ہائے۔ جاوید اختر

چند دن پہلے کی ہی بات ہے۔ سردیوں کی حسین راتوں میں ہم بھی ایک خاکوں کی کتاب پڑھنے لیٹ گئے۔ جو سنگ میل سے تحفہ کے طور پہ موصول ہوئی تھی جس کے لئے افضال صاحب کا بے حد شکریہ
کتاب کیا تھی سفر نامہ ہند تک پہنچے تو موسم ہی بدل گئے۔ گرمی لگنے لگی۔
اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
اس بات کی سمجھ آتی ہی تھی مگر اب دل و جان سے آنے لگی۔ جاوید اختر کی شاعری کے ہم خود بہت فین شین ہیں۔
مگر تمہارا لہجہ بتا رہا۔
یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے جس کے فین شین ہوں نہ ملیں۔ اب ملاقات کا بہانہ یہ میڈیا جو جا بجا ہمیں پکڑ کر میل ملاقات کروا ہی دیتا ہے۔
ہائے جاوید جی، آپ نے تو دل ہی توڑ پھوڑ دیا۔ آپ کے لیجنڈز کو ہم نے عزت نہیں دی؟
سر کیا آپ لیجنڈ نہیں ہیں؟
کیا آپ کو کبھی اس زمین پہ عزت نہیں ملی۔ دیکھئے ناں سر اگر آپ لیجنڈ نہیں تو سوچیں ناں ہم لیجنڈز کو کیسے عزت دیتے ہوں گے؟
ہم نے تو آج تک اپنے ہمسائیوں کی یادگار جیپ سنبھال رکھی ہے۔ ہم نے تو ایک آسمان سے گرے پرندے جیسے پائلٹ کو میڈیکل سے چائے تک سب کچھ فراہم کر کے عزت کے ساتھ رخصت کیا ہے۔
جہاں تک رہی لتا جی کی بات۔ جہاں تک ہمیں یار پڑتا ہے وہ سمجھدار خاتون تھیں اس لئے وہ کبھی نہ تو پاکستان آنے کی خواہش کرتیں تھیں نہ انہوں نے تمناؤں کے بے سود گیت گائے ہیں کہ کہیں یہاں آ کر ان کے منہ سے کوئی کلام نامناسب نہ نکل آئے۔
ہم تو آپس میں شدید محبت کرنے والے لوگ ہیں البتہ ہوا کچھ یوں ہے کہ جیسے لانچ حکومتیں آ رہی ہیں۔ یہ سارا پروگرام بھی اتنا ہی لانچڈ تھا شاید۔ جس کا مقصد کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ سب جاننے والے جانتے ہیں ”خوش تم بھی نہیں، خوش ہم بھی نہیں“ تو ایسا شاعر، ایسا فنکار جس کے بارے میں سب کو علم ہے وہ ایک ملک اور وہاں کے باسیوں کے خلاف بولتا آیا ہے اور اس کو ہی بلا لیا گیا۔ غلطی ہماری بھی ہے
اور مزے دار بات یہ ہے کہ آپ کو اتنے گلے اتنی شکایات ہیں اور اس کے باوجود آپ نے دعوت نامہ، پروٹوکول قبول کیا۔ تشریف لائے اور آ کر ہمیں ہی گالی دے کر چلے گئے۔ شاعر تو نفرت میں بے وفا محبوب کی گلی میں بھی نہیں جاتا۔ صرف کوسنے گنگناتا ہے۔ چلیں آئیں حکومتوں کو نکال کر اب آپ کے گھر کی مہمان داری کی بات کرتے ہیں۔ سردیوں کی راتوں کی بات ہے نیلم احمد بشیر کا سفر نامہ ہندوستان پڑھ رہی تھی۔
وہ آپ کی بہن فینی کے ساتھ آپ کی سالگرہ پہ ممبئی میں آپ کے گھر آ جاتی ہیں۔ اول تو آپ کا رویہ اپنی بہن کے ساتھ بہت سرد تھا۔ وہ بھی مہمانوں کے سامنے تو ایک کلیہ زیست ہے کہ جو اپنی بہن کا نہیں ہوتا، وہ دنیا میں کسی کا نہیں ہوتا۔ ہمارا تو کلیہ ہے کسی کے گھر کا ماحول دیکھنا ہو تو دیکھا جائے کہ وہاں بہن کے ساتھ کیسا رویہ رکھا جاتا ہے یہی رویہ سماج کا رویہ متعین کرتا ہے۔
اب ہم اپنے الفاظ میں لکھنے سے بہتر سمجھ رہے ہیں کہ مصنفہ کے الفاظ کو کاپی کر دیا جائے۔
کتاب چار چاند کا صفحہ نمبر 153، 154 میں لکھا ہے
”اچانک بیل بجی اور گھر والے یعنی بڑے شاعر صاحب تشریف بنفس نفیس اندر تشریف لاتے نظر آئے۔ نیلے کرتے، سفید پاجامہ میں ملبوس وہ بالکل اسی طرح لگ رہے تھے جیسے ٹی وی پہ دکھائی دیتے ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلائے تو پل بھر کو تو یہ لگا جیسے انہوں نے اپنی بہن کو فینی کو پہچانا ہی نہیں اور پھر پہچان بھی لیا تو خوشی سے اچھل کر چیخ نہیں ماری۔ نہ یہ فلمی جملہ بولا “یہاں اور اس وقت؟ کتنی خوشی ہو رہی ہے تمہیں یہاں دیکھ کر۔” وہی خشک سے انگریزی ہیلو ہائے کے گیند اس طرف سے اس طرف پھینکے گئے اور ہم سب دوبارہ صوفے پہ بیٹھ گئے۔
فینی نے ہم پردیسیوں کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ پاکستانی لکھنے والیاں آپ سے ملنے یہاں آئیں ہیں۔ عطیہ نے انہیں یاد دلایا کہ وہ ان سے ماضی میں ایک بار پہلے بھی دہلی میں مل چکی ہیں۔ میں نے اوچھی شوہدی بن کر بتایا کہ میں نیلم ہو، افتخار نسیم کی دوست، بشری انصاری کی بہن۔ شاعر جی کے چہرے پر کوئی تاثر پیدا نہیں ہوا۔ آنکھوں میں پہچان اور خوش آمدید کی کوئی شمع نظر نہ آئی شاید ان کا دھیان کسی اور طرف تھا۔ میں آپ کو سالگرہ کی مبارک دینے آئی ہوں۔ ہیپی برتھ ڈے۔ فینی نے پر جوش انداز میں کہا تو بھیا نے جواباً ہوں ہاں کر دی اور کچھ نہ کہا۔
آپ بھیا کو اپنی کتاب دے دیں نا جو آپ ان کے لئے لائی ہیں ”فینی اشتیاق سے بولی۔ کتاب؟ وہ تو میں ہوٹل میں بھول آئی۔ میں صاف جھوٹ بول گئی حالانکہ کتاب میرے بیگ میں تھی مگر نجانے کیوں انہیں دینے کو دل نہیں چاہا۔ سوچا کہیں کتاب کی بھی وہی پذیرائی نہ ہوئی جیسی ہماری ہوئی ہے۔
شاعر بھیا اگلے ہی لمحے کھانا کھانے چلے گئے اور ہم لوگ وہیں کے وہیں بیٹھے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے صدیاں بیت گئی ہوں اور کسی نے ہمیں ہاتھ لگا کر نہ دیکھا ہو کہ زندہ بھی ہیں یا مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
اس مشہور فلمی جوڑے کے سرد رویے سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں اس طرح کے ناگہانی مہمانوں کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔
خواہش کے باوجود شاعر صاحب سے ادب کے حوالے سے یا دونوں ملکوں کی صورتحال کے بارے میں کوئی بات نہ ہو سکی۔ ویسے سنا بھی یہی ہے انہیں سرحد بار کے لوگوں کے ادب سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اور ان کی بیگم اداکارہ اکثر پاکستان کے خلاف بات کرتے رہتے ہیں حالانکہ وہ دونوں جب بھی پاکستان آئے تو پاکستانیوں نے انہیں بصد محبت و احترام آنکھوں پہ بٹھایا۔ ان پہ صدقے واری گئے۔ کچھ دیر بعد ہم لوگوں نے بالآخر اجازت چاہی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
فینی کے بھائی نے بہن سے یہ بھی نہ پو چھا کہ تم کیسے آئے تھے اور اب کیسے جاؤ گے؟ ہم لوگ نیچے اترے اور دھوپ میں چل کر آگے جا کر ایک رکشہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت مجھے یاد آیا، آتے ہوئے فینی کے شوہر نے جب ہمیں ڈراپ کیا تھا تو فینی نے کہا آپ بھی اوپر آ جائیں۔ اس پر اشوک نے جواب دیا تھا ”میں نہیں جا تا بڑے لوگوں کے گھر“ اس فقرے کی اس وقت یا مجھے سمجھ ہی نہیں آئی یا میں نے سنی ان سنی کر دی لیکن اب مطلب صاف سمجھ آ گیا تھا۔ اتنی نو لفٹ تو ہمیں زندگی بھر میں کہیں نہیں ملی تھی۔
پاکستان پہنچنے پہ بشری انصاری کو یہ واقعہ سنایا تو بڑی حیران ہوئی۔ میں تو اپنے اوپر ہنسنے جا رہی تھی مگر بشری خفا ہو کر کہنے لگی۔ ”ہائے اللہ شبانہ اور جاوید جب پاکستان آئے سٹیج پہ میرا نام لے لے کر مجھے بلا رہے تھے۔ میرے ساتھ بہت وقت گزارا تھا انہوں نے۔ میں نے شبانہ کو تحفے میں ساڑھیاں دیں۔“
یہ ہے جاوید اختر کے اپنے گھر کی مہان داری اور اخلاقیات۔ اب اسی سفر نامے میں ایک احوال گلزار صاحب سے ملاقات کا بھی ہے جس میں جاوید اختر کی دوسرا روپ سامنے آتا ہے جو پاکستانیوں کا بھی عکاس ہے
نیلم احمد بشیر نے گلزار صاحب سے پوچھا
”آپ پاکستان کیوں نہیں آتے؟ وہاں آپ کے اتنے چاہنے والے ہیں۔
دراصل میں مجلسی آدمی نہیں ہوں۔ مجھے اپنے لئے شامیں اور فنکشن کروانا پسند نہیں۔ میں نہیں چاہتا لوگ مجھے گھیر لیں۔ ویسے بھی جاوید اختر نے مجھے کہا ہے کہ پاکستان نہ جانا وہاں لوگ آپ کا کھلا کھلا کر مار دیں گے اور مجھے کھانے کا خاص شوق نہیں ”
اب اس کو کیا کہتے ہم سب جانتے ہیں۔ مجلسی آدمی، شامیں، فنکشن، کھلا کھلا کر مارنا؟
جان من جاوید اختر صاحب ہم ایسے ہی محبت نواز عاشق لوگ ہیں۔ اب عشق میں محبوب کے عیب کب نظر آتے ہیں۔
آپ نے بھلا ہماری دعوت قبول کیوں کی؟
حکومتوں سرحدوں پہ بات کرنے سے پہلے اپنے گھر آنگن میں جھانک لیجیے جہاں بہن بہنوئی اور ان کے مہمانوں کی عزت نہیں وہ سرحد بار کی عزت و محبت کو کوئی کیا جانے۔ رنگین وقت مبارک۔ بلانے والے بھی چلے گئے، آنے والے بھی۔

