ہماری دھرتی کی ملکائیں اور عورت مارچ


حالیہ فیض فیسٹیول میں ایک سیشن ”دھرتی کی ملکائیں“ میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اس میں خاور ممتاز صاحبہ، فوزیہ وقار صاحبہ اور ہما پرائس صاحبہ نے ”ملکی سیاست میں خواتین کا کردار“ کے موضوع پر گفتگو کیں۔ خاور ممتاز صاحبہ، جو کہ مصنفہ بھی ہیں، نے پاکستان میں خواتین کی تحریک کی تاریخ بیان کی۔ فوزیہ وقار صاحبہ، جنہوں نے پنجاب حکومت میں خواتین کے حوالے سے کام کیا ہے، نے موجودہ دور میں حکومتی پالیسیوں اور ان میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا۔

ہما پرائس صاحبہ، جو کہ لندن میں بحیثیت بیرسٹر پریکٹس کرتی ہیں، نے مشرق و مغرب کی خواتین کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا۔ مغرب میں پلی بڑھی اور پڑھی لکھی ایک خاتون کی باتیں وہاں پر بیٹھے سبھی حقوق نسواں کے علم برداروں کے لئے حیران کن تھیں۔ آپ نے فیمنزم، پیٹریارکی اور میزوجنی کی تشریح کی۔ آپ کے مطابق پاکستان میں فیمنزم کی غلط تشریح ہوتی ہے۔ یہاں فیمنسٹ اس لڑکی کو کہا جاتا ہے جو جینز پہنے اور سگریٹ پئے۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ پدر شاہی (patriarchy) کوئی غلط چیز نہیں، ہاں میزوجنی ایک مہلک مرض ہے۔

مہتاب راشدی صاحبہ، جو اس سیشن کی صدارت کر رہی تھیں، نے کہا کہ ہم آج اس محفل میں موجود ہیں تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہے، کوئی اپنے والد کے ساتھ، کوئی دوست کے ساتھ، کوئی بیٹے کے ساتھ۔ جب تک ہمارے مرد ہمیں اس طرح سپورٹ کریں تو پیٹریارکی سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مرد اور عورت دو پہیوں کے مانند ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا ادھورا ہے۔

اس پر مزید بحث کرتے ہوئے فوزیہ وقار صاحبہ نے کہا کہ عورت کو سہولیات مہیا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ملکی سطح پر قوانین نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مرد کو کس نے اختیار دیا ہے کہ عورت پر اپنی مرضی تھوپے؟ اس نے پنجاب حکومت کی جانب سے ایک سروے کا حوالہ دیا۔ اس سروے میں پوچھا گیا کہ کیا عورتوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے تو 85 فیصد نے ہاں میں جواب دیا۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا عورت کو مرد کی اجازت کے بغیر تعلیم حاصل کرنی چاہیے تو اس کے جواب میں حیران کن طور پر 87 فیصد لوگوں نے نفی میں جواب دیا۔ یہاں سے ہی مرد کی آزادی اور اس پر عورت کے انحصار کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مرد کس طرح عورت کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

ہما پرائس صاحبہ نے کہا کہ اگر ایک مرد عورت کو پروٹیکٹ بھی کر رہا ہے اور پرووائیڈ بھی کر رہا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان پر بات کرتے ہوئے ہما پرائس صاحبہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ متعصبانہ طرز عمل ہے۔ یہاں قوانین کی بہتری کے لئے کوئی جامع کام نہیں ہوتا ہے۔ یہاں مرد سے تصادم اور باہر نکل کر کام کرنے کو ہی حقوق نسواں سمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں جو عورت گھر میں کام کرتی ہے (جنہیں وہاں ہوم میکر کہا جاتا ہے ) اسے بھی اتنی ہی عزت دی جاتی ہے جتنی ایک دفتر میں کام کرنے والی خاتون کو۔

سیاست میں عورتوں کی شرکت اور جدی پشتی سیاست پر بات کرتے ہوئے سب نے اتفاق کیا کہ اگر کوئی قابل ہو تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن بے نظیر بھٹو کا موجودہ دور کے کسی طفل سیاست سے موازنہ کرنا زیادتی ہو گی۔ ہما پرائس صاحبہ نے بتایا کہ جتنی اقربا پروری برطانیہ میں ہے اتنی پاکستان میں بھی نہیں ہے۔ لیکن وہاں معاملہ الگ ہے۔ اگر کوئی بیرسٹر اپنے بیٹے یا اپنی بیٹی کو بیرسٹر بنانا چاہتا ہے تو وہ پہلے اسے اس قابل بنائے گا۔ پھر اپنا اثر و رسوخ کا استعمال کر کے اسے بیرسٹر کی کرسی پر بٹھائے گا۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بیٹا چاہے جتنا نکما ہو یا بیٹی چاہے جتنی احمق ہو اپنے باپ دادا کی کرسی سنبھال ہی لیتی ہے۔

اس عورت مارچ میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری دھرتی کی ملکائیں کیا کہتی ہیں اور کیا کرتی ہیں؟ ان کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟ کیا وہ تعلیم نسواں کے بینر لے کر نکلی ہیں؟ کیا ملکی معیشت میں عورتوں کو شامل کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہیں؟ کیا وہ مین اسٹریم سیاست میں عورتوں کی شمولیت پر زور دیتی ہیں؟ کیا عورتوں کے لئے قانون سازی پر بات ہوتی ہے؟ کیا وہ جائیداد میں عورتوں کو حصہ دار بنانے کے لئے جدوجہد کرتی ہیں؟

کیا وہ اپنے پلے کارڈز کے ذریعے ان مردوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتی ہیں جو ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں؟ کیا وہ ان عورتوں کو بھی سکھانے کی کوشش کرتی ہیں جن کو اپنے حقوق کا پتہ ہی نہیں؟ وہ اس کے لئے کتنا اکیڈیمک کام کرتی ہیں؟ اس پر کتنا لٹریچر لکھا گیا ہے؟ کیا وہ خود کے عورت ہونے کو سیلیبریٹ کرتی ہیں اور مرد کے مقام کا احترام کرتی ہیں؟ کیا وہ واقعی میں فیمنسٹ ہیں یا میزوجنسٹ؟ اگر یہ مارچ برائے مارچ ہے تو یہ ایک عام عورت کے لئے کوئی خاطر خواہ فائدہ مند نہیں ہو گا۔

ان ترجیحات کے تعین کے بغیر حقوق نسواں کا حصول نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اگر حقوق نسواں کی تحریک کے تاریخ کو دیکھا جائے تو سب سے پہلے تعلیم، پھر ووٹ، صحت، وغیرہ کی بات کی گئی ہے، پھر معاشی ترقی اور برابری کی۔ اس طرح سے ہوتے ہوئے مغرب میں آج ایل جی بی ٹی کیو حقوق کی بات ہو رہی ہے۔ ہمارے یہاں ہماری خواتین ووٹ کے حق سے ہی محروم ہیں تو کس طرح دوسرے حقوق حاصل ہو سکتے ہیں؟ عورت کو جائیداد میں حق دلانے کی اشد ضرورت ہے۔

ان کو یہ بتانے اور سکھانے کی ضرورت ہے کہ نکاح نامہ میں ان کے حقوق کیا ہیں؟ مہر مؤجل اور مہر غیر مؤجل کیا ہے؟ مغرب میں عورتوں نے اپنے حقوق کئی صدیوں کی جدوجہد کے بعد حاصل کیے ہیں۔ اب بھی وہاں پر مرد اور عورت کی تنخواہوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے حقوق میں بہتری ایولوشن کے ذریعے آ سکتی ہے۔ جارحیت کے ذریعے حالات مزید بد تر ہو سکتے ہیں۔ اس لئے قانون سازی اور اکیڈمک ذرائع کا سہارا لے کر ان حقوق کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ جارحیت کے ذریعے۔

Facebook Comments HS