کامیابی کیا ہوتی ہے؟ ( مذہب، سائنس اور سائیکالوجی) قسط : 4


” ہم سب“ فیملی ممبرز کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی چوتھی قسط حاضر ہے۔ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے ہیں۔ مکمل کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب رواں ماہ (مارچ) میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ اس مضمون میں ”کامیابی ’‘ کیا ہوتی ہے؟ اور ایک کامیاب انسان کون ہوتا ہے؟ کے موضوع پر ایک دلچسپ مکالمہ کیا گیا ہے۔

خالد سہیل : کامیاب زندگی کیا ہوتی ہے؟ یہ سوال کئی دہائیوں سے میرے دماغ میں گردش کرتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں جتنے لوگ مجھے ملے، کامیابی کی اپنی اپنی تعریف رکھتے تھے۔ کچھ کے نزدیک بے شمار دولت کامیابی کا پیمانہ تھی کچھ کے ہاں شہرت کامیابی کی دلیل تھی جبکہ بعض لوگوں نے محبت بھرے رشتوں کو کامیاب زندگی قرار دیا۔ اس ضمن میں، میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔

سہیل زبیری : خوش بخت ہوتے ہیں وہ لوگ جو خواب دیکھتے ہیں۔ اور ان کو اپنے خوابوں کی تعبیر اپنی زندگی میں ہی مل جاتی ہے۔ مگر کامیاب زندگی کیسی زندگی کو کہتے ہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے۔

یہ سوال خاصا دشوار ہے کیونکہ کسی ایک جواب سے اس کی تشفی نہیں ہوتی۔ کامیابی ایک نسبتی اصطلاح ہے۔ ایک شخص کو جو بات کامیابی کی نشانی لگتی ہے عین وہی بات کسی اور شخص کو ناکامی نظر آ سکتی ہے۔ اس لئے کامیابی کا پیمانہ بہت وسیع ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک دولت کا انبار کامیاب زندگی کا پیمانہ ہے جبکہ تخلیق کار لوگ اس خیال کو رد کرتے ہیں۔ وہ دنیاوی دولت کی بجائے کوئی نیا نظریہ، کوئی نئی کتاب اور کوئی بے مثال پیپر شائع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک کامیاب تخلیقی زندگی کے مقابلے میں مادی مفادات اور رشتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

مگر یہاں ایک اور مسئلہ جنم لیتا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں کامیابی کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ ہر دولت مند شخص کے مقابلے میں کوئی اس سے زیادہ دولت مند شخص موجود ہوتا ہے۔ یہی بات تخلیق کاروں، فنکاروں اور سائنسدانوں پر بھی صادق آتی ہے۔ وہاں بھی ایک سے بڑھ کر ایک تخلیق کار بیٹھا ہے۔ بطور ایک طبیعیات داں میری پیشہ وارانہ زندگی میں مجھے ایسے لوگ ملے جن کو کامیابی کے مینار کہا جاتا ہے۔ میں آئن سٹائن سے کبھی نہیں ملا مگر کئی ایسے عظیم دماغوں کے ساتھ نہ صرف ملا بلکہ کام کرنے کا موقع بھی ملا جو آئن سٹائن کی سطح کے نہیں بھی تو اس کے آس پاس ضرور تھے۔ نزدیک ترین دریافتیں کیں اور بہت زیادہ نام اور عزت کمائی۔ ان کامیابیوں کے اعتراف میں ان کو نوبل پرائز سمیت متعدد انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔ اکثریت کے خیال میں ایسے لوگ کامیاب ترین تھے کیونکہ ان کی ایجادات اور دریافتوں نے کرہ ارض پر موجود ہر فرد کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

بات کو واضح کرنے کے لئے یہاں میں دو بار نوبل انعام یافتہ اور ٹرانسسٹر کے شریک مؤجد ”جان بردین“ کی مثال دوں گا۔ میں نے ایک دفعہ ان سے ایک کورس بھی پڑھا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ دو دفعہ نوبل انعام لے کر وہ کیسا محسوس کرتے ہیں تو ان کا عاجزانہ جواب تھا: ”میں خوش قسمت تھا کہ مجھے کچھ ہونہار طلباء اور بہت اچھے معاونین میسر آ گئے۔“

