مقابلہ گائیکی کلام فیض
دریائے چناب کے کنارے واقع سیالکوٹ کی زرخیز زمین نے ایک سے بڑھ کر لعل و گوہر پیدا کیے۔ اس مٹی نے بہت سارے معروف سیاستدان، قانون دان، صحافیوں، کھلاڑیوں، شعراء و ادباء، گلوکاروں اور مذہبی رہنماؤں کو جنم دیا۔ سب سے بڑھ کر ہمارے خطے کی پہچان، مصور پاکستان، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال جیسی ہستی نے اپنی آنکھیں اسی شہر میں کھولیں۔ آج کے دن یعنی 13۔ فروری 1911 اس سر زمین نے ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت کو جنم دیا جس کے افکار نے اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس نے کہا تھا کہ:
بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول زبان اب تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کے جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہنگ کی دکاں میں
تند ہیں شعلے، سرخ ہے آہن
کھلنے لگے فصلوں کے دہانے
پھیلا ہر ایک زنجیر کا دامن
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زبان کی موت سے پہلے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہو کہہ لے
جی میں اسی فیض احمد فیض کی بات کر رہا ہوں جس نے عام آدمی کی بات کی، جس نے مزدور کی آواز کو بلند کیا، وہی فیض جس نے رومان کا سہارا لیتے ہو حقیقت کی طرف سفر کیا، وہی فیض جس نے شاعری کو نیا آہنگ دیا۔
بلند خیالی رکھنے والے اس عظیم شاعر نے زندگی کے ہر رنگ کو قریب سے دیکھا۔ معاشرے کی زبوں حالی، معاشرتی نا انصافیاں، ظلم و بربریت، سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیاں، کسانوں اور مزدوروں کا استحصال جیسی معاشرتی ناہمواریوں نے فیض جیسی حساس شخصیت کو متاثر کیا اور یہی تمام موضوعات ہم ان کی شاعری میں دیکھ سکتے ہیں۔ فیض کی شاعری روایتی انداز سے تھوڑی ہٹ کر ہے وہ رومان سے اپنی بات شروع کرتے ہیں اور ترقی پسندیت پر اس کا اختتام کرتے ہیں جیسے ان کی معروف نظم ”رقیب سے“ سے دو بند ملاحظہ کریں :
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
یہ نظم جوں جوں اپنے اختتام کی جانب بڑھتی ہے تو فیض صاحب کی حقیقت پسندی اور ترقی پسندیت کی صورت میں ایک غریب بے کس مزدور کی آواز بن جاتی ہے
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
سکاچ مشن سکول سے میٹرک کے بعد فیض صاحب نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ سے حاصل کی۔ فیض صاحب کے یوم ولادت کی مناسبت سے مجلس فیض شعبہ اردو گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ کے زیر اہتمام اپنے اس نام ور سپوت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ”مقابلہ گائیکی کلام فیض“ کا انعقاد کیا۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا حضور پرنور ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے بعد شعبہ اردو کے طالب نے خوش لحانی سے کلام اقبال پڑھا۔
اس کے بعد مترنم کلام فیض کا مقابلہ ہوا جس میں شریک مقابلہ ہر طالب علم نے اپنے اپنے انداز سے خوش لحانی کے ساتھ کلام پیش کیے اور حاضرین سے خود داد سمیٹی۔
مہمانان خصوصی میں معروف قانون دان، دانشور، کالم نگار اور ادیب محمد آصف بھلی صاحب، ماہر اقبالیات صدر فیض چئیر یونیورسٹی آف سیالکوٹ جناب ڈاکٹر عامر اقبال صاحب، آنسہ زوبیہ اور نصیر گیلانی صاحب جبکہ پروگرام کی صدارت گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ کے پرنسپل جناب ڈاکٹر محمد نواز صاحب نے فرمائی۔
فیض صاحب کے افکار پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب آصف بھلی صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز اس انٹرویو سے کیا جو انھوں نے فیض صاحب سے براہ راست پنجاب یونیورسٹی کے مجلہ محور کا ایڈیٹر ہونے کی حیثیت سے کیا جو ان کی وفات کے اگلے روز ”روزنامہ جسارت“ میں شائع ہوا۔ آصف بھلی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے دو سوال فیض صاحب سے کیے جن کے جواب انھوں نے نہایت اختصار سے دیے۔ پہلا سوال تھا کہ میر، غالب اور اقبال میں بڑا شاعر کون ہے؟ فیض صاحب نے فرمایا کہ ”ہمارے اقبال“
میرا دوسرا سوال تھا کہ کوئی ایسی ہستی کہ جس کا نام سن کر آپ زندہ باد پکار اٹھیں تو انھوں نے فرمایا کہ ”ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ“
فیض صاحب کو علامہ اقبال سے حد درجہ محبت تھی، فیض کہتے ہیں کہ علامہ اقبال ایک فلک بوس پہاڑ ہیں اور میں اس کے دامن میں کھیلتا ہوا ایک بچہ۔ واحد شخصیت اقبال کی ہے جن کو فیض صاحب نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ مزید انھوں نے دونوں شخصیات کی مرے کالج سے نسبت اور ان کے اساتذہ خصوصی طور پر میر حسن اور یوسف سلیم چشتی کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر عامر اقبال صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پرنسپل اور خصوصاً شعبہ اردو مرے کالج کو اس پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ شریک مقابلہ طلباء نے جو کلام پیش کیے ان پر سیر حاصل گفتگو کی۔
پرنسپل جناب ڈاکٹر محمد نواز صاحب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور فیض صاحب کی سالگرہ پر کالج ہذا کی علامہ اقبال لائبریری میں گوشۂ اقبال کو ”فیض اور اقبال“ تصویری گیلری میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔
مقابلہ میں پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے طلباء کو کیش پرائز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا۔
مجلس فیض شعبہ اردو کی جانب سے پروفیسر بابر پطرس، پروفیسر شاہد اختر، جناب آصف بھلی اور ڈاکٹر عامر اقبال صاحب کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔ شعبہ اردو کے اساتذہ پروفیسر ناصر اکبر، پروفیسر ندیم اسلام سلہری، پروفیسر سجاد حیدر بھٹی، پروفیسر کاشف علی اور خصوصی طور پر پروفیسر مہر محمد الیاس صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے اس خوبصورت بزم کو سجایا۔


