موجودہ حکومتی اتحاد کے لیے فیصلہ کن وقت

ملکی سیاست اور ملک کے موجودہ حالات اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کے ڈھیلے ڈھالے اتحاد کی حکومت کی معذرت خواہانہ، مدافعانہ اور بزدلانہ پالیسی نے حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ ان کے لیے اب ایک ہی راستہ ہے۔ کہ موجودہ بے اختیار حکومت بھی تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان نیازی صاحب کے ہی حربے پر عمل کرتے ہوئے پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں کم کر کے، اور رمضان کے مہینے کے فوری بعد جنرل الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر کے، اس بے اختیار اور بے بس حکومت سے استعفی دے کر گھر چلے جائیں اور عوام میں جا کر آئندہ الیکشن کی بھرپور تیاری کریں، اور یہ سخت معاشی اور اقتصادی فیصلے نگران حکومت کے لیے چھوڑ دیں، وہ یا ”اصل حکمران“ خود ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں گے اور ان کی عوام دشمن شرائط قبول کریں گے۔
عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کسی طرح سے بھی موجودہ حکومت کو چلنے نہیں دے رہے، ایک طرف ان کا عمران خان صاحب کے لیے لاڈ پیار واضح ہے۔ اور دوسری طرف موجودہ حکومت کے خلاف ان کی طرف سے ایسے اقدامات کئیے جا رہے ہیں۔ کہ ان کے لیے کام کرنا تک ناممکن ہو جائے، آج ہی ایک پیشی پر پیش نہ ہونے پر شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئیے گئے ہیں۔ اور لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان نیازی کو پیش ہونے کے لیے منت سماجت اور ان کے انتظار میں رات دیر تک عدالتیں کھلی رکھ کر بیٹھے رہنا، ان کی طرف سے جعلی دستخط والی درخواست پر کسی کے خلاف عدالت کا اس فراڈ پر کوئی کارروائی نہ کرنا اور رسمی اور سرسری نوعیت کی معذرت قبول کرتے ہوئے معاملہ نپٹا دینا، یہ معذرت خواہانہ رویہ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خصوصی طور پر بلائے گئے ہجوم کا رویہ ساری قوم نے دیکھا، دوسری طرف قومی اسمبلی سے خود استعفیٰ دینے والے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے بارے میں الیکشن کمیشن کے ان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کیا گیا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور اس کے ساتھ ہی عمران خان نیازی صاحب کے منظور نظر ڈی پی او لاہور ڈوگر صاحب کا تبادلہ سپریم کورٹ کی طرف سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ گویا اب موجودہ حکومت کسی سرکاری افسر کا تبادلہ کرنے تک کے اختیار تک سے محروم کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف بزدار صاحب کے دور میں عمران خان نیازی صاحب کی ذاتی وجوہات کی بناء پر چار اعلٰی پولیس افسر تبدیل کئیے گئے اور اس کا کسی عدالت نے نوٹس تک نہ لیا، جبکہ عمران نیازی یہ اقرار کر چکے تھے۔ کہ ان کے کسی رشتے دار کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے سے انکار پر ان افسروں کے تبادلہ جات کئیے گئے اور دلچسپ بات یہ کہ وہ پلاٹ بھی بعد میں ان کے رشتہ دار کا ثابت نہ ہوا۔
آج ہی چئیر مین نیب نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ شاید وہ عمران خان نیازی صاحب کی طرف سے بحریہ ٹاؤن والے ملک ریاض کو چالیس کروڑ ڈالر کا وصول شدہ جرمانہ ان ہی کے حوالے کر دینے والا کیس نہیں سننا چاہتے تھے۔ چئیر مین نیب کے اس طرح استعفیٰ نے سپریم کورٹ میں پارلیمنٹ کی طرف سے نیب ترامیم کے خاتمے کے لیے جاری کیس کو بھی تقویت دی ہے۔ اسی طرح عدلیہ کی طرف سے عمران خان نیازی صاحب کی کھلی سرپرستی اور مدد واضح ہے۔ اس ناجائز سرپرستی میں کسی ضابطے، قانون آئین اور اخلاقیات کا پاس نہیں کیا جا رہا، اعلی عدلیہ کا جانبدار، یک طرفہ اور غیر متوازن رویہ سب کے سامنے ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے اپنے میڈیا چینلز اور ففتھ جنریشن وار والے سوشل میڈیا پر بدستور موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز طور پر اپنے ہی ادارے اور اس کی موجودہ قیادت کے خلاف اور تحریک انصاف کے حق میں باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کارکن بھی سوشل میڈیا پر فوجی قیادت بلکہ فوج کے خلاف بلا خوف و خطر انتہائی زہریلا پراپیگنڈہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جنرل (ر) امجد شعیب جیسے سابق فوجیوں کی تنظیموں کے سربراہ تک حیرت انگیز طور پر اپنے ادارے کی موجودہ قیادت، اور اپنے ادارے کے خلاف انتہائی نفرت آمیز جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی مہم چلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اسی طرح بیرون ملک مقیم ادارے کے چند سابق افسران سوشل میڈیا پر اپنے ادارے اس کی موجودہ قیادت اور موجودہ پی ڈی ایم اتحاد کی حکومت کے خلاف اور عمران خان نیازی کے حق میں باقاعدہ ایک منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ اور حیرت انگیز طور پر ان عناصر کو عمران خان نیازی کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ کی ہر طرح کی مدد، حوصلہ افزائی اور سرپرستی دکھائی دے رہی ہے۔
اپنے چئیر مین کی ہدایت پر شوکت ترین اور تیمور جھگڑا آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے قرضے کا پیکیج رکوانے کے لیے عالمی ادارے کو خط لکھتے ہیں۔ اور فواد چوہدری کھلی پریس کانفرنس میں یہ اقرار کرتے ہیں۔ کہ انہوں نے امریکہ سمیت مختلف ممالک سے رابطہ کر کے کہا ہے۔ کہ موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان کو کسی قسم کی کوئی امداد نہ دی جائے، ان کے اور ان کی پارٹی کے یہ اقدامات پاکستان کے خلاف کھلی اقتصادی دہشت گردی اور تخریب کاری ہیں۔ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ان ملک دشمن اقدامات اور ان کے کھلے اقرار پر بھی کوئی ان کا نوٹس لینے کو تیار نہیں، لگتا ایسا ہے کہ اداروں کے خلاف تحریک انصاف کی اور اس کے چئیر مین عمران خان نیازی کی جارحانہ پالیسی اور بلیک میلنگ نے ان اداروں کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔
لہذا نون لیگ اور پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل جماعتوں کو اپنی مکمل سیاسی تباہی کے راستے پر چلنے کے بجائے مزاحمت کا باوقار راستہ اپنانا چاہیے۔ ان کو اسٹیبلشمنٹ کے زبانی جھوٹے دعووں پر مزید یقین نہیں کرنا چاہیے، اور چند دن کے اس بے اختیار اور بے بس اقتدار کے لیے اپنے سیاسی اثاثے اور ورثے کی قربانی نہیں دینی چاہیے، پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت اگر اسی سٹیج پر، الیکشن کا اعلان کر کے حکومت سے باہر آ جائیں تو اب بھی بہت کچھ ممکن ہے۔
عمران نیازی بھی اب عوام کے سامنے بڑی حد تک ایکسپوز ہو چکے ہیں۔ ان کے اسلام آباد کے گھیراؤ کے اعلان، لانگ مارچ اور ان کے گھر کے باہر کارکنوں کی کم ہوتی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے۔ کہ وہ عوام میں واضح اکثریت اور عوامی حمایت تیزی سے کھو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ میں بدستور موجود ان کے سرپرست عناصر اور عدلیہ میں موجود ان کے حامی عناصر کو کسی بھی بدنامی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، کھل کر ان کی مدد کو آگے آنا پڑ رہا ہے۔
کیونکہ ان کا پراجیکٹ اور منصوبہ ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جو کہ یہ تھا کہ سابقہ تحریک انصاف کی تمام ناکامیاں پی ڈی ایم اتحاد کی بے اختیار حکومت کے ذمے ڈال کر، عمران خان نیازی کو عوام کے سامنے ”صادق و امین“ کے طور پر پیش کر کے، نئے سرے سے ری لانچ کیا جائے، لہذا موجودہ بے بس کر دیے گئے حکومتی اتحاد کے لیے یہ آخری موقع ہے۔ ایسے حالات میں وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے اس تمام صورتحال پر مکمل خاموشی بھی قابل غور اور تشویشناک ہے۔
ان کا یہ رویہ اور مکمل لاتعلقی اپنی ہی پارٹی کے سیاسی مستقبل کو تباہ کرنے کا باعث بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی طرح نواز شریف کا مسلسل اور بدستور بیرون ملک قیام بھی نون لیگ کی مستقبل کی سیاست کے لیے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ انھیں فوری طور پر واپس آ کر پارٹی کو اس بے اختیار برائے نام اقتدار سے باہر نکال کر جماعت کو دوبارہ سے منظم کرتے ہوئے، عملی طور پر قیادت سنبھالنی چاہیے۔

