جمہوریت کا مشتاق، میاں مشتاق
اس سے پیشتر کہ ہم دوسروں کو خوشیوں سے معمور کریں سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات کو خوشیوں سے ہمکنار کرنا چاہیے اور ہماری ذات اس وقت تک خوشیوں سے ہمکنار نہیں ہو سکتی جب تک ہم دوسروں پر خوشیاں نچھاور نہ کریں اگر ہمارے لبوں پر مسکراہٹ ہو گی تو ہمارے ارد گرد کے لوگ بھی جلد مسکرانا شروع کر دیں گے اور جب ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں کو خوش دیکھیں گے تب ہماری اپنی خوشی بھی حقیقت کا روپ دھار لے گی بلکہ یہ مزید گہری ہوتی جائے گی۔ ایک ایسے ہی خوشگوار دن میں ایک ایسی ہی حقیقی خوشی اور مسرت ملی جو جمہوریت کے مشتاق، میاں مشتاق حسین ڈوگر سے مل کر ملی ہے۔
میاں مشتاق حسین ڈوگر کی والدہ کا نام عاطف بی بی جبکہ والد کا نام میاں رحمت شاہ تھا آپ خانقاہ ڈوگراں میں 1934ء میں پیدا ہوئے اس وقت خانقاہ ڈوگراں ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل تھا مگر جب شیخوپورہ ضلع بنا تو خانقاہ ڈوگراں کو شیخوپورہ میں شامل کر دیا گیا۔ آپ نے میٹرک 1952ء گورنمنٹ ہائی سکول خانقاہ ڈوگراں سے کیا جبکہ ایف اے 1954ء میں ٹی۔ آئی (تعلیمات اسلام) کالج ربوہ سے کیا۔ جب پاکستان کی تحریک پورے زوروں پر تھی تو اپنے والد صاحب کے ساتھ قائد اعظم کی اس تحریک میں شامل رہے اور یہ نعرہ آج بھی ہاتھ اٹھا کر بولے کہ لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔
جب پاکستان بن گیا تو وزیر اعظم بننے والے نواب لیاقت علی خان کے بڑے بھائی نواب سجاد علی خان کے ساتھ خاندانی مراسم تھے۔ میاں مشتاق حسین ڈوگر نے نہ صرف پاکستان بنتے دیکھا بلکہ اپنے والد اور خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لیا اور 47ء سے لے کر 1958ء تک ٹوٹتی بنتی حکومتیں دیکھتے رہے۔ جب ایوب نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تو محترمہ فاطمہ جناح کی مسلم لیگ کے مقابلے میں ایوب خان کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور بی ڈی ممبر بننے سے سیاست کا آغاز کیا اور مارشل لاء کے زیر سایہ بننے والی اس حکومت اور حکومتی معاملات کو بڑی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ایوب خان کی حکومت میں بننے والے وزیر تجارت و خارجہ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب خان سے الگ ہو کر پی پی پی بنائی تو میاں مشتاق حسین نے اپنے مرشد مخدوم طالب المولیٰ ہالہ شریف سندھ کو دیکھتے ہوئے اخبار میں اشتہار دیا جس میں ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
جب اخبار میں میری شمولیت کا اشتہار چھپا تو ذوالفقار علی بھٹو نے میرے مرشد طالب المولیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ آپ کے مریدین اور چاہنے والے پنجاب سے میری پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اس پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ مخدوم نوع سرور صوفی درویش سلسلے کا بڑا نام ہیں۔ جن کے نام کی نسبت سے سروری جماعت وجود میں آئی مخدوم نوع سرور مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کے جد امجد تھے جبکہ ان کے فرزند مخدوم امین فہیم تھے اب مخدوم خلیق الزمان گدی نشین ہیں۔
