کوہ نور: ایک منحوس اور بیوفا ہیرا؟

انسانی تاریخ کی ہر ایک تہذیب میں ہیرے جواہرات کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کے حصول کے لئے بہت سے بادشاہوں اور ریاستوں نے لڑائیاں لڑی ہیں۔ ہیرے دولت اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ لافانیت اور طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہ زمانہ قدیم سے بادشاہوں کے شاہی تاجوں کی زینت بنتے آ رہے ہیں۔ تاریخ میں ایک ایسا ہی ہیرا ”کوہ نور“ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ ہندوستانی تاریخ پر لکھنے والے مشہور مورخ

Read more

کہانی کی کہانی

ہم بچپن میں اپنے بڑوں سے کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ دیو اور جنات کی کہانیوں سے ہوتے ہوئے بادشاہوں اور ملکاؤں کی کہانیاں، الف لیلہ، سات بہنیں، خاتم کے سات سوالوں اور علی بابا چالیس چور وغیرہ کی کہانیوں کے بارے میں کم از کم سنا ضرور ہے۔ کہانیاں ہماری تہذیب و ثقافت میں پیوست ہوتی ہیں۔ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کے ہر گوشے میں اور انسانی تہذیب

Read more

جمالیات کا فلسفہ اور آج کا انسان

روئے زمین پر بنی نوع انسان کو خوبصورتی، بدصورتی، اچھائی اور برائی ہر دور میں متاثر کرتی رہی ہے۔ ہر دور میں انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر خوشی، امید، غم، اور دکھ درد جیسے جذبات سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ وہ اپنے ان جذبوں کا اظہار پینٹنگ، سنگ تراشی، رقص و سرور، مجسمہ سازی، موسیقی، نثر و شاعری، فلسفہ اور روزمرہ زندگی میں کرتا رہا ہے۔ ایک تخلیق کار کے ان جذبوں کے اظہار کو کسی بھی شکل میں

Read more

پشتون اور نسلیات ہندوکش (آخری قسط)

اس آخری قسط میں ہم یہ دیکھیں گے کہ سعد اللہ جان برق صاحب کے تحقیق کی روشنی میں پشتون کون ہیں اور کہاں سے آئے لیکن اس سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وسطی ایشیا کا جو کوہ ہندوکش پہاڑی سلسلہ ہے اس سے مختلف ادوار میں مختلف انسانی جتھے اور قبائل نکلتے رہے ہیں۔ اس سلسلے کی وسعت افغانستان، شمالی پاکستان، تاجکستان اور چین تک ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کو عبور کرنے کے بعد ہندوستان شروع

Read more

پشتون اور نسلیات ہندوکش ( 4 )

پشتونوں کی اصل نسل کے متعلق نظریات میں سب سے مقبول اور مشہور نظریہ، آریائی نظریہ بھی ہے جس کے مطابق پشتون آریائی نسل ہے۔ یہ نظریہ افغانستان میں بہت زیادہ مقبول ہے اور اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے اس لیے اس پر بہت زیادہ لکھا جاتا رہا ہے۔ پشتونوں کو آریا ثابت کرنے کی تحقیقات یا حوالوں کا انحصار ہندی اور ایرانی نوشتوں پر ہوتا ہے جن میں ژند، اویستا، شاہنامہ فردوسی، خدائے نامہ، رامائن اور مہابھارت وغیرہ

Read more

پشتون اور نسلیات ہندوکش (3)۔

دوسری قسط میں ہم نے بنی اسرائیلی نظریہ اور قیس عبدالرشید کے واقعے پر کافی تفصیل سے بحث کی تھی۔ اب ہم ان نظریات کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔ سب سے پہلے بنی اسرائیلی نظریہ والے جن ناموں کا ذکر کرتے ہیں جیسے برخیا، ارمیا اور افغنہ وغیرہ جس سے پشتون قبائل بنے، یہ نام سرے سے تورات میں بالکل موجود ہی نہیں ہے جبکہ حوالہ تورات کا دیا جاتا ہے۔ اس طرح دس قبائل کی گمشدگی کا جو واقعہ

Read more

پشتون اور نسلیات ہندوکش (2)۔

پشتون کی اصل نسل کے بارے میں بہت سے عجیب و غریب نظریات پائے جاتے ہیں۔ برق صاحب نے تقریباً ان تمام نظریات کا مدلل انداز میں تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے ایک نظریہ، بنی اسرائیلی نظریہ بھی ہے۔ یہ نظریہ کچھ یوں تراشا گیا ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں ایک مرتبہ دربار میں ایک ایرانی سفیر آیا اور مغلوں کو خوش کرنے کے لئے پشتونوں کی اصل نسل پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ایک قصہ

Read more

پشتون اور نسلیات ہندوکش ( 1 )۔

اگر آپ تاریخ سے تھوڑا بہت شغف رکھتے ہیں خاص کر برصغیر میں رہنے والی مختلف اقوام کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ بات آپ کو معلوم ہوگی کہ جتنا آج تک جتنا پشتون تاریخ پہ لکھا گیا ہے شاید ہی کسی دوسرے قوم بارے اتنا مواد موجود ہو۔ پشتون تاریخ پہ جو چند مشہور کتابیں ہمیں ملتی ہیں وہ کسی پشتون محقق نے نہیں لکھیں۔ حال ہی میں سعد اللہ جان برق صاحب کی مشہور کتاب، ”پشتون

Read more