کراچی کی آبادی متوازن ہو رہی ہے

مردم شماری آخری مرحلے میں ہے۔ ڈیجیٹل انداز میں غلطیوں سے کافی حد تک پاک مردم شماری کی جا رہی ہے۔ اتوار 9 اپریل کو حکام نے سرکاری طور پر میڈیا کو بتایا کہ کراچی کی اب تک 92 فیصد آبادی ٹیکنالوجی کے ذریعے گنی جا چکی ہے۔ اس وقت تک کراچی ڈویژن کی آبادی ہے ایک کروڑ 38 لاکھ۔
گویا 2017 کی مردم شماری میں کوئی زیادہ سقم نہیں تھا، کیونکہ تب بھی کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کچھ زیادہ شمار ہوئی تھی۔ ایم کیو ایم کا رونا مگر اب بھی ختم نہیں ہوا۔ فاروق ستار تو جب تک کراچی کو سرکاری طور پر تین چار کروڑ کا شہر نہیں بتایا جاتا، چین نہیں کھائیں گے۔ یہاں شہر کے اسٹیک ہولڈر ہونے کے دعویدار تمام لوگوں بشمول سیاسی جماعتوں، مخصوص صحافیوں اور لسانی گروہوں کو دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔
اول یہ کہ کراچی میں کسی ایک طبقے یا زبان بولنے والوں کی قطعی اکثریت نہیں ہے۔ ڈیڑھ کروڑ لوگوں میں سے آدھے بھی اردو سپیکنگ نہیں ہیں۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کراچی دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جتنے پٹھان کراچی میں آباد ہیں اتنے پشاور میں بھی نہیں اور کابل میں بھی۔ سندھ کی راج دھانی ہونے کے واسطے سندھیوں کہ بھی خاصی آبادی ہے۔ بلوچ، ہزارے وال، سرائیکی، پنجابی اور بلتی بھی معقول تعداد میں اس غریبوں کی ماں کہلانے والے مہربان شہر کے مستقبل باسی ہیں۔ گویا کراچی سب کا ہوا، کسی خاص کمیونٹی کا دعویٰ درست نہیں۔ سو کراچی کی جتنی آبادی سرکاری طور پر بتائی جا رہی ہے سب کو اسی ڈومین میں رہتے ہوئے اس شہر نا پرساں کے انفراسٹرکچر، صفائی ستھرائی اور تعمیر و ترقی کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔
دوسرا نکتہ یہ کہ 1998 میں کراچی میں 98 لاکھ آدمی گنے گئے تھے۔ 25 سال بعد یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ پہنچنا کچھ کم تو لگتا ہے مگر اس کے مضمرات بھی دیکھنے چاہئیں۔
2015 تک یہاں خانہ جنگی کے قریب قریب حالات رہے۔ ٹارگٹ کلنگ نے روشنیوں کے شہر کی رونقیں گہنا کر دیں۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ دیگر علاقوں سے شہر کی طرف ہجرت کا رجحان بھی کچھ کم ہوا۔ دوسرا فیکٹر یہ بھی ہے کہ اردو سپیکنگ، پنجابی اور سندھی فیملی پلاننگ کرتے ہیں۔ البتہ پختون عام طور پر مستثنی نظر آتے ہیں۔ شاید کراچی کی آبادی کے بہت زیادہ نہ بڑھنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہو۔
پنڈی اسلام آباد کے مضافات میں دیکھتے ہیں دھڑا دھڑ ہاؤسنگ سوسائٹیاں آباد ہو رہی ہیں۔ اسلام آباد، پنڈی اور چکوال و اٹک کی سرحدیں تقریباً مل چکی ہیں۔ ملک کا مرکز ہونے کے ناتے بیشتر علاقوں خاص کر شمال کی طرف سے لوگ ترجیحا یہاں زمینیں لے رہے ہیں۔ سو یہ وجوہات و امکانات ہو سکتے ہیں جو کراچی کی آبادی کو کسی حد تک متوازن بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ جہاں تک سیاسی و انتخابی معاملہ ہے تو نظر بظاہر یہی لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں کراچی کا مینڈیٹ منقسم رہے گا۔ کسی ایک پارٹی کی اجارہ داری اب ممکن نہیں دکھائی دیتی۔ لہذا آبادی اور مردم شماری کو سیاست سے ہٹ کے دیکھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اس غریب شہر پر رحم کھانے کا سمے ہے۔ سب ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، یہی مردم شماری کا پیغام ہے اور شہر قائد کی ضرورت۔

