جب امجد اسلام امجد نے قرۃ العین حیدر کو گھاس نہ ڈالی


میں بات کرنا چاہتا ہوں امجد پرویز کی آواز میں اس خوب صورت کلام کی شہرت اور ڈرامہ ’وارث‘ کی مقبولیت سے پہلے کی جب سن ستتر اور اکاسی کے دوران میں میں ہر صبح پیدل گورنمنٹ کالج لاہور جانے کے لیے مزنگ سے پرانی انارکلی کی طرف رواں دواں ہوتا تھا۔ امجد اسلام امجد صاحب اپنے مقبول عام لمبراٹا سکوٹر کا شور اور دھواں بلند کرتے ہوئے لیک روڈ اور لٹن روڈ مزنگ کا چوراہا پار کرتے تھے۔ وہ ان دنوں ایم اے او کالج میں اردو پڑھانے پر مامور تھے۔ ہمارا یہ ”ٹاکرہ“ لگ بھگ روز ہی ہوتا تھا۔

وہ میرے لیے کوئی اجنبی نہ تھے۔ ان کا ذکر ہمارے ہاں رہتا ہی تھا۔ پھر میں نے انھیں متعدد مشاعروں میں دیکھا سنا بھی تھا۔ تاہم ان سے میری پہلی طویل ملاقات ایم اے او کالج لاہور کے پروفیسرز روم میں ہوئی۔ ہوا یہ کہ ایک روز میرے پیارے شاعر دوست علی اصغر عباس مجھ سے ملنے گورنمنٹ کالج آئے اور بولے :

”چل یار، آج کچھ اچھے لکھاریوں سے ملتے ہیں“ ۔

میرا بازو تھاما اور اوول کے ساتھ ساتھ چلتے ڈھلوانی راستے پر لے چلے۔ گیٹ سے باہر نکلے۔ ایک ایک گلاس گنے کے تازہ جوس کا پیا اور پھر ناصر باغ کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے لاہور کارپوریشن کے دفتر اور نیشنل کالج آف آرٹس کے چوراہے کو عبور کرتے ہوئے پیدل ہی ایم اے او کالج جا پہنچے۔

کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو پروفیسر عارف عبدالمتین، پروفیسر خالد بزمی، پروفیسر یونس احقر، پروفیسر محمد خالد اور پروفیسر تحسین فراقی سے سامنا ہو گیا۔ سب اپنی اپنی کلاسوں کی جانب جا رہے تھے جبکہ شعبہ اردو کے کمرے میں گونجتے قہقہے باہر تک سنائی دے رہے تھے۔ امجد اسلام امجد صاحب پاکستان ٹیلی وژن کے ابتدائی دنوں کی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ لوک داستان مرزا صاحباں پر براہ راست نشر ہونے والے ڈرامے کا ذکر ہوا۔

بتانے لگے کہ ڈرامہ بالکل ٹھیک چلا۔ اب ڈرامے کا آخری سین تھا جس میں صاحباں کے بھائیوں سے تیر کھا کے مرزا نے گرنا تھا اور بس ڈرامہ ختم۔ مگر ہوا یہ کہ سینے پر تیر کھا کر زمین پر گرنے کے بعد مرزا کو یاد آیا کہ وہ تیر لگنے پر بولنے والا مکالمہ تو بھول ہی گیا تھا۔ چناں چہ فورا اٹھا، تیر سینے سے نکالا۔ کیمرے کی طرف دیکھ کر دردناک ڈائیلاگ بولا، تیر واپس سینے میں مارا اور دھڑام زمیں پر ۔

کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ واقعہ میں حقیقت کی مقدار پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر امجد صاحب کے ڈرامائی انداز بیاں کی تاثیر پر سب متفق تھے۔

امجد صاحب ایک زندہ دل اور دوست دار شخصیت تھے۔ جہاں دوستوں کو اپنے کاٹ دار جملوں کا نشانہ بنا کر لطف لیتے وہاں اپنے بارے میں دوستوں کے جملوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے۔

ہم نے حلقہ ارباب غالب کے تحت جناب ایوب خاور کے ساتھ چائنیز لنچ ہوم لاہور میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا۔ صدارت احمد ندیم قاسمی صاحب نے کی جبکہ نظامت کی ذمہ داری میں نے نبھائی۔ اس موقع پر دیگر کے ساتھ ساتھ خالد احمد صاحب، امجد اسلام امجد صاحب اور عطا صاحب اپنے مضامین پیش کیے۔ مجھے یاد ہے عطا صاحب نے ایوب خاور کی شاعری اور شخصیت پر بات کی تمہید باندھتے ہوئے کہا کہ انسان بنیادی طور پر ’ناقدرا‘ ہے۔ اسے چیزوں کی قدر ان کے کھو جانے کے بعد ہوتی ہے۔