مخدوم نوع سرور کے شاگرد، مرید خاص، منظور نظر، خدمت گار حاجی نعمت اللہ تھے جنہوں نے مرشد کی اجازت سے تبلیغ کے لئے خانقاہ ڈوگراں کو اپنا مسکن بنایا اور خدا کی زمین پر خدا کا پیغام پہنچایا۔ مخدوم نوع سرور نے اپنے باپ کے نام کی نسبت سے حاجی نعمت اللہ کو نام اور دیوان کا لقب دیا۔ آج کے دن تک یہی نام خانقاہ میں روحانیت کا سرچشمہ ہے آپ کا وصال 1012 ہجری میں 0 11 سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کی دو بہنیں اور ایک بھائی تھا دونوں بہنیں تارک تھیں ایک کا نام راج بی بی جبکہ دوسری بہن کا نام وساں بی بی تھا۔ ان دو بہنوں کے نام کی نسبت سے ایک واقعہ سینہ بہ سینہ چلا آ رہا ہے۔ ایک دفعہ ایک میر زاد کا گھوڑا خانقاہ میں چوری ہو گیا چنانچہ اس نے حاجی صاحب کی ہمشیر گان کے پاس جا کر عرض کی جس پر آپ نے فرمایا، تیرا گھوڑا بگھے۔ بگھے جا۔ میر زاد نے جوب دیا کہ میرا گھوڑا تو اس جگہ گم ہوا ہے چنانچہ اس نے درج ذیل کبت پڑھا۔
راج بی بی دا راج سلامت وساں بی بی بے پرواہ
گھوڑا میرا ایتھے کھڑیا مینوں آندیاں بگھے جا
اس پر راج بی بی نے فرمایا۔ دادا تیرا گھوڑا باہر چر رہا ہے جا کر لے لے۔ میاں مشتاق حسین ڈوگر کو جہاں حاجی نعمت اللہ دیوان کی اولاد ہونے کا شرف حاصل ہے وہیں مخدوم نوع سرور کی سروری جماعت کے پنجاب میں خلیفہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
جب ذوالفقار علی بھٹو نے سروری جماعت کے پی پی میں شامل ہونے پر مخدوم طالب المولیٰ کا شکریہ ادا کیا تو انہوں نے مجھے بلاوا بھیجا کہ میں کراچی آ جاؤں تاکہ ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات ہو جائے، میں بذریعہ ٹرین کراچی پہنچا اپنے مرشد کے بنگلے پر آرام، طعام کے بعد انہوں نے پی اے سے بولا کہ مسٹر بھٹو کو فون لگاؤ جب انہیں بتایا گیا کہ پنجاب سے میاں مشتاق حسین ڈوگر آپ سے ملنے کے لئے تشریف لائے ہیں تو مسٹر بھٹو بولے کہ میرے لئے کیا حکم ہے میں خود آپ کے ہاں آؤں یا میاں صاحب کو میرے ہاں بھیج دیں مجھے زیادہ خوشی ہو گی۔
جب طے ہو گیا تو مرشد نے بتایا کہ آپ کو میرا پی اے 70 کلفٹن لے کر جائے گا۔ وہ انتہائی سکون، اطمینان اور ٹھہر ٹھہر کے بات کرتے بتاتے ہیں کہ ہم جب 70 کلفٹن پہنچے تو گھر کے گیٹ سے اندر سیڑھیوں پر محترم ذوالفقار علی بھٹو ہمارے استقبال کے لئے کھڑے تھے یہ میری پہلی ملاقات اور 70 کلفٹن کا میرا پہلا دورہ تھا میل ملاقات کے بعد جب بھٹو صاحب نے اپنی ذاتی لائبریری کا وزٹ کروایا تو میں ان کی لائبریری دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک بڑی لائبریری تھی۔
یہ وہ موقع تھا جب میں 1970ء کے انتخاب میں پہلی بار اسمبلی کا ممبر بنا جس میں میری عوام نے بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی تھی۔ اس بات کی پارلیمنٹ میں بڑی دھوم رہی۔ ایک موقع پر گورنر ہاؤس لاہور میں ذوالفقار علی بھٹو نے حنیف رامے اور کھر کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے مجھ سے مشورہ طلب کیا تو میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا کہ آپ کی آنکھیں جو بتا رہی ہیں وہ ٹھیک لگتا ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے مشورے سے میرا مرشد اور میرا قائد دونوں خوش ہوں۔
