امجد صدیق کی ”سفر کہانی“


امجد صدیق کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جو روزگار کی تلاش میں بیرون ملک در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد پھر اپنی پاک سرزمین میں اپنے ہاتھ میں قلم لے کر رزق حلال کمانے کے لئے سرگرداں ہیں۔ مجھے یاد نہیں ان سے میری پہلی ملاقات کب ہوئی لیکن ان سے وہ ملاقات یاد ہے جب وہ نیشنل پریس کلب کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے کسی منچلے نے ان کی رکنیت کو چیلنج کیا تھا۔ میں نے چیئرمین سکروٹنی کمیٹی کی حیثیت سے نہ صرف ان کے سکہ بند صحافی ہونے پر اعتراض کو یکسر مسترد کر دیا میرا موقف ہے جس شخص کے نوک قلم سے اتنی خوبصورت تحریریں منصہ شہود پر آئی ہوں بھلا وہ کس طرح صحافی نہیں ہو سکتا؟

قیام پاکستان اور اس کے بعد پیشہ صحافت سے وابستہ ہونے والی شخصیات کی اضافی خوبی ایک اچھا لکھاری ہونا ہوتا تھا۔ اگر شاعرانہ ذوق رکھتا ہے تو یہ سونے پر سہاگہ ہوتا تھا لیکن جوں جوں صحافت نے ترقی کی اور الیکٹرانک میڈیا چھا گیا تو اس نے میڈیا سے وابستہ افراد کو دور کر دیا۔ کوئی کالم یا مضمون لکھنا دور کی بات ہے ”بیپر“ کے زور پر صحافت کرنے کی فوج ظفر موج آ گئی ہے۔ رہی سہی کسر یوٹیوبرز نے نکال دی ہے لیکن میں آج بھی اسی شخص کو صحافی ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتا ہو جس کے قلم میں کچھ لکھنے کی طاقت ہو سو میں نے امجد صدیق کو اسی پیمانے پر تولا۔ میرے پیمانے پر وہ نہ صرف پورا اترا بلکہ میں نے فیس بک پر اس کی خوبصورت تحریریں پڑھ چکا تھا۔ سکروٹنی کمیٹی میں میری ان سے یہ پہلی تفصیلی ملاقات تھی۔ کچھ عرصہ بعد ان کا سفرنامہ منصہ شہود پر آ گیا اگرچہ یہ کتاب آپ بیتی ہے لیکن اس میں حیرت انگیز اور ناقابل یقین واقعات ہیں جو کسی بھی غیر قانونی طور کسی ملک کا بارڈر کراس کرنے والے نوجوان کو پیش آسکتے ہیں۔

امجد صدیق کی سفر کہانی ساہیوال کے چھوٹے قصبہ نور پور سے شروع ہوتی ہے۔ بحرین، ہانگ اور جنوبی کوریا گرد چھاننے کے بعد جاپان کے جان لیوا سفر پر ختم ہوتی اب انہوں میڈیا ٹاؤن اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جو پچھلے اڑھائی سال سے میرا بھی مسکن ہے۔ اس سفر کہانی میں جہاں انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا خوبصورت انداز کا ذکر کیا ہے۔ وہاں ان ممالک کے بود و باش، معاشرتی و سیاسی زندگی اور غیرملکیوں کے ساتھ سلوک کا بھی احاطہ کیا ہے۔

صاحب مضمون کا کمال ہوتا ہے کہ وہ قاری کو بور نہیں ہونے دیتا اور قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ امجد صدیق کے طرز تحریر میں یہ خوبی ہے کہ اپنی تحریر میں قاری کے لئے اس قدر دلچسپی پیدا کر دی گئی ہے کہ وہ سفر نامہ کو ایک ہی نشست میں پڑھ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ واقعات کو افسانوی رنگ میں پیش کر کے قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھا گیا ہے۔ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے وہ کوئی افسانہ پڑھ رہا ہے جب کہ یہ ”ہڈ بیتی“ ہے۔

