چمکتی چاندنی، آٹے تیل کو ترستی ماں اور دودھ کے لئے بلکتی بچی


اس کی الم ناک سسکیاں لیتے روتی درد بھری آواز میں اپنی جوانی کی بے وقوفیوں کی بھیانک نتائج کی کہانی نے میری نیند اڑا دی تھی۔ میرے کہنے پر اس نے اپنی داستان میرے میسنجر اکاؤنٹ وائس میسیج کے دو تین لمبے ٹکڑوں میں بیان کی تھی۔ وہ ایک معزز پٹھان خاندان کی لڑکی تھی۔ سکول کے زمانے میں ہی سولہ سال عمر میں ایک دولت مند گھرانے کے دلکش خوبصورت جوان کو دل دے kr گھر سے اس کے ساتھ نکل آئی تھی اور نکاح کر لیا تھا۔

صوبائی دارالحکومت کے اچھے علاقے کے اچھے گھر میں اس کے ساتھ دس گیارہ سال انتہائی عیش و عشرت سے گزرے تھے۔ اب انتیسویں سال میں تھی۔ خاوند نے اپنے گھر والوں کو بتایا نہ تھا۔ ہفتہ میں دو تین روز اس کے ساتھ رہتا۔ خوب شاپنگ ہوتی اور عیش و آرام کی زندگی تھی۔ وہ بچہ نہیں چاہتا تھا۔ مگر کوئی چار سال قبل اس وقت ہوش آیا جب حمل ٹھیرے چھ ماہ ہو رہے تھے۔ یہ خاوند کے اصرار کے باوجود حمل گروا ایک جان کو قتل نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اب اختلاف رہنے لگا۔ اس کے طور بدلنے لگے۔ رویہ تبدیل ہونا شروع ہوا۔ گھر آنا کم ہو گیا۔ سال سوا سال قبل وہ ایک روز آیا۔ پیار محبت کرتے گھر کی تلاشی لیتے سارے کاغذات نکال کے لے گیا۔ اور پھر طلاق دے دی خرچہ بند کر دیا اور شاید کسی اور لڑکی کو پھنسا لیا۔ دوبارہ شکل بھی نہ دکھائی۔ پتہ چلا نکاح نامہ رجسٹری نہ کروایا گیا تھا۔ بیٹی کا برتھ سرٹیفیکیٹ بھی نہ بنا تھا۔ یہ بے سہارا ہو حالات کے رحم پہ آ گئی۔ ایک باجی ملنے والی نے بہت دیکھ بھال کی۔

اب تمام قیمتی سامان بکنا شروع ہوا۔ سونا، ائر کنڈیشنر، فرج، زیور، فرنیچر، ستر ہزار والا موبائل فون چالیس میں بیچ سترہ ہزار والا لیا۔ اب دنیا میں کوئی نہیں۔ ماں باپ کو پتہ چلے، قتل کر دیں۔ تین سال کی بیٹی۔ دستاویزات، شناختی کارڈ کا مسئلہ۔ مالک مکان کرایہ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کہاں سے لاؤں ایک ایک بہت مخیر خاندان کی لڑکی نے وعدہ کیا۔ اب جواب نہیں دیتی۔ سوچتی ہوں بیٹی کو مار کر خود کشی کر لوں۔ خدارا کسی طرح کچھ بندوبست کریں مدد کا۔

کچھ روز قبل نہ چاہتے ہوئے بھی جانے کیسے فیس بک فرینڈ ریکؤیسٹ پہ انگلی دب گئی تھی۔ یہ حالیہ جنوری کا آخری عشرہ تھا۔ شاید ایک مؤقر نام والی خاتون کے کوائف سے اس کے مرکزی شہر کے بہت مہنگے سکول اور نیک نام یونیورسٹی سے تعلیم ہونا اس کا باعث بنا ہو۔ اس نے اپنا اصل نام جو بتایا اس کے معنے چاندنی کے ہیں لہذا چاندنی سمجھیں۔ گو ایک لفظ کچھ چبھا بھی تھا۔ چند روز بعد میسنجر پہ سلام دعا کا ذکر آیا۔ تین فروری کی صبح میسنجر پہ پیغام تھا ”رابطہ کریں بہت ضروری کام ہے“ یاد آیا کہ رات گئے میسنجر پہ کال بھی آئی تھی جسے میں نے بند کر دیا تھا۔

یہ میرے لئے کوئی نئی بات نہ تھی۔ یا کینیڈا آنے کے لئے معلومات درکار ہوں گی یا کوئی اور رہنمائی کی طلب۔ جواب دیا لکھ کے بھیج دو تو واٹس ایپ پہ بات کرنے کی درخواست۔ عرض کیا فون نمبر نہیں دوں گا۔ تو چند روز بعد لمبا وائس میسیج آیا تھا۔ کہانی دردناک تھی۔ لہجہ روتے سسکتے بلکتے بات کرتے شک کی گنجائش نہ چھوڑتا تھا۔ چند سوال پوچھے۔ سولہ برس کی عمر میں نکاح کیسے ہو گیا۔ جواب تھا چوکیدار جوڑے کو ماں باپ لکھ کر عمر اٹھارہ سال لکھوائی گئی تھی۔

عرض کیا کہ بچی کا قریبی ہسپتال میں جنم ہوا تھا تو جا کے برتھ سرٹیفکیٹ بنوا لو تو جواب تھا کہ یہ تو خیال نہیں آیا۔ مگر کچھ بات تھی جو دل میں خلش پیدا کر رہی تھی اس کا طرز بیان اور لہجہ اور انگریزی درست الفاظ کا بہت استعمال اور شستہ لہجہ جس میں افغان جھلک تھی نہ انڈر میٹرک کی۔ اور کوائف میں معروف یونیورسٹی کی تعلیم۔ چند دن گزر گئے اور ہر روز اس کی تحریر اور دکھ بھری آواز سنائی دیتی۔ ہم کچھ دن کے لئے وینکوؤر چلے گئے اور اس دوران اس کے دو تین اور ویڈیو میسیج آ چکے تھے۔ درد اور وہم یک جا تھے۔ اچانک ذہن میں ایک خیال گونجا۔

فاطمۂ الزہرہ وومن فاؤنڈیشن پنڈی بھٹیاں کا ایک بہت ہی فعال فلاحی ادارہ ہے اور مستحق خواتین کو تعلیم بالغان اور ہنر سکھاتے انہیں اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے میں رہنمائی اور مدد بھی اس کے پروگرام میں شامل ہے۔ اس کی سیکرٹری اور پرنسپل شازیہ اسد میری کزن کی بیٹی ہیں۔ ان کے خاوند اسد سلیم شیخ، (اپنے منفرد طرز تحریر میں سیاحت، علاقائی ثقافت، علاقائی تاریخ اور سیاست پر کوئی بیس کتب کے مصنف اور تمغۂ فضیلت کے علاوہ کئی ادبی تمغہ جات کے حامل) حال ہی میں پرنسپل گورنمنٹ کالج کے عہدہ سے ریٹائر ہو کر اسی ادارہ کو زیادہ فعال کرتے قرض حسنہ کی سکیم بھی محدود پیمانے پہ شروع کر چکے ہیں اور یہ بھی میرے ماموں زاد کے بیٹے ہیں۔ میں نے شازیہ اسد کو فون کیا سارے کوائف بتائے، اور درخواست کی ایسے حالات میں خواتین یا خود کشی کرتی ہیں یا پھر غلط ہاتھوں اور غلط پیشوں میں جا پڑتی ہیں۔ لہذا اس کے متعلق تحقیق کر کے ابتدائی امداد کرنے کے بعد کسی باوقار ذریعہ آمدن کے لئے رہنمائی کریں۔

ساتھ ہی تمام گفت و شنید اور آڈیوز کا ریکارڈ بھجوا دیا۔ یہ بھی عرض کر دیا کہ عموماً دس میں سے نو ایسے کیس مجھے ”صبا ایزی لوڈ والی“ جیسے ملے ہیں۔ شازیہ ہنستے بولیں کہ اب گھاگ ہو چکی فکر نہ کریں۔ ایک روز قبل اسی کے شہر میں تھی پتہ ہوتا تو خود مل تصدیق کر بندوبست کر آتی۔ تسلی رکھیں صبح ہوتی ہے تو پہلا کام اس سے رابطہ کروں گی۔ پاکستان میں صبح ہوتے ہی شازیہ چاندنی سے رابطہ کر اس کے کوائف کی تصدیق کرنا شروع کرنے کی اطلاع دے چکی تھی۔

