کورین تجارتی وفد کی پاکستان آمد

کورین تجارتی وفد کی پاکستان آمد: جنوبی کوریا میں پاکستان کے تعینات ہونے والے نئے اعزازی کونسلر برائے سرمایہ کاری مدثر علی چیمہ کا اوپننگ اسٹروک۔
جنوبی کوریا کے ایک کثیر رکنی تجارتی وفد نے کوریا میں تعینات سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ اور سابق کورین سفیر ڈاکٹر سونگ جونگ ہوان کی سربراہی میں پاکستان کا چھ روزہ دورہ کیا۔ اس تجارتی وفد کا مقصد کورین سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرنا تھا۔ اس وفد کو پاکستان لانے میں مرکزی کردار مدثر علی چیمہ کا ہے جو حال ہی میں حکومت پاکستان کی طرف سے کوریا میں سرمایہ کاری کے اعزازی کونسلر مقرر ہوئے ہیں۔
وفد نے پاکستان میں اپنے مصروف ترین قیام میں دو طرفہ نو ایم او یوز دستخط کیے جن میں سیاحت، زراعت، تجارت، اسپورٹس، فوڈ پیکنگ، اسٹیل، تعمیرات، سمال انڈسٹریز اور فارماسوٹیکل کے شعبے نمایاں تھے۔ یہ تجارتی وفد 18 فروری کو اسلام آباد پہنچا جہاں ائرپورٹ پر سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ، کورین ایمبیسی کے سفیر، پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کے نمائندوں اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعلی عہدیداران نے کوریا سے آنے والے عزت مآب مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا۔ وفد نے رات سرینا ہوٹل میں قیام کیا۔
اگلے دن وفد کے مندوبین کو اسلام آباد کے مقامی مقامات جن میں بدھ مت مذہب کی یادگاریں بھی شامل تھیں دکھائی گئیں۔ اس موقع پر وفد کے سینئیر ممبر ڈاکٹر سونگ جونگ ہوان نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب کے مقدس مقامات کو بطور مذہبی سیاحت کے ذریعے کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ وفد کو ٹاپ ورلڈ اور بلیو سٹی کنسٹرکشن سائٹس کا وزٹ بھی کروایا گیا۔ سپہر میں گلگت بلتستان کے سیاحت کے وزیر راجہ ناصر حسین نے جی بی ہاؤس میں وفد کو پاکستان میں سیاحت کے مواقعوں بارے بریفنگ دی اور شرکا کی ہائی ٹی سے تواضع کی۔ رات میں ڈنر کا اہتمام کورین ایمبیسی میں کونسلر جنرل افنان عزیز کی طرف سے اسلام آباد کلب میں دیا گیا جس میں کوریا کے لیے سابق سفیر شوکت علی مقدم نے بھی شرکت کی۔
اگلے دن وفد کو پوٹھوہار ریجن میں کھیوڑا مائنز کا وزٹ کروایا گیا۔ جہاں وفد کو پاکستان مسلم لیگ نون کوریا کے صدر راجہ عامر اقبال کی طرف سے پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔ راجہ عامر نے کورین تجارتی وفد کو پاکستان خصوصاً پوٹھوہار ریجن میں سرمایہ کاری کی اہمیت پہ بریف کیا کہ پاکستان اپنی کثیر آبادی کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین ملک ہے جہاں سرمایہ کاری منافع بخش ہو سکتی ہے۔ شام کا کھانا کورین ایمبیسی کی طرف سے ایمبیسٹدر کی رہائشگاہ پہ دیا گیا جس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسان اللہ مزاری، شیخ قیصر اور ڈیفنس کمیٹی کے چیرمین مشاہد حسین سید سمیت پاکستان آفیشلز کی ایک کثیر تعداد شامل تھی۔ ممبر پارلیمنٹ، سینیٹرز اور پراؤیٹ کمپنیز کے سربراہان بھی ڈنر میں شامل تھے۔
اگلے دن وفد کو اسلام آباد کے مختلف علاقوں کا وزٹ کروایا گیا۔ لنچ مسٹر عتیق الرحمن نے اسلام آباد کے معروف ریسٹورنٹ مونال پہ دیا۔ اسی دن بعد دوپہر FPCCI کی جانب سے انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ FPCCI کے صدر عرفان اقبال شیخ، نائب صدور امین اللہ بیگ، عمر مسعود الرحمن نے وفد کی دیگر مقامی پاکستانی تاجروں سے ملاقات کروائی۔ وفد کے اراکین نے مختلف شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا دونوں ممالک کے تاجروں نے کورین اور پاکستانی کمپنیوں کے جوائنٹ کاروباری روابط اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر کورین وفد کے سربراہان ڈاکٹر سونگ اور پاکستان کے اعزازی کونسلر برائے سرمایہ کاری مدثر علی چیمہ کو FPCCI کی جانب سے شیلڈز بھی دی گئیں۔ بعد ازاں وفد کے لیے خصوصی ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اگلے دن 22 فروری کو کورین وفد لاہور روانہ ہو گیا۔ لاہور جاتے ہوئے موٹر وے بھیرہ ریسٹ ایریا پر مسٹر شہزاد ساقی کی طرف سے وفد اراکین کو فوڈ پیکٹس دیے گئے۔ لاہور پہنچنے پر ایک تقریب کا اہتمام گورنر ہاؤس میں کیا گیا اس تقریب میں گورنر پنجاب انجینئیر بلیغ الرحمان نے خصوصی شرکت کی۔ گورنر پنجاب نے شرکا کو پنجاب کے تعلیمی معاملات پہ بریف کیا اور سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔
گورنر پنجاب نے میٹنگ میں موجود مختلف جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایات بھی جاری کیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ طلبا کو اعلی تعلیم کے سلسلے میں کوریا بھیجنے کے نظام کو مزید آسان اور واضح بنائیں۔ اس موقع پر ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کے فارما ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ڈاکٹر سونگ ژونگ ہوان کو ڈاکٹریٹ کی آنریری ڈگری بھی دی گی۔ وفد کے لیے گورنر ہاؤس میں ہائی ٹی کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ رات کا کھانا پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کی جانب سے لاہور کے معروف ریسٹورنٹ حویلی میں دیا گیا۔
اگلے دن 23 فروری کو گورنر پنجاب سے وفد کی دوبارہ ملاقات تھی جس میں مختلف باہمی یادداشتوں پہ دستخط کیے گے۔ اس موقع پر سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ نے گورنر پنجاب کو وفد کے وزٹ کے متوقع ثمرات پر بریف کیا۔ شام کے قریب وفد کو واہگہ بارڈر پر فلیگ سرمنی دکھانے کے لیے لے جایا گیا۔ اس کے بعد معروف کاروباری شخصیت شیخ رضوان کی جانب سے پرتکلف عشائیہ دیا گیا اور اگلے دن ان کی کاوشوں سے متعدد کاروباری حضرات سے مختلف شعبوں میں 4 MoUs دستخط کیے گے۔ اس دن وفد کو لاہور میوزیم کی سیر بھی کروائی گی۔
دورے کے آخری دن یعنی 24 فروری کو لاہور چیمبر آف کامرس کی جانب سے وفد کو ایک بزنس کانفرنس میں مدعو کیا گیا جہاں وفد کی مقامی کاروباری حضرات سے ون ٹو ون ملاقاتیں کروائی گئیں۔ اس کے بعد سٹی فارما کا وزٹ کیا گیا جہاں فارماسوٹیکل سے متعلقہ مزید چار MoUs پر دستخط کیے گے۔ شام کا کھانا ڈائیو کمپنی کوریا کی طرف سے تھا اس کے بعد وفد کو ائر پورٹ پر مکمل عزت و احترام سے روانہ کیا گیا۔ سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ اور پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کے سینئیر ممبران نے وفد کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستانی کمیونٹی کوریا کا بھی شکریہ ادا کی گیا۔ اس موقع پر مسٹر علی حسن کی طرف سے وفد کو سوینیئر پیش کیے گئے۔ آخر میں کونسلر سرمایہ کاری مدثر علی چیمہ نے سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان آنے والے کورین وفد کو تحائف پیش کئیے اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
وفد کے کامیاب دورے کے بعد سرمایہ کاری کے کونسلر مدثر علی چیمہ نے مختلف میڈیا ہاؤسز اور اخبارات سے بات کرتے ہوئے وفد کے دورے کی اہمیت و افادیت پہ بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک پرکشش ملک ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو بہترین اور منافع بخش کاروبار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کوریا کے تاجر اور سرمایہ کار ان مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں اور یہ دورہ اسی حوالے سے پہلا قدم تھا۔ مزید یہ کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو ایک دوسرے کے ساتھ روابط بڑھانا چاہیے اور اس پہلو پہ غور کرنا چاہیے کہ پاکستان اور کوریا کی دوطرفہ تجارت کن شعبوں میں بڑھائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوریا کے پاس مختلف شعبوں میں فنی مہارت موجود ہے جو پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان ایک کثیر آبادی ملک ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے لیے بے پناہ مواقعے موجود ہیں جس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ مدثر علی چیمہ نے کہا کہ یہ تو ابھی شروعات ہے آنے والے دنوں میں کورین کمپنیز کو سرمایہ کاری سمیت براہ راست پاکستان لانے کا پروگرام موجود ہے۔ انہوں نے اپنے اس کامیاب دورے پہ کوریا میں پاکستانی سفارت خانے کی کاوشوں سمیت کوریا اور پاکستان میں موجود اپنے تمام دوستوں اور خیر خواہوں خصوصی طور پر پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا اور اپنے تمام رفقاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس دورے کو کامیاب بنانے میں ان کی مدد کی۔

