سیکنڈ کولڈ وار کا دوسرا مرحلہ اور پاکستان


یہ بھی عجیب منطق ہے کہ ماضی میں ایک جرنیل ججز سے ڈنڈے کے زور پر اپنی مرضی کے فیصلے کرواتا تھا اور آج ججز اتنے آزاد ہو گئے ہیں کہ من مانیاں کر رہے ہیں۔ یا تو وہ جھوٹ ہے کہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا یا یہ حقیقت نہیں کہ آج ججز اتنے آزاد ہیں کہ من مانے فیصلے کر سکتے ہیں۔ وہ جرنیل جا چکا ہو گا لیکن مجھے یقین ہے اپنا ڈنڈا اپنے کسی معتمد ساتھی کے حوالے کر کے رخصت ہوا ہو گا۔ جب کوئی جج جسٹس منیر بن کر نظریہ ضرورت کے تحت فیصلہ کرے تو ہم آئین کو روتے ہیں اور جب جسٹس بندیال آخرکار آئین کے مطابق فیصلہ کرے تو ہم پھر جسٹس بندیال کو روتے ہیں۔

حکومت کو من چاہا فیصلہ چاہیے تھا تو مہینہ پہلے نامعلوم ذریعے نے ججز کی آڈیوز لیک کرنی شروع کر دیں۔ ساتھ ٹی وی پرنٹ اور سوشل میڈیا پر مخصوص ماحول پیدا کیا جس کی پیک اس وقت نظر آئی جب حکومت نے عدالت کی بائیکاٹ تک کی دھمکی دیدی۔ لیکن اس سب کے باوجود چیف جسٹس سمیت تین رکنی بنچ کسی پریشر میں نہیں آئی۔ تبھی تو اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک سے کھلی عدالت میں استفسار کیا گیا کہ اگر آپ نے بائیکاٹ کیا ہے تو پھر عدالت آپ کو نہیں سنے گی آپ جا سکتے ہیں لیکن دونوں وکلاء نے حکومتی پریس کانفرنس کے برخلاف عدالت کو یقین دہانی کرا دی کہ انہوں نے عدالت کا بائیکاٹ یا اس پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا، صرف فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہیں۔

دوسری طرف لندن میں وطن آنے کے منتظر نواز شریف نے اعلان کیا کہ اگر عدالت نے نوے دن کے اندر اندر الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تو اسے نہیں مانا جائے گا جبکہ عمران خان نے بھی نوے دن میں الیکشن نہ کرانے کی صورت میں سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دیا۔

جب فریقین ملک کی سپریم عدالت کو ثالث ماننے کی بجائے جانبدار مانے اور صرف اپنی مرضی کے فیصلے لینے کی کوشش کرنے کے لئے عدالت کو پریشرائز کرنے کی کوشش کرے تو عدالت انصاف قانون اور آئین محض الفاظ بن جاتے ہیں۔

میں آئین کے ساتھ کھڑا ہوں۔ عمران کو اپنا سیاسی قائد مانتا ہوں نہ جسٹس بندیال کے ماضی کے غیر آئینی فیصلوں کو سپورٹ کرتا ہوں، لیکن نوے دن میں الیکشن کے آئینی تقاضے سے صرف اس وجہ سے صرف نظر نہیں کر سکتا کہ پیسے نہیں ہیں، امن و امان کی صورتحال خراب ہے یا فورسز دستیاب نہیں ہیں اور یا اس لیے الیکشن منعقد نہیں کیے جا سکتے کیونکہ حکمران جماعت کو ہار جانے کا ڈر ہے۔ آج مذکورہ وجوہات کی وجہ سے الیکشن بروقت منعقد نہیں کیا گیا تو کل ہر حکومت اس قسم کی صورتحال بنا کر انتخابات سے فرار حاصل کرے گی۔ پہلے ڈکٹیٹرز کو چلتا کرنے کا راستہ ڈھونڈا جاتا تھا اب منتخب حکومت آئین کو بالائے طاق رکھ کر ایسے بہانے بنائیں گی تو انجام کیا ہو گا؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانا جائے گا اور طرفین عدالت کو ان کی مرضی کا فیصلہ کرنے کے لئے پریشرائز کرتے ہیں تو ایسے میں پھر ایک ہی چوائس رہ جاتی ہے۔ جو پہلے بھی نظام مصطفیٰ کی آڑ میں آپریشن فیئر پلے اور نوے دن میں الیکشن کرانے کے وعدے کے بدلے میں قوم کے گیارہ سال اور بہت سارا خون ضائع کر گئی ہے، جس کے اثرات آج تک قائم ہیں۔

