بکری، کتے اور شیر کا تماشا

ایک دن جیل میں نیکسل باغی (بھارت کا علیحدگی پسند گروپ) پولیس افسر کو کہانی سنا رہا تھا۔ کہ ایک دفعہ جنگل میں شیر شکار کے پیچھے بہت تھک گیا لیکن شکار دبوچنے میں ناکام رہا۔ پھر شیر کو ایک ترکیب سوجھی اور اس نے اپنے ساتھ بکری اور کتے کو بھی اس شرط پر ملا لیا کہ اگر ہم تینوں نے مل کر شکار کر دیا تو شکار کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔ تینوں نے مل کر خوب بھاگ دوڑ کی اور بالآخر شام ڈھلتے ہی شکار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
شیر نے بکری کو دعوت دی کہ آ کر شکار بانٹ لیں۔ بکری نے شکار کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا اور سب کے سامنے اپنا اپنا حصہ رکھ دیا۔ جیسے ہی شیر نے شکار کے تین حصے دیکھے تو وہ زور سے چنگھاڑتے ہوئے بکری پر حملہ آور ہوا۔ شیر نے بکری کا خون چوس لیا اور اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ کتا یہ سارا منظر نامہ دیکھ رہا تھا۔ شیر نے کتے کو حکم دیا کہ تم آؤ اور شکار تقسیم کرو۔ کتا خوف سے کانپ رہا تھا اور ڈرتے ڈرتے شکار کی طرف کھسک گیا۔
کتے نے تینوں حصے شیر کی طرف بڑھا دیے اور خود بکری کی بچی کچی ہڈیاں چاٹ لیں۔ جب شیر نہ یہ سارا منظر دیکھا تو اس کے آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ شیر نے کتے کو مخاطب کر کے کہا ”واقعی لوگ ٹھیک کہتے ہیں وفاداری میں کتے کا ثانی نہیں“ ۔ یہ واقعہ ایک انڈین ویب سیریز میں خوبصورتی کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ آج کل ملکی حالات کے تناظر میں عوام کی مثال بکری، بعض اقتدار پرست سیاست دانوں کی مثال کتے اور شیر کی مثال ملک کا اشرافیہ، افسر شاہی، اسٹیبلشمنٹ اور فوج ہیں۔
پچھتر سالوں میں مملکت خداداد کا جو حشر ان شیروں نے کیا وہ اپ کے سامنے ہیں۔ ملک معاشی وینٹی لیٹر پر ہے، اور پچھلے ایک ہفتے سے بکریوں، کتوں اور شیروں نے جو سرکس اور تماشا لگایا ہوا ہیں یہ المیہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی بھی ایک طویل تاریخ ہیں ہماری۔ عظیم لوگ اور لیڈرز بند کمروں میں نہیں بلکہ سخت جدوجہد، سیاسی عمل، جمہوریت کے لئے قربانیاں دینے پر پیدا ہوتے ہیں۔ آب ہم آتے سیاست کی طرف یہ بات تو طے ہے کہ عمران اور ان کے مشیروں نے سیاست اور ادب کا جنازہ نکال دیا ہے۔
پبلک اس بار پر امید تھی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سیاسی انتقام کے بجائے ملک کی حالات سدھرنے پر توجہ مرکوز کریں گی، اور نئے سرے سے ملک کی باگ ڈور سنبھال لیں گی۔ مگر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سیاسی انتقام عروج پر ہے۔ نظریہ کا پتہ اور نہ بیانیہ کا بس سارا ملبہ پچھلے حکومت پر ڈالنا۔ اگر حکومت اور حالات اتنے ہی خراب تھے تو پھر ایک سال کے لئے حکومت کیوں لی؟ اب آپ ( پی ڈی ایم ) کس مرض کی دوا ہو۔ آپ پچھلے ایک سال کی اخبارات اور سیاسی جماعتوں کی قائدین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا تجزیہ کریں گے تو آپ کو گالم گلوچ اور قائدین کی خوشامد کرنے سوا کچھ بھی نہیں ملے گا۔
مجال ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے معاشی یا سیاسی استحکام پر کوئے جامع پالیسی بیان دیا ہو۔ چند ایک سیاست دان جو پارٹی میں مخالف بیان دیتے ہے یا تو ان کو چپ کرایا جاتا ہے اور یا پھر ان کے پیر بھی وفاداری کی زنجیریں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے لیے بھی دو فوج اور دو عدلیہ اور مریم نواز کے لئے بھی دو فوج اور دو عدلیہ۔ سول سپرمیسی کا پرچار کرنے والے مریم نواز نے پچھلے ایک ہفتے سے غیر زمہ دارانہ بیانات سے اپنی ہی پارٹی کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کر دیا۔
پی ٹی آئی کے لئے فیض حمید معصوم ہے تو نون لیگ کے لئے اچانک جنرل باجوہ معصوم ہو گیا۔ رہی سہی کسر مریم نواز نے پوری کی جو جلسوں میں جرنیلوں (جنرل باجوہ کے بغیر) اور ججوں کی تصاویر لگا کر ان کو للکارتے ہیں۔ ایک ایک پارلیمنٹرین پر سالانہ کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ چار سالہ عمران خان اور ایک سالہ پی ڈی ایم دور حکومت میں ان پارلیمنٹرین کا کیا کردار رہا ہے سوائے اپنے لیڈروں کی خوشامد اور سیلفیاں۔ پی ٹی ای کے جو پارلیمنٹیرین چار سالوں میں اپنے حلقے کے عوام سے ملنے سوات، وزیرستان اور باڑہ نہیں گئے، وہ زمان پارک میں ایک ہفتے جوش و خروش دکھا رہے ہیں۔ سول سپرمیسی کے لئے قربانیاں باچا خان، عبدالصمد خان، بزنجو، نواب نصراللہ خان، حبیب جالب اور بے شمار لوگوں نے دیں اور کریڈٹ عمران خان لے رہا ہے۔ عمران خان نے صحیح انکار کیا لیکن غلط وقت پر۔ کاش وہ حکومت میں ہوتے اور فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے تب ان کا بھی نام عظیم لیڈروں میں شمار کیا جاتا۔