اس دوران مجھے دو روتے سسکتے اپیل کرتے آڈیو میسیج مزید مل چکے تھے۔ اور اسے مطلع کر چکا تھا کہ اسے صبح فاطمۂ الزہرا فاؤنڈیشن سے فون آئے گا۔ اگلے روز شازیہ کو چاندنی اپنے بنک اکاؤنٹ کی تفصیل اور تصدیق کے لئے اپنے مالک مکان کا فون نمبر اور ہر طرح مزید تسلی کروانے کا پیغام دے چکی تھی۔ اور شازیہ مجھے بتا رہی تھی کہ اس نے چاندنی کے فیس بک اکاؤنٹ پہ جا کر جہاں صرف اس کی بیٹی کی چند تصاویر تھیں کمنٹس وغیرہ لکھنے والوں کے پروفائل چیک کیے تو زیادہ تر کمنٹس بیرون ملک پاکستانیوں کے تھے۔ یہ غالباً بیس فروری کا دن تھا۔

میں شام کا کھانا کھا اوپر سونے کے لئے گیا تو فون کی گھنٹی بجی۔ سامنے اسد اور شازیہ ناشتہ کی میز پہ بہت خوشگوار موڈ میں بیٹھے تھے۔ (وینکوؤر اور پاکستان میں تیرہ گھنٹے وقت کا فرق) کہنے لگے ہم نے چاندنی کی فوٹو منگوائی تھی آپ دیکھ لیں اور بتائیں کہ امداد دوگنا کرنی ہے تین گنا۔ فوٹو واقعی ایک اٹھائیس انتیس سال کی سکارف لپیٹے ارشد چائے والے کی سی نیلی آنکھوں والی انتہائی خوبصورت لڑکی کی تھی اور سو فیصد چاندنی کی بیٹی سے مشابہ تھی۔

شازیہ ہنستے ہوئے بتا رہی ہیں کہ میں نے فلاں شہر کے مخیر بزرگ سیٹھی صاحب سے فوراً چاندنی کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے کی درخواست کرتے ساتھ اپنے اور آپ کے خدشہ کا ذکر کر دیا تھا۔ وہ بعد دوپہر ہی بنک مینیجر کو مختصر کہانی سنا کر اس خاتون کو ایک معین رقم بھجوانے کا کہہ کر ساتھ یہ کہہ رہے تھے کہ ذرا چیک کرنا میری پچھلی بھجوائی رقم مل گئی نا۔ اور بنک مینیجر کا جواب تھا کہ جی ہاں چودہ فروری کو اس کے حساب میں ستائیس ہزار روپے جمع ہوئے تھے۔

(اوہ سو امریکی ڈالر) سیٹھی صاحب نے کہانی بتاتے انہیں ذرا اکاؤنٹ کھنگالنے کا کہا اور واپس آ گئے۔ اور چند گھنٹہ بعد مینیجر صاحب مبارک باد دے رہے تھے کہ مجبور لڑکی شاید آپ سے زیادہ کماؤ ہے۔ جیسے کوئی رقم آتی ہے دوسرے بنک کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجاتی ہے اور پچھلے دو سال میں بس کوئی چالیس پچاس لاکھ اس اکاؤنٹ میں آ کے آگے جا چکا ہے۔

”میں نے کہا تھا نا انکل، میں اب گھاگ ہو چکی ہوں، ادارہ کی نیک نامی ایسے ہی نہیں بڑھ رہی۔ آپ نے تو بس“صبا ایزی لوڈ والی” سے محتاط رہنے کا کہا تھا مگر یہاں تو مالک مکان کی صورت ”ببلی کے ساتھ بنٹی“ بھی نکل آیا۔

اسد اور شازیہ مجھے بنجوسہ جانے کے پروگرام کے متعلق بتا رہے تھے اور میں ان کو اسی شام وائٹ راک کے علاقے میں دور تک سمندر میں گئے پیئر (لکڑی کی سمندر میں گئی سیر گاہ) کی سیر اور دیکھی سمندر کنارے پڑی ”وائٹ راک” یعنی سفید چٹان کی دیو مالائی داستان سنا رہا تھا اور میری انگلیاں آئی پیڈ پر ”کجرارے کجرارے، تیرے پیارے پیارے نینا“ کا گیت ڈھونڈ رہی تھیں اور ”ببلی اور بنٹی“ نگاہوں میں گھوم رہے تھے۔

 

Facebook Comments HS