بھا سعید بھی چلا گیا


دیسی کلچر میں بعض ایسی اقدار ہیں جو اس کل یگ میں بھی بدستور قائم ہیں اور ان کی نگھی تاثیر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہمارے رشتوں کے ناموں میں بہت کچھ پوشیدہ ہوتا ہے اور اسے پوشیدہ کو جانتے بھی سبھی ہیں۔ بعض رشتے ایسے ہیں جو ”منہ بولے“ بھی رحمی رشتوں کی طرح ہی مقدس ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے پرانی باتوں کو دہراتے ہوئے ایک مرحوم دوست کے ذکر میں بتایا کہ اس نے میرے گھر فون کیا جو میرے بیٹے نے اٹھایا۔ میں گھر پر نہیں تھا اس پر اس نے کہا پھر والدہ کو دیں، میں انہیں ہی پیغام دے دیتا ہوں۔ بچے نے ماں کو ٹیلیفون پکڑاتے ہوئے بتایا کہ ایک ماموں کا فون ہے۔ وہ شخص ماموں کا لقب ملنے پر اس قدر خوش ہوا کہ عمر بھر ان کی اہلیہ سے سگی بہن کی طرح پیش آیا۔

دیگر دو رشتے ہماری تہذیب میں ایسے ہیں جن میں چھوٹے بڑے کی تمیز کو قائم رکھتے ہوئے بے تکلفی اور ”مان“ کا ایک ایسا تعلق پایا جاتا ہے جو بلا امتیاز رحمی ہوں یا نہ ہوں، ان کو جنرلائیز کر دیتا ہے۔ اس میں سے پہلا مقبول رشتہ ”چاچا“ ہے جو جہاں بھی چند پنجابی اکٹھے ہوں ایک ذرا عمر میں بڑے کو بطور چاچا ”گھڑ لیتے“ ہیں جسے ان کے لئے ہر حال میں ڈھال کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے۔ ایسے ہی جس طرح شہد کی مکھیاں نقل مکانی کرتے وقت نئی کالونی میں اپنے میں سے ہی ایک کو اپنی نئی ملکہ بنا لیتی ہیں۔ (چاچا تو اب پٹھانوں نے بھی اڈاپٹ کر لیا ہے ) ۔

دوسرا نہایت میٹھا رشتہ عمر میں بڑے بھائی کو ”بھا“ بولا جاتا ہے اس میں بھی چاچے کی سی بے تکلفی (اسے تو کر کے پکارنے سے تکریم میں تخفیف بھی نہیں ہوتی) اور چاہت خالص ہوتی ہے۔ بس دونوں کے عمر میں بڑے چھوٹے ہونے کا معمولی فرق ہوتا ہے۔ ”بھا“ بنتے ہی اس کی ذمہ داریوں میں چھوٹے اور جان نثار بھائیوں کا نخرہ برداشت کرنا بھی ہوتا ہے۔

یہ ساری تمہید ”بھا سعید“ کے ذکر خیر کرنے کے لئے باندھی گئی ہے جو 12 فروری 2023 کو ہزاروں شاگردوں دوستوں اور اعزاء کو سوگوار چھوڑ کر چناب نگر میں اکیاسی سال کی عمر میں بقضائے الہٰی وفات پا گئے۔

آپ چک نمبر 33 جنوبی ضلع سرگودھا میں مکرم چوہدری عبدالعزیز صاحب باجوہ مرحوم کے ہاں پیدا ہوئے۔ اور تعلیم الاسلام کالج سے گریجوایشن کے بعد بی ایڈ کیا اور پھر تعلیم الاسلام ہائی اسکول ربوہ میں بطور استاد ملازمت کا آغاز کیا۔ سکول 1972 میں نیشنلائیز ہو جانے چند سال بعد گورنمنٹ ہائی سکول کانڈیوال علاقہ لالیاں ضلع چنیوٹ میں بحیثیت ہیڈ ماسٹر تعینات ہوئے۔ آپ نہایت احسن رنگ میں پڑھاتے، طلباء سے شفقت اور ان کی ہر طرح مدد اور رہنمائی کے ذریعہ ملک و قوم کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اس احساس کے ساتھ کہ ”بچے قوم کی دولت ہیں اور اس دولت کی حفاظت کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے“، بلا امتیاز ہر ایک کی خیرخواہی کو ہمیشہ اپنا اصول عمل بنا کر رکھا۔

اس سارے علاقے کے لوگ، طالب علموں کے والدین دلی محبت و چاہت اور ادب و احترام کے ساتھ آپ کو یاد کرتے اور آپ کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ علاوہ طالب علموں کے بھی آپ ایک نافع الناس، ہر دلعزیز، مہمان نواز، مخلوق خدا سے ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبات سے سرشار انسان تھے۔ پاکستان کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں آپ کے ہزاروں شاگرد آپ کی جدائی میں دلی محبت و غمگین جذبات کے ساتھ مسلسل اپنے محبوب استاد کا ذکر خیر کر رہے ہیں اور تعزیتی پیغامات بھیج رہے ہیں۔ اللہ تعالی ان سب کو جزائے خیر دے اور اجر عظیم سے نوازے آمین۔

آپ چناب نگر کے پہلے گھوڑ دوڑ ٹورنامنٹ میں آپ شامل ہوئے اور اس کے انتظامی امور میں بھرپور حصہ لے کر مثالی خدمات بجا لائے۔ گردونواح کے دیہاتوں سے گھوڑوں کے چارہ وغیرہ کا شاندار بندوبست کیا جسے تمام مہمان گھوڑ سواروں نے بہت سراہا۔ اسی طرح ٹی آئی کالج کی ٹیم کے نامور فٹ بالر اور والی بال کے بھی بہت مشہور کھلاڑی تھے۔

بھا سعید نے کامل وفا کے ساتھ اپنے ضعیف والدین کی اطاعت اور خدمت کی توفیق پائی۔ اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے بچوں جیسا پیار کیا اور ”بھا“ بن کر ”بھا“ نبھایا۔ اہل خانہ کے لئے بہترین مثالی نمونہ تھے آپ نے دو بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑے ہیں جو بفضل خدا شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں۔ بھا چلا گیا ہے لیکن ایک بہت بڑا خلا چھوڑ گیا ہے۔

 بلانے والا ہے سب سے پیارا

اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

Facebook Comments HS