اقبال کے کائنات کے بارے میں سوالات وقیع نہیں: علی اکبر ناطق کا خصوصی انٹرویو


* کبھی پذیرائی کو مدِ نظر رکھ کر نہیں لکھا، میری دوستی کی ایک قیمت ہے، جو ہر آدمی ادا نہیں کر سکتا۔
* جو ادیب یا شاعر اپنی مرضی کی بات کرتا ہے، اُسے تو اسٹیبلشمنٹ تو چھوڑیے، لبرلز اور نجی فیسٹیولز کے مالکان ہی لفٹ نہیں کراتے

نام ور فکشن نگار، شاعر اور قلم کار، علی اکبر ناطق سے خصوصی بات چیت


والٹیر کے لازوال کردار ”کاندید“ نے کہا تھا، ہمیں بلا چوں و چرا کام میں مصروف رہنا چاہیے، یہی حالات کو قابل برداشت بنانے کا اکلوتا طریقہ ہے۔

علی اکبر ناطق بھی کام میں مصروف ہے۔ قلم حرکت میں ہے۔ وہ کہانیاں لکھ رہا ہے، شعر کہہ رہا ہے، جسے سچ جانتا ہے، اس کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اردگرد چاہنے والوں کا ہجوم ہے۔ قارئین کھنچے چلے آتے ہیں۔ وہ اس کے ادب سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ سہولت سے کہا جاسکتا ہے کہ ”نولکھی کوٹھی“ کا مصنف نئی نسل کا مقبول ترین قلم کار ہے، جس کی شہرت کو اس کے دوسرے ناول ”کماری والا“ نے مہمیز کیا، اور آپ بیتی ”آباد ہوئے، برباد ہوئے“ نے پر عطا کر دیے۔ شعری سفر ایک اور جہت، جو الگ مضمون کی متقاضی۔

شہرت سے اسے انکار نہیں، مگر ناطق کے بہ قول، وہ شہرت کے لیے نہیں لکھتا۔ پذیرائی کی پروا نہیں، جو دل پر بیتے، صفحہ قرطاس پر منتقل ہوجاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ جسے صحیح سمجھا، کہہ ڈالا۔ اسی لیے چند دوست ساتھ چھوڑ گئے، چند دشمن پیدا ہو گئے، مگر سفر جاری رہا کہ قارئین میسر ہیں۔

ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی زیر بحث رہتی ہیں۔ کبھی کبھار موقف سخت ہوجاتا ہے۔ اس بابت پوچھا تو کہنے لگے، ایک قاتل اور ایک معصوم انسان سے ایک جیسا برتاؤ ممکن نہیں۔ بہ طور ادیب، شاعر اور انسان مَیں عوام سے مخاطب ہوتا ہوں، جب کہ سوشل میڈیا پر مخاطب ہوتا ہوں اسٹیبلشمنٹ سے، خود غرض سیاست دانوں، انتہا پسند ملاؤں، اور بیوروکریٹس سے۔ بددیانت پروفیسروں اور بکاؤ میڈیا سے، احساس، کمتری کے مارے لبرلز سے۔ کیوں کہ یہ کتاب نہیں پڑھتے، سو یہی زبان سمجھتے ہیں۔

گزشتہ دنوں علی اکبر ناطق کے سامنے ہم نے چند سوالات رکھے۔ آئیں، آپ بھی اس بات چیت میں شریک ہوجائیں۔

اقبال: شاعری، فکشن، تنقید، ادبی دنیا میں علی اکبر ناطق کی اگلی منزل کیا ہے؟

ناطق: اقبال بھائی، اگلی منزِل کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے عجیب سا لگتا ہے۔ ظاہر ہے، ہمیں لکھنے کے علاوہ اب کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا۔ تو کچھ نہ کچھ تو لکھتے ہی رہیں گے۔ فی الحال تو اِس وقت خود نوشت لکھ رہا ہوں۔ چوں کہ داستان ذرا طویل ہے، اس لیے تین حصے ہو جائیں گے۔ (نوٹ: پہلا حصہ شایع ہو چکا ہے ) باقی ایک ناول بھی چل رہا ہے، ”کوفہ کے مسافر“ ۔ وہ بھی جون یا جولائی تک لے ہی آئیں گے۔ احباب کے خاکے بھی لکھ رہا ہوں۔ ادبی مضامین بھی کافی لکھ رکھے ہیں۔ دیکھیے کہاں تک چلتے ہیں، جہاں تک خدا لے جائے۔ ہاں خدا نے موقع دیا، تو کلاسک عمارت سازی پر بھی ایک کتاب لکھوں گا، بلکہ ناول کی شکل میں۔

اقبال: فکشن ہو یا شعری مجموعہ، سب ہی کو سراہا گیا، مگر آپ کے نزدیک وہ کون سی کتاب تھی، جو خود کو دریافت کرنے کا وسیلہ بنی؟