امجد صدیق کا سفر نامہ ایک سکہ بند سفرنامہ نگار کا شاہکار ہے۔ انداز بیان اور طرز تحریر ان کے تجربہ کار صحافی ہونے کی دلیل ہے۔ عمدہ نثر نگاری واقعات کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے۔ یہ سفر نامہ پڑھنے کے بعد غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کے سر پر سوار بھوت اتر جاتا ہے۔ اپنی دھرتی سے محبت کرنے کا جذبہ ابھارتا ہے۔ اس کتاب میں ان کی پردیس میں دی گئی قربانیوں کی بھی اجاگر کیا گیا یہ کوئی روایتی سفر نامہ نہیں بلکہ میں بیرون ملک ملازمت کے حصول دربدر ٹھوکریں کھانے کے دوران تجربات کا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔

امجد صدیق نے ہانگ کانگ کے رنگین ماحول میں گزارے ایام کی عکاسی دلفریب انداز میں کی قاری کا ہانگ کانگ کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کو جی چاہتا ہے۔ انہوں نے ہانگ کانگ کی گلیوں میں کی جانے والی ”مٹر گشت“ کو اس انداز میں پیش کیا جیسے وہ ان واقعات کی ”لائیو کوریج“ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جتنا عرصہ ہانگ میں قیام کیا اس کی روداد پیش کرتے وقت اس میں عام آدمی کے لئے دلچسپی کم نہ ہونے دی انہوں نے ایشیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کے لوگوں سے ملاقاتوں خاص طور ہندوستان سے ”درآمد“ کی لڑکیوں سے خوش گپیوں بالخصوص رضیہ سے میل ملاقاتوں کا تو ذکر کیا ہے لیکن اس کے بعد ان کا سفرنامہ اس ”دوستی“ کے منطقی انجام تک پہنچنے کے بارے میں خاموش ہے۔

انہوں نے ہانگ کانگ سے سیول ائرپورٹ پہنچنے اور وہاں سے ہانگ کانگ ڈی پورٹ ہونے کا قصہ بھی بیان کیا اور پھر دوبارہ ہانگ کانگ کی ”ری انٹری“ کو اپنے سفر کی ایک کامیابی قرار دیا انہوں نے کوریا میں اپنی پہلی ناکام انٹری کو دلچسپ بنانے کی کوشش کی ہے اور فرار ہونے کا منصوبہ بنایا لیکن اس پر جیل جانے کے خوف سے عمل درآمد نہیں کیا اور ”باعزت“ ڈی پورٹ ہونے پر اکتفا کر لیا امجد صدیق نے بلا کم و کاست اسامہ کے نام سے بنائے جانے والے پاسپورٹ کی روداد سنائی اور بتایا کہ اس دور میں معمولی خرچ پر چند منٹوں میں نیا پاسپورٹ بن جاتا تھا۔ پاسپورٹ پر کمال ہوشیاری سے تصویر، حتیٰ کہ صحیح ویزہ چسپاں کر دیا جاتا تھا جسے جاری کرنے والوں کے لئے پکڑنا مشکل ہوتا تھا لیکن اب تو انٹر نیٹ نے اتنی ترقی کر لی ہے جو نہ صرف جعلسازی کو پکڑ لیتی ہے بلکہ دنیا کے کسی کونے میں دہشت گردوں کو پکڑنا مشکل نہیں رہا۔

امجد صدیق نے اپنا نیا نام اسامہ تو رکھ لیا لیکن دنیا کی نظروں میں اسامہ بن لادن بن لادن دہشت گرد تھا۔ نائن الیون کے بعد اس نام نے گالی کی شکل اختیار کر لی اس نام کا کوئی شخص دنیا میں کہیں سفر کرتا اسے مشکوک سمجھ کر دھر لیا جاتا۔ کا ہم نام ہونا کتنا بڑا جرم ہے۔ سو امجد صدیق نے اپنا نام اسامہ تو رکھ لیا لیکن اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ سیؤل پہنچنے کے بعد امجد صدیق کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے سیؤل میں راہ فرار اختیار کر کے اپنی ملازمت کا آغاز کیا امجد صدیق کے سفر نامہ میں جگہ جگہ مشہور زمانہ ”برگر کنگ“ کا ملتا ہے لیکن انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہاں حلال فوڈ فراہم ہوتا ہے کہ نہیں بہرحال انہوں نے جس طرح کوریا میں اپنے ابتدائی ایام کا ذکر کیا ہے اس سے ان کی زندگی کے بے مزہ ہونے اور مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

