غیر ذمہ دارانہ پیرنٹنگ اور ”ہمارے بچے ہیں“ کا رویہ
کسی بھی جوڑے کے لیے اولاد سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہوتی۔ اولاد عطا ہو جائے تو لوگ خوشی اور مسرت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے خدا کی طرف سے نعمت ابھی تک عطا نہ ہوئی ہو تو لوگ بیسیوں جتن کرتے ہیں، دوا سے دعا تک اور ہسپتالوں سے ڈیروں تک جیسے مشورے ملتے ہیں ویسے ہی عمل کرتے جاتے ہیں۔ بس رب اولاد دے دے۔
ہمارے معاشرے میں شادی کا مقصد رفاقت یا ہمسفری تو کہیں بعد میں ہے پہلا مقصد اولاد ہے۔ بڑے بھی بچوں کی شادی اس لیے جلدی کر دینا چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد دیکھ لیں، شادی شدہ جوڑے کو شادی کے چند ماہ بعد ہی سے بار بار ”خوشخبری خوشخبری“ پوچھ کر زچ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اولاد کا ہونا خاندان کے مکمل ہونے اور اگے چلنے کی علامت جو ٹھہرا۔
لیکن اس سب میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اولاد صرف نعمت ہی نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے ذمہ داری بھی ہے۔ والدین ہونا صرف اس لیے ضروری نہیں کہ آپ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ آپ میں کوئی جسمانی عذر نہیں ہے بلکہ والدین ہونا اس لیے سنجیدہ امر کہ کہ خالق نے آپ کے ذریعے ایک انسان کو خلق تو کیا ہی ہے ساتھ میں اس کی تربیت اور حفاظت بھی آپ کے ذمے کر دی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری سیاسی گہما گہمی میں ابتداء میں اکثر دیکھنے میں آتا رہا کہ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں سے اپنے سیاسی لیڈران کے لیے تعریفی ویڈیوز بنواتے تھے پھر بات آگے بڑھی اور مخالف سیاسی رہنماؤں کے بارے میں ویڈیوز بنانے لگے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو پارٹی کے نشان والی ٹوپیاں اور مفلر وغیرہ پہنا کر تصویریں لگاتے ہیں۔ بظاہر یہ سب بے ضرر لگتا ہے مگر یہ ایک خاص ذہنی کیفیت کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔
جب یہ سلسلہ بڑھا تو پہلے بچوں کو سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں لے جایا جانے لگا اور اب ایک جماعت کے نسبتاً پرتشدد اور ہنگامہ خیز مظاہروں میں لوگ اپنے بچوں کو لے کر جا رہے ہیں۔ آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کے امکان کے ہوتے ہوئے یہ بچوں کے لیے بے حد خطرناک ہے بالخصوص جب انہیں اپنے بھلے برے کا مکمل ادراک نہیں۔
اس کے علاوہ بھی لوگ چار چار بچے موٹر سائیکل پر بٹھائے بنا حفاظتی تدابیر کے، سڑکوں پر عام نظر آتے ہیں، دس بارہ برس کے بچے کو موٹر سائیکل اور گاڑی پکڑا دیتے ہیں، بچوں سے شادیوں پر خطرناک آتش بازی ور اسلحہ چلواتے اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔
یہ سب غیر ذمہ دارانہ پیرنٹنگ ہے۔ اپنے اوپر انحصار کرتے بچوں کو ان کی لاعلمی اور کم فہمی میں خطرے میں جھونکنا جرم ہے۔ جب کوئی اس کی نشاندہی کرتا ہے تو اس سے ہی ناراض ہو جاتے ہیں کہ ”ہمارے بچے ہیں“ ہم جو چاہیں کریں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت چائلڈ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کو وسیع اختیارات کے ساتھ فعال کرے اور بچوں کو خطرے میں ڈالنے اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے ماں باپ کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لانے کو یقینی بنائے۔