ناطق: کوئی بھی ادیب یا شاعر، اگر وہ جینوئن ہے اور واقعی آرٹ کی نفسیات اور جمالیاتی اُپج کو سمجھتا ہے، تو سمجھ لیجیے وہ ہر فن پارے میں اپنے ہی اندروں کے کسی جُزو یا پہلو کا پرتَو دکھاتا ہے۔ کسی فن پارے میں کم، کسی میں زیادہ، دراصل وہ خود ہی موجود ہوتا ہے۔ مَیں نے ابھی تک، چاہے وہ شعر ہو یا نثر، کسی کو بھی خارج سے داد و تحسین کا ذریعہ بنانے کے لیے نہیں لکھا۔ بس، جو میرا دل بے اختیار ہو کر تصور میں لاتا ہے، وہی لکھ دیتا ہوں۔ اگر اُس کی بعد میں پذیرائی بھی ہوتی ہے، تو یہ چیز میرے اُس فن کی قیمت ہرگز نہیں ہے، بلکہ اُس کرب پر ہلکا سا مرہم ہوتی ہے، جو میرے سینے میں موجود ہے۔ اور اُس کا اظہار گاہ گاہ بے اختیاری میں ہو جاتا ہے۔ رہی بات کسی ایک کتاب کا نام لینے کی، یہ صرف میرے قاری کے لیے آسان ہے کہ وہ میری کسی ایک کتاب کی نشان دہی کر دے، میرے لیے یہ ممکن نہیں۔

اقبال: ”نولکھی کوٹھی“ لکھنے میں کتنا وقت لگا؟ جو توجہ اس ناول کو ملی، کیا اس کی توقع کر رہے تھے؟

ناطق: خورشید صاحب ”نولکھی کوٹھی“ لکھنے میں مجھے ویسے تو ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصہ لگا، لیکن آپ کسی بھی فن پارے کے معاملے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کتنے عرصے میں لکھا گیا۔ کیوں کہ ناول یا افسانہ لکھنے سے پہلا خدا جانے اُس پر کتنا عرصہ غوروخوض ہوتا ہے۔ کم از کم مَیں اپنی بابت یہ بتانا چاہوں گا کہ مَیں جب بھی کوئی افسانہ یا ناول شروع کرتا ہوں، تو ذہن میں پہلے اُس کے تمام عواقب و عوامل طے کر لیتا ہوں۔ ناول پر تو یہ کام برسوں تک جاری رہتا ہے۔ جب مجھے پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب اس ناول یا افسانے کی تمام منازل حل ہو چکی ہیں، اور راہ کی مشکلیں آسان ہو گئی ہیں، تب مَیں اُسے لکھنا شروع کرتا ہوں۔ ایسا نہیں کہ قلم اُٹھایا اور لکھنا شروع کر دیا۔ بعد میں اگر کچھ نہ بنا تو کہہ دیا، مَیں نے تجربہ کیا ہے۔ مَیں ایسے تجربوں کا قائل نہیں ہوں۔ ”نولکھی کوٹھی“ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ کم از کم چار پانچ برس تک مَیں اِس کے فاصلے اپنے ذہن ہی میں نمٹاتا رہا ہوں۔ پھر مَیں نے اِسے 2012 کے نصف میں شروع کیا اور 2014 کے شروع میں مکمل کر کے پبلشر کے حوالے کر دیا۔

اب رہی یہ بات کہ مجھے اِس کی پذیرائی کی کتنی توقع تھی۔ اُس کی بابت عرض ہے کہ اول تو مَیں پہلے کہہ چکا ہوں کم از کم مَیں کبھی کسی پذیرائی کو مدِ نظر رکھ کر نہیں لکھتا، ورنہ مَیں بھی کسی کو اپنا دشمن نہ بننے دیتا اور مکمل منافقت کے ذریعے سب سے بنا کر رکھتا۔ پھر بھی اِس ناول سے پہلے میری افسانوں کی کتاب ”قائم دین“ بہت پذیرائی حاصل کر چکی تھی۔ اُسے آکسفورڈ پریس نے چھاپا تھا، انگریزی میں پینگوئن چھاپ چکا تھا۔ انتظار حسین، عبداللہ حسین اور شمس الرحمن فاروقی صاحب جیسے لوگ اُس کو بہت زیادہ سراہ چکے تھے اور اُس پر مضمون لکھ چکے تھے۔ لہذا مجھے اِس ناول سے بھی بہت توقع تھی کہ خاص و عام میں مقبول ہو گا۔ اُس کی ایک اور خاص وجہ یہ بھی تھی کہ مَیں خود بچپن سے فکشن پڑھتا آ رہا تھا، چناں چہ مجھے اچھے برے فکشن اور اُس کی عوام میں جگہ کیسے بنتی ہے، سب اندازہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اتنا تیزی سے یہ ناول کلاسک میں شمار ہو گا، اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔

اقبال: لکھاری کے لیے قاری ہونا شرط، آپ کے پسندیدہ ادیب کون ہیں؟ اردو فکشن نگاروں میں کون بھایا؟ اور کس کی شاعری اچھی لگی؟

ناطق: کسی بھی ادیب کے لیے مطالعہ اتنا ہی ضروری ہے، جتنی جسم کے لیے روح ضروری ہوتی ہے۔ میرا کلاسک کا مطالعہ بہت رہا ہے۔ اُس میں فکشن بھی شامل ہے، تراجم بھی ہیں، تاریخ بھی۔ کم بیش اردو کے تمام فکشن نگاروں کو پڑھا۔ نثر میں مرقع نگاری اور خاکے بہت بڑھے۔ مَیں کلاسک میں خاص طور پر تین لکھنے والوں کو کلیدی حیثیت دیتا ہوں۔ مولوی محمد حسین آزاد، مرزا فرحت اللہ بیگ اور رتن ناتھ سرشار۔ افسانے میں مجھے سید رفیق حسین، حیات اللہ انصاری اور غلام عباس زیادہ پسند ہیں۔ مزاح میں ابنِ انشا، پطرس بخاری اور یوسفی پسند ہیں۔

اِس کے علاوہ میری نثر اور شاعری کو بہتر بنانے میں جس کتاب نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، وہ نہج البلاغہ کا متواتر مطالعہ ہے اور اُس سے استعارہ سازی کو سیکھا ہے۔

اقبال: کیا موجودہ شاعری غالب، اقبال اور فیض جیسے شعرا پیدا کر سکتی ہے؟

ناطق: کیوں نہیں کر سکتی، کیا اب انسان پلاسٹک کے بننے لگے ہیں؟ بالکل کر سکتی ہے، بلکہ اقبال سے تو اب بھی بہتر پیدا ہو رہے ہیں، مگر اقبال کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی مُہر ہے۔ دوسری بات یہ کہ کوئی بھی شاعر فقط زبان کے ہنر مندانہ استعمال سے بڑا نہیں ہو جاتا۔ اُس کے نظریات و افکار اور کائنات کے بارے میں اُس کا بیانیہ بھی اتنا ہی بڑا ہو، جس قدر بڑا اُس کے ہاں استعارہ سازی کمال ہو، تب وہ عظیم شاعر کہلوانے کا حق رکھتا ہے۔ اقبال کے کائنات کے بارے میں سوال وقیع نہیں ہیں۔ وہ سوالات میر اور غالب کہیں بڑے وسیع تناظر میں اُٹھاتے ہیں۔ اِس معاملے میں تو اقبال غالب اور میر کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ اقبال سطحی بیانیہ لاتا ہے، جسے آپ ہمارے پاکستانی سلیبس میں دہرائی گئی خودساختہ مذہبی تاریخ کا بیانیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اقبال کا مطالعہ بہت کم تھا۔ وہ فقط شعر کے فن اور دوستوں کی گپ بازی سے نتائج اخذ کر کے اپنا شعری منظرنامہ بناتا ہے۔ وہی کچھ چوں کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور اقتدار کے ایوانوں کی ضرورت ہے، اس لیے اقبال چل رہا ہے۔ علمی بنیادوں پر فیض صاحب اقبال سے کہیں آگے ہیں۔

آج کی نسل بھی بہت عمدہ شعر کہہ رہی ہے، مگر مصیبت یہ ہے کہ ہماری قوم کا مزاج ہی مُردوں کی پوجا کرنا ہے۔ زندوں کو تو گھاس ہی نہیں ڈالتے۔ اِس میں خاص طور پر یونیورسٹیوں کے غیر تخلیقی پروفیسروں کا ہاتھ ہے۔ یہ بانجھ لوگ اِس لیے بھی تخلیق کاروں کو جہاں تک بس چلے متعارف نہیں ہونے دیتے کہ اِن کے اندر حسد اور کینے کی بیماری ہوتی ہے۔ کسی تخلیق کار کی عوام میں پذیرائی سے اِنھیں لگتا ہے کہ اِن کی توہین ہو گئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اِن علمی و ادبی اداروں اور میڈیا کو شاعر اور دانش ور اسٹبلشمنٹ تیار کر کے دیتی ہے کہ لو اِسے بڑا کہو اور اِسے عظیم کہو۔ چناں چہ اُس کے بعد یہ حضرات اُس کام پر لگ جاتے ہیں۔ ہمارے پروفیسرز اور نقاد حضرات بھی بیش تر صحافیوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی نمایندگی کا کام کرتے ہیں، ورنہ تو آج کے لکھنے والے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ بھئی جو ادیب یا شاعر اپنی مرضی کی بات کرتا ہے، اُسے تو اسٹبلشمنٹ تو چھوڑیے، لبرلز اور نجی فیسٹیولز کے مالکان ہی لفٹ نہیں کراتے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2