آٹا، چینی اور ٹم ہارٹن
حالات اس سے بد تر بھی ہو سکتے ہیں کہ جب لوگ دنیا کی مہنگی کافی پینے کے لیے قطاروں میں لگ جائیں اور صرف یہ بتانے کے لیے ہمارا تعلق اس اسی فیصد لوگوں سے نہیں جن بیچاروں کی روٹی پوری نہیں ہو رہی یعنی دو قومی نظریہ امیر اور غریب۔ بنیادی طور پر ہم بے شناختے لوگ ہیں مغلوب قوم کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اسے اپنی ذات کا بھی علم نہیں ہوتا وہ سکون دیواروں سے ڈھونڈتا ہے۔ سوچ سے غلام کپڑے بدلنے کو تبدیلی کہتے ہیں اور ٹخنے سے اونچی شلوار کرنے کو پرہیز گاری۔ برتن کو باہر سے دھونے سے نہیں بلکہ اندر سے صاف کرنے سے پاکیزگی آتی ہے اخلاقی گراوٹ میں گھرے لوگ محبت کے دن کو بے حیائی کہتے اور نابالغ بچیوں کے ایمان کو محض ہوس کی بنا تبدیل کرنے کو نیکی۔
آہ بیچاری گمراہ قوم جسے اپنوں نے مذہب اور طبقاتی تقسیم کے اس گھن چکر میں ڈال دیا کہ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا کریں امریکہ جاکر پاکستانی ہو جاتے ہیں اور پاکستان میں رہ کر پنجابی، پشتون، سندھی اور بلوچی بلکہ اسے بھی دو قدم آگے اعلی ٰ اور ادنیٰ میں پھنسے لوگ اپنے دھرتی سے جڑنے لیے بھی تیار نہیں۔ کوئی اپنا شجرہ غزنویوں سے جوڑتا ہے تو کوئی اپنے آپ کو ارطغرل کی کوئی گمشدہ نسل قرار دیتا ہے۔ اپنے اصل مسائل روٹی، کپڑا مکان کی کوئی بات نہیں کرتا اور ہم بحث فحاشی پر کر رہے ہوتے ہیں۔
پچھلے دنوں نئے آرمی چیف کا معاملہ زیر بحث تھا تو ہر گلی کے موڑ پر اور چائے خانوں میں ایک عجیب بحث جاری تھی کہ نیا آرمی چیف کون آ رہا ہے۔ ریڑھی سے پھل خریدتے ہوئے پھل فروش پوچھ رہا ہے تھا صاحب جی نیا چیف کون آ رہا ہے میں نے مودبانہ گزارش کی بھائی میرے پھلوں کی طرف دھیان دو کہیں تبصرے کے چکر کم ہی نہ تول دینا۔ نہ تم کوئی اینکر پرسن ہو نہ میں کوئی سیاسی مبصر، ہم دنوں مزدور ہیں ہمیں اپنی مزدوری کا سوچنا چاہیے اور اپنے بچوں کا ایمانداری کے نوالوں سے پیٹ پالنا چاہیے ہمیں کیا لینا دینا بڑے لوگوں کی باتوں کا ۔
گم شدہ شناخت کا شکار قوم بنیادی طور پر آج تک فیصلہ نہیں کر پائے اور نہ ہمارے مذہبی و سیاسی قیادت نے ہمارا دھیان بنیادی مسائل کی طرف آنے ہی دیا ہے۔ مجھے یاد ہے اس وقت میں جس کالج میں پڑھاتا تو اس کے سامنے میکڈونلڈ نیا نیا آیا تھا بلکہ جس دن اس کا افتتاح تھا اس وقت بھی لوگوں کا اتنا ہی رش تھا جتنا ٹم ہارٹن کیفے پر بتایا جاتا ہے لوگوں کی دور تک قطاریں لگی ہوئی تھی۔ احساس کمتری کا شکار قوم اپنا سٹیٹس مہنگی کافیوں، برینڈوں میں ڈھونڈ رہی ہیں اور دوسری طرف ملک کا اسی فیصد طبقہ روزی روٹی کو ترس رہا ہے۔ میڈیا پر اس قدر سچ بولا جاتا ہے یعنی سب کا اپنا اپنا سچ کہ سمجھ نہیں آتی کس کا سچ جھوٹ سمجھیں۔ نفسیاتی صورت حال یہاں تک آ چکی ہے کہ ہم مانگنے سے زیادہ چھننے پر یقین رکھتے ہیں۔
حیران ہوں صاحب اختیار کو یا تو سمجھ نہیں آ رہی یا ترس نہیں آ رہا لوگ بیچارے دوسرے وقت کے روٹی کو ترس رہے ہیں انہیں اپنے اللے تللوں سے فرصت نہیں تقریروں میں کروڑوں نوکریاں بھی دے دیتے ہیں اور اپنے کپڑے بھی بیچ دیتے ہیں۔ ایک دن گھر کا سودا سلف لینے نکلا تو سگنل پر کھڑے ساٹھ سیکنڈ میں کوئی بیس پچس بھیک مانگنے والے آ گئے۔ اس قدر بھیگ مانگنے والوں کی تعداد یا تو ریاست کی بددیانتی کی وجہ ہو سکتی ہے یا بد انتظامی کی وجہ سے۔ سوچ رہا تھا آج تو یہ لوگ مانگ رہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب یہ مجبور اور لاچار لوگ چھیننے پر اتر آئیں گے۔
روز تیل، گیس اور بجلی کے نرخ بڑھنے کا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ یک دم نہیں ہوا اس پر وقت لگتا ہے اور شاید چوہتر سال لگے ہیں۔ لیاقت علی خان کی کنساس یونیورسٹی کی تقریر سے آج تک ہم پہلے سے بد تر ہوئے ہیں۔ تبھی تو ہمارا سابق وزیر اعظم کہتا ہے ہماری تیاری نہیں تھی اور موجودہ وزیر اعظم کہتا ہے میں کوئی مانگنے نہیں آیا لیکن مجبوری ہے۔ توبہ کریں اس دن سے جب ہمارا اسی فیصد طبقہ بیس فیصد کے پرخچے اڑا دے گا۔ خدا نہ کرے ملک میں یہ انارکی پھیلے لیکن شام کی سرخی تو کسی طوفان کا پیش خیمہ دکھائی دے رہی ہے۔
دو قطاریں لگی ہوئی ہے ایک ملک کا وہ طبقہ جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا کہ وہ ملک کے وسائل پر قابض بلکہ وسائل کو نگل ہی گئے ہیں اور دوسری قطار آٹے اور چینی کی ہے جہاں زندگی فاقوں کی قطار میں اپنی آخر سانسیں لے رہی ہے کہ کب قحط کے ہاتھوں قتل جائیں۔ پھر ایٹم بم، پھر نماز روضہ حج فرائض کہیں بہت پیچھے رہ جائیں جو ہماری بے حسی کے ہاتھوں لوگ قتل ہوجائیں یا پھر سیاست زدہ تباہی کے شکار ہوجائیں۔ ہمارے شکلیں زومبیوں کی سی ہو چکی ہیں۔
ہجوم حرمت کے بہانے قرب میں مبتلا نظر آتے ہیں لیکن ریاست الیکشن رکواؤ یا الیکشن کر اؤ میں الجھی ہوئی ہے۔ نیچے کی طرف دیکھیں تو ملک دیوالیہ ہو چکا ہے اور اوپر کی سمت دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم قرض لینے والے نہیں بلکہ قرض دینے والی قوم ہیں۔ خدا ہمیں حقیقت پسندی کی روح عطا فرمائے اور ہمارے ملک رحم فرمائیں۔