دو اور سائنسدانوں کا ایک دلچسپ واقعہ کچھ یوں ہے :

ایک سائنسداں نوبل انعام یافتہ ”ویلیزلیمب“ ہیں۔ جن کی ’لیمب شفٹ‘ جیسی دریافت نے فزکس کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا تھا اور لیمب بیسویں صدی کے سب سے زیادہ با اثر طبیعیات داں سمجھے جانے لگے تھے۔ دوسرے سائنسداں ”پال ڈیراک“ ہیں جن کی ”ڈیراک ایکوئیشن“ ( ڈیراک کی مساوات) نے ”اینٹی میٹر“ (ضد مادہ) کے وجود کا نظریہ پیش کیا تھا۔ جو ان کے عہد کے سائنسدانوں نے بھی ’دیوانے کا خواب‘ قرار دیا تھا۔ اور ایک عرصے تک سائنسی حلقوں میں زیر بحث رہا۔

ایک دفعہ ’ڈیراک‘ نے ’لیمب‘ سے پوچھا کہ ”ایٹمی ہائیڈروجن“ میں ’لیمب شفٹ‘ دریافت کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟ آپ کو یقیناً لطف آیا ہو گا۔ لیمب نے جواب دیا : ”کاش، میں نے ’ڈیراک ایکوئیشن‘ دریافت کی ہوتی۔“

کامیابی کی حتمی تعریف کے بارے میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ یہ آپ کا احساس کامیابی آپ کی اپنی سوچ سے پیدا نہیں ہوتا۔ کامیابی کا ایک اہم پیمانہ دوسروں کا آپ کے کام کو تسلیم کرنا ہے۔ جیسے ایک امیر آدمی اپنے لئے ایک شان و شوکت اور آرام دہ زندگی حاصل کر نے کے بعد بھی ناخوش رہ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس دوڑ میں شامل دوسرے لوگ جو اس جتنی دولت نہیں کما سکے اس کی کامیابی کو تسلیم کریں۔ اسی طرح ایک تخلیق کار صرف اپنے لئے کتابیں نہیں لکھتا یا شاعری نہیں کرتا بلکہ اپنے کام کی ابلاغ کا دائرہ وسیع رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی تخلیقات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانا چاہتا ہے۔ جب لوگ اس کے کام کو دیکھ کر اور استفادہ کر کے اس کی پذیرائی کرتے ہیں تو تخلیق کار لطف اندوز بھی ہوتا ہے اور احساس کامیابی سے سر شار بھی۔

ایک سائنسداں کی کامیابی کا معیار بھی مختلف نہیں۔ وہ خود کبھی اپنے کارناموں پر خوش نہیں ہوتا بلکہ جب دوسرے اس کی ایجادات، دریافت اور افکار تازہ سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے ہم عصر سائنسداں اس کی کاوشوں کو تسلیم کرتے اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں تو اس کو اپنی کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔ بعض دفعہ سائنسداں کو ان سے جو اس کارنامہ سمجھتے ہیں اور ان سے جو نہیں سمجھتے، دونوں قسم کے لوگوں سے داد چاہیے ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات اس کو اپنے ہم عصر ان سائنسدانوں سے جو اس کے بالمقابل ہوتے ہیں، ستائش کے دو لفظ چاہیے ہوتے ہیں۔

کامیابی کی اس دوڑ میں ہمیں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں، جن کے کام کو درست تسلیم کرنے اور ان کی کامیابی کا اعتراف کرنے میں دنیا نے بہت دیر کر دی۔ بلکہ بعض اوقات یہ کام ان کی وفات کے بعد بھی ہوا۔ ایسی بے توقیری کی موزوں مثال ”نیکولا کاپرنیکس“ کی ہے جس نے 1543 ء میں نظام شمسی کا ”شمس مرکزی ماڈل“ یا ”ہیلیوسنٹرک ماڈل“ پیش کیا جس کے مطابق سورج نظام شمسی کا مرکزی ستارہ ہے اور زمین سمیت باقی سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔

اس نئے ماڈل نے صدیوں پرانے ”پٹولمک ماڈل“ یا ”جیو سنٹرک ماڈل“ جس کے مطابق زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج سمیت باقی تمام کرے زمین کے گرد گردش کرتے ہیں، کو تبدیل کر دیا۔ قانون کشش ثقل کی غیر موجودگی میں یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ زمین اپنے سینے پر اتنا کچھ ہوتے ہوئے اور انسانوں کا توازن بر قرار رکھتے ہوئے، سورج کے گرد چکر کاٹ سکتی ہے۔ ”شمس مرکزی“ تھیوری کی مخالفت اتنی زیادہ تھی کہ ’نیکولا‘ اپنی زندگی کے اختتام تک اس کو شائع نہیں کروا سکا۔ ایک روایت کے مطابق نیکولا کی کتاب : ”دا۔ ریوولیوشن۔ ایبس“ (انقلابی پیامبر) ان کی زندگی کے آخری دنوں میں چھپ گئی تھی۔ جو ان کو بستر مرگ پر پیش کی گئی۔ مگر وہ کتاب پڑھے بغیر فوت ہو گئے۔ اور ان کو معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے کام نے انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کو جنم دیا تھا۔

علاوہ ازیں کامیاب لوگوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو دنیاوی مال و دولت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان ہے کہ دائمی زندگی بعد از موت ہے۔ اور اس چار روزہ زندگی کو ایمانداری اور نیکو کاری کے ساتھ گزارنا چاہیے تاکہ آخرت کی دائمی زندگی عیش و عشرت اور خوبصورتی سے مزین ہو۔ بھلے موجودہ زندگی خستہ حالی میں ہی کیوں نہ گزرے۔ ایسے لوگ ان لوگوں پر دل ہی دل میں ہنستے ہیں جو اپنی محنت اور کاوش سے اسی دنیا کو فردوس بنانے کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں۔

پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کو خوشیاں دے کر خوش ہوتے ہیں۔ اس کامیابی کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں۔ ایک شکل یہ ہے کہ جو مال اور دولت ان کے پاس آئی ہے اس کو ان لوگوں پر خرچ کریں جو محروم ہیں اور ان بے سر و سامان لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ اور دوسری شکل یہ ہے کہ اپنے علم و ہنر سے دوسروں کی زندگیوں میں راحت و چین پیدا کرنے کا سامان کریں۔ مثلاً ایک مزاحیہ فنکار کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اداس چہروں پر کس قدر مسکراہٹیں بکھیر سکتا ہے۔

میرے اپنے نزدیک کامیابی کا پیمانہ کیا ہے؟

میرے نزدیک وہ شخص ایک کامیاب شخص نہیں جو ہر وقت اپنے آپ سے یہی سوال پوچھتا رہے کہ کیا میں ایک کامیاب انسان ہوں؟ اور نہ ہی میں اس شخص کو کامیاب سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ کامیاب ثابت کرتا پھرے۔

میرے نزدیک کامیاب انسان وہ ہے جس کے نزدیک ناکامی کا تصور ہی نہ ہو۔
ایسا انسان کون ہو گا؟ کیا ایسے لوگ اب بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں؟

جی بالکل ایسے لوگ موجود ہیں۔ جو اپنے کام سے خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔ جو دنیا کی پروا کیے بغیر محنت کرتے ہیں اور بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کرتے ہیں۔ مگر نہ ان کو صلے کا لالچ ہوتا ہے نہ ستائش کی تمنا۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے افراد ہی صحیح معنوں میں کامیاب لوگ ہیں۔ جن کو اس کائنات میں اکائی نظر آتی ہے۔

Facebook Comments HS