سیاسی گفتگو منع ہے


ایک دفعہ میرا بیٹا جو پیدا امریکہ میں ہوا اور پلا بڑھا کینیڈا میں ہے مجھ سے کہنے لگا کہ ابا یہ دیسی انکلز جب کسی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو صرف سیاست اور مذہب پہ بات کیوں کرتے ہیں؟ میں نے اس کو جواب دینے کے بجائے اس سے الٹا سوال کیا (جیسا کہ ہم دیسی کرتے ہیں) بیٹا جب تم اپنے دوستوں میں بیٹھتے ہو تو کیا باتیں کرتے ہو بولا ابا ہم کھیلوں کے متعلق باتیں کرتے ہیں ہم دوستوں کے متعلق باتیں کرتے ہیں ہم اپنی اپنی جاب ڈسکس کرتے ہیں گھومنے پھرنے کے پروگرام بناتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

میں خاموش ہو گیا اب اس کو کیا بتاتا کہ ہمارے ہاں کھیلوں میں بھی، دوستوں میں بھی، جاب میں بھی اور وغیرہ وغیرہ میں بھی سیاست ہی ہوتی ہے رہی گھومنے پھرنے کی بات تو وہ بھی ملا کی دوڑ مسجد تک جب بھی پیسے جمع ہوتے ہیں پاکستان چلے جاتے ہیں اور پاکستان ٹھہرا سیاست کا گڑھ اور سیاست دانوں کی جنت، عوام کا جہنم۔ بیٹے سے تو بات اس سوال جواب کے بعد ختم ہو گئی لیکن میں خاصی دیر تک یہ بات سوچتا رہا کہ واقعی ہم پاکستانی جب بھی کسی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو ہمارے مرغوب ترین موضوعات دو ہی ہوتے ہیں ایک تو سیاست دوسرے مذہب۔

ہم سیاست پر بات شاید اس لیے کرتے ہیں کہ سیاست پر بات کرتے ہوئے آپ کو کسی علمی پس منظر کی ضرورت نہیں، کسی کتاب کا حوالہ ضروری نہیں، کسی اخلاقی جواز کا کوئی جواز نہیں (کہ اخلاق کا سیاست سے کیا واسطہ) زیادہ سے زیادہ تھوڑا بہت تاریخی حوالہ دینا پڑے تو اس کے لیے بھی دو تین سال سے زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں۔ بس اپنی اپنی پارٹی یا لیڈر پر ایمان مستحکم ہونا چاہیے، ویسے ہمارے ہاں زیادہ تر پارٹیاں لیڈروں کی مرہون منت ہیں۔

ساری دنیا میں سیاسی پارٹیاں لیڈر پیدا کرتی ہیں ہمارے ہاں لیڈر پارٹی پیدا کرتے ہیں اور پھر وہ پارٹی انہی لیڈروں کی ہو کے رہ جاتی ہے جب تک لیڈر رہتا ہے پارٹی رہتی ہے، لیڈر ختم پارٹی ختم۔ پیپلز پارٹی کی مثال سامنے ہے اس کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے بے چارے بھٹو کو زبردستی زندہ رکھا ہوا ہے اور تو اور اسی مقصد کے لیے ذاتوں کو بھی خلط ملط کر دیا گیا۔ آپ پیپلز پارٹی میں سے بھٹو نکال دیں کیا بچے گا؟ آج عمران خان استعفیٰ دے کر پیرنی مریدی سوری میرا مطلب ہے پیری مریدی شروع کر دیں پی ٹی آئی میں کیا رہ جائے گا؟ ، نواز شریف کو نکال دیں تو شاید نون لیگ میں نون بھی نہ بچے وہ قاف ہو جائے فوراً۔ سیاست پر بحث کرتے ہوئے گفتگو شنید کے کوئی اصول کارگر نہیں ہوتے بس دوسرے کے مقابلے میں اپنی بات کہتے ہوئے جتنا زور دے سکتے ہوں دیجیے چاہے آپ کی بات کا کوئی سر پیر ہو یا نہ ہو، بقول نکہت افتخار

بات ہے کیا یہ کون پرکھے گا
آپ لہجے کو پر اثر رکھیے

اس کے علاوہ ایک اور خاص بات کہ سیاست کرنے یا سیاست پر بات کرنے کے لیے آپ کو جھوٹ بولنے کا ہنر آنا چاہیے، جھٹلانے میں ملکہ حاصل ہو، غلط بیانی کی تراکیب سے واقف ہوں، دروغ گوئی کی باریکیاں ازبر ہوں، گول مول بات کیسے اور کب کرنی ہے معلوم ہونا چاہے اور سب سے بڑھ کر اگر تو کہیں آپ کا بیانیہ کمزور پڑنے لگے اور آپ کے من پسند لیڈر پر کوئی الزام لگائے اس سے قطعہ نظر کہ وہ الزام سچا ہے یا جھوٹا آپ بھی فوراً مخالف لیڈر پر وہی یا اس سے ملتا جلتا الزام جڑ دیں اور اسے بتائیں کہ تمھارا لیڈر کون سا دودھ کا دھلا ہے وہ کون سی گنگا نہا کر آ رہا ہے بس پھر دیکھیں کس کی مجال ہے جو آپ کے سامنے ٹک سکے۔