بیرون ملک جنت نہیں دوزخ کی آگ میں بھسم ہو کر ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ اگر کسی یہ معلوم ہو کہ بیرون ملک غیر قانونی طور روزگار کمانے میں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کا قصد ہی نہ کرے گا۔ کوریا میں جہاں امجد صدیق کو جگہ رہائش گاہوں کی تلاش میں دھکے کھانے پڑے وہاں اسے عصمت فروشی کے اڈے نظر آئے۔ کورین معاشرے میں عصمت فروشی ”معیوب نہیں سمجھی جاتی۔ نوجوان لڑکیاں سیاحوں کی“ خاطر مدارت ”کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار ملتی ہیں۔

امجد صدیق کی سفر کہانی صرف ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات تک ہی محدود نہیں بلکہ ان لا تعداد افراد کی درد ناک کہانیاں ہیں جو روزگار کی تلاش میں بیرون ملک رل جاتے ہیں۔ امجد صدیق نے جہاں اپنا رونا رویا ہے۔ وہاں انہوں نے بیرون ملک قیام کے دوران وہاں کی تہذیب کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو بھی نمایاں کیا ہے۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے۔ مصنف اپنے سفر نامے کو پر کشش بنانے کے لئے رنگ آمیزی کرتے ہیں اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں لیکن امجد صدیق کا سفر نامہ جہاں آپ بیتی ہے وہاں انہوں اپنے ارد گرد پیش آنے واقعات کو سلیقہ سے پیش کیا ہے۔ جہاں انہوں کچھ واقعات پر پردہ پوشی کرنا تھی ان کا سرسری ذکر کرنا ہی مناسب سمجھا اور اپنی ”دوستیوں“ کو دوستی ہی کی حد تک رکھا۔

بہرحال امجد صدیق کا سفرنامہ جگہ جگہ ایڈونچر سے بھرا پڑا ہے جو قاری کو بور نہیں ہونے دیتا مجھے یاد ہے جب امجد صدیق نے فیس بک پر اپنے سفرنامہ کی چند ہی قسطیں ہی پوسٹ کی تھیں تو میں نے رات کے پچھلے پہر ان کو دلچسپی سے پڑھتا تھا لیکن اچانک یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ممتاز صحافی خالد مجید نے انہیں فیس بک پر تحریریں بکھیرنے کی بجائے کتابی شکل دینے کی ترغیب دی پھر انہوں چند دنوں میں ہی اسے کتابی شکل دے کر اپنا نام مصنفین کی فہرست میں لکھوا دیا۔

امجد صدیق نے کوریائی کلچر میں پھولوں کی اہمیت بیان کی ہے۔ کوریا میں ایک دوسرے کو پھول پیش کرنے کا رواج ہے۔ خوبصورت گلدستوں نے ان کو کوریائی کلچر کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ امجد صدیق نے اپنی سفر کہانی کوریا سے جاپان جانے پر ختم کی ہے۔ انہوں نے جس طرح ایک کارگو میں سفر کر کے جاپان کے ساحلی مقام پر قدم رکھا وہ ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستان ہے۔ انہوں نے اس سفرنامہ میں غیر قانونی طور جاپان جانے کا جس طرح نقشہ کھینچا ہے۔ وہ سبق آموز ہے۔ ان کے سفرنامہ میں جاپان میں ان کے ساتھ جو کچھ گزرا وہ قلمبند نہیں کیا گیا شاید ان کے اگلا سفرنامہ جاپان میں ان کے ساتھ جو کچھ بیتا وہ بیان کریں گے۔ ہمیں ان کے اگلے سفر نامہ کا انتظار ہے۔

Facebook Comments HS