بغیر پانی، بجلی اور انٹرنیٹ کا گلگت بلتستان


یہی گزشتہ ہفتے کی بات ہے کہ راقم کا تعلق اس مادی دنیا سے بالکل کٹ کر رہ گیا تھا۔ دوست و احباب اس پراسرار واقعے پر حیراں تھے۔ مجھے خود یہ دنیا عجیب لگنے لگی تھی۔ میں ایک ایسی دنیا میں جا پہنچا تھا، جس کا بظاہر دنیا سے تعلق ہونے کے باوجود بھی نہیں تھا۔ دنیا کے ہنگاموں، آئے دن کی ہولناکیوں، حادثوں اور حالات و واقعات سے بے خبر و بے نیاز۔ کیا اکیسویں صدی کے اس پر آشوب دور میں ایسا ممکن ہے کہ ہم دنیا سے بے خبر رہیں۔

بالخصوص پاکستانی شہری تو ان ہنگاموں کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ بغیر ہنگامی خبریں سنے انھیں نیند بھی نہیں آتی۔ ہنگامے، قتل و غارت گری، بم دھماکے، فائرنگ، پولیس مقابلے یا پھر شمالی و جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کی خفیہ اطلاع پر سرچ آپریشن جیسی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ ان تمام حالات سے بیگانہ ہو کر میں ایک ایسے علاقے میں قیام پذیر تھا۔ جہاں نہ پینے کے لیے صاف پانی تھا، نہ بجلی تھی اور نہ ہی انٹر نیٹ کی سہولت حاصل تھی۔

جہاں شب و روز کے ان حوادث سے ہٹ کر زندگی کے بھر پور آثار دیکھے۔ دمکتے، چمکتے اور مسکراتے چہرے دیکھے تو ساتھ ہی بنیادی انسانی حقوق سے محروم لوگ، بجھتی امیدیں اور تیزی سے پھلتی پھولتی بیزاری اور بغاوت کے آثار دیکھے۔ راقم کو اس دنیا میں بہت کچھ دیکھنے، سننے، سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کو ملا۔ فی الوقت قلم اور موضوع دونوں کو سمیٹتے ہوئے ان تمام دکھ و درد اور مشاہدات کو ایک طرف رکھ کر اپنے موضوع کی سمت چلتے ہیں۔

تو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دنیا میں کون سا مقام یا جگہ ایسی ہے جس کا تعلق اس مادی دنیا سے نہیں ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ ایسا کیسے ممکن ہے کہ ہم زندہ بھی رہیں اور مادی تعلق بھی قائم نہ رہے۔ آپ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔ چلیے میرے ساتھ اور اس دنیا کی سیر کو نکلتے ہیں، جس کا تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔

چلیے ہم گلگت بلتستان کو چلتے ہیں۔ جہاں کے ہم باسی ہیں۔ اچھا گلگت بلتستان تو بہت پیارا، خوبصورت اور دلکش ہے۔ دنیا کے پانچ بلند ترین پہاڑ، تین پہاڑی سلسلے، کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندو کش، گرمیوں میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز سردیوں میں برف باری کے دلفریب نظارے۔ واہ!

یوں تو گلگت بلتستان کا رخ کرنے کی خواہش دنیا کے ہر ذی شعور میں پائی جاتی ہے۔ جو قریب سے فطرت اور قدرت کے نظارے کرنا چاہتا ہو۔ ہوا کے لمس کو محسوس کرنا جانتا ہو۔ یخ بستہ ٹھنڈی ہواوں سے رومانس کے فن سے آشنا ہو۔ پہاڑوں کی جھولی میں جھولنا چاہتا ہو، سبزہ زاروں میں اٹکھیلیاں کرنا چاہتا ہو، برف کی چادر اوڑھنا چاہتا ہو، جگمگاتے تاروں سے بھرے دوشیزہ سے بھی زیادہ خوبصورت آسمان کے نظارے کرنا چاہتا ہو، بادلوں کی گھونگھٹ میں چھپے، نئی نویلی دلہنوں کی مانند دیدار کا موقعہ فراہم کرنا اور اسی لمحے بادلوں کے پردے میں چلے جانے والے پہاڑوں کے نظارے کے منتظر رہنا چاہتا ہو تو وہ گلگت بلتستان کا رخ کرے گا۔

یہ وہ لازوال مناظر ہیں جس سے پوری دنیا مرعوب ہے۔ قومی اطلاعاتی ادارے، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا قدرت کے ان لازوال نظاروں کے مناظر سے بھرے پڑے ہیں۔ قومی سطح پر الیکٹرانک میڈیا کی نظریں گلگت بلتستان کی سیاحت اور برف پر اٹکی ہوئی ہے۔ مگر افسوس قومی اور علاقائی سطح پر لوگ اور ادارے گلگت بلتستان کے اصل مسائل، محرومیوں اور ضرورتوں سے ناآشنا ہیں۔ خوبصورت اور برف کا دلدادہ میڈیا اور ادارے یہاں کی 26 لاکھ کی آبادی کے اصل مسائل سے لا بلد ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کی اصل محرومیوں سے ناآشنا ہیں۔ انھیں ادراک نہیں کہ یہاں کے لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقعے بالکل ناپید ہیں۔ پاکستان کی پوری زرعی اراضی کو سیراب کرنے والا دریائے سندھ کے ہوتے ہوئے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔

قدرتی معدنیات اور توانائیوں سے مالا مال یہ خطہ بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہے۔ گلگت بلتستان کے مرکزی شہر گلگت میں 22 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ اکیسویں صدی میں رہنے والے گلگت بلتستان کے 80 فیصد سے زیادہ شرح خواندگی کے دعویداروں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو زندہ لاشیں ہیں، چلتے پھرتے ڈھانچے ہیں۔ جو برائے نام زندہ ہیں۔ جو ڈگری لینے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔

لعنت ہے اس ڈگری پر، اس تعلیم پر جو لوگوں کو شعور نہ دے، جو حقوق کے لیے لڑنا نہ سکھائے۔ راقم گلگت بلتستان کے حالات اور محرومیاں دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ دنیا کے نا اہل ترین لوگ، اپنے حقوق سے ناآشنا اور عقل و شعور سے عاری طبقہ گلگت بلتستان میں پایا جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال یہی ہے کہ 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ، بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کے باوجود کہیں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔

ہمارے ایک عزیز نوجوان شاعر ایاز میر نے اپنی ایک نظم میں گلگت بلتستان کے حالات کی منظر کشی کی ہے
یہ جو خامشی کا مقام ہے
یہ مقام طرز غلام ہے
یہاں زندگی نہیں مرگ ہے
نئی صبح بھی یہاں شام ہے
کوئی سچ سنے تو کہاں سنے
کوئی سچ پڑھے تو کہاں پڑھے
کہ زباں کسی کی خرید ہے
تو قلم کسی کا غلام ہے
یہاں ہر مراد ہے ناتمام
یہاں بے حسی ہی تمام ہے
یہاں ہر ستم میں بھی چپ رہو
کسی مولوی کا ہی دم بھرو
یہ دیار مذہبیوں کا ہے
یہاں بولنا بھی حرام ہے

Facebook Comments HS