ضیاء محی الدین کی رخصت؛ لہجے یتیم ہو گئے!
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلۂ تسکین نہیں اور آس بہت ہے
مجھے اپنے سکھانے والوں سے کچھ عجب ہی محبت ہوتی ہے۔ کوئی سکھانے والا کبھی کہیں دور چلا جائے تو دن بہ دن غم بھی گھٹنے کے بجائے طول پکڑ لیا کرتا ہے۔ عظیم لوگ مرتے تو ہیں لیکن موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔
ہماری ضیاء صاحب سے پہلی شنوائی تو غالباً میٹرک کے دنوں میں کہیں پہلی بار ہوئی۔ ان سے محبت تو اس روز انتہا پہ پہنچی جب تیرہویں جماعت میں پہلی بار فیض میلہ دیکھنے لاہور آئے، پوسٹر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ آج شب ضیاء صاحب بھی اپنی آواز کا جادو دکھائیں گے۔ ہم بھی ٹکٹ ہاتھ میں تھامے محبت بھری آنکھوں سے کسی محبت شعار کو تکنے کے لیے ہال میں جا پہنچے، ہال میں گہرا سکوت اور اک محبت کی آہٹ بھری آواز کانوں میں اپنا رس گھولتے جا رہی تھی۔ اب ایسے عالم میں اک نوجوان کے ہاتھوں میں دل ہی تھا جو ہم ہار بیٹھے، اسی روز سیکھنے کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گیا۔
ضیاء صاحب اردو ادب کے حسین ادوار کے امین تھے۔ انہوں نے نہایت امانت داری کے ساتھ اس امانت کو اپنی مسحور کن آواز میں ڈھال کر اردو کا ورثہ بنا دیا۔ یاد پڑتا ہے کہ جب کبھی غالب کے کسی شعر کی سمجھ نہیں آ رہی ہوتی تھی تو ہم ضیاء صاحب کی آواز ڈھونڈنے لگتے تھے کہ اگر ضیا صاحب نے شعر سنا دیا تو سمجھ میں آ جائے گا۔ فیض کے کلام سے ان کی زبان نے ہر خاص و عام کو فیض یاب کر دیا۔
ضیا صاحب نے مختلف افسانوں کو اس قدر خوبصورتی سے ادا کیا کہ کردار سامنے چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ن م راشد کی معروف نظم ”حسن کوزہ گر“ کو اس عمدگی کے ساتھ سنایا کہ کردار سامنے دکھائی دیتا ہے۔ اسد محمد خاں کی کہانی ”باسودے کی مریم“ کو جس وقت ضیا صاحب کی زبان میسر آئی تو امر ہو گئی۔ محمد علی ردولوی کے خطوط جو انہوں نے اپنی بیٹی ہما کے نام لکھے ہیں وہ بلاشبہ اردو ادب کا عظیم سرمایہ ہیں۔ ضیا صاحب کی زبان سے انہیں سنا تو اندر ہی کہیں رچ بس گئے۔ منٹو کے افسانوں کو جب ضیا صاحب کی زبان سے سننے لگتے تو یوں احساس ہوتا ہے کہ ہم بھی کہانی کا حصہ ہیں اور ہمارے سامنے واقعہ وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ پطرس کے مضامین کو اس آہنگ سے انہوں نے پڑھ دیا گویا جیسے حق ادا ہو گیا۔
علامہ صاحب کی نظم ”شکوہ“ جب انہوں نے سنائی تو گویا احساس ہوا کہ خود علامہ سامنے بیٹھے اپنے رب سے شکوہ کنا ہیں۔ اقبال کے کلام پہ اگر کوئی زبان جچتی ہے تو بلاشبہ ضیاء صاحب کی ہی ہے۔ مرزا اسداللہ خاں غالب کے خطوط کو جس عمدگی سے انہوں نے سنایا تو گویا بلی ماراں کے محلے کا سارا ماحول آنکھوں کے سامنے عیاں ہو گیا، ساری معاشرت سامنے زندہ نظر آنے لگ گئی۔
ہمیں یاد پڑتا ہے کہ جن دنوں انگریزی ادب سے کچھ آشنائی بڑھ رہی تھی تو شیکسپیئر کو پڑھنے کا کچھ شوق ہوا، ایک فلسفی دوست نے بتایا کہ میاں اگر شیکسپیئر کے کرداروں کو اپنے سامنے زندہ بولتے دیکھنا چاہو تو ضیاء صاحب کی زبانی سن لو۔ پھر یوں ہی ہوا اور یوں ضیاء صاحب سے تعلق مزید پختہ ہو گیا۔
ضیا صاحب نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس جیسے عمدہ ادارے کی بنیاد رکھی جس نے بے شمار طلبہ و طالبات کو پرفارمنگ آرٹس کی تربیت سے نوازا۔ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس سے پہلے پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ نہ تھا جو ایکٹنگ، میوزک اور تھیٹر سمیت دیگر پرفارمنگ آرٹس سے متعلق تربیت دے سکے۔ پرفارمنگ آرٹس سے متعلق بہت سے شعبوں میں اس ادارے نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ یہ ادارہ ہمارا نہایت قیمتی اثاثہ ہے۔
ضیاء صاحب کی اداکارانہ صلاحیتیں صرف ”Lawrence of arabia“ تک ہی محدود نہیں بلکہ انہوں نے ”Behind a pale horse“ جیسی کئی شاہکار فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے ہنر دکھائے۔ ملکی سطح پر بھی بہت سی فلمیں ان کا کردار اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
بڑے آدمی بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو اس قدر وسعت کمالات سے انسانیت کو منور کرتے ہیں۔ ضیاء صاحب کے بعد اس میدان میں کچھ اندھیرا ہی دکھائی دیتا ہے۔ خدا کرے کہ ہم اپنے ادیبوں کی قدر کرنا سیکھ جائیں۔
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

