عشق و محبت اور امرد پرستی کی کتھا : اردو ادب اور سائنس کے تناظر میں
شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
ولی دکنی
ابتدا میں اردو غزل کا مرغوب موضوع عشق و محبت (مجازی و جنسی) ہی تھا جو بتدریج تصوف یا عشق حقیقی کی طرف متوجہ ہوا۔ عشق مجازی میں شہوانی و جنسی محبت اور رومانویت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اردو ادب میں دونوں کا اظہار کثرت سے ملتا ہے۔ بقول فراق گورکھ پوری ”ہماری شاعری کا نوے فیصد حصہ جنسی و شہوانی یا عشقیہ موضوع پر بنی ہے“
اردو شعرا نے محبوب کے جسمانی خدو خال کے حسن و جمال اور ہجر و وصال کی کیفیات کو کنایات و تشبیہات اور استعاروں کی صورت طرح طرح سے قلم بند کیا ہے جن کے پیچھے رومانی و جنسی جذبات کارفرما ہیں۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر
دن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
عرفان صدیقی
ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
غالب
آج آغوش میں تھا اور کوئی
دیر تک ہم تجھے نہ بھول سکے
فراق
دیکھنے سوں سیر نہیں ہوتا ولی
مدعا اس کا بوس و کنار ہے
ولی دکنی
وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
مومن
لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
غالب
میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
جون ایلیا
نثر کی تاریخ میں بھی ہمیں عشق و محبت سے لبریز موضوعات ملتے ہیں۔ حتی کہ اردو ادب کی پہلی باقاعدہ کتاب ملا وجہی کی تصنیف سب رس کا موضوع بھی عشق و محبت کے گرد گھومتا ہے جس میں سے جنسی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ محبت ایسا موضوع ہے جس پر ہر زبان و ادب کے شعرا اور ادبا نے اپنے شعروں، داستانوں، افسانوں اور ناولوں کی صورت بے پناہ قرطاس سیاہ کیے۔ وہ خود بھی رومانوی قفس الفت میں مقید رہے اور دوسروں پر بھی اس کے سراب کو یقینی بناتے رہے۔
انسان، عشق و محبت اور جنسیت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ معروف نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کے مطابق اگر جنسیت یا شہوانی خواہش کی موزوں وقت پر تکمیل نہ ہو تو یہ انسان کے لاشعور میں پرورش پاتی ہے اور اظہار کے لیے کڑھتی رہتی ہے۔ سماج اور مذہب کی جکڑ بندیوں کے سبب یہ اظہار کے بجائے گرفت میں رہتی ہے اور پھر خطرناک صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ امرد پرستی (homosexuality) بھی اسی کی ایک شکل ہے۔ جس کی سائنسی وجہ جینٹک میکپ بھی ہوتا ہے۔ جس میں والدین کی طرف سے کروموسومز کی تعداد میں کچھ تغیرات وجود پاتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر اپنی شہوانی خواہش کا بر وقت اور فطری لحاظ سے ظاہر نہ ہونا بھی امرد پرستی کی اہم وجہ ہے۔
اردو شاعری میں امرد پرستی خاص اور جذباتی موضوع رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزل سے مراد محض خواتین کی نزاکت، چال ڈھال اور حسن و جمال بیان کرنا ہی نہیں بلکہ خوباں و لونڈے کی خصوصیات بھی اسی کا اہم جزو ہیں۔
باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر
یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخمل دو خوابا
میر تقی
میرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
امرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کر
ہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا
آتش
اسی طرح خواتین اپنی ہی جنس خواتین lesbian سے خواہش پوری کرتی ہیں۔
دوسری طرف مرد حضرات اپنی اسی مقید جنسی و فطری خواہش کی تشنگی کو دور کرنے کے لیے عشق و محبت جیسے جذبات کا سہارا لیتے ہیں۔ عورت چوں کہ احساس تحفظ اور محبت کی شدید طالب ہوتی ہے۔ اس کی فطرت میں جنسیت کے ساتھ ساتھ تحفظ اور لگاؤ کی لگن ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس دام میں آجاتی ہے۔
ایسے عشق و محنت کی کتھا اگر سائنس کی روشنی میں دیکھیں تو کئی حقائق وا شگاف ہوتے ہیں۔
خدا نے انسان کو جہاں حواس خمسہ سے بہرہ ور کیا وہیں انسان کو شعور جیسی نعمت عظمی سے بھی نوازا ہے۔ انسان کو آگہی بخشی کہ وہ ابہام، من گھڑت دیو مالائی قصوں اور جمہور میں موجود غلط اور بے بنیاد تصوراتی بتوں کو توڑ کر حقیقت کی دیوی سے روشناس ہو سکے۔