یہ الفاظ سنتے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے گلے لگایا اور مسکرا کے بولے کہ یہ الفاظ کسی اور نے نہیں بولے اس وقت بھٹو صاحب کے پاس وہ تمام افراد موجود تھے جن کے ساتھ پی پی کا سفر شروع ہوا تھا۔ اس واقعہ کے چند دن بعد ایک بڑی ضیافت میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے مجھ سے کہا کہ آپ کو زمین چاہیے تو میں نے کہا کہ قائد محترم میرے گزارے لائق میرے پاس زمین کا ٹکڑا ہے، انہوں نے کہا کہ ٹریکٹر چاہیے تو میں نے کہا کہ وہ بھی ہے، کوئی پرمٹ چاہیے تو میں نے کہا کہ ضرورت نہیں ہے، بولے کوئی فیکٹری، مل کے لئے روپیہ، پیسہ چاہیے تو میں نے عرض کی مجھے صرف آپ کا پیار اور عوام کا اعتماد چاہیے جو میرا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ یہ سن کر بولے کہ مجھے فخر ہے میرے ساتھ سیاست کی اس درگاہ میں آپ جیسے لوگ موجود ہیں۔
اس واقعہ کے ٹھیک ایک ہفتے بعد لاہور کے ایک ہوٹل میں مجھے مرشد پاک کے ہاں حاضر ہونے کا موقع ملا تو مرشد پاک نے فخر سے بولا کہ جو کچھ مسٹر بھٹو نے آپ سے کہا وہ سب کا سب ہمیں بتا دیا ہے تو میں سمجھتا ہوں یہ بات میرے لئے باعث فخر اور باعث اطمینان ہے کہ میرے مرشد نے میرے متعلق ملک کے وزیر اعظم کے منہ سے جو سنا وہ سچ سنا ہے جو آج کل ناپید ہو گیا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم سے ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے وہ بازو پر امام ضامن باندھتے تھے۔
میرے نزدیک اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی اس دن شروع ہوئی جس دن ایک جمہوری وزیر اعظم کو بغیر کسی جرم کے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جس کا خمیازہ نجانے کب تک اس زمین کو بھگتنا پڑے گا۔ وہ اپنے آبا و اجداد پیر نعمت اللہ دیوان کے سلسلے کا ایک واقعہ یوں بتاتے ہیں کہ پیر شاہ صاحب کی دعا سے رنجیت سنگھ کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ آپ سرکار لاہور میں تھے کہ رنجیت سنگھ کے دربار سے اس کا وزیر خاص دعا کے لئے آیا کہ زچگی کے دوران مسئلہ درپیش ہے دعا فرمائیں تو آپ نے فرمایا کہ میرے گھوڑے کی اوتار رانی کے اوپر ڈال دی جائے جب وہ ڈالی گئی تب رانی نکائن کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو رانی نکائن اور رنجیت سنگھ کی جانب سے یہ التماس کی گئی کہ اس بچے کا نام آپ ہی تجویز فرمائیں تو آپ نے ہنس کے فرمایا کہ یہ بچہ بہت کھڑکے، دھڑکے سے دنیا میں آیا ہے لہذا اس بچے کا نام کھڑک سنگھ ہو گا رانی نے 45 ایکٹر جاگیر ضلع گوجرانوالہ میں الاٹ کی تھی جس کے مالکانہ حقوق کے لئے کیس دائر ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے باپ کے ساتھ ساتھ دیکھا اور محترمہ نے ہمیں اپنے باپ کے ساتھ جمہور کے لئے آگے بڑھتے دیکھا تھا تو رانی ہمیشہ بڑی شفقت اور پیار سے پیش آتی تھیں۔ میاں جی محترمہ بے نظیر کی شہادت پر کہتے ہیں کہ شہید رانی کا قتل اصل میں ہمارے ہاں جمہوریت کا قتل تھا، امن کا قتل تھا، پیار کا قتل تھا، گفتگو اور مکالمے کا قتل تھا، رواداری کا قتل تھا یہ باتیں کرتے وقت 90 سالہ میاں جی کی آنکھوں میں تیرتی پانی کی ایک لہر یہ بتانے کے لئے کافی تھی کہ اپنوں کا دکھ کیا ہوتا ہے اور مٹی سے جڑا انسان کیسا ہوتا ہے۔
مجھے غلام مصطفی کھر نے کئی مواقع پر بڑی بڑی آفرز کیں جبکہ بعد میں آنے والے منظور وٹو نے کئی پیغامات بھیجے مگر میرا ہر بار وہی جواب ہوتا جو میں اپنے قائد کو دے چکا تھا۔ 70 اور 77 میں رکن پارلیمنٹ رہے۔ جب ضیاء الحق کا سیاہ دور آیا تو ضلع کا ڈپٹی کمشنر انصار شمسی میرے پاس آیا اور بولا کہ آپ کے متعلق سولہ مختلف اداروں (انٹیلی جنس) نے ہمیں رپورٹ پیش کی ہے تو سرکار کی منشا ہے کہ آپ مجلس شوری میں شامل ہوں تو میں نے انکار کر دیا مگر جب میرے مرشد کی جانب سے حکم ہوا تو میں مجلس شوریٰ کا ممبر بن گیا جب میں نے مجلس شوری سے استعفی دیا تو اس کے ٹھیک تین دن بعد مجھے فیصل آباد جیل میں ڈال دیا گیا۔ ایک ماہ بغیر کسی جرم کے جیل میں رکھا گیا۔ ایک ماہ بعد جب جیل سے رہائی ہوئی تو اس کے چند دن بعد 1988ء کے الیکشن میں تیسری بار بھاری اکثریت سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوا تو جیل کا سپرنٹنڈنٹ ہار لے کر مبارک باد دینے میرے گھر پہنچ گیا۔
اس کے بعد 1993ء اور 1997ء کے الیکشن میں ممبر پارلیمنٹ بنے، پانچ بار ممبر صوبائی اسمبلی رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پانچ بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والے میاں مشتاق حسین ڈوگر کی خانقاہ سنٹرل پنجاب کی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ ضلع شیخوپورہ کی سیاست کے تمام بڑے فیصلے اسی خانقاہ ڈوگراں میں طے ہوتے آئے ہیں۔ آج ان کے پاس بیٹھ کے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ نوے سال سے زائد عمر کے میاں مشتاق جی نے زندگی گزاری ہے، عمر نہیں اور اس زندگی میں بنی نوع انسان کو انسانیت کا درس دیا ہے۔
آپس کے اختلاف دور کرنے، لڑائی جھگڑے، دنگا فساد سے کنارہ کرنے کا پرچار کیا ہے۔ میدان سیاست میں بات چیت، مکالمے، اور گفتگو کی جہت کو فروغ دیا ہے۔ ان کے بقول دور اقتدار میں سڑکیں، کھال، ٹیوب ویل اور نوکریاں دی ہیں سیاست کو سیاست کے طور کیا ہے، جمہوری رویوں کے فروغ کے لئے کام کیا ہے، کرپشن، لوٹ مار سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے۔ جو آج کل ناپید ہے ہمارے یہاں سیاست میں بات چیت کی جگہ گالی اور گولی نے زور پکڑ لیا ہے وہیں میاں مشتاق حسین ڈوگر کی شکل میں ہمارے پاس ایسے نابغہ روزگار موجود ہیں جو سیاست میں بات چیت، امن، محبت اور رواداری کا دروازہ کھولے بیٹھے ہیں جہاں آج بھی فرزندان سندھ، پنجاب تشریف لاتے ہیں جو میاں جی کی خانقاہ سے اپنی علمی، فکری، سیاسی اور سماجی پہلوؤں پر تشنگی دور کرتے ہیں۔
جب میاں جی سے ملاقات کے بعد واپسی کے لئے رخت سفر باندھا تو سڑک کا وہی حال پایا جو آج کل ہماری معیشت کا حال ہے اس سے ذرا آگے آئیں تو سامنے وہ ٹبہ نظر آئے گا جو آج سے اکیس سو سال پہلے راجہ کام روپ کا پایہ تخت تھا اور دریائے رسی یہاں کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میاں جی نے ایک صدی کے قریب زندگی گزاری ہے آج تین گھنٹے کی میل ملاقات میں بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو لکھنے کے لئے ہیں، کچھ سوچنے کے لئے ہیں، کچھ آئندہ وقت پہ رکھ چھوڑنے کے لئے ہیں جبکہ کچھ باتیں ایسی ہیں جن سے سبق لے کر آگے بڑھا جا سکتا ہے مگر شاید ہمیں آگے بڑھنا اچھا نہیں لگتا ہے اس لئے تو ہم ساری دنیا کے سامنے جگ ہنسائی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
مگر پھر ایک حوصلہ اور ہمت یہی درویش کی صورت میں موجود ہے جس نے سیاست میں ریاضت کو اپنائے رکھا اور آج بھی ان کی خانقاہ میں باتیں کرتے وقت سکون اور اطمینان ملتا ہے کہ ہماری سیا ست میں کیا تھا اور کیا کر دیا گیا دکھ یہ نہیں ہے کہ ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں دکھ یہ ہے کہ ہمیں کچھ کرنے ہی نہیں دیا جاتا روک دیا جاتا ہے اور جب روک دیا جاتا ہے تو پھر شہریوں کا اپنی ریاست سے اعتماد اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ جو ریاست اور شہری کے رشتے میں دراڑ پیدا کرتا ہے اور دراڑ کہیں بھی پڑ جائے، اچھا نہیں ہوتا۔






