وہ قیمتی تحفہ جو کسی حکمران نے نہیں رکھا

کیبنٹ ڈویژن کی چار سو چھیاسٹھ صفحات کی رپورٹ ان کی اپنی ویب سائٹ پر شائع ہو گئی ہے۔ 2002 سے لے کر 2023 تک جن شخصیات کو تحفے ملے، ان سب کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں۔ مرحوم پرویز مشرف، شوکت عزیز، نواز شریف، گیلانی، زرداری، عارف علوی اور عمران خان سے لے کر کئی شخصیات قیمتی تحفے لینے میں پیش پیش رہے ہیں۔
نجی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک واحد چیز جو کسی سیاست داں نے اپنے پاس نہیں رکھی وہ 9 کتابیں تھی جو ان کو تحفے میں دی گئیں تھیں۔ رپورٹ کے مطابق نواز شریف، شہباز شریف، عمران خان اور عارف علوی کو کل نو کتابیں تحفے میں ملی جو انہوں نے قومی لائبریری میں جمع کروا دی۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!
فواد چوہدری مریم نواز پر طنز کرتے ہیں کہ آپ تو پائن ایپل بھی لے گئیں۔ مریم نواز فواد چوہدری کو کہتی ہیں کہ آپ نے تو کھجوروں کے ڈبے بھی نہیں چھوڑے۔ ذرا غور کریں کہ یہ انتہائی امیر سیاست داں اصل میں کتنے بد صورت ہوتے ہیں۔ وہ جس کے بلے کروڑوں میں نیلام ہوتے ہوں، اس نے گلدان، ایش ٹرے اور میز پوش تک نہیں چھوڑے۔ یہ اخلاقی انحطاط کی حد ہے۔ یہ سیاستدان داں نہیں بلکہ اداکار ہیں جو حالات اور منظر کے بدلنے پر مختلف روپ دھار لیتے ہیں۔
ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی
لوگ کتنے ہمیں اک شخص میں مل جاتے ہیں
جہاں آپ نے گلدان، ایش ٹرے اور میز پوش تک نہیں چھوڑے وہاں ان کتابوں کا کیا قصور تھا؟ کتابیں تو بہترین رفیق ہوتی ہیں۔ علم، شعور اور آگہی کے دروازے کھولتی ہیں لیکن ہمارے لیڈروں کو اس کی کیا ضرورت ہے، وہ تو پہلے سے ہی سب جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ ہدایت کا سر چشمہ ہیں اور کامل ہیں۔ کتابیں پڑھ کر وہ کیوں اپنا وقت برباد کریں جب کہ اسی وقت میں وہ کروڑوں لوگوں کو اپنی تقریروں اور دلفریب نعروں سے بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ وہی معصوم عوام جو ان کے لئے جان تک دینے کے لئے راضی ہیں۔ اگر یہ نام نہاد لیڈر اور فوجی جرنیل کتابیں پڑھ لیتے تو شاید ہمارا یہ حال نہ ہوتا کیونکہ مطالعہ چوری کرنا نہیں سکھاتا۔ وہ حقوق پر غاصب ہونا نہیں سکھاتا۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب ان جیسے سیاست دانوں کے لئے معصوم عوام نعرے لگاتے ہیں، ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب رہتے ہیں اور ان کے لئے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ظل شاہ اس کی تازہ مثال ہے جو زماں پارک کی جنگ میں مارا گیا۔ آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ 2015 میں کراچی کے سول اسپتال کے دروازے پر ایک دس ماہ کی بچی کا انتقال ہو گیا تھا۔ بچی کا نام بسمہ تھا۔ بچی کا باپ گبول پارک لیاری کا رہائشی تھا جو اپنی دس ماہ کی بچی کو سول اسپتال سخت بخار کی حالت میں لایا تھا۔
اسپتال کے اطراف سخت سیکیورٹی تھی کیونکہ بلاول بھٹو کو سول اسپتال کراچی میں ایک نئے ٹراما سینٹر کا افتتاح کرنا تھا۔ بچی کا باپ پہلے اسکوٹر پر تھا جس کو کافی دور ہی پولیس والوں نے روک لیا کہ وہ موٹر سائیکل پر آگے نہیں جا سکتا۔ باپ نے اسکوٹر وہیں کھڑی کی اور بچی کو گود میں لے کر پیدل ہی سول اسپتال کی ایمرجنسی کی طرف دوڑ پڑا۔ وہاں بھی اس کو پولیس والوں نے داخل نہیں ہونے دیا۔ بسمہ کے باپ کو تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد اندر جانے کا موقع ملا لیکن تب تک بسمہ اس دنیا سے جا چکی تھی۔
ڈاکٹر نے طبی معائنہ کرنے کے بعد غمزدہ باپ کو بتایا کہ اگر وہ دس منٹ پہلے آ جاتا تو شاید بسمہ بچ جاتی۔ صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے بیان دیا کہ بلاول بھٹو کی زندگی ہمارے لئے بہت عزیز ہے اور ہم رسک نہیں لے سکتے تھے۔ صوبائی وزیر جام مہتاب نے کہا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔
یہ تو ایک واقعہ تھا۔ اس طرح کے سینکڑوں نوحے ہیں جو لکھے جا سکتے ہیں۔ جو لیڈر عام آدمی کی زندگی بسر نہیں کرتا، وہ کیسے ان کا دکھ سمجھ سکتا ہے۔ جس نے کبھی اپنے گھر کا خرچہ اور بجٹ نہ بنایا ہو، وہ کیسے ملک کو چلا سکتا ہے۔ جن کے گھروں کے کروڑوں کے خرچے دوسرے امیر لوگ اٹھاتے ہوں تاکہ وقت پر ٹکٹ لے سکیں، انہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ بجلی کا بل زیادہ ہو گیا، اسکول کی فیس زیادہ ہو گئی۔ ان کے اپنے بچے تو لندن اور امریکہ میں مہنگی ترین یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔
اور دوسرے کے بچوں کو تقریر کر کے بھڑکا رہے ہوتے ہیں کہ ہم آپ کو اچھی تعلیم، اچھی صحت اور بہتر مستقبل دیں گے لیکن حقیقت یہ ہے آپ کی گود میں آپ کے دس ماہ کے بچے کی لاش ہو گی کیونکہ کوئی لیڈر اسپتال کے نئے وارڈ کا افتتاح کرنے آیا ہو گا اور آپ کو اس لیڈر کی سیکیورٹی کے نام پر علاج کے لئے بھی اندر آنے نہیں دیا جائے گا۔ وہ فیتا کاٹ رہا ہو گا اور ادھر آپ کا بچہ دم توڑ رہا ہو گا۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تحفے میں ساری قیمتی اشیاء اپنے پاس رکھ لیں اور صرف کتابیں نیشنل لائبریری میں جمع کروا دیں۔ کیا آپ اب بھی ان لوگوں پر جان قربان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اقبال کے الفاظ میں خدا تعالٰی اپنے فرشتوں کو فرمان دیتے ہیں کہ
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
میں ناخوش و بیزار ہوں مر مر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو

