10 اپریل: پچاسواں یوم دستور پاکستان


اسلامی، فلاحی، نظریاتی، جمہوری اور آزاد و خود مختار ریاست پاکستان نے قیام کے بعد ابتدائی پچیس برس تو بنا غیر متفقہ آئین کے تحت ہی گزار دیے لیکن ربع صدی گزر جانے کے بعد جب ایک بے مثال سیاسی قیادت اور حقیقی سیاسی و انقلابی لیڈر نے عوام کو عوام کے حقوق کا شعور بخشا اور اس مملکت خداداد کو پہلا متفقہ آئین دیا تو صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی۔ محسن دستور پاکستان اور ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا متفقہ آئین دینے، مسلم امہ کی بات کرنے، عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے جیسے بے شمار جرائم کی پاداش میں بذریعہ عدالت قتل کر دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اسے عرف عام میں عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے غیر جانبدار رویے اور حکمت عملی تقویت کا باعث بنی تو عدالت عظمی کے متعدد فیصلوں پر سوال کھڑے ہونے لگے۔ کچھ ہی عرصہ قبل لاہور میں ممتاز قانون دان اور سماجی خدمت گار محترمہ عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے منعقدہ سیمینار، کانفرنس منعقد ہوئی تو اس کا ہر ہر سیشن ہی اہمیت کا حقدار قرار پایا۔ ماہرین قانون، نامور قلم کاروں اور کم و بیش تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے خطبات نے تو سوشل میڈیا پر بہت مقبولیت حاصل کی۔

ممتاز اور سینئر قانون دان جناب احمد کرد صاحب کے خطاب نے تو سوشل میڈیا پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ ان کا نشانہ اسٹیبلشمنٹ کی دو نمایاں شخصیات تھیں۔ محبان علی احمد کرد نے تو موقع پر ہی ان کی تمام تر سفارشات یا گزارشات کی غیر مشروط حمایت کا اعلان بہت بھر پور اور جوشیلے انداز میں کیا۔ با الفاظ دیگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنرل فیض سے لیں گے آزادی، تیرے باپ سے لیں گے آزادی کی قرار داد غیر مشروط طور پر بنا کسی رکاوٹ اور مخالفت کے منظور کر لی گئی۔

جناب علی احمد کرد صاحب نے عدالت عظمی اور عدالت عالیہ کے فاضل جسٹس صاحبان کی موجودگی میں کون سی جوڈیشری کا سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر انصاف فراہم کرنے والے ایک سو تیس ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر غالباً ایک سو چھبیسواں بتایا۔ علی احمد کرد صاحب کا یہ خطاب دراصل تحریک بحالی انصاف کے آغاز کا اعلان تھا اور وہ تحریک انصاف کی حکومت میں۔

عدالت عظمی کے دوسرے نمبر پر آنے والے سینئر ترین جسٹس جناب جسٹس فائز عیسی نے حال ہی میں جو اپنا اردو میں تحریر کردہ چھ صفحات پر مشتمل نوٹ جاری کیا وہ سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ سے بلا جواز ہٹا دیے جانے کے باوجود ایک طرح کی چارج شیٹ بھی ہے، ایک چیلنج بھی اور ایک تاریخی دستاویز بھی۔

اس سے قبل وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسمبلی میں اپنے خطاب میں جو کچھ کہہ ڈالا وہ انہی کا استحقاق تھا اور وہی کر سکتے تھے۔

جمہوریت بہترین انتقام ہے کی اصطلاح کے داعی سابق صدر جناب آصف علی زرداری نے مثبت اقدامات کے ذریعے ثابت کیا کہ ان کی قیادت میں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ کھپے کھپے پاکستان کھپے کے داعی آصف علی زرداری نے ثابت کیا کہ سیاسی بصیرت میں ان کا ثانی نہیں۔ اور یہ کہ اقتدار کی ان کو حاجت نہیں بلکہ وہ ایک بصیرت افروز بادشاہ گر ہیں۔ آج کا تاریخی دن 10 اپریل کہ جو یوم دستور پاکستان بھی ہے اور حسن اتفاق سے اسی تاریخ کو دختر مشرق۔

شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمر اعظم۔ جابر اعظم ابوالمنافقین ضیا ٔالحق جیسے بدترین آمر کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت کا آغاز کیا۔ اسی تاریخی اور تاریخ ساز دن آج ضیا ٔ الحق کے روحانی مرید اور پیروکار کشکول خان اور ان کی آمرانہ حکومت کو تاریخی اور فقیدالمثال شکست فاش دی گئی۔ 10 اپریل آج یوم دستور پاکستان کے طور پر بھی اور یوم نجات ابوالمنافقین کے طور پر بھی۔ یوم فتح دستور کے طور پر بھی اور یوم بحالی ٔجمہوریت کے طور پر بھی ایک تاریخ ساز دن ثابت ہوا۔

لیکن کو خود ریاست مدینہ کا امیر کہنے والے نے اپنے پونے چار سال کے عہد آمریت میں حزب اختلاف سے جو ہتک آمیز، توہین آمیز اور غیر جمہوری رویہ اختیار کیے رکھا وہ اس امر کا متقاضی ہے کہ حزب اقتدار کی جانب سے کسی قسم کے مذاکرات کا دروازہ نہ کھولا جائے۔ اس موقع پر ہمیں قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے ملاحظہ فرمائیے۔

دل نہ ہوں جب صاف تو مل بیٹھنے کا فائدہ
ہو چکے ہیں یوں تو ماضی میں بھی سمجھوتے کئی

Facebook Comments HS