے اور آج بھی ملک کے طول و عرض سے ترک شہری اپنے اس ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق عبدالرحمٰن پشاوری کی پیدائش 1880 ءکی دہائی میں پاکستان کے شہر پشاور میں غلام صمدانی کے گھر ہوئی۔ جب تحریک خلافت شروع ہوئی، عبدالرحمٰن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میڈیکل کے طالبعلم تھے۔ ان دنوں برطانوی حکومت برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے ترک بھائیوں کی مسلح مدد کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اس پابندی کے باعث ڈاکٹر مختار احمد انصاری نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی ایک ٹیم تیار کی اور عبدالرحمٰن پشاوری بھی اس ٹیم میں شامل ہو کر ترکی پہنچے۔

ابتدائی طور پر 13۔ 1912 ءمیں وہ سلطنت عثمانیہ کے پیپلز مشن کا حصہ بنے۔ بلقان جنگ میں حصہ لیا اور ترک جنگ آزادی میں بے مثال بہادری سے لڑے۔ جنگ کا خاتمہ ہونے کے بعد بھی وہ سلطنت عثمانیہ میں ہی مقیم رہے۔ انہوں نے پہلی جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا اور ترک جنگ آزادی کے ہیرو بھی قرار پائے۔ اتا ترک مصطفٰی کمال نے انہیں افغانستان میں ترکی کا سفیر بھی مقرر کیا۔ ترک جب بھی اپنے اس عظیم ہیرو کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ پاکستان سے اپنی محبت کا ذکر کرنا ہرگز نہیں بھولتے۔ اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ ترکوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی مدد کی۔

آٹھ اکتوبر 2005 ء کے زلزلے میں ترکوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ پاکستان سے زلزلے کی خبریں آنا شروع ہی ہوئی تھیں۔ کہ وزیراعظم طیب اردوان کے آفس کی طرف سے ترکیہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے ڈائریکٹر جنرل کو افسردگی کا پیغام ملا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وہ ان کا یہ پیغام حکومت پاکستان کو پہنچائیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں ترک قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم اردوان کی فوری ہدایت پر ایک کارگو جہاز امدادی سامان سے لاد دیا گیا ہے آپ اپنی حکومت سے رابطہ کر کے طیارے کی لینڈنگ کی اجازت کی ہدایات لیں اجازت ملتے ہی طیارہ اڑان بھر لے گا۔

دوسری جانب انقرہ میں ترکوں نے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پاکستانی سفارت خانے کا رخ کر لیا۔ ان میں بڑے ہی نہیں سکولوں کے بچے بھی شامل تھے ’افسوس کے اظہار کے ساتھ وہ بتا رہے تھے کہ جب ترکی میں خلافت ختم ہوئی تھی تو ہندوستان کے مسلمانوں نے ان کی بہت مدد کی تھی لہٰذا آج دکھ کی گھڑی میں وہ پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سفارتخانے آنے والے اپنے ساتھ نئے خریدے ہوئے کمبل‘ رضائیاں ’گرم کپڑے‘ جیکٹیں ’کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیاں اٹھائے ہوئے تھے۔

ایک بوڑھی ترک عورت اپنے ساتھ ایک بڑا بیگ پاکستانی سفارت خانے لائی جب اسے کھولا گیا تووہ بچوں کے سویٹرز ’اونی جرسیوں اور سکارف سے بھرا ہوا تھا جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے دن رات لگا کر بنائے تھے۔

انقرہ میں پاکستانی حکومت کی طرف سے ریلیف فنڈ اکاؤنٹ کھولا گیا تو اس میں چالیس لاکھ اور استنبول میں 80، لاکھ ڈالرز اکٹھے ہوئے۔ ترک خواتین نے اپنے زیورات تک اس فنڈ میں جمع کراتے ہوئے کہتیں کہ وہ اس لیے اپنے زیورات جمع کرانے آئی ہیں کہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے سنا اور پڑھا ہے کہ تحریک خلافت کے دنوں میں ہندوستان کی مسلمان عورتوں نے بھی ان کی مدد کے لئے اپنے زیورات تک اتار کر ترکی بھیجے تھے۔ ہم اس عظیم قرض کو لوٹانے کے لئے آج اپنے زیورات دینے آئی ہیں کہ عورت کے لئے زیور سے زیادہ کوئی اہم چیز نہیں ہوتی۔

آج وہی ترک مشکل اور مصیبت میں ہیں۔ ترکیہ غریب ملک نہیں ’غیرت مند قوم ہے۔ وہ اپنا اور اپنے شہریوں کا خیال رکھ سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم آج ان ترکوں کی وہ محبت لوٹا سکتے ہیں جو انہوں نے 2005 ء کے زلزلے کے دنوں میں دکھائی تھی؟ اگر ترک 1922 ء میں ہندوستانی مسلمان عورتوں کے زیورات کو نہیں بھولے تو آج 2023 ء میں ہم پاکستانیوں کو بھی 2005 ء میں ان ترک خواتین کے جذبات کو نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے پاکستانی سفارتخانے میں کھڑے ہو کر اپنے زیورات گلے سے اتار کر یہ کہتے ہوئے جمع کرائے تھے کہ ہم سب اپنے اسی نوے سالہ پرانے قرض لوٹانے آئی ہیں۔

اب آئیے اس خبر کی طرف جس نے دل کو شادمانی بخشی اس کا تذکرہ الفاظ میں کرنا ممکن نہیں۔ ایک پاکستانی تاجر نے ترکیہ اور شام میں زلزلہ متاثرین کے لیے 30 ملین ڈالر کی رقم عطیہ کی اور اپنا نام بھی بتانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ اس گمنام پاکستانی نے امریکا میں ترکیہ کے سفارت خانے جا کر ترکی اور شام میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے 30 ملین ڈالر کا عطیہ دیا جس کی تصدیق امریکہ میں ترک سفیر حسن مرکان نے کی ہے۔ یہ جذبہ قابل تعریف ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امداد کا سلسلہ روزانہ جاری رہے گا، آج 100 ٹن کا سامان ایران پاکستان بارڈر کے راستے سے ترکیہ لے جایا جائے گا، ترکیہ میں 100 سالہ تاریخ میں بدترین زلزلہ آیا، ترکیہ شام زلزلے میں ہزاروں لوگ جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو گئے، پاکستان کے عوام ترکیہ اور شام زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں، ترکیہ پاکستان کا ، دوست ملک ہے، مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے

Facebook Comments HS