یہ کہتے ہوئے سامنے بیٹھے امجد صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے :
اب عزیزی امجد اسلام امجد ہی کو دیکھ لیجیے۔ جب سے اس کے سر سے بال غائب ہوئے ہیں اس کی جیب میں کنگھی آ گئی ہے۔

اس پر قہقہہ بلند ہوا۔ میں نے دیکھا کہ بظاہر امجد بھی مسکرا رہے ہیں۔ مگر اس طرح کی ذاتی سی چوٹ پر اندر سے وہ کیسا محسوس کر رہے ہوں گے؟ یہ میں جان نہ سکا۔ بات دل چسپ سہی مگر یوں سر محفل پھبتی کسنا کیسا ہے؟ مجھے کیا پتہ؟ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ تاہم جب میں نے خود کو امجد صاحب کی جگہ رکھ کر دیکھا تو جانے کیوں مجھے خفت سی محسوس ہوئی۔ لیکن تو میری بات ہے۔ امجد صاحب نے بھی ایسا ہی محسوس کیا ہو، یہ ضروری نہیں۔

خیر، اسی دوران میں غالب کے دو سو سالہ جشن ولادت کا آغاز ہوا تو مجھے دی وائس آف جرمنی کی اردو نشریات کے لیے ادیبوں کے تاثرات پر مبنی ایک طویل پروگرام تیار کرنا تفویض ہوا۔ اسی سلسلہ میں مجھے امجد صاحب کے ہاں جانا پڑا۔

انہوں نے ممتاز سٹریٹ، گڑھی شاہو میں واقع اپنے گھر کے دروازے پر خوش آمدید کہا۔

ہم ان کے ڈرائینگ روم کے فرش پر بچھے قالین پر ہی بیٹھ گئے تھے۔ میں نے مرزا غالب کی شاعری کے حوالہ سے ان کے مختصر تاثرات ریکارڈ کیے اور ریکارڈر کو واپس بیگ میں رکھتے ہوئے اجازت لینا چا ہی مگر امجد صاحب نے یہ کہہ کر روک لیا:

کیوں نہ چائے کا ایک دور ہو جائے؟ ”

میں نے ہنستے ہوئے کہا: ”جی بالکل، نیکی اور پوچھ پوچھ۔ میرے والد صاحب یزدانی جالندھری تو چائے کے اس قدر شوقین تھے کہ انھیں گرمیوں بھی کبھی پیاس نہ لگتی تھی۔ کہتے تھے مجھے بس ’چیاس‘ لگتی ہے۔

اس پر انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے : ”بھئی، واہ۔ انہوں نے پانی کی پیاس کے مقابل چائے کی ’چیاس‘ کا لفظ گھڑ رکھا تھا۔ ہمارے یزدانی صاحب بظاہر بڑے سنجیدہ انسان تھے مگر اندر سے تھے وہ بھی بلا کے پرمزاح۔ ان سے اکثر مشاعروں میں ملاقات ہوتی۔ یار حامد، ایسے بامروت استاد لوگ اب کہاں ہیں۔ جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں۔“

میں نے کہا: ”چلیے، بادہ کش نہ سہی ہم جیسے ’چائے کش‘ تو اب بھی موجود ہیں۔ ہو جائے چائے۔“
امجد صاحب نے میز پر چائے اور کچھ دیگر لوازمات سجا دیے تو ہم قالین سے اٹھ کر وہاں جا بیٹھے۔

چائے پیتے ہوئے میں نے پوچھا: ”اچھا، امجد صاحب۔ آپ کے مداحین اور احباب کا حلقہ تو خاصا وسیع ہے مگر آپ کے قریبی دوست کون ہیں؟

جواب میں کہنے لگے : ”دلدار پرویز بھٹی، عطا الحق قاسمی، خالد احمد اور نجیب احمد۔“

دلدار، عطا اور خالد صاحبان میں قدر مشترک تو مجھے سمجھ آتی تھی کہ یہ تینوں طنز و مزاح کے ’ماسٹر‘ سمجھے جاتے تھے مگر نجیب صاحب کی فہرست میں موجودگی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ میں نے اپنی حیرت کا ظہار کیا تو کہنے لگے :

نجیب بھی بڑا شریر ہے۔ دیکھنے میں سنجیدہ لگتا ہے اندر سے ہے وہ ہمارا ہی یار۔

اور مجھے نجیب صاحب کا سنایا وہ واقعہ یاد آ گیا جب انہوں نے ادارہ مطبوعات کے تحت امجد اسلام امجد کے لیے غیرملکی نظموں کے تراجم پر مشتمل کتاب شائع کی تھی۔ امجد صاحب جب ملتے اپنی کتاب کی رپورٹ جاننا چاہتے۔ بقول نجیب صاحب چھ ماہ تک اس کتاب کی ایک بھی کاپی فروخت نہ ہوئی تھی۔ اور جب چھ ماہ میں فیروز سنز سے پہلی کاپی فروخت ہوئی تو وہ ازراہ شرارت امجد صاحب کے گھر انہیں مبارک باد دینے گئے تھے۔

بتاتے تھے کہ وہ جون کی ایک ’شکر‘ دوپہر تھی جن وہ امجد کے ہاں پہنچے۔ انہیں سوتے سے جگایا۔ نیچے بلایا۔ سکوٹر پر بیٹھے بیٹھے انہیں خبر اور مبارک دی کہ چھ ماہ بعد بالآخر ان کی کتاب کی ایک کاپی فیروز سنز میں فروخت ہو گئی ہے۔ یہ کہا اور سکوٹر کی ’کلی دبا کر وہاں سے بھاگ لیے تھے جبکہ امجد کی گالیاں گلی کے موڑ تک ان کا پیچھا کرتی رہیں۔

میں امجد صاحب کی مقبولیت سے پہلے کے اس واقعے کا سوچ کر مسکرا دیا۔

انہوں نے مسکراہٹ کا سبب دریافت کیا تو میں نے بس یہ کہا کہ میں ان کے ادبی سفر کے بارے میں سوچ رہ تھا اور یہ بھی کہ غیرملکی تراجم کی کتاب سے لے کر اب تک کا سفر کیسا رہا؟ اور اتنا کچھ لکھنے کے بعد بھی اگر ان کے مداحین ملتے ہی ان سے ڈرامہ ”وارث“ ہی کے بارے میں بات کریں تو انہیں کیسا لگتا ہے؟

بولے : تم جانتے ہی ہو، میں نے ڈرامہ وارث کے علاوہ بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اب بھی کوئی مداح ملتا ہے تو بات اسی کی تعریف سے شروع کرتا ہے۔ تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ میرا تعارف بطور تخلیق کار اس شخص سے ”وارث“ نے کروایا ہے۔ جب میں شکریہ ادا کرتا ہوں تو وہ میرے باقی کام کی بھی تعریف کرتا ہے۔

میں نے کہا کہ میں کئی ایسے لکھاریوں سے ملا ہوں جو اپنی مشہور ترین تخلیق کے ذکر سے چڑتے ہیں۔ اشفاق احمد ”گڈریا“ کا اور قرۃ العین حیدر ”آگ کا دریا“ کا حوالہ سن کر خوش نہیں ہوتیں۔ میں نے بھی ایک انٹرویو میں ’آگ کا دریا‘ کا ذکر کیا تو عینی آپا چڑ سی گئیں کہ جیسے اس ناول کے بعد کی تخلیقات کو نظر انداز کیا جا رہا ہو۔

امجد کہنے لگے : ”شاید بہت زیادہ پذیرائی نے انہیں نک چڑھی بنا دیا ہے۔ مجھے ایک خلیجی ملک میں ملیں۔ ایک بڑی تقریب تھی۔ میں نے ان کی خیریت کی اور چند ستائشی جملے بھی کہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ تو مجھے گھاس ہی نہیں ڈال رہیں۔ میری عادت تو تم جانتے ہی ہو۔ میں نے بھی انہیں گھاس ڈالنا بند کر دیا۔ میں نے اس بات کا اہتمام کیا کہ جب کھانے یا چائے پر بھی ہم اکٹھے ہوں تو میں ان کے سامنے دوسروں کو اہمیت دوں۔ سو میری موجودگی میں سبھی لوگ کھلکھلاتے رہتے اور میرے ہی گرد حلقہ بنائے رکھتے۔

دو دن ایسے گزرے اور تیسرے روز عینی آپا خود مجھ سے بات کرنے آئیں اور بتانے لگیں کہ انہوں نے میری تخلیقات پڑھ رکھی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر میں نے ان سے کوئی گلہ نہ کیا بلکہ قابل احترام دوستوں کی طرح ملنے لگا۔ پھر جب وہ پاکستان آئیں تو میرے ساتھ کافی بے تکلف ہو گئی تھیں۔ شاید وہ سمجھ چکی تھیں کہ ہر کسی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مشہور و معروف امجد اسلام امجد کہہ رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ شہرت بھی اپنے ساتھ کیسے کیسے امتحان لاتی ہے! انسان بلندی کے مراحل تو جوش میں طے کر ہی جاتا ہے مگر کیا بلندی پر پہنچ کر نیچے دیکھنے کی ہمت بھی ہر کسی میں ہوتی ہے۔ مجھے دوسروں کا تو پتہ نہیں۔ البتہ اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرا سر تو تھوڑی سی بلندی پر ہی چکرانے لگتا ہے۔ خیر، یہ تو میری بات ہے۔ دوسرے بھی ایسا محسوس کریں یہ ضروری نہیں۔

Facebook Comments HS