چیزوں کی وجودیت اور ان کی حقیقت و ماہیت اصل تک رسائی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک انسان چیزوں کو علم منطق و سائنس کی کسوٹی پر پرکھ نہ لے۔ تاریخ آغاز آدم سے لے کر تا امروز محبت ایک ایسا دلچسپ، آفاقی اور اپنے حصار میں جکڑنے والا عالمگیر موضوع رہا ہے کہ اس کی قید سے شاید ہی کوئی ابن آدم یا بنت حوا باز رہی ہو۔ محبت کیا ہے؟ تاثیر محبت کیا ہوتی ہے؟ کیا محبت جسمانی و شہوتی لذت کے حصول کا نام ہے؟ کیا محبت واقعی دلی الفت اور دل سے تطبیق ہے؟
عنفوان شباب میں در حقیقت محبت دو مخالف جنس کا جنسی و شہوتی مفادات پر مبنی ایک ذہنی و دماغی معاہدہ ہوتا ہے اور اس دوران پیدا ہونے والی کیفیات و جذبات و احساسات اصل میں دماغ اور گلینڈز سے خارج ہونے والے کیمیکلز اور ہارمونز کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ دل، جو عشق و محبت کا مرکز و محور سمجھا جاتا ہے محض ایک بے بنیاد تصور ہے۔ فطری و جبلتی طور پر تمام شہوتی تبدیلیاں اور تحریکیں انسان میں حصول لذت اور افزائش نسل کے لیے رکھی گئی ہیں۔
غالب نے اس دماغی و جذباتی کھیل کو کیا خوب بیان کیا ہے
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
اس محبت کی کتھا اتنی ہی قدیم ہے جتنا انسان خود۔ عشق و محبت میں ارتقائی مراحل خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ جن میں انسان کی پیدائش سے مرنے تک کے عناصر جنسی کشش کے لیے کاربند ہوتے ہیں جو عشق و محبت پر اکساتے ہیں۔ انسان کے گونیڈز یعنی جنسی عضویات نر اور مادہ میں بالترتیب ٹیسٹیو سٹیرون اور ایسٹروجن ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ ٹسیٹیو سٹیرون مردانہ خصائص چہرے پر بال یعنی داڑھی اور آواز میں بھاری پن کا ذمہ دار ہے جبکہ ایسٹیروجن عورت میں مخصوص اعضاء کی نشوونما کرتا ہے۔ یہ دونوں ہارمون جنسی تحریک میں کلیدی کردار کرتے ہیں۔ یہی وہ ہارمون ہیں جن کے سبب مرد اور عورت آپس میں جنسی کشش محسوس کرتے ہیں۔ مزید براں عورت کی طرف مرد کا کشش کرنا فطری رجحان ہوتا ہے۔
ان کے علاوہ ڈوپامین، آکسی ٹوسن اور سیروٹونین جیسے ہارمون بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈوپا مین مسرت و خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ آکسی ٹوسن کو محبت کا ہارمون بھی کہتے ہیں۔ یہ مرد و زن اور ان کے بچوں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ ماں کے دودھ میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ سیروٹین بھی احساس نشاط فراہم کرتا ہے۔ یہ حواس خمسہ یعنی بصری، سماعی اور لمسی ربط کے دوران میں خارج ہوتے ہیں۔
اس کی ایک مثال بوس و کنار ہے۔ جب دو لوگ آپس میں بوس و کنار کرتے ہیں تو یہ کیمیائی رطوبتیں خارج ہوتی ہیں جو ایک تلذز بھری جنسی تسکین مہیا کرتے ہیں۔
اردو شاعری میں کم وبیش ہر شاعر کے ہاں خواہش بوس و کنار کا تذکرہ ملتا ہے۔
بدن کا سارا لہو کھینچ کر آ گیا رخ پر
وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت
(ظفر اقبال)
اسی جنسی کشش کے باعث مخالف جنس کا مزید وحشت کے احساس سے محبوب کی طرف لپکنے کو جی چاہتا ہے
شوق ہے اس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کو
جون ایلیا
اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل
وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی
احمد مشتاق
محبت بسا اوقات تباہ کن محبت (Disastrous love) کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ جس میں عاشق مکمل طور پر محبوب کو دیوی کی طرح پوجنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی تمام خامیاں بھی خوبیوں میں شمار کر لیتا ہے اور یوں اس کی پرستش میں خود کی حالت تباہ کر لیتا ہے جس سے ذہنی تخلیق، قوت ارادیت اور فیصلے کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے۔
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
عشق و محبت شہوانیت (lust) کے تناظر میں پرجوش محبت کی یہ ایک سائنسی کتھا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایسی محبتیں بھی موجود ہیں جو ہمدردی اور خلوص و ایثار کے تناظر میں قائم و دائم رہتی ہیں۔ جو تمام اغراض اور جسمانی لذت کے حصول کے سوا بھی ہے۔ جس میں دو ایک ہو جاتے ہیں۔ جو جنسیت کے ساتھ ساتھ احساس وجود رکھتے ہیں۔ وفا، خلوص، سمجھوتہ، تحفظ اور ایثار و انسیت اسی جاودانی عشق کی صادق نشانیاں ہیں اور یہی محبت فاتح عالم ہوتی ہے۔