آج کل کے فلسفے کے مطابق برائی صرف وہ ہے جو کسی ایک میں ہو اگر دو میں وہی برائی ہے تو پھر وہ برائی نہیں اور اگر کہیں دس بیس میں ہو تو عین صفت اچھائی بن جاتی ہے۔ کسی زمانے میں جھوٹ بولنے والوں کو موت آتی تھی اب بخار بھی نہیں آتا، جھوٹ کے ہو سکتا ہے پیر نہ ہوتے ہوں جھوٹوں کے تو ہوتے ہیں، جھوٹ نہ بھی چل سکتا ہو تو کیا جھوٹے تو چل کر ادھر ادھر جا سکتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے سیاست پر بات کرنے کا یہ سنہرا دور ہے ہر دلیل، منطق، وجہہ، ثبوت، برہان اور راہنمائی انٹرنیٹ، ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام پر موجود ہے بس وہاں سے اٹھائیے اور مخالف کے منہ پر دے ماریے، اس پر بھی نہ مانے تو چند تصویریں اور ایک آدھ مووی کلپ یو ٹیوب سے نکال کر سامنے رکھ دیں ناقابل تردید ثبوت۔ اگر مووی کلپ کسی مصنوعی ذہانت کا کمال ہے یا تصویریں فوٹو شاپ ہیں تو بھی ثابت کون کر سکتا ہے۔ بس جی بلے ہی بلے! آپ کے لیڈر کا بول بالا (چاہے آپ کا لیڈر گونگا ہی کیوں نہ ہو) دوسرے کے لیڈر کا منہ کالا چاہے وہ گورا ہی کیوں نہ ہو (یہاں گورے سے مراد رنگ و نسل دونوں ہیں ) ۔

اب میں اپنے بیٹے کو کیا بتا تا کہ بیٹا ہم پاکستانیوں کی حالت تو من حیث القوم وہ ہے کہ غلام محمد قاصر سے معذرت کے ساتھ

کروں گا کیا جو سیاست میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

تو بھائی جب ہمارا جینا مرنا (جینا کم اور مرنا زیادہ) اسی سیاست کی بنا پر ہے تو ہم اور کوئی بات کیا کریں۔ ویسے بھی سیاست میں بات کرنے میں جو مزا ہے وہ کسی اور بات میں کہاں اب آپ ذرا تصور کریں کہ اگر آپ کو میرؔ کی جوانی کے قصے سنائیں جائیں تو آپ کو زیادہ مزا آئے گا یا عمران خان کی؟ ، قارون کے خزانوں کا ذکر زیادہ پر کشش ہو گا یا نواز شریف کے؟ آپ گنگو تیلی کے ذکر پر پھسلیں گے یا مولانا ڈیزل کے؟ آپ کو عمرو عیار کی عیاریوں کے قصے سناؤں یا۔

(نام لینے کی ضرورت ہے کیا؟) ، آپ رستم کی بہادری کے قصے سننا پسند کریں گے یا جنرل ضیا الحق کی جواں مردی کے (خیال رہے دونوں قصے ہی ہیں)، آپ ثقافت کے داستانیں سننا پسند کریں گے یا شیخ رشید کے زمانۂ وزیر ثقافت کے فحشانے (جس طرح محسن بھوپالی نے نظم اور افسانے کو ملا کر ایک نئی صنف ایجاد کی تھی نظمانے میں نے بھی کوشش کی ہے لیکن لکھا ابھی تک کچھ نہیں ) ، آپ حکیم لقمان کی فراست کے واقعات میں دلچسپی لیں گے یا سراج الحق صاحب کی دانش کے۔ میرے خیال میں مجھے رک جانا چاہیے کہ یہ فہرست شاید کبھی ختم نہ ہو۔

جب ایک صاحب کو یہ مضمون سنایا گیا تو بولے یہ آپ جنرل ضیا الحق کا ذکر سیاستدانوں کے ساتھ کیوں لے آئے میں نے فوراً معذرت کی کہ جناب غلطی ہو گئی آپ کی بات بالکل صحیح ہے یہ سیاستدان تو جنرل صاحب کی جوتی (بوٹ) کی نوک کے برابر بھی نہیں تھے جنرل صاحب کی سیاست کو تو امریکہ نہیں سمجھ سکا تو ہمارے سیاستدان کس کھیت کی مولی ہیں۔ لگتا ہے جنرل صاحب نے اکیڈمی میں سپاہ گری کی نہیں سیاہ گری (سیاست گری مزا نہیں دے گا) کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اگر مرحوم کو دو چار سال اور مل جاتے تو پاکستان سے سیاست اور سیاستدانوں کا خاتمہ ہو گیا ہوتا اور ہم سب پاکستانی خاک میں مل کر خاکی ہو جاتے اور خاکی بھی وہ خاکی جو اپنی فطرت میں نا نوری ہوتی نا ناری۔

ہماری محفلوں میں دوسرا سب سے اہم موضوع ہوتا ہے مذہب۔ مذہب پر بات کرنے والے نوے فیصد افراد نے کبھی زندگی میں قرآن کا ترجمہ بھی نہیں پڑھا ہوتا اور ظاہر ہے عربی ان کو آتی نہیں ساری بحث کا دار و مدار صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا سے یہی سنا ہے۔ اب ان کو کون بتائے کہ مشرکین مکہ بھی یہی کہہ کہہ کر حضور ﷺسے بحث کیا کرتے تھے۔ میرے خیال میں مذہبی بحث کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے اور خاتمہ حضرت اکبر الہٰ آبادی کے اس شعر پر کہ

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

Facebook Comments HS