سیاست دان آپس میں دست و گریباں ہو جائے تو حقائق ان کی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہیں اور وہ واپسی کے راستے بند کر دیتے ہیں۔ جب کہ آرمی ایسی صورت حال میں حقیقت پسند ہوتی ہے۔ سیاستدان حالات کے جس رو میں بہہ کر کسی فیصلے پر نہیں پہنچتے ان حالات کے پھل کھانے کے لئے فوج پہلے سے تیاری کر چکی ہوتی ہے۔ ایسی حالت خدا ناخواستہ پھر بنی تو ماضی کی طرح ایک پھر فوج اپنی ٹریننگ اسلحہ تعلق مشقیں ضروریات سہولیات ہارڈویئر اور مراعات کے لئے انحصار مغربی دنیا اور امریکہ پر کرتی آئی ہے اور اب بھی کرے گی۔

کیونکہ اس خطے میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً سیکنڈ کولڈ وار شروع ہو چکی ہے۔ ماضی میں بھی انتخابات جیتنے اور روسی کیمپ یا آزاد خارجہ پالیسی اپنانے کے خدشے کے تحت امریکہ نے ایوب خان کو سپورٹ کیا، ایٹم بم بنانے اور افغانستان میں روس کے خلاف نہ لڑنے کی پاداش میں ضیاء الحق لایا گیا اور سی پیک منع کرنے کے لئے باجوہ ڈاکٹرائن اور پراجیکٹ عمران لانچ کی گئی۔

اس وقت بظاہر تو اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت ’ایک پیج‘ پر ہے لیکن حقیقت میں دونوں کے مفادات باہم متصادم ہیں بظاہر وہ جتنے شیرو شکر نظر آئیں۔ فوج حسب معمول امریکی سیاست یعنی امریکہ کی جغرافیائی ہیجیمنی کو آگے بڑھائے گی جبکہ غالب سویلین حکومت چینی مفادات یعنی سی پیک اور علاقائی اتحاد پر متفق نظر آتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح امریکی منصوبہ اس دفعہ بھی کامیاب ہو گا خواہ وہ جزوقتی ہی کیوں نہ ہو۔

حکومت آٹے کی مفت تقسیم کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام اور امریکی سیاسی منصوبے سے خود کو الگ کر کے چین کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرچکی ہے، جبکہ فوج کی مرضی ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی لیکن یہ ضروری بھی نہیں ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنی مرضی کا اظہار قبل از وقت نہیں کرتی۔ دوسری بار یہ کہ وہ ’سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتی‘ ۔

حکومت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ٹیکسز کے شرائط مان کر اس کو دفن کرنے کا پورا بندوبست کیا جا چکا ہے۔ جس کے بعد جو بھی سامنے آئے گا پہلے کی طرح قوم کو نجات دہندہ لگے گا۔ عمران پہلے سے اپنی حکومتی نا اہلی اور مہنگائی کی وجہ سے نکالا گیا ہے جس کو طاقتور حلقے اب واپس دیکھنا نہیں چاہتے جبکہ موجودہ حکومت عمران سے بھی کم وقت میں عوامی پسندیدگی کے معیار سے گر گئی ہے۔ اس لیے آثار بتا رہے ہیں کہ چین اور امریکہ کی تزویراتی لڑائی جس کو سیکنڈ کولڈ وار کہا جاسکتا ہے، شروع ہو گئی، جس کا یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ اب جس پر بھی امریکہ ہاتھ رکھے گا وہ مالک بن سکتا ہے اور امریکہ کا تاریخی پارٹنر ایک ہی ہے۔

سپریم کورٹ کبڈی کا میدان بنے گا تو یہ میچ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک پرانا منصوبہ کہیں کسی میز پر پڑا ہوا ہے، کہ ”اگر دونوں فریقین امن و امان کا مسئلہ بنائیں گے تو دونوں کو حفاظت کی خاطر تحویل میں لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا“ ۔ ممکن ہے ایسا کرنا آپریشن فیئر پلے ٹو کا آغاز ہو۔

امریکہ نے جب یہاں ٹریلیئنز ڈالر انویسٹ کرنے اور خون پسینہ بہانے کے باوجود محسوس کیا کہ اس کو یہاں سے جانا ہو گا تو اس نے دوحہ معاہدے کی شکل میں ایک پریکٹیکل بندوبست کیا جس کو پاکستان کی عدم دلچسپی کی بناء پر بہت افراتفری میں لپیٹنا پڑا۔ اس کی سزا میں عمران خان کو حکومت سے اور کئی جرنیلوں کو عہدوں سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ ایک سال تک دوبارہ تنکا تنکا اکٹھا کرنے کے بعد سمجھا گیا کہ خیبر کا راستہ دوبارہ کھل گیا ہے تو چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان دیرینہ سیاسی اور تاریخی مخاصمت کو دوستی میں تبدیل کر کے روس تک ایک نئے اتحاد کی نیو رکھدی۔ جس میں پاکستانی سیاسی قیادت بھی خود کو ہم آہنگ سمجھتی ہوئی آئی ایم ایف سے کنارہ کش ہو گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنی انویسٹمنٹ ضائع کرنے دے گا؟

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani