پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
بجا کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں آپ نے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کو عموماً بلیو ٹک کے نشان سے آراستہ دیکھا ہو گا۔ جب سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی توثیق پہلی بار متعارف کروائی گئی، تو اسے عام طور پر عوامی شخصیات کے لیے مخصوص کیا گیا تھا جن کی کثیر تعداد میں پیروی ہو، جیسے کہ اے لسٹ یا اے کیٹیگری کی مشہور شخصیات۔ تب سے، تصدیق شدہ صارفین کی فہرست میں برانڈز، کمپنیاں، صحافی، کارکنان، اور اثر و رسوخ رکھنے والے صارفین اس نیلے نشان کے ساتھ، سماجی رابطے کی سائٹس پر اعتبار کی علامت گردانے جاتے ہیں۔
اب اگر یہ بلیو ٹک کی علامات ملکی سیاسی و معاشی معاملات کو ملحوظ رکھ کر عوام کی جانب سے سیاسی قائدین اور مقتدرہ کو دی جائیں تو آپ کا کیا خیال ہے کہ بڑ بولے پن، غیر سنجیدگی، بے اعتباری کی روشن مثال، سطی سوچ، اور آسمان کے قلابے ملانے پر کتنے بازی گر یہ بلیو ٹک لینے میں کامیاب ہوں گے اور کتنے ناکام؟ موجود وزیر خزانہ تو دوہری بلیو ٹک لینے کے اہل ہو سکتے ہیں۔
ہمارے ملک میں یوں تو موجودہ حالات میں جائے پناہ ڈھونڈنا یقیناً محال ہے جہاں بارود اگلتی گلیاں، مہنگائی سے مارے عوام، غیر یقینی میں جھولتی ریاستی ساکھ، بیروزگاری وغیرہ کا غوغا عام ہے مگر اس گھمسان کے رن میں محض پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) ہی بچا ہے جہاں سوائے خبر خیر اور کچھ نہیں ہے۔ گویا پی ٹی وی بطور ریاستی موٹیوویشنل اسپیکر کام کر رہا ہے۔ اگر آپ ملک میں پھیلی نفسا نفسی سے گھبرا گئے ہیں تو (پی ٹی وی) تلخی حیات مٹانے کو کافی موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ پی ٹی وی کے مطابق ملک میں سب ٹھیک ہے البتہ پڑوسی ملک بھارت میں دو درجن سے زائد آزادی کی تحریکیں جاری ہیں۔
ابن انشا جاتے جاتے فرما گئے کہ ”آزادی سے پہلے ہندو بنیے اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے، ہماری خواہش تھی، کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنیے اور سیٹھ لوٹیں، الحمدللہ کہ یہ آرزو پوری ہوئی“ ۔ آپ یہ دیکھیے کہ امید بھر آنے سے صورت نظر آنے تک ہم نے وقت کو پاٹنے میں کتنی تیزی دکھائی کم وقت میں ہی شب انتظار کو زیر کر دیا۔ ان دونوں مولانا ابو الکلام آزاد کا ذکر خیر ہمارے ملک میں کافی رہا۔ ویسے تو ہمارا مزاج کسی واقعہ کے رونما ہو جانے کے بعد کافی دیدنی ہوتا ہے اور ریاستی سطح پر طے شدہ اقدام ہے کہ اگر فلاں معاملہ پیش آئے تو قومی انداز فلاں ہو گا اور اگر فلاں واقعہ ہو جائے تو فلاں۔
مثلاً اگر ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہو جائیں تو کفن بریدہ لاشے جب میڈیا کی زینت بنیں تو اس بات کا خاص اہتمام کیا جائے کہ پردے کے پیچھے نصرت فتح علی خان کی آواز میں ”جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم، ٹوں روں روں“ لازم چلے۔ اس کے ساتھ عسکری قیادت کی جانب سے جاری کردہ templates بیانات کہ ”سر کچل دیں گے، صفایا ہو گا، سرحدوں کی حفاظت اولین ذمہ داری ہے، ہمیں مت للکارا جائے“ وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ ہی ساتھ اگر امریکا خارجی معاملات میں ہمیں زیر کرنے کو پر تولے تو ہم مرحوم حمید گل صاحب کے بیانات ٹک ٹاک پر چلا کر اور سوشل میڈیا گروپس میں تحفتاً بھیج کر معاملے کی نزاکت کا صداقت سے نوٹس لیتے ہیں۔
آپ اگر ان طے شدہ عوامل کی بنیادوں کو ذرا ہلا کر دیکھیں تو یہ اتنے ہی نقارہ ہیں کہ جیسے ہم بچپن سے انگریزی سیکھنے کی مشق میں ”اسلم کھاتا ہے اور اسلم جاتا ہے“ کی گردان رٹے جا رہے ہیں مگر نہ تو اسلم دہائیوں سے لگاتار کھاتے رہنے کے باوجود سیر ہوا نہ اسلم گیا اور نہ ہی ہمیں انگریزی آئی۔ دیکھیے جیسے ہم گردشی قرضوں میں پھنسے ہیں ویسے ہی ہمارا اور اسلم کا یہ ساتھ ہے جس میں راشن کی بربادی الگ کام نامکمل الگ۔ کیا اس سیٹ پیٹرن میں کبھی کوئی تبدیلی آئے گی؟ کیا ہم غم بنانے کا طریقہ بدلیں گے؟ کیا ہم کبھی سیکھنے کے دیگر طریقے اپنائیں گے؟ کیا ہمارا قومی مزاج ہیک کر لیا گیا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات کون دے گا یہ بھی ایک الگ سوال ہے۔ خیر!
بات مولانا ابو الکلام آزاد کی ہو رہی تھی، برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے مولانا کا موقف ہمیشہ سے صاف رہا کہ اس تقسیم سے خطے کے مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ اپریل 1947 میں ”چٹان“ کے مدیر شورش کاشمیری کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ ”مسلمان کاروباری حضرات کو سرکاری سرپرستی اور مہربانیوں کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ وہ نئی آزادی اور خود مختاری سے خوف زدہ ہیں، دو قومی نظریے کی آڑ میں اپنے خوف کو چھپاتے ہیں اور ایسی مسلمان ریاست چاہتے ہیں جہاں وہ بغیر کسی مقابلے کے معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں، پاکستان کے قیام کی گرم جوشی ٹھنڈی پڑتے ہی اختلافات سامنے آنے شروع ہو جائیں گے جو جلد ہی اپنی بات منوانے کی حد تک پہنچ جائے گی، یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہو گا کہ وہ کب تک اس فریب کاری کو زندہ رکھ سکتے ہیں“ ۔ یہ کہنا تھا مولانا کا انیس سو سینتالیس میں دیکھیے یہ آج بھی کتنا بر محل تبصرہ ہے۔ سات دہائیوں تک چلایا گیا پروپیگنڈا کہ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں موجودہ حالات میں ایک لطیفہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اب مطالعہ پاکستان کے مقلدین نیا سلیبس تیار کرنے میں کتنا وقت لیں گے اس کا پتہ وقت ہی دے گا۔
سیاست پیچیدہ مسائل کا حل سیاسی مشاورت اور بصیرت سے نکالنے کا نام ہے مگر وطن عزیز میں لفظ ”سیاست“ مغلظات اور دشنام کا مترادف بن چکا ہے۔ اقتدار کی کھینچا تانی میں عوامی نمائندوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے والوں نے اپنی قلم، اپنی روشنائی اور اپنی خوشخطی سے لفظ غدار بہتات میں لکھا اور بانٹا۔ عوامی نمائندے شروع ہی سے طاقت کا ارتکاز ایک پلڑے میں دیکھ کر اپنی عزت بچانے اور عزت بنانے کی دوڑ میں اسی کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمپنی کے ہاں بطور نیم سیاسی دستہ شامل ہوتے رہے تاکہ وقت ضرورت اپنی قبیل کے عوامی نمائندوں کو کمپنی کی منشا کے مطابق دیوار میں چنوا سکیں، اور اپنی تکریم کو کمپنی کی نظر میں یقینی بنائیں۔
کھیل جاری رہا اور اس کھیل میں کسی وزیر اعظم کو آئینی مدت پوری کرنے سے معذور رکھا گیا۔ بار بار کے تجربات کا ثمر تو آخر پانا تھا، ملک کو ایسے ہی چلایا گیا جیسے محنت کش کسی عمارت کی چھت ( لینٹر ) ڈالنے کے لیے مال لے جانے والی ریڑھی کا استعمال کرتے ہیں جس میں ایک چکر کوئی ایک، دوسرا چکر کوئی دوسرا اور کبھی ایک چکر آدھے راستے سے کوئی تیسرا لگا کر مال کو منزل پر پہنچائے گا۔ مگر ایسے ہم نے لینٹر ڈالتے تو دیکھے ہیں مگر ملک چلتے نہیں دیکھے، اور اگر نوری ممالک ایسے کچھ عرصہ چل بھی جائیں تو زوال اور اندھیرا آخر اپنی راہ بنا ہی لیتا ہے اور پھر تاریک راہوں میں لا حاصل کا سفر از سر نو شروع ہو جاتا ہے۔
اجارہ دار گروہ نے عوامی نمائندوں کو عبرت کا نشان بنانے کے ساتھ ساتھ عوام پر تضحیک کے نشتر اور جبر کے تازیانے بھی ہمیشہ عام رکھے۔ حالیہ دونوں میں بپھری ہوئی معاشی ساکھ کی ذمہ داری کچھ مہنگی کافی پینے والوں پر لاد دی۔ یہ مہنگا برانڈ استعمال کرنے والے بھی وہی ہیں جو ان اجارہ داروں کے خواری ہیں مگر اپنا تعارف بطور عوام کراتے ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں جہاں عام آدمی سوکھی روٹی کھانے سے معذور ہے وہ اس مہنگے برانڈ کی کافی پینے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟
عام آدمی تو مہنگے داموں بھی غنیمت سے ملنے والے آٹے کے حصول میں لگی بھیڑ میں اپنا سر ہجوم کے تلوؤں تلے دے کر زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ گروہ کا یہ طبقہ اپنی فرصت کو مہنگے ہوٹلز میں کافی کی نظر کرے تو قوم کو مال مستی کے اجتماعی طعنے بھی ان کی شاہ خرچیوں کے عوض دیے جاتے ہیں۔ ماضی قریب کی حکومت عوام کی معاشی بہتری کو یوں بیان کرتی رہی کہ رواں سال اتنی گاڑیاں درآمد ہوئیں۔ بتائیے کیا ایسے مغالطوں پر مبنی عداد و شمار عوام کی معاشی ابتری کے ساتھ مذاق نہیں جہاں آبادی کا بڑا حصہ خط غربت کی لکیر کی فقیری میں نڈھال ہے؟ بالائی طبقے کے یہ لوگ جو شاہ کے مصاحب ہیں ان کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں اور اگر کوئی تعلق ہے بھی تو وہ یہ کہ عام آدمی ان کے لیے استہزاء اور تماشے کا سامان ہے اور کچھ نہیں۔
کچھ یاروں کو یہ بھی ملال نڈھال کر رہا ہے کہ یہ عوام باہر کیوں نہیں نکلتے؟ آخر اس نظام کے پرخچے کیوں نہیں نکالتے؟ اس نظام کو لپیٹ لینے کو شہری ہرزہ سرائی کیوں نہیں کرتے؟ ان سوالوں کا جواب میں اپنی بساط کے مطابق آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عوام لفظ ”اعتبار“ سے اب بے نیاز ہیں اور اس بے نیازی کی سادہ وجہ یہ کہ ہر اس مسیحا نے درد کو گہرا کیا جس نے تریاق پہلو میں ہونے کا دعویٰ کیا۔
جس نے بھی مرض کی تشخیص کا شور کیا اور مرض ختم کرنے کی تسلی دی اسی نے بیچ آپریشن معاوضہ دوہرا کرنے کی شرط عائد کر دی اور اگر آپریشن مکمل بھی کیا تو دوران آپریشن استعمال کی گی قینچی بطور تحفہ اندر چھوڑ دی۔ ملال کی بات یہ ہے کہ ہر بار لوٹ لینے کو ایک نیا سبق پڑھایا گیا کبھی بھارت کو چت کرنے کا سبق، کبھی نظام مصطفٰی کے نام پر، کبھی احتساب کے نام پر کبھی معیشت کی بہتری کی ضمانت پر، کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔
کیا اسی حالت کو شاد لکھنوی نے یوں بیان کیا گیا تھا کہ ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی؟“ دوسری بات یہ بھی ہے کہ عوام کا نکلنا زیادہ بڑا مسئلہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اس بپھرے ہجوم کو منزل تک لے جانا ایک مسئلہ ہے۔ ہجوم جب نکل جائے تو اسے سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں رہتا۔ بتائیں موجودہ حالات میں کون ہے جو عوام کی رہنمائی کرے گا؟ کیا کوئی ایسا ہے جو اپنے ذاتی مفاد سے بے نیاز ہو کے اس قوم کی نگہبانی کرے؟ آپ بتائیے کون ہے؟
اور کیا بغیر کسی رہنما کے یہ سفر موجودہ حالات میں ممکن ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ عقیدہ جڑ پکڑ چکا ہے کے یہاں ”بقائے اصلح“ کا دور دورہ ہے۔ یہاں وہی بچے گا جو بچ جانے کا اہل ٹھہرے گا، شہری کو ریاست پر اعتماد نہیں رہا اور اپنا تحفظ اپنے بل بوتے پر کرنا وقت کا قانون بن چکا ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط ہرگز نہ ہو گا کہ شہری اور ریاست کو جوڑے رکھنے والا معاہدہ عمرانی اب ابن صفی کا شاہکار عمران سیریز بن چکا ہے۔
ہمیں اس مرحلے تک پہنچانے میں ملک میں رائج ڈھنگ تپاؤ پالیسی کا واضح دخل رہا ہے۔ جب جب ملک مشکلات سے دو چار ہوا یہاں سطحی مباحث میں قوم کو مصروف رکھ کر مزید شب خون مارے گئے۔ پانی سر سے چڑھ جانے میں ہنوز دلی دور است کے کرداروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ ہمیشہ مسائل کے حل میں ریاستی تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا گیا اور مسائل کو محض للکار کر اپنی اپنی پیٹھ تھپکا کر گفتار کے مستند غازی کہلوائے جانے کی اسناد لیں اور چل دیے، حاصل اسناد خرابوں کے مکینوں کو دکھانے۔ ہم شاید دائم یہ سبق بھولے رہے کہ پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے۔


