بے گانگی

میں ایک میٹنگ میں تھا۔
میں بہت سے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے دماغ کا دسواں حصہ استعمال ہو رہا ہے۔
میری نظر کھڑکی سے باہر گئی، دور نیلے آسمانوں کی وسعتوں میں جہاں چیلیں دائروں میں محو پرواز تھیں۔ میری نگاہ وہاں سے پلٹ کر سڑک کی دوسری جانب بنے پلازے پر پڑی۔
چھ منزلوں سے اوپر بھی دو منزلیں ہیں۔ میں کھڑکی سے اب اندر کی طرف دیکھنے لگا۔
تمام لوگ میرے سمیت روزمرہ کی ایک میٹنگ میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے مکالمہ کر رہے تھے۔
اگر میں وہاں ہوں تو میں یہاں کیسے ہوں؟
کیا میں اپنے جسم سے باہر ہوں؟
کیا میں ہوا میں تیر رہا ہوں؟
میری نظر میرے جسم پہ تھی مگر میں تو اپنے باس کے سوال کا جواب دے رہا ہوں۔
میں اپنے جسم سے کچھ فاصلے پر دیکھ رہا تھا یہ پہلی بار تو نہیں تھا اس سے پہلے بھی ایسے تجربات سے گزر چکا ہوں۔
میرے والد انتہائی تکلیف کے عالم میں ہسپتال کے سفید چادر والے بستر پر درد سے کراہ رہے تھے۔ ایسا بستر جس پر دھلائی کے باوجود کہیں کہیں ہلکے خاکی دھبے باقی تھے۔ وارڈ میں کس کثرت سے استعمال ہوتی ہیں یہ چادریں!
مریضوں کے جسموں سے نکلی ہوئی رطوبتوں کے داغ اس بات کے گواہ تھے۔
کل کتنے داغ ہوں گے میں گننے لگا؟
مریض جو میرے والد صاحب کے طور پر ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ سانس لینے میں شدید تکلیف محسوس کر رہے تھے۔
مجھے وہم نہیں تھا بلکہ یقین تھا کہ یہ کچھ دیر کے بعد یہاں نہیں رہیں گے اور مجھے ان کے کفن دفن کا انتظام کرنا ہو گا۔
ان کی بیماری پہ سارے پیسے لگ چکے تھے۔ چونکہ میں ایسے ملک میں نہیں رہتا جہاں ہیلتھ انشورنس لازمی ہو سو باقیوں کی طرح میرے والد نے انشورنس کی کوئی قسط نہیں بھری تھی۔
گھر میں اپنے طور پر پس انداز کی ہوئی رقم باقی نہیں بچی تھی۔ اسی وجہ سے انہیں سرکاری ہسپتال میں لانا پڑا جہاں اپنے مریض کو لے کر آنا مجھے سخت ناپسند تھا۔
یہاں آ کر اپنے انسان ہونے پر افسوس ہوتا تھا۔ زندہ اجسام کی عجیب بے قدری دکھائی دیتی۔ سفید کوٹ والوں کی آنکھوں میں مجھے ہمدردی نظر نہیں آتی تھی۔ لہجے میں بھی کرختگی اور حقارت ہوا کرتی تھی۔ باقی عملہ بھی ایسے سلوک کرتا جیسے ہم تیسری دنیا سے تعلق رکھتے ہوں اور خود وہ عالمی سپر پاور۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کی یہ سفاکی صرف رقم وصول کرتے وقت نظر آتی باقی اوقات میں وہ عزت نفس پر وار نہیں کرتے تھے۔
میں نے خود کو یقین دلایا کہ میرے والد کے پاس جو شخص کھڑا ہے وہ میں نہیں ہوں۔ وہ بس ایک تیماردار ہے اور کوئی نہیں
میں نے تمام جذبات کے ڈبے سیل کر دیے تھے۔
میں رونے والوں کو بزدل سمجھتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں دوسروں کی نظروں میں بزدل قرار پاؤں۔
میں نے خود کو یقین دلایا کہ وارڈ کے بستر نمبر پانچ کی اس داغدار سفید چادر پہ لیٹے ہوئے شخص کا مجھ سے رشتہ وہ نہیں جو ہے۔
کچھ دیر کے بعد ان کی موت کی تصدیق ہو گئی مگر مجھے کچھ المناک محسوس نہیں ہوا یہ فقط ایک ڈیڈ باڈی ہے جس کو آخری مراحل سے گزارنا میرا فرض ہے جیسے سرحد پہ کھڑا سپاہی جانتا ہے کہ اس کا کیا فرض ہے۔
