دمکتا بھارت اور دہکتا پاکستان


بی جے پی نے آج سے 17 سال پہلے دمکتا بھارت کا نعرہ لگایا اور اب 10 سال سے پورے بھارت کا ایک ہی نعرہ ہے ”دمکتا بھارت“ ۔ اس وقت بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن کر سامنے آیا ہے۔ 80 سے 90 تک ہم سوچ رہے تھے کہ ہمارے ملک میں جمہوری حکومت ہونی چاہیے یا مارشل لاء، تقریباً 25 سال لگے ہمیں یہ بات ماننے میں کہ ملکی ترقی جمہوریت میں ہے۔ جس وقت ہم سول حکومت اور مارشل لاء کے بارے میں سوچ بچار کر رہے تھے اس وقت ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں احتساب کا شور تھا ان کی نثری تحریر ہو یا شعری تحریر ان کی فلمیں ہوں یا ڈرامے الغرض تمام ذرائع ابلاغ کا زور احتساب، حب الوطنی اور بھارت کو عظیم بنانے پر تھا۔ بھارت میں بڑا سخت احتساب ہوا اور ان کا سارا فوکس کرپشن پر رہا خاص کر رہنماؤں کے مالی کرپشن پر اگر کسی لیڈر نے 50 لوگ مار بھی دیے ہوتے تو انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی بس حکومت کا پیسہ نہیں کھایا ہو یا کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہ آیا ہوں۔

اس احتساب کی زد میں نہرو گاندھی خاندان بھی آیا جو بھارت کا طاقتور ترین خاندان ہے۔ اب اس خاندان کی چوتھی نسل سیاست میں ہے۔ جواہر لال نہرو اس خاندان اور بھارت کے پہلے وزیراعظم تھے وہ کانگریس کے اہم رہنما اور تحریک آزادی ہند کے اہم کردار تھے وہ بھارت کے 17 سال وزیراعظم رہے پھر ان کی بیٹی اندرا گاندھی 11 سال 59 دن وزیراعظم رہیں پھر ان کے بیٹے راجیو گاندھی 5 سال اور 35 دن وزیراعظم رہے۔ بدقسمتی سے راجیو گاندھی اور ان کی والدہ کو ان ہی کی حکومتوں میں مار دیا گیا۔

اب اس خاندان کی چوتھی نسل سیاست میں ہے راجیو گاندھی کا بیٹا راہل گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی لیکن دونوں ہی کسی حکومتی عہدے پر نہیں ہیں۔ پریانکا گاندھی پر کرپشن کا الزام آیا جس کی وجہ سے وہ کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہیں ان کی ماں سونیا گاندھی ایک اطالوی نژاد بھارتی خاتون ہیں سیاسی کارکن رہیں اور شوہر کے قتل کے 7 برس بعد کانگریس کی صدر بنی۔ اس عہدے پر 19 سال رہیں لیکن وزیراعظم نہیں بن سکی کیونکہ وہ بھارت میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دنیا کی طاقتور خواتین میں ان کا نام رہا

ان کے بیٹے راہل گاندھی بھی کانگریس کے صدر رہے اور 2019 میں خود اپنی مرضی سے پارٹی کی صدارت چھوڑی انھیں 23 مارچ کو سورت عدالت کی جانب سے ہتک عزت کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد بھارت کی لوک سبھا کے رکن کے طور پر پارلیمنٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیدیا گیا۔

ان کی بہن کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی نے وزیراعظم کے دوست کے حوالے سے بات کی، دو ارب ڈالر پر سوال اٹھایا تو اس لیے میرے بھائی کو نا اہل کیا گیا اور اگلے 8 سال تک انتخابات پر حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان سب حالات کے باوجود ان کی لیڈر شپ کا سکون اور ان کی فہم و فراست دیکھے کہ اس بات پر نہ بھارت میں ہنگامے ہوئے نہ بھارت سے باہر کانگریس کارکنان نے سخت احتجاج کیا نہ ہی ملک کو بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی۔

