گرین زون ایپ: دکھی انسانیت کے نام میرا محبت بھرا تحفہ


میں نے جب پاکستان اور کینیڈا میں روایتی ماہرین نفسیات کو نفسیاتی مسائل کا شکار مریضوں کا ادویات اور بجلی کے جھٹکوں سے علاج کرتے دیکھا تو میرے دل میں ایک خواہش ’ایک آرزو‘ ایک تمنا اور ایک خواب نے سرگوشی کی کہ میں ایک ایسا نفسیاتی علاج تخلیق کروں جس کی عمارت "اپنی مدد آپ” کی بنیاد پر قائم ہو۔

میرا یہ خواب پچھلے تیس برسوں میں دھیرے دھیرے شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔ اس طویل سفر میں بہت سے دوستوں اور اجنبیوں کی مدد اور حوصلہ افزائی شامل ہے۔ شمالی امریکہ کے سرخ فام انڈین رہنما چیف بلیک ایلک
Native chief black elk
فرماتے تھے کہ زندگی میں کوئی بھی بڑا کام کوئی ایک اکیلا انسان نہیں کر سکتا۔

میری برسوں سے یہ بھی خواہش تھی کہ میرا فلسفہ عام فہم ہو تا کہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔ آج میں اس تخلیقی اور پیشہ ورانہ سفر کے سات قدم اختصار سے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تا کہ باقی تفصیلات آپ اپنی چشم تصور سے دیکھ سکیں۔

پہلا قدم گرین زون فلسفے کی پیدائش تھی۔ میں نے اس فلسفے کا تصور ٹریفک کی گرین ’ییلو اور ریڈ لائٹس سے مستعار لیا۔ گرین زون فلسفے کے مطابق ہم سب تین نفسیاتی زونز میں رہتے ہیں

جب ہم صحتمند ’خوشحال اور پرسکون زندگی گزار رہے ہوتے ہیں تو ہم اپنے گرین زون میں ہوتے ہیں
جب ہم تھوڑے پریشان ’تھوڑے دکھی یا تھوڑے اداس ہوتے ہیں تو ہم اپنے ییلو زون میں ہوتے ہیں اور
جب ہم غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں یا زندگی سے بالکل مایوس ہو جاتے ہیں تو ہم اپنے ریڈ زون میں ہوتے ہیں

گرین زون فلسفہ ہماری رہنمائی کرتا ہے تا کہ ہم اپنی زندگی کا زیادہ وقت صحتمند اور پرسکون گرین زون میں گزاریں۔

دوسرا قدم یہ تھا کہ میں نے ان مریضوں سے ’جنہوں نے گرین زون سے استفادہ کیا تھا‘ درخواست کی کہ وہ اپنی گرین زون کہانی لکھیں تا کہ اور لوگ انہیں پڑھ کر ان سے استفادہ کر سکیں۔

تیسرا قدم یہ تھا کہ میں نے اپنی رفقا کار این ہنڈرسن اور بے ٹی ڈیوس کے ساتھ مل کر گرین زون سیریز کی آدھ درجن کتابیں لکھیں جو اب ایمیزون پر دستیاب ہیں۔ ہمارے بہت سے مریض اور ان کے دوست اور رشتہ دار ان کتابوں سے استفادہ کر چکے ہیں۔

چوتھا قدم یہ تھا کہ میں نے اپنی ادبی دوست اور رفیق کار ثمر اشتیاق سے درخواست کی کہ وہ میری گرین زون ورک بک کا اردو میں ترجمہ کریں تا کہ وہ پاکستانی دوست جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے وہ اردو کی کتاب سے مدد حاصل کر سکیں۔

پانچواں قدم یہ تھا کہ میں نے اپنی دوست اور رفیق کار زہرہ نقوی سے کہا کہ وہ زوم پر سیمیناروں کا اہتمام کریں۔ اس کے بعد میں نے ثمر اشتیاق اور زہرہ نقوی کے ساتھ مل کر زوم پر بہت سی ورکشاپس پیش کیں جن میں سینکڑوں مردوں اور عورتوں نے شرکت کی۔ اس سفرمیں ہماری بہت سے وولنٹیرز نے بھی مدد کی جس کی ایک مثال ایک ذہین اور سمجھدار فنکارہ عائشہ اسلام ہیں جنہوں نے ہر سیمینار کے لیے خوبصورت پوسٹر بنائے اور گرین زون کمیونٹی کے فیس بک کے صفحے پر فخر سے پیش کیے۔

چھٹا قدم یہ تھا کہ پاکستان کی ڈاکٹر عارفہ بھٹو نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی طالبات کے ساتھ مل کر ہمارے لیے ایک گرین زون ایپ بنائیں گی تا کہ گرین زون فلسفے سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ چند ماہ کی محنت شاقہ کے بعد انہوں نے وہ وعدہ پورا کر دیا۔

ساتواں قدم اب یہ ہے کہ ہم اس گرین زون ایپ کو
sunday march 5th,2023
کے دن کینیڈا کے گیارہ بجے صبح زوم پر لانچ کرین گے۔

گرین زون فلسفے کے ارتقا کے اس سفر میں ’ہم سب‘ کے مدیروں ’لکھاریوں اور قاریوں نے اہم کردار ادا کیا اور ہر قدم پر میری اور میرے گرین زون ٹیم کے دوستوں کی مدد بھی کی اور حوصلہ افزائی بھی کی۔

…………………………………….
Green Zone Team is inviting you to a scheduled Zoom meeting.
Topic: GreenZone App Launch
Time: Mar 5، 2023 11:00 AM Eastern Time (US and Canada)
Pakistan Time : 9:00 PM
Join Zoom Meeting
https://us02web.zoom.us/j/89150181274?pwd=STNWY1ZibnRUQk1jUTloSmo1NDlwUT09
Meeting ID: 891 5018 1274
Passcode: 12345
…………………………………..

گرین زون کا فلسفہ ’کتابیں‘ وڈیو اور ایپ دکھی انسانیت کے نام میرے محبت بھرے تحفے ہیں تا کہ انسانیت کی خدمت کا یہ سلسلہ میرے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی جاری رہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے گرین زون فلسفے سے خود اپنی مسیحائی کر سکیں۔

میں نے ڈاکٹر عارفہ بھٹو سے درخواست کی کہ انہوں نے گرین زون کے فلسفے سے جو استفادہ کیا ہے اور ایپ بنانے میں جو محنت ’مشقت اور ریاضت کی ہے اس کے بارے میں کچھ لکھیں تا کہ لوگوں کو ان کی اور ان کے ساتھیوں کی بے لوث خدمت کا اندازہ ہو۔ چنانچہ ان کا خط حاضر خدمت ہے۔

………………………
ڈاکٹر عارفہ بھٹو کا خط
۔ ۔

ڈاکٹر سہیل صاحب مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے ’ہم سب‘ میگزین پر آپ کے کالم سے متاثر ہو کر اپنے مسئلے کے بارے میں مدد مانگی تھی، ۔ چند منٹوں میں مجھے فیس بک کے میسنجر پر آپ کا جواب موصول ہوا اور آپ نے مسئلہ پوچھا اور جواب میں آپ نے مجھے گرین زون کے بارے میں بتایا اور ای میل سے گرین زون فلسفے پر مبنی کتاب بھیجی۔ گرین زون فلسفے اور مشوروں پر عمل کرنے سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔

کووڈ وبا کے دوران جب آپ نے گرین زون سیمینار منعقد کیے تو میں نے زوم کے ان سیمیناروں میں بھی شرکت کی اور ذہنی صحت کا بارے میں بہت کچھ سیکھا۔

سیمینار کے دوران میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم سافٹ ویئر ایپلی کیشن بنائیں جس سے بہت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ میں سافٹ وئیر انجینئر ہوں اور پاکستانی یونیورسٹی میں سافٹ وئیر انجینئرنگ پڑھاتی ہوں اس لیے مجھے تجربہ ہے کہ سافٹ وئیر کو کیسے تیار کیا جاسکتا ہے۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم سافٹ وئیر ایپلی کیشن ڈویلپ کریں کیونکہ اس ایپلی کیشن کو استعمال کر کے بہت سے لوگ بہت سے فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔

چنانچہ جب آپ نے گرین زون ایپ بنانے کے حوالے سے مشورہ کیا اور مدد مانگی تو میں نے حامی بھر لی۔ چنانچہ پچھلے سال ہم نے اس پر کام شروع کیا اور ایک سال کی محنت اور اپنے طلباء اور دوستوں کی مدد سے ایپلیکیشن کا پہلا پروٹو ٹائپ بنالیا ہے۔

فی الحال میرے پاس ایک ایسی ٹیم ہے جو اس پروجیکٹ پر میری نگرانی میں کام کر رہی ہے۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر کامران تاج پٹھان بھی شامل ہیں اور شہزانہ بھی۔ اس میں وہ باصلاحیت لڑکی بھی شامل ہے جس کا نام فاطمہ ہے وہ بی سی ایس فائنل ائر کی طالبہ ہے۔ جو کہ بہت تخلیقی ہے وہ گرین زون میں رہنے والی سوشل میڈیا پوسٹ ڈیزائن کرتی ہے اور تمام سوشل نیٹ ورکس اکاؤنٹس کا انتظام کرتی ہے۔ اس میں ایک میرا فائنل ائر کا طالب علم شاکر بھی شامل ہے جس نے سافٹ وئیر انجینئرنگ میں بیچلر کیاہوا ہے۔ وہ بھی گرین زون ایپلیکیشن پر کام کر رہا ہے۔ یہ ایپ اینڈرائڈ پر فراہم ہے اور جلد ہی گوگل ایپ پر بھی فراہم ہو جائے گا۔ میری ٹیم میں ایک طالب علم مہران بھی شامل ہے جو سافٹ ویر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ وہ پروجیکٹ کا انتظام اور مکمل ویب ایپلیکیشن تیار کرتا ہے۔

اس نے گرین زون کی ویب ایپلیکیشن تیار کی ہے جو www.greenzoneliving.org پر دستیاب ہے۔
میری ٹیم میں ایک لڑکی مریم بھی شامل ہے جو ویب اور ایپلیکیشن UX/UI ڈیزائن کرتی ہے۔
اس طرح ہم اپنے دوستوں کے لیے پرسکون گرین زون میں رہنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

میں خاص طور پر ڈاکٹر سہیل، بے ٹی ڈیوس، ابصار فاطمہ، ثمر اشتیاق، زہرہ نقوی اور بہت سے دوسرے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اس گرین زون ایپ کے انگریزی اور اردو کے پروجیکٹ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ہماری مدد کی۔ میں ڈاکٹر سہیل کی خصوصی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اور میری ٹیم پر بھروسا کیا۔

مجھے پوری امید ہے کہ جس طرح گرین زون کے فلسفے نے میری زندگی مثبت انداز میں بدلی ہے اسی طرح یہ فلسفہ اور بھی بہت سے لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا اور وہ ایک خوشحال، صحتمند اور پرسکون گرین زون زندگی گزاریں گے۔

ڈاکٹر سہیل مجھ پر بھروسا اور اعتماد کرنے کا شکریہ اور پانچ مارچ کو اس گرین زون ایپ کو لانچ کرنے کی مبارکباد۔
مخلص ڈاکٹر عارفہ بھٹو

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail