پھس پھسا کتاب میلہ اور نامانوس لوگ
سال 2022ء کا آخری دن تھا جب برقی دیوار کا ایک رابطہ ملا کہ جی مانسہرہ میں کتاب میلہ کا انعقاد ہے۔ یہ ایک خوش کن خبر تھی۔ فوراً دوست سے وعدہ لیا کہ سال نو کے پہلے دن چوں کہ پانچ بجے تک کتاب میلہ ہے چل میلے کو چلیے۔ وہ بھی انگریزی ادب کا آدمی میری باتوں میں آ گیا اور یوں ہم یخ بستگی میں اپنی چھٹی کافور کرتے ہوئے مانسہرہ روانہ ہوئے۔ دماغ کی تختی پر کتاب میلے کی رونق ابھر رہی تھی۔ برسوں پہلے کراچی بک فیئر دیکھ رکھا تھا سو ویسے ہی گمان تھے۔ خوشی سے سرشار کہ بھئی سال نو کا پہلا دن ہی کتاب و ادب کے نام ہو رہا ہے۔ یوں ہم سال بھر کتابوں سے جڑے رہیں گے۔ کچھ علم و ادب کی باتیں ہوں گی۔
خیر ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر تمام ہوا تو ہم ’سرکٹ ہاؤس‘ پہنچ چکے تھے۔ سڑک پر لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔ میلہ لگی عمارت میں داخل ہوئے تو وہاں باہر چند ایک لوگ خاکی وردیوں میں ملبوس کھڑے دھویں کے مرغولے اڑا رہے تھے۔ ہم مرکزی کمرے کی طرف بڑھے جس کے دروازے کی چوکھٹ سے رنگ برنگے غبارے چپکے ہوئے خاموشی سے استقبال کر رہے تھے۔ ہال میں داخل ہوتے ہی سکوت نے آ لیا۔ چند نفوس پر مشتمل خاموش کتاب میلہ دیکھ کر ہمارے شوق کے غبارے سے ہوا نکل چکی تھی۔ ہال میں داہنی جانب آکسفرڈ کا اسٹال جبکہ بائیں جانب پیرا ماؤنٹ کا اسٹال لگا تھا۔ بالکل سامنے دو آرٹسٹ مرد و زن دنیا و مافیہا سے بے نیاز رنگوں سے کھیلتے ہوئے ’سکوت‘ کو کینوس پر اتار رہے تھے۔
پھس پھسا کتاب میلہ، اور پھر عدم توجہی دیکھ کر ہماری خوشی پر اوس پڑ گئی تھی۔ وہ کہرا جو ہم اوگی میں چھوڑ کر آئے تھے دوبارہ دل پر چھا گیا تھا۔ وہاں کتاب میلے میں موجود اشخاص سے بات کر کے اندازہ ہوا جیسے کتابوں سے تعلق داری ہی نہیں۔ نجانے کیوں مجھے تو یوں لگ رہا تھا جیسے ان نامانوس لوگوں سے جبراً اسٹال لگوائے گئے ہوں۔ ڈی سی صاحب نے حکمنامہ جاری کر دیا ہو اور یہ لوگ با امر مجبوری چند کتابیں لیے ٹھیلے لگانے آ گئے۔ دو انگریزی کتابوں کے اسٹال تھے جن پر گنی چنی آٹھ دس اردو کتابیں دھری تھیں۔ اردو و علاقائی ادب، فکشن سمیت کوئی کتاب موجود نہیں تھی۔ آکسفرڈ کے اسٹال پر ایک ہی مضامین پطرس تھی وہ بھی اتفاقا فروخت ہو چکی تھی۔
آکسفرڈ پبلشر کے نمائندہ سے جب سوال کیا کہ آپ کے پاس تو اردو کی اچھی خاصی کتب ہیں اسٹال پر موجود نہیں۔ تو صاحب نے تیوری چڑھا کر چند کتابوں کے نام گنواتے ہوئے کہا کہ جی ان سمیت پطرس کے مضامین کی بھی ایک کتاب تھی جو کہ فروخت ہو گئی۔ یعنی کتاب میلے پر صرف ایک عدد کتاب، واہ رے کتاب میلے، تیری خاموشی پر نثار اور تیرے منتظمین پر سلام۔ دوسری جانب کے اسٹال پر بھی انگریزی کی کتب میں آٹھ دس اردو کتب جھانک رہی تھیں۔
انگریزی ادب کی کتب کو تھام کر تنہائی محسوس کرتے ہوئے جب سوال کیا کہ جی اردو کتب کے ساتھ اتنی نا انصافی کہ کتاب میلے میں جگہ ہی نہیں دی۔ تو جواب ملا کہ ”ذائقے کا اندازہ نہیں تھا کہ لوگ اردو ادب کی کتب کا بھی پوچھیں گے۔“ مانا کہ انگریزی کا کوا بلند پرواز ہے مگر اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ اردو ادب کو لکڑی کی میزوں پر بھی جگہ نہ دی جائے۔ اردو پڑھنے والے ہرگز کم نہیں ہوئے۔
یہ بات بھی ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ مانسہرہ میں کتابوں کے چاہنے والے نہیں ہیں۔ لیکن موقع پر احد احد کی نمائندہ چند کتابیں نوحہ کناں تھیں کہ وہ جو ہمارے چاہنے والے ہیں۔ کہاں ہیں؟ تب ہال کی دیواروں سے اس مصرع کے حروف ابھرتے ہوئے میری جانب بڑھ رہے تھے۔
”یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی“ لیکن اس مصرع کی نفی دھڑا دھڑ شائع اور فروخت ہونے والی کتابیں عملاً کر رہی ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دھوم اور آئے روز کتابوں کی ترسیل، ان پر بات چیت، ان کی طلب اور دیگر شہروں کے کتاب میلوں میں لوگوں کی شرکت، بتاتی ہے کہ کتابیں پڑھنے والے کم نہیں ہوئے۔ ہاں منتظمین کی کام چوری، عدم دلچسپی عین ممکن و مضبوط امر ہے۔
اب بتائیے آپ کسی ایسے خاموش میلے میں چلے جائیں جو اتفاقیہ آپ کے شہر میں لگ رہا ہے۔ جس کی خبر پرلی دیوار کے ساتھ بیٹھے شخص کو بھی نہ ہو۔ جس کا انتظام بس ”یس سر“ ہو جائے گا کی فائل میں دبا ہو۔ اور وہاں آپ کو ناول، کہانی، افسانے سمیت فکشن کی کوئی کتاب نہ ملے۔ اردو سمیت دیگر زبانوں کی کتابوں کی نمائندگی ہی نہ ہو۔ دو پبلشر ایبٹ آباد سے اٹھ کر کتاب میلے کی رونق بڑھانے نہیں گھٹانے آئے ہوں۔ وہاں جس کتاب کا نام لیں تو جواب ملے جی ایک ہی تھی وہ بھی ختم، اور نام شہیدوں میں لکھوانے بالفرض کوئی کتاب خریدنا ہی چاہتے ہوں تو رعایتی قیمت بھی قوت خرید سے باہر تو آپ کسے مشورہ دیں گے کہ صاحب کتاب میلے کو چلیے؟
میں تو خاموش کتاب میلے کی خاموشی کو محسوس کرتے شکر بجا لایا کہ کسی اور کو ساتھ نہیں لے آیا تھا۔ کتابوں سے محبت، کتابیں پڑھیے کے سارے بھاشن مجھے رہ رہ کر یاد آرہے تھے۔ وہ سارے الفاظ مجھے پر سوالیہ نشان لگا رہے تھے۔ خاموش کتاب میلہ دیکھا تو بچوں کا اسلام کے مدیر ”فیصل شہزاد“ یاد آئے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ کاش ہمارے ہاں بھی کوئی کتاب میلہ سجے تو ان کا جواب تھا ”اصل بات یہ دیکھنا ہے کہ کسی بھی شہر کے اہل شہر کتابوں میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں؟
اسی سے اندازہ کیجیے کہ سب سے زیادہ کتابیں لاہور میں چھپتی ہیں، مگر لاہور کا کتب میلہ بمقابلہ کراچی بے رونق ہوتا ہے، کیونکہ زندہ دلان لاہور کی اکثریت کتابوں سے زیادہ کھابوں میں دلچسپی رکھتی ہے۔ لیکن یہی لاہور کے سارے پبلشرز کراچی کتب میلہ میں آتے ہیں تو اہل کراچی بلامبالغہ میلہ لوٹ لیتے ہیں۔ لاہور کتابیں چھاپتا ہے اور کراچی خریدتا ہے۔ ان کی کہی بات خوب سمجھ آ گئی تھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ صرف ایک حکمنامے سے کتاب میلہ کیسے سج جائے؟ کیا دو پبلشر کافی ہیں جن کے پاس ورائٹی ہی نہ ہو۔ کیا تشہیری مہم صرف امداد بانٹنے یا افتتاح کی ہی کی جاتی ہے۔ منتظمین نے مثبت خیال کے علاوہ کیا کیا؟ کسی کتب خانے، اسٹیشنری والوں کو مدعو کیا ہوتا۔ اسکول، کالجز، مدارس کے طلبا کو باخبر کیا ہوتا۔ کسی اخبار میں اشتہار، کچھ دن پہلے دیا ہوتا۔ وہیں معلوم ہوا کہ یہ عمارت پبلک لائبریری کے لیے مختص ہے۔ اور اگر صرف عمارت دکھانا مقصود تھا تو واہ صاحب واہ خوب صورت، وسیع عمارت بنائی ہے۔ جہاں اس روز لائبریری کے مقفل دروازے منہ چڑا رہے تھے۔ پتا چلا اول تو افتتاح نہیں ہوا دوم اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔
کوئی انہیں بتائے بھئی ٹھیک ہے کہ اتوار کو قوم چھٹی مناتی ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ علم و ادب کے فروغ پر بھی قفل چڑھا دیے جائیں۔ وہ زمانہ بھی گیا جب کہا جاتا ”اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا“ ۔ مگر یوں بھی تو ممکن تھا کہ کہ اگر کوئی پبلشر راضی نہیں ہوا تو اپنی لائبریری کے تعارف واسطے ہی دروازے کھول دیے ہوتے۔ آنے والوں کو پتا چلتا یہاں کون سی کتب موجود ہیں۔ کتب کثیرہ دیکھ کر، ان کی خوشبو سونگھ کر کچھ دل کی تسلی کا سامان ہوتا۔ کچھ خوشی کی رمق تو باقی رہتی۔ سوگ کے تانوں بانوں میں الجھا سوالات کے جوابات تراشتے سوچے جا رہا تھا۔ کیا واقعی مانسہرہ کے لوگ کتابوں سے محبت نہیں کرتے؟ اردو ادب کے مطالعہ کا شوق رکھنے والے اس پڑھے لکھے شہر میں ناپید ہو گئے؟
کتاب میلہ کا انعقاد بڑی بات ہے اور یہ ایک بڑی کاروباری ہلچل سہی، مگر بڑی آبادیوں کی توجہ، دلچسپی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا تھا؟ پچیس تیس نہ سہی آٹھ دس اسٹال تو ممکن تھے۔ کیا کاروباری افراد اپنی کتابوں کی فروخت واسطے تشہیری مہم نہیں چلاتے؟ کتابوں سے عشق بے شک کم ہو گیا ہو مگر یہ بات اپنے آپ میں سچ ہے کہ ابھی بہت لوگ کتابیں خریدتے، پڑھتے اور محبت کرتے ہیں۔ مانسہرہ میں پڑھنے والے موجود ہیں بس منتظمین کی ناقص کارکردگی چیخ چیخ کر بول رہی تھی۔ وہ چاہتے تو اس کتاب میلے کو کامیاب کرا سکتے تھے۔ پورے صوبے اور صوبے سے باہر کے ناشرین کو اپنی کتب کی تشہیر و فروخت کے لیے بہتر میدان دے سکتے تھے۔ کتاب بینی کو فروغ دینے کی عملی مشق کر سکتے تھے۔
خیر خاموش کتاب میلے میں خاموشی سے ہم کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے واپسی کی راہ کا سوچ رہے تھے۔ قریب ایک خاتون اونچی ہیل پہنے مٹک رہی تھیں شاید منتظمین میں سے تھیں جو لوگوں کا آنا جانا دیکھ، نوٹ کر رہی تھیں۔ یا ہیل کی آواز پر کتاب سے سر اٹھوا کر محظوظ ہوتیں۔ عین ممکن ہے پبلک لائبریری کی اس عمارت کا حسن بڑھانے ان کو وہاں تعینات کر رکھا تھا۔ ہم نے خانہ پری میں ایک کتاب خریدی اور غمگین صورت لیے باہر کی جانب قدم بڑھا لیے۔