میں کچھ حاضر اور کچھ غیر حاضری کے عالم میں اپنے والد کی تدفین میں کامیاب ہو گیا۔ والد کے دوستوں نے مالی مدد کر دی تھی بظاہر کوئی مسئلہ نہیں تھا سوائے اس کے کسی وقت میں مجھ میں نہیں رہتا تھا اور میرا دماغ میرے بس میں نہیں تھا۔
میں سوچتا کہ
کیا میں دیوانہ ہونے جا رہا ہوں؟
کبھی کبھار میں ایک کبوتر کی طرح خود اپنے کندھے پہ بیٹھ جاتا تھا۔
میری ایک کولیگ تھی۔ میں چاہتا تھا کہ اسے اپنی تمام تر کیفیات بتاؤں مگر کوئی مجھے روک دیتا تھا شاید مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھے پاگل قرار دے دے گی۔
ان دنوں سکون کہیں دور رہ گیا تھا اور میرے اعصاب بہت جلد جواب دے جاتے۔
میں نے اسے بتایا کہ میں نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ اس پر دکھی ہو گئی اور مختلف سوالات کرنے لگی مگر میں نے اسے سچ نہیں بتایا کہ دفتر والوں نے میرے ساتھ کیا کیا۔
سچ یہ تھا کہ میرے باس کے سیکرٹری نے مجھ سے کہا
” مسٹر احمد ایسے محسوس ہوتا ہے آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔ آپ ہماری طرف سے فارغ ہیں“ ۔
میں نے چونک کے دیکھا
کیا یہ شخص مجھ سے کچھ کہہ رہا ہے مجھے یقین تھا کہ وہ کسی اور سے مخاطب ہے۔ مگر کمرے میں صرف ایک انسان تھا بقول اس کے وہ میں تھا یعنی مسٹر احمد۔
میری طرف سے کوئی جواب نہ پاکر اس نے نرمی سے میرے کندھے کو چھوا اور کہا
”مسٹر احمد آپ میری بات سن رہے ہیں؟“
”آپ کی پچھلی رپورٹ سے کمپنی کو نقصان پہنچا ہے۔“
”آپ کی جگہ کسی اور کو تعینات کر لیا گیا ہے۔“
تب مجھے سمجھ میں آیا کہ وہ مجھ سے مخاطب ہے اور میں برطرف کر دیا گیا ہوں۔
میں نے میکانکی انداز میں کہا،
”اوکے میں کل سے نہیں آؤں گا“ ۔
جب میں دفتر سے باہر نکلا تو مجھے یاد نہیں تھا کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ میرے دماغ میں فقط بے چینی تھی یہ وہ آخری کیفیت تھی جو مجھے یاد تھی۔
ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا
اب آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں
جی میں ٹھیک ہوں۔ کافی پرسکون مگر میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میں کہاں ہوں؟
انہوں نے بتایا کہ یہ ایک سائیکائیٹری پرائیویٹ ری ہیبلیٹیشن سنٹر ہے۔
’پرائیویٹ‘ !
میرے جسم سے میری روح ایک بار پھر الگ ہونے لگی۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
اس شخص کو یہاں کس نے داخل کیا؟
رجسٹر کھولے گئے
پڑتال کی گئی۔
میں کافی دیر تک لاتعلق بیٹھا رہا۔
میرے اندر کا کبوتر میرے شانے پہ بیٹھ چکا تھا۔
انہوں نے مجھے ایک شخص کا شناختی کارڈ دکھایا
مجید بیگ
ولد ندیم بیگ
اوہ یہ تو میرے والد کے دوست کا لڑکا ہے۔
مجھے حیرت ہوئی، اس نے میرے لیے کتنے پیسے جمع کرائے۔
تیس ہزار روپیہ
مگر دو دن کے بقایا جات آپ کے باقی ہیں۔
میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں
میں نے بے چارگی سے جواب دیا۔
ڈسچارج سلپ میرے ہاتھ میں تھی۔
میں ویٹنگ روم میں بیٹھا اس شخص کا انتظار کر رہا تھا جو آئے اور مجھے یہاں سے چھڑوائے۔
ادارے کی انتظامیہ پریشان تھی۔ وہ فون نہیں لے رہا تھا اور انہیں مفت میں مجھے کھانا کھلانا پڑ رہا تھا میں نے اپنا نسخہ دیکھا
اس پر میری بیماری کا مشکل سا نام تھا
ڈی پرسنلائزیشن ڈس آرڈر
میرے کندھے پہ بیٹھا کبوتر مجھے بے گانگی سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے آنکھیں موند لیں۔

