خدا، دل اور محبت۔ ہیپی ویلینٹائن ڈے

آسمان پر اقدار کا ایک پرستان تھا۔ اس میں ”محبت“ نام کی پری رہتی تھی۔ صدیوں سے وہ یہاں رہائش پذیر تھی۔ محبت سارے آسمان پر معروف تھی کہ اس کے ہوتے پرستان میں کبھی کوئی مسئلہ پروان نہیں چڑھا کبھی کسی قضیے نے سر نہیں اٹھایا۔
محبت نے آسمان پر اپنے تئیں عطا کا وہ نظام قائم کر رکھا تھا کہ ہر مسئلے کا حل اس کے پاس تھا۔ یہ بیٹھتی اور کسی بھی مسئلے کو چٹکیوں میں حل کر دیتی۔
شب و روز اس کی سوچ کا دائرہ صرف خیر کے گرد گھومتا۔ بھلائی کے مدار میں حرکت کرتا۔ اس کا ہاتھ دست عطا تھا۔ جو بس دینا جانتا تھا آسمان پر اس کا یہ قول بہت مشہور تھا کہ ”دین ہی دین ہے“ ۔
وہیں سے کچھ دور ایک مٹی کے کچے مکان میں دل رہتا تھا۔ دل سارے پرستان کو آب حیات مہیا کرتا تھا۔ محبت کی عقیدت یوں تو فلک پر عام تھی مگر دل کو محبت سے یوں لگاؤ ہوا کہ عشق کا روپ دھار گیا۔ محبت دل کے من میں رہنے لگی۔
ایک دن دل نے محبت سے اپنے عشق کا اظہار یوں کیا۔
تم دل کے دل میں بستی ہو
لہو بن کر برستی ہو
محبت ہے مجھے جس سے
”محبت“ تم وہ ہستی ہو
محبت نے بڑی ادا سے مگر پورے اعتماد سے کہا۔
خدا کا نام لے کر تم
کہو وعدہ نبھاؤ گے
قسم کھاؤ قیامت تک
مجھے دل میں سجاؤ گے
محبت کی بہشت کے جام سی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دل نے پورے اعتماد سے کہا۔
محبت ساتھ گر ہو گی
بڑا پیارا سفر ہو گا
کہ دل یہ باخدا تاعمر
محبت ہی کا گھر ہو گا
اور یوں دل اور محبت کا عشق کائنات کا پہلا عشق بنا۔ جہاں دل ہوتا محبت ہوتی، جہاں محبت ہوتی وہاں ممکن نہ تھا کہ دل نہ ہو اس کی دھڑکنیں نہ ہوں۔ کوئی تھا جو یہ دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
ایک دن اس شہنشاہ احد نے دونوں کو اپنے دربار میں بلایا۔ فرشتے کا پیغام ملنا تھا کہ دل و محبت نے وضو کیا اور در خدا پر جا کر سجدے میں گر گئے۔ اے خدا تیرا حکم ملا۔ ہم حاضر ہیں مالک
خدا نے کہا اے دل! محبت سے عشق کرنے لگا؟
دل نے جھک کر عرض کیا۔ جی مالک
خدا نے کہا۔ محبت میری صفت ہے اور میری کسی صفت کا دعویٰ دار ممکن نہیں کہ آزمائش سے نہ گزرے۔
دل نے کہا۔ محبت کی خاطر ہر آزمائش سے گزرنے کے لیے تیار ہوں پروردگار۔
خدا نے کہا۔ اس کا فیصلہ زمین پر ہو گا۔ جب تجھے محبت کے ساتھ کا خراج ادا کرنا پڑے گا۔ محبت کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ زمانے کی کھوٹ، مفاد کی چکاچوند اور غرض کی آلائش جب سامنے ہو گی تو پھر پتا چلے تیرے عشق کا تیری محبت کا۔
اور پھر خدا محبت سے مخاطب ہو کر فرمانے لگا۔
میں تم پر ایک کائنات کھڑی کرنے جا رہا ہوں۔ زمین پر زندگی تمہارے وجود سے پروان چڑھے گی۔ دل اور محبت کے ساتھ کو اب میں تا قیامت پرکھوں گا۔
محبت نے کہا۔ جو حکم اے پروردگار۔ بندی امر کے تابع ہے۔ مگر مجھے کرنا کیا ہے۔
خالق کائنات نے کہا۔ آدم و ابلیس کا قصہ تم اہل فلک دیکھ چکے۔ آدم و حوا اب زمین پر جائیں گے۔ ان کے سینوں میں دل دھڑکے گا۔ دل میں تم رہو گی۔ تم سے زندگی جنم لے گی۔ پھر تمہارے کئی روپ ہوں گے ۔ تم ممتا بن کر ماں کے دل میں رہو گی، پدری شفقت بن کر باپ کے دل میں بسو گی، ازالے اور تابعداری کے روپ میں اولاد کے دل کی زینت بنو گی اور خدمت خلق بن کر ہر اس دل میں رہو گی جس میں، میں رہوں گا۔
محبت اور دل دونوں کے روئیں روئیں میں عبودیت کا احساس سجدہ ریز ہونے لگا۔ تشکر آمیز جذبات بوندوں کا روپ دھار کر آنکھوں سے دہلیز در خدا کو بھگونے لگے۔ دل یہ سوچ کر ششدر و حیران تھا کہ خدا مجھ میں کیسے۔ اور محبت یہ سوچ کر ہی فریفتہ و نازاں کہ پوری کائنات کا مالک ایک چھوٹے سے دل میں میرے سنگ کیسے رہے گا۔
خدا نے کہا اب زمین پر جانے سے قبل عہد کرو۔
دل نے کہا۔ عہد کرتا ہوں کہ زمین پر جا کر نیت کے راستے کو صاف رکھوں گا دل کو ہر طرح کی کھوٹ سے پاک کہ میری محبت نے اس میں رہنا ہے میرے پروردگار نے اس کو رونق بخشنی ہے۔
محبت کہنے لگی عہد کرتی ہوں کہ جو دل خالص نہیں ہو گا جس میں کھوٹ ہو گی، جس انسانیت کا درد نہیں ہو گا اس میں نہیں رہوں گی جہاں خدا نہیں ہو گا وہاں نہیں رہوں گی۔
یہ کہہ کر دل اور محبت کو خدا نے دو دو حصوں میں ”کن فیکون“ کیا اور آدم و حوا کے سینوں میں سمو دیا۔ دونوں زمین کی جانب روانہ کیے گئے تو تیسرا بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا دیکھتا ہوں کیسے دل میں خدا اور محبت بستے ہیں۔ اس میں، میں اور میری محبوبہ ہی رہیں گے۔
یہ کہہ کر اس نے پیچھے مڑ کر ایک بدروح کا ہاتھ تھاما اور زمین کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ نفرت تھی۔
خدا اور محبت کا ساتھ یا ابلیس و نفرت کا ساتھ فیصلہ انسان کا۔

