آہ ! امجد اسلام امجد


دنیائے شعر و ادب کا درخشندہ ستارہ معروف شاعر، نقاد، ڈرامہ نویس، کالم نگار، استاد، امجد اسلام امجد کل رات اپنی زندگی کا سفر مکمل کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئے۔ گویا اب علم و ادب کے میدان میں چاروں طرف مایوسی، اداسی، غمگینی اور خاموشی کا سماں ہیں۔ ان کے انتقال سے شعر و ادب کا میدان غمگینوں اور ادaسیوں میں ڈوب گیا ہے اور ہر طرف سناٹا ہی سناٹا چھایا ہے۔

” چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار“

آج کا یہ عہد عجیب عہد ہو گیا ہے جو بھی علم و ادب، شعر و شاعری، تنقید، ڈرامہ نویسی، وغیرہ کے حوالے سے ایک مستند و معتبر حوالہ بن جاتا ہے وہ ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یعنی یہ دنیا بے وفا دنیا ہے جس سے کسی کو بھی وفا نہیں۔ آج ہم اپنی تہذیب و ثقافت کے علمبردار، شعر و ادب کے امام، معروف ڈرامہ نویس، کالم نویس، استاد محترم امجد اسلام امجد کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہا ہے قلم اور الفاظ بھی ایک دوسرے کے ساتھ دینے سے قاصر ہے۔

4 اگست 1944 کو امجد اسلام امجد لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پہ حاصل کی اس کے بعد بی۔ اے تک کی تعلیم لاہور میں ہی حاصل کی اور ایم۔ اے اردو  بھی 1967 میں پنجاب یونیورسٹی سے ہی مکمل کیا۔ امجد اسلام امجد نے ملازمت کا آغاز بحیثیت مدرس کیا۔ سات سال تک ایم اے او کالج لاہور میں بحیثیت لیکچرار شعبہ اردو میں استاد رہے۔ بعد ازاں کی علمی و ادبی خدمات کی بنا پر 1975 میں پنجاب آرٹ کونسل کا ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔

امجد اسلام امجد اپنی ذات میں ایک انجمن کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک نابغہ روزگار ہستی ہیں آپ بیک وقت شاعر، ناقد، ڈرامہ نویس، محقق، صحافی، کالم نویس تھے۔ ان کو ڈراموں اور شاعری دونوں میں شہرت حاصل ہے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں وارث، دن، فشار وغیرہ شامل ہیں، امجد اسلام امجد کو 1975 ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے مشہور ٹی وی ڈرامہ ’خواب جاگتے ہیں‘ لکھنے پر گریجویٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان کا شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوئے مزید برآں افریقی شعرا کی نظموں کا ترجمہ کالے لوگوں کی روشن نظمیں کے نام سے شائع ہوا۔

دیگر شعری مجموعوں میں بارش کی آواز، شام سرائے، اتنے خواب کہاں رکھوں، نزدیک، یہیں کہیں، ساتواں در، فشار، سحر آثار، محبت ایسا دریا ہے، برزخ، اس پار، پھر یوں ہوا، ذرا پھر سے کہنا، باتیں کرتے دن، رات سمند ر میں، ہم اس کے ہیں (کلیات) ، سپنوں سے بھری آنکھیں اور اسباب (حمد و نعت) ان کی عظمت کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعے تیسرے پہر کی دھوپ، کوئی دن اور چراغ راہ گزر کے نام سے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ سفرنامے اور ڈرامے بھی اشاعت کے مراحل سے گزر چکے ہیں۔

اس کے حوالے تنقیدی مضامین کی ایک کتاب ” تاثرات“ بھی ان کی تصنیف کی ہوئی ہے۔

علم و ادب کے میدان میں ان کی انہی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں اسی کی دہائی میں حکومت پاکستان نے ستارہ، تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ پی۔ ٹی اور نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکا ہے۔

انھوں نے شاعری کے تمام جملہ اصناف پر طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کی نظمیں بہت ہی مقبول ہے بلکہ ان کو انہی نظموں کی وجہ سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کا یہ خاصہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں آسان الفاظ استعمال کرتے ہیں بلکہ ادق و پیچیدہ خیال کو بھی ایسی دلکشی کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کے دل میں نقش کر جاتے ہیں گویا ”دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے“ یہی ان کی شاعری کا کمال ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں سے انتخاب پیش کیے دیتے ہیں۔

جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے
یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے
زندگی کا ہی نہیں ٹھور ٹھکانہ معلوم
موت تو طے ہے کہ کس وقت کہاں آنی ہے
یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے
جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے
ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا
ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے
یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں
کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے
کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا
بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم
ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا
سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں
آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں
سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں
دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں
صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے
اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں
دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے
اس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی
جیسے پانا ہی اسے اصل میں مر جانا ہے
بول اے شام سفر رنگ رہائی کیا ہے
دل کو رکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا۔

Facebook Comments HS