ڈاکٹر روش ندیم کی دو کتابیں


ڈاکٹر روش ندیم دور حاضر کے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور تہذیبی منظر نامے پر عمیق نظر رکھنے والے روشن خیال دانشور ہیں۔ ان کی جنم بھومی تو ساہیوال (منٹگمری) ہے لیکن انھوں نے شہر اقتدار کے نواح، راول پنڈی کو مستقر بنا لیا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام میں تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی خدمات انجام دیں۔ پھر پی پی ایس سی کے تحت اردو کے پروفیسر منتخب ہوئے اور آج کل راول پنڈی کے مقامی کالج میں صدر شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف ہیومینیٹیز کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں انھوں نے نظم نگار اور سیاسی و سماجی تجزیہ نگار کے طور پر شناخت قائم کی ہے۔ اب تک ان کی مختلف موضوعات پر آٹھ کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔ رسائل و جرائد کی ادارت، کالم نویسی اور کارٹون سازی بھی ان کی شخصیت کی جہتیں ہیں جن سے کم لوگ آگاہ ہوں۔ ان کی معروف کتابوں میں ”منٹو کی عورتیں“ ، ”ابر کی آہٹ“ ، ”جدید ادبی تحریکوں کا زوال“ ، ”تیسری دنیا کا فلسفہ افکار“ اور ”ٌ پاکستان :برطانوی آزادی سے امریکی غلامی تک“ شامل ہیں۔

ڈاکٹر روش ندیم کی حال ہی میں دو کتابیں ”ٹشو پیپر پہ لکھی نظمیں“ اور ”دہشت کے موسم میں لکھی نظمیں“ مہر در پبلی کیشنز، کوئٹہ سے 2022 میں شایع ہوئی ہیں۔ یہ ان کی دوسری اشاعت ہے۔ ان کتب کی پہلی اشاعت القا پبلی کیشنز، لاہور سے 2014 ء میں ہوئی تھی۔ یہ دونوں کتابیں نثری نظموں پر مشتمل ہیں جن میں ارباب اقتدار اور سماج کے با اثر طبقوں پر طنز نمایاں ہوا ہے۔ ان نظموں میں وہ معاشرے کی غیر سائنسی فکر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حقیقت کو تہذیبی، تمدنی اور معاشی و قوعات میں تلاش کرنے کے خواہاں دکھائی دیے ہیں۔

وہ ادب میں زندگی کی پیشکش کے قائل ہیں اور معاشرتی کج رویوں، بے اعتدالیوں اور منفی رویوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ وہ جو بھی ادب تخلیق کرتے ہیں، وہ خارجی صورت حال کا ، کسی نہ کسی شکل میں ضرور آئینہ دار ہوتا ہے۔ مذکورہ کتب کی نظمیں بھی معاصر صورت حال کی تغیر پذیری کی مکمل تصویر کشی کرتی ہیں۔ قاری کو صرف دیدۂ بینا درکار ہے جو ان نظموں میں معاشرے کے عروج و زوال کی داستان کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ ان کی نظموں سے چند اقتباس ملاحظہ ہوں :

”طاقت کھیلتی ہے
ابو غریب کے بے گناہ قیدیوں کے ساتھ
فلسطین کے معصوم لڑکوں کے ساتھ
لیاقت باغ میں نعرے لگاتے لوگوں کے ساتھ ” (بے بسی احتجاج کر سکتی ہے )
”یہی دن تھے
جلال آباد کا مرد مجاہد، صاحب ایمان و دیں یعنی زمیں گل خان
کاندھے پر لیے بندوق
اپنے ہاتھ میں تسبیح کے دانے گھماتا
ورد کرتا
موسموں کی سازشوں میں کھو گیا تھا ” (گم سم ورق پر دستخط)

مذکورہ کتب کے مطالعے سے ان کی شاعری میں ایک اور وصف یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ہاں ”شدت احساس“ یا Artistic Sensibilityکی شدت آخری حدود کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ سماج میں ہونے والے جبر و استبداد اور زیریں طبقے کے مسائل میں مقتدر طبقے کی عدم دلچسپی پر رنج و غصے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں احساس کی شدت اور کرب کی حدت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ عصری حسیت کی ذیل میں تخلیق پذیر ہونے والی نظمیں کاغذ پر سیاہی کے بجائے لہو سے لکھے ہوئے الفاظ کی اشارہ ساز ہیں۔

جہاں انھوں نے معاشرتی بے حسی کی تصویر کشی کر کے اپنی تطہیر نفس کی ہے، وہیں نظم کے قارئین کے لیے فکرو احساس کی دنیا بھی تخلیق کی ہے۔ ان نظموں میں ”پرانے روزنامچوں میں اونگھتے دن“ ، ”گونگے پیمبر اور مبہم صحیفے“ ، ”نقطہ انجماد سے گرا وقت“ اور ”کائنات سے باہر گری وقت کی کترن“ وغیرہ کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر روش ندیم محبت کرنے والا انسان ہے۔ اس کے کلام میں محبت، اخلاص، انسان دوستی اور مروت کے اوصاف نمایاں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے دل میں انسان سے محبت کا انمول خزانہ دفن ہے اور وہ ان خزانوں کو لٹاتا جا رہا ہے۔ آج کے اس معاشرے میں جہاں خود غرضی نقطۂ عروج کو پہنچ گئی ہے، استحصال کی روایت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے اور چھینا چھپٹی کا عالم دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر روش ندیم جیسا شخص کسی اور دنیا کا باسی محسوس ہوتا ہے جو اپنے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے پرامن معاشرے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ معاشرے میں محبتیں اور خلوص بانٹتا پھر رہا ہے۔ وہ امن اور انسانی ہم دردی کے جس مسلک پر قائم ہے، وہ زمان و مکاں کی عمومی حد بندیوں کو توڑنے کی سکت رکھتا ہے۔ وہ اپنے مسلک کے خلاف بر سر پیکار قوتوں پر عمیق طنز کے نشتر برساتا ہے :

” کبھی کلی کی حسین چٹخ کو وہ اک بگ بینگ کہ رہا ہے
کبھی قیامت کے سانحے کو ذرا سی آہٹ بتا رہا ہے
خموش لوگو!
یہ کس کو تم سب نے عہد نو کا رسول مانا ہوا ہے جو کہ
الٰہیت کا سفیر بھی ہے
تو شیطنیت کا ترجمان بھی ہے
حسیں صبحوں کا رام بھی ہے
سیاہ راتوں کا راکشس بھی ” ( بچھڑے کے پجاری)
”ابھی گھڑیال کی سوئیاں چبھی جاتی ہیں چپکے سے
مری حیران آنکھوں میں
ابھی اوہام کی چمگادڑیں ذہنوں سے چمٹی ہیں
ابھی وہ خواب بستی والی ریل گاڑی بھی سٹیشن پر نہیں پہنچی
ابھی وہ دن نہیں آئے
ابھی کچھ دیر باقی ہے
ابھی تو سرخ مسلوں پر بہت سا کام باقی ہے ” (ابھی وہ دن نہیں آئے )

ان کے دونوں نثری مجموعوں میں خوشگوار رجائیت، جواں عزم اور سماج کو بدلنے کی تشویق موجود ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو ان کی تمام نظموں کو داخلی وحدت عطا کرتی ہیں۔ ان کی نظموں کی ایک اور خوبی رعایت لفظی بھی ہے۔ عموماً شعرا کو یہ مشکل پیش آتی ہے کہ وہ کم سے کم لفظوں میں بات بیان کرنے کے چکر میں پیغام کو چیستاں بنا دیتے ہیں۔ ڈاکٹر روش ندیم نے اپنی نظموں میں یہ کیفیت کہیں پیدا نہیں ہونے دی۔ ان کی نظموں میں اتنا ہی ابہام موجود ہے جتنا قاری کی سوچ کو ترغیب دے کر موضوع تک رسائی میں سمت نما ہو۔

اسی طرح استعاروں اور علامتوں کے استعمال میں بھی انھوں نے فہم و فراست اور فنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی زندگی کے ادق مسائل اور فلسفیانہ فکر کو پیش کرتے ہیں، الفاظ فطری انداز سے آتے ہیں اور مفہوم کی جھلک دکھا کر نثر کو شاعری میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ان کے ہاں موضوع کی ترسیل اور ابلاغ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ دونوں کتابیں نقاد کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ وہ معاصر نظم کا معتبر حوالہ ہیں۔

وہ مصرع پر مصرع ایسے جماتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے نظم کی عمارت تشکیل پذیر ہو جاتی ہے۔ نظم کے مجموعی پیکر میں کہیں جھول محسوس نہیں ہوتا۔ معاصر حسیات میں گندھی ہوئی نظمیں ہر قرات پر تازہ مفہوم قاری کے قلب و ذہن پر منکشف کرتی ہیں جو ان کے شعری اپچ، تخلیقی سرشاری اور فنی ریاضت کی غماز ٹھہرتی ہیں۔ ان کی نظموں میں رومانیت اور سماجیت کے ہمرکاب عالمی اور مقامی معاملات موجود ہیں جو اس مصنوعی احتجاج سے مختلف ہے جو عام قسم کی رومانی نظموں میں موجود ہوتا ہے۔

ان نظموں میں وہ عمیق خلوص موجود ہے جو اپنے باطن میں اترنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان کی باطنی توانائی خارجی صورت حال کا نتیجہ ہے جس نے ان کی نظم کو معیار اور اعتبار بخشا ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی نظموں کی شعریات کسی اشرافی تصور کی قائل نہیں۔ کا sibility ان کے ہاوب ایماں ودیکیشنز، لاہور سے 2014

Facebook Comments HS