ایک کاوش اپنی ذات کے لیے


آپ میں ہم سب ساری زندگی دوسروں کی خاطر گزار دیتے ہیں، ہمیں روز اول سے سکھایا جاتا ہے کہ فلاں حرکات و سکنات ہی دیگر افراد کے سامنے کرنا مناسب ہیں، آپ میں سے اکثر سے ان کا بچپنا چھین لیا گیا، تقریباً ہر دوسرے شخص کو شرارتیں کرنے پہ مار پڑی، اور اتنی پڑی کہ بالآخر شرارتوں کو خیر آباد کہہ کر سنجیدگی طاری کر لی گئی۔

ستم یہ ہوا کہ بچپن کے بعد لڑکپن بھی جینے نہ دیا گیا، کسی کو رنگوں میں الجھنا پسند تھا تو کسی کو لفظوں میں۔ لیکن الجھے سبھی مسئلہ فیثا غورث میں، کیونکہ بتایا گیا کہ سکوپ اسی کا ہے۔ پھر اس سکوپ کی پھرکی نے ایسا گھمایا کہ کئی ادب کے دلدادہ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے سمے بس سیل کروموسومز اور نیوکلیس کے ہو کے رہ گئے، جن ہاتھوں کو کرکٹ کا بلا پکڑنے کا شوق تھا انہیں پانا اور رینچ دے دیا گیا کہ سکوپ انجینئرنگ اور میڈیکل کا ہے۔

اب جوانی کا آغاز ہوا، اصولاً یہ بیٹھ کر چاند تکنے کا زمانہ تھا، پھولوں کی مہک سے مسحور ہونے کا دور تھا، موسیقی کی لے پہ سر دھننے کا وقت تھا لیکن سر چکرا گیا جی پی اے کی دوڑ میں، اسائنمنٹس کے جھنجھٹ میں۔

میں یہ نہیں کہوں گی کہ غلطی مستقبل کی پروا میں غرق والدین کی ہے، وہ تو اچھا ہی چاہتے ہیں، کامیاب ہی دیکھنا چاہتے ہیں، میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ غلطی اساتذہ کی ہے کہ انہوں نے بھاگتی دوڑتی زندگی میں کامیابی کے گر سکھانے کو کوشش کی۔ ناچیز کا اعتراض تو فقط اتنا ہے کہ کامیابی کا معیار تھوڑا غلط سمت میں گیا ہے۔

اگر زندگی میں کامیابی ایک اچھا انجنئیر بننا ہی تھی تو کیوں آج انجینئر بے روزگار پھر رہے ہیں؟ اگر کامیابی کا معیار اچھے میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بننا ہی تھا تو کیوں آج خود ڈاکٹرز ہی انٹی ڈپریسنٹس کھا کے سوتے ہیں؟ اگر کامیابی مقابلے کا امتحان پاس کر کے افسر بھرتی ہونا ہی تھا تو کیوں آج افسر پھندے سے لٹک جاتے ہیں؟ آخر کیوں لوگ جینے پہ، کھل کے جینے پہ، مرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں؟

چلیں باقی سب کو چھوڑیے، آپ یہ بتائے آپ نے خود آخری مرتبہ اپنے لیے ایک جیلی کا پیکٹ خرید کر اسے مزے لے لے کر کب کھایا؟ جیسے بچپن میں کھاتے تھے؟ دیکھا جائے تو آج کل زیادہ لذیذ جیلیز میسر ہیں، زاویہ کیوں بدل گیا؟ اپنے کب آخری بار یونہی خواہ مخواہ ایک گیس کا غبارہ خرید کر اسے ہوا میں اڑتا دیکھ کر چاشنی سے لبریز تبسم دیا؟

کیا آپ نے کبھی کچی زمین پر پانی پھینک کر اس کی سوندھی خوشبو کو روح میں سرایت کرنے کا موقع دیا؟

بات فقط کامیابی کی دوڑ اور ”لوگ کیا کہیں گے“ کے طعنے کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ آپ فقط زندہ ہیں اور گزار رہے ہیں، آپ اسے آج بھرپور انداز میں جینا شروع کر دیں یہ حسین ہوتی جائے گی۔

یہ مان لیں کہ کچھ چیزیں آپ نہیں بدل سکتے، ان سے سمجھوتا کر لیں اب چاہے وہ ناپسندیدہ نوکری ہو یا بیوی۔ اب جو بدل سکتے ہیں اس پہ توجہ کیجیے۔

کیوں ہمارے معاشرے کے مرد عمر سے پہلے بوڑھے ہو رہے ہیں، بال جھڑ گئے، پیٹ نکل آئے۔ کیوں آپ چوبیس میں سے ایک گھنٹہ جاگنگ جمنگ یا سوئمنگ کے لیے نہیں نکال سکتے؟ کیوں ہمارے معاشرے کی خواتین اپنا حسن کھو رہی ہیں؟ ادرک لہسن سے میرینیٹ ہوئی یہ خواتین آخر کیوں کسی شادی بیاہ یا تقریب کے سوا اپنی آرائش و زیبائش نہیں کر سکتیں؟

مانا کہ زندگی تھوڑی مشکل ہے، لیکن اسے سہل کیا جا سکتا ہے، ایک کاوش اپنی ذات کے لیے کر کے دیکھیے۔

جہاں دو گھنٹے آپ ٹی وی پر تجزیے سن کر بظاہر اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں کسی روز اپنے بچے کے ساتھ آدھا گھنٹہ لڈو کھیل کر گزاریے، جہاں آپ دن بھر گھر کے کام کاج میں لگی رہتی ہیں اور فرصت کے لمحوں میں غیبت سے شغل فرماتی ہیں وہیں کسی روز جوگر کے تسمے باندھ کے اپنے بچے کے ساتھ بیڈمنٹن کی ایک گیم لگا کر دیکھیں۔

یہ جو آپ نے بلڈ پریشر، شوگر بڑھا رکھا ہے نصف سے زیادہ تو آپ کا اپنا قصور ہے۔

اگر آپ شادی شدہ نہیں ہیں اور ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو کیوں آپ پاکٹ منی سے ہی گزارہ کرتے ہیں، آخر کیوں آپ ہوم ٹیوشن پڑھا کر یا آن لائن ٹریڈنگ کر کے اپنے قدموں پہ کھڑے نہیں ہو سکتے؟

مانا گریڈ اہمیت رکھتا ہے، لیکن آپ اگر غالب فیض فراز کے شوقین ہیں تو کورس کی کتابوں سے چند لمحے نکال کر گرم بھاپ اڑاتی چائے کی چسکیاں لیتے سمے دیوان کی ورق گردانی میں آخر کیا مضائقہ ہے؟

میری بہنیں جو شادی کے انتظار میں انٹر نیٹ سے حسن جوانی قائم رکھنے کے ٹوٹکے دیکھنے میں مگن ہیں یا خواتین ڈائجسٹ پڑھ کر سپنوں کے راجکمار کے انتظار میں بالوں میں چاندی چمکا رہی ہیں آخر کیوں وہ اسی انٹرنیٹ پہ کسی ڈسٹنٹ لرننگ پروگرام سے کوئی ڈگری یا ہنر حاصل نہیں کر لیتیں؟

ہماری ہر تکلیف کی ذمہ داری ملک معاشرے یا حکومت کی نہیں ہے، مانا خوش گوار زندگی کے لیے وسائل کی فراوانی اہم ہے لیکن اول تو محدود وسائل میں بھی خوش رہا جا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ آپ اپنے شوق سے وسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

جو خواتین کھانے بنانے کی شوقین ہیں وہ اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہیں، جنہیں ڈیزاننگ پہ عبور حاصل ہے وہ اپنی بوتیک بنا سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ بوتیک کا آئیڈیا بنا وسائل کے آپ کو مضحکہ خیز لگے اور عین ممکن ہے کہ سیلف گروتھ کی طرف اٹھایا گیا آپ کا پہلا قدم کل آپ کو ایک برینڈ بنا دے۔

کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، لوگوں کی پروا کرنا چھوڑ دیجیے، اپنے لیے جینا سیکھیے، اور اپنے شوق پورے کرنا شروع کیجیے، زندگی سہل ہو جائے گی۔ اور آخر میں اتنا کہنا چاہوں گی جو گزر گیا اسے بھول جائیے، پھر چاہے وہ لاحاصل محبت ہو، من پسند نوکری ہو یا کوئی تعلیمی ڈگری، ہاں مجھے علم ہے کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل لیکن یقین جانیے آپ ایک ایسا طاقتور انسان ہیں، جس نے اپنوں کے جنازے اٹھائے پھر سپنوں کے جنازے اٹھائے پھر بھی جیے جا رہیں ہیں تو آپ دنیا یہاں کی وہاں کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بس کسی گلی کے نکڑ پہ بیٹھے رات کی ڈیوٹی کرتے کسی گارڈ کو یونہی خواہ مخواہ ایک کپ چائے کا پکڑا دیں، بس یونہی خواہ مخواہ ایک سرخ گلاب اپنی بیوی کے بالوں میں اڑس دیں، دھیان رہے کہ بیوی آپ کی اپنی ہو ورنہ نتائج کے ذمہ دار ہم نہ ہوں گے۔ بس کسی روز اپنے بوڑھے والدین کو جھولوں کی سیر کروانے لے جائیں، اور ان کو ان کابچپنا جینے کا موقع دیں۔

کتابیں پڑھنا لطف دیتا تھا؟ وقت نکالیں ورق گردانی کریں۔ تاش کھیلنا پسند تھا؟ زندگی کے جھمیلوں میں وہ دوئت کہیں کھو گیے جن کے ساتھ بازی لگتی تھی؟ تاش کی گڈی پھینٹیں اور بہن بھائی، بیوی، یا اور کوئی نہیں تو دادا دادی کے ساتھ بیٹھ کر کھیلیں، انہیں نئے نئے حربے سکھائیں اور پھر جادو دیکھیں۔

عین ممکن ہے کہ ہر وقت کی بے وجہ اداسی اور الجھن کا علاج نیند کی گولی نہیں منور بیگم کی آواز میں ایک غزل ہو۔ اپنے لیے وقت نکالیں، اپنے ساتھ وقت گزاریں، یہ بہت قیمتی جیون ہے اسے لاحاصل کی کسک میں برباد مت کریں۔ خدارا کم از کم ایک کاوش اپنی ذات کے لیے کریں!

Facebook Comments HS