کسی نے ان کی نا اہلی سے پہلے بھی فرمائش نہیں کی کہ ان کی تین نسلیں وزیراعظم رہیں ہیں تو ان کے بیٹے کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔ اس کے برعکس راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ہمیں اس نا اہلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا نہ ہم ڈرتے ہیں ہم بغیر کسی عہدے کے بھی کام کرتے رہیں گے ملک کی خدمت کرے گے اور اسی طرح سے سوال اٹھاتے رہیں گے۔ بھارت کے پیسے کے بارے میں پوچھتے رہے گے۔ دراصل بھارتیوں کے لیے سب سے اہم ان کا ملک ہے جس کے کھانے کمانے کی انھیں ہر دم فکر رہتی ہے۔ جب تک ان کے لیڈروں پر الزام نہیں آتا وہ سامنے رہتے ہیں اور جیسے ہی الزامات آتے ہیں وہ بغیر کسی بحث کے سائیڈ ہو جاتے اور اپنی پارٹی اور ملکی سیاست پر خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کام کرنے والے، یہ ہوتی ہے لیڈرشپ۔ اب آ جائے اپنے ملک کی طرف ادھر اس کا الٹ ہے

نواز شریف صاحب کرپشن کیس میں نا اہل ہوئے بیٹی نا اہل ہوئی میاں صاحب نے 72 سال کی عمر میں بھی نا اہلی پر پورے پاکستان کو میدان جنگ بنا دیا ہر طرف محاذ کھڑے کر دیے یہ نہیں کہا کہ ہم آگے چلے گے اس نا اہلی سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ پاکستان کو 2016 سے دہکتا پاکستان بنا دیا۔ جلتی پر تیل کا کام تحریک انصاف کی زبانوں نے کیا۔ ”مجھے کیوں نکالا“ کا فلسفہ میاں صاحب لے کر آئے اس کے بعد ”ووٹ کو عزت دوں“ کا نعرہ بھی انھوں نے لگایا ان کے بھائی میاں شہباز شریف کی قسمت اس نعرے سے چمکی اور جس دن ان پر فرد جرم عائد ہونا تھا اسی دن وہ وزیراعظم پاکستان بنے، اسی طرح کا معاملہ باقی سیاستدانوں کے ساتھ رہا کہ نا اہل ہوتے ہوتے رہ گئے اور پھر وزارتوں میں بھی آ گئے۔

اب یہ ضد ہے کہ ہم پر مقدمات کیسے بنے؟ میاں صاحب کی واپسی کرائی جائے انھیں پھر سے سیاست میں اہل کیا جائے جبکہ آج بھی پارٹی کے فیصلے وہ لندن سے کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان سب شکایتوں کا جواب یہ ہے کہ ان سب مشکلات کے باوجود آپ سب اقتدار میں آ گئے، اگلے الیکشن بھی آپ ہی کی مرضی سے ہوں گے تو اب کسی محاذ آرائی کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ ملک کا حال یہ ہے کہ سستے آٹے اور مفت آٹے کے حصول میں اب تک 10 افراد مر چکے ہیں۔ کیا یہ منظر کسی قحط زدہ افریقی ملک کا نہیں لگتا؟ روٹی کے لیے عوام ایک دوسرے سے چھینا چھپٹی کر رہی ہے۔

ویسے تو لوگ اپنے چھوٹے کارخانوں کے لیے بھی ایسے لوگ رکھتے جو ایماندار ہو، ان پر کسی قسم کا کوئی الزام نہ ہو اور سب سے بڑھ کر کمانا جانتے ہو اپنی جیب سے کون بٹھا کر کھلاتا ہے۔ ملک بھی تو ایک کارخانہ جب آپ اس کارخانے کو چلانے آ ہی گئے ہیں تو اب کچھ کما کر غریب کا بھلا کردے وہ مشقت تو اپنی طاقت سے زیادہ کر رہا ہے لیکن بدلے میں اسے اب سوکھی روٹی بھی نہیں مل رہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ اللہ پاکستان کو چین و سکون اور خوشحالی عطا کرے۔ آمین

Facebook Comments HS