درویش کی زنبیل سے تین تحفے
ڈائری کا ورق نمبر ۱۔ ۔۔۔میری نئی محبوبہ
میری زندگی میں ایک دلچسپ تبدیلی آ رہی ہے۔ میری ایک نئی صنف نازک سے ملاقات ہوئی ہے جو میری نئی محبوبہ بننا چاہتی ہے۔ وہ اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے میرا دل لبھانے کی کوشش کرتی رہتی ہے جبکہ میں اس سے بڑے محتاط انداز سے ملتا ہوں بلکہ قدرے گریز کرتا ہوں۔ ایک شام اس نے مجھ سے بےتکلف ہونے کی کوشش میں یہ بھی بتایا کہ وہ میری پرانی سات محبوبائوں سے بھی مل چکی ہے۔
میں نے از راہ تفنن پوچھا کہ پرانی محبوبائیں کون ہیں تو بڑی سنجیدگی سے کہنے لگی آپ کی
پہلی ادبی محبوبہ شاعری تھی دوسری افسانہ نگاری
تیسری ادبی محبوبہ ناول نگاری تھی چوتھی مقالہ نگاری
پانچویں ادبی محبوبہ ترجمہ نگاری تھی چھٹی کالم نگاری
ساتویں ادبی محبوبہ خطوط نگاری تھی اور میں آپ کی آٹھویں محبوبہ بننے کے خواب دیکھ رہی ہوں۔
میں نے پوچھا کہ تم میں وہ کیا خصوصیت ہے کہ میں تمہیں اپنی نئی محبوبہ بنائوں تو بڑی اپنائیت سے کہنے لگی میں بہت فراخ دل ہوں میں آپ کی پرانی محبوبائوں سے نہ صرف حسد نہ کروں گی بلکہ ان کو آپ کے ساتھ اپنے گھر دعوت بھی دوں گی۔ میرا دل بڑا اور گھر کشادہ ہے۔ آپ جب چاہیں مجھ سے ملنے آئیں اور جس کو چاہیں اپنے ساتھ لائیں۔
میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے
کہنے لگی ڈائری۔
پھر اس نے مجھے بڑے پیار سے ایک رنگین کاپی اور قلم دیے اور کہا کہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہیں۔ آپ اس کاپی میں اپنے دل کی باتیں لکھا کریں اسے لوگ بڑے شوق سے پڑھیں گے۔
میں نے کہا میں تو ایک عام سا انسان ہوں جو ایک عام سی زندگی گزارتا ہے میری باتیں بھلا لوگ دلچسپی سے کیوں پڑھیں گے۔
کہنے لگی آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ آپ ایک غیر معمولی انسان ہیں جو ایک دلچسپ زندگی گزارتے ہیں۔ آپ جب کسی محفل میں جاتے ہیں تو لوگ آپ کی باتیں بڑے غور سے سنتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب آپ ہسپتال میں کام کیا کرتے تھے تو ایک نرس نے آپ کو اپنی سہیلیوں کے ساتھ لنچ پر دعوت دی تھی۔ آپ نے دعوت کی وجہ پوچھی تھی تو اس نے کہا تھا ہم آپ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں آپ بہت دلچسپ کہانیاں سناتے ہیں۔
پھر میری نئی محبوبہ نے کہا اب آپ وہی دلچسپ باتیں وہی دلچسپ کہانیاں اپنی ڈائری میں لکھ لیا کریں تا کہ وہ لوگ جو اس محفل میں شامل نہ ہوں وہ بھی اسے پڑھ کر لطف اندوز ہو سکیں۔
اس گفتگو کے بعد مجھے یوں لگا جیسے میں اس کی زلف کا اسیر ہو گیا ۔ میں نے اسے اپنی نئی ادبی محبوبہ بنا لیا اور اپنی ڈائری میں نوشتہ یہ پہلی تحریر اسی نئی ادبی محبت کا تعارف ہے۔
ڈائری کا ورق نمبر2: سالک کی سوانح عمری
ایک
کیف تھا
سرور تھا
انبساط تھا
بےقراری تھی
وارفتگی تھی
سرشاری تھی
جی میں آئی کہ اپنی سوانح عمری لکھوں لیکن ایسی سوانح عمری جو منفرد ہو جداگانہ ہو ایسی سوانح عمری جیسی پہلے کسی نے نہ لکھی ہو۔
یہ 2017 کی بات ہے جب میری عمر 65 برس تھی اور مجھے اپنے پچھلے پچاس برس کی کہانی لکھنی تھی جب سے میں نے زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ "نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں”.
میں نے سوچا کہ میں پچاس برس کی کہانی صرف سو صفحوں میں لکھوں
اپنے سارے دکھ اپنے سارے سکھ
کیا کھویا کیا پایا
عمر بھر کا تجربہ ’مشاہدہ ’مطالعہ اور تجزیہ
سو صفحوں کے فیصلے سے واضح تھا کہ میں تفاصیل نہیں لکھ سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ سوانح عمری استعاراتی ہو تاکہ اس میں انفرادیت بھی ہو معنویت بھی اور گہرائی بھی۔
پھر میں نے سوچا اگر سوانح عمری FIRST PERSON میں لکھوں گا تو ہر صفحے پر دس دفعہ ۔۔۔میں۔۔۔ لکھنا ہوگا جس سے نرگسیت کا گمان ہو گا۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ سوانح عمری THIRD PERSON میں لکھوں گا تا کہ قدرے جذباتی فاصلہ بھی رہے اور اس میں افسانوی طرز بھی آ سکے۔
میں نے اپنے ہم زاد کے نام کے بارے میں سوچا تو دو نام ذہن میں آئے,
درویش اور خضر
میں نے خضر چنا کیونکہ خضر ایک ایسا دیومالائی کردار ہے جو لوگوں کی زندگی میں تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے راستہ دکھاتا ہے مدد کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ میں نے سوچا میرا تھیریپسٹ ہونے کا کردار بھی ایسا ہی ہے۔ لوگ مجھ سے ملتے ہیں اپنی کہانی اپنا مسئلہ سناتے ہیں میں ان کو مشورہ دیتا ہوں اور وہ رخصت ہو جاتے ہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ میں نیلسن منڈیلا۔۔۔ پیر ٹروڈو یا چے گوارا کی طرح کوئی مشہور شخصیت تو ہوں نہیں کہ لوگ میرے رشتہ داروں کی کہانی ذوق و شوق سےپڑھیں۔اس لیے میں نے خضر کی زندگی کے کرداروں کو ایسے نام دیے جو ان کی خصوصیت تھی ان کی شخصیت کا اہم اور نمایاں پہلو تھا
خضر کی
ماں کا نام مذہب
باپ کا نام تصوف
نانی کا نام دانائی
بہن کا نام دوستی
رکھا۔
خضر جس شہر جس ملک میں پیدا ہوا اس کا نام۔۔۔روایتوں کا شہر
اور جس شہر جس ملک میں ہجرت کر کے گیا اس کا نام ۔۔۔آزادیوں کا شہر
رکھا۔
جب یہ ہوم ورک ہو گیا تو میں اپنی سوانح عمری لکھنے بیٹھا
اور میں اس کیف اس سرور اس سرشاری کی بارش میں بھیگ گیا
صبح اٹھ کر لکھنے بیٹھتا تو قلم لکھتا چلا جاتا
ایک صفحہ۔۔۔دو صفحے۔۔۔۔چار صفحے۔۔۔۔آٹھ صفحے۔۔۔دس صٖفحے۔۔
میرے اندر ایک چشمہ بہنے لگا میں سوچتا رہا اور لکھتا رہا
چالیس دنوں میں ساری سوانح عمری لکھ ڈالی
اس کے ستر باب تھے اور ہر باب ایک یا دو صفحوں کا تھا۔
سوانح عمری کا نام رکھا
THE SEEKER…THE STORY OF KHIZR AND HIS SEARCH FOR TRUTH
خضر سچ کی تلاش میں ہے اور اسے زندگی میں بہت سے سچ ملتے ہیں
مذہبی سچ۔۔۔۔روحانی سچ۔۔۔۔سائنسی سچ۔۔۔۔ذاتی سچ۔۔۔۔اجتماعی سچ۔۔۔ارتقائی سچ
سوانح عمری لکھنے کے بعد میں نے اپنے چالیس دوستوں کو بھیجی۔ ان کے تاثرات اتنے دلچسپ تھے کہ میں نے وہ تاثرات سوانح عمری کے آخر میں شامل کر دیے۔
اور پھر ایک دن ایک سیمینار میں پاکستانی فنکار شاہد رسام سے ملاقات ہوئی۔ پوچھنے لگے آج کل کیا لکھ رہے ہیں میں نے کہا۔۔۔سوانح عمری مکمل کی ہے۔ کہنے لگے پڑھنا چاہتا ہوں۔ میں نے مسودہ بھیج دیا۔ پڑھ کر کہنے لگے میں اس سے اتنا متاثر ہوا ہوں کہ میں آپ کا پورٹریٹ بنانا چاہتا ہوں تا کہ آپ اپنی سوانح کے فرنٹ کور پر لگا سکیں۔
سوانح عمری چھپی تو عوام و خواص نے بہت پسند کی۔
the seeker..۔۔۔۔سالک۔۔۔۔سوانح عمری لکھنے کا تجربہ چالیس دنوں کے ایک عالم بےخودی کا ایک ٹرانس trance کا نہایت دلچسپ اور بامعنی تخلیقی تجربہ تھا۔
ڈائری کا ورق نمبر3: حامد یزدانی کی شاعری
مجھے میرے ادبی دوست حامد یزدانی نے اپنے نئے شعری مجموعے کا مسودہ تحفے کے طور پر دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں وہ مسودہ پڑھوں اور اس کے بارے میں نہ صرف اپنی رائے رقم کروں بلکہ اس مجموعے کے لیے کوئی نام بھی تجویز کروں۔
ان کے پہلے شعری مجموعے کے نام
ابھی اک خواب رہتا ہے
کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے نئے شعری مجموعے کا نام
ہم ابھی رستے میں ہیں
تجویز کیا جو ان کی ایک نظم کا عنوان بھی ہے۔ اب دیکھتے ہیں انہیں یہ نام پسند بھی آتا ہے یا نہیں۔
ان کے نئے شعری مجموعے کو پڑھنے کے بعد میں نے اپنے تاثرات ایک نثری نظم کی صورت ان الفاظ میں رقم کیے
حامد یزدانی کے نام
حامد یزدانی کی
غزلیں اور نظمیں
خوابوں اور دعائوں کے درمیان
خوبصورت پل بناتی ہیں
مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کو
اعلیٰ آدرشوں سے ملاتی ہیں
امن اور آشتی کے نغمے
اور
انسانیت کی عظمت
کے گیت گاتی ہیں
حامد یزدانی کی غزلیں اور نظمیں
ہمارے دلوں کے دروازوں پہ دستک دیتی ہیں
ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں
حامد یزدانی کی غزلیں اور نظمیں
اردو شاعری کی منڈیروں پر
نئے امکانات کے دیے روشن کرتی ہیں ۔۔۔


