طارق جمیل: جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے


اب، ہم اور طارق جمیل پی ٹی وی کی کچی آبادی (Extension) کے پکے پڑوسی تھے۔ اس سے پہلے ہم ٹیلیفون بوتھ میں مسز شیروف کے کمرے میں بیٹھتے تھے۔ اس کمرے میں کانا پردہ بھی ممکن نہیں تھا، شیشے کی دیوار سے آر پار سے، آنے جانے والوں کی نظر ہم پر اور ہم، ان پر نظر رکھ سکتے تھے۔ یہ کمرہ ہمارے جثے سے ذرا ہی بڑا تھا کہ ایک دن اقبال حیدر کی قسمت کے ساتھ ساتھ ہماری قسمت بھی چمکی۔ اقبال حیدر، نیچے پکی آبادی میں شفٹ ہو گئے اور ہم ان کے کمرے میں آ گئے۔

پہلی ملاقات : اس روز ہم اپنے کمرے کے تالے سے کشتی لڑ رہے تھے کمبخت ہماری قسمت کی طرح کھل کر ہی نہیں دے رہا تھا کہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا مسکراتا ہوا، آنکھوں میں خلوص اور شفقت کے جگنو بھرے طارق باہر نکلا، اسے دیکھ کر اللہ میاں سے اپنی ناقدری کا گلہ جاتا رہا۔ جب اس قد و قامت کا بڑا ڈائریکٹر بھی کچی آبادی کا مقیم تھا تو ہم کس گنتی میں تھے؟ طارق آگے آیا۔ کیا ہوا؟ ہماری آنکھیں بھر آئیں۔ ایڈیٹنگ ہے اور یہ منحوس تالا نہیں کھل رہا۔

ہٹو! دیکھنے دو ۔ تالے کا معائنہ کرتے ہی ایک شریر سی مسکراہٹ، لبوں پر آئی اور آنکھوں کو چھوتی ہوئی کہیں نکل گئی۔ ایک دم قہقہہ لگایا، بولا۔ اتنی ننھی سی تو جان ہو تم اور دشمنیاں بڑی بڑی پالی ہوئی ہیں۔ کسی بدبخت نے ایلفی ڈال دی ہے۔ ہم ہکا بکا رہ گئے۔ ایلفی؟ ہاں ایلفی۔ ایک منٹ یہیں رکو میں آتا ہوں بلکہ ایسا کرو میرے کمرے میں بیٹھ جاؤ میں ابھی آیا۔ تقریباً بیس منٹ بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ وہ ڈیزائین سے کارپنڑر اور کہیں سے سیکیورٹی گارڈ کو پکڑ لایا۔

گارڈ سے بولا۔ دیکھ لیں تالا، توڑنا پڑے گا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو کا رپنٹر نے تالا، کنڈی سمیت اکھاڑا اور نئی کنڈی لگا دی۔ جب گارڈ اور کارپنٹر چلے گئے تو بولا۔ یہ میں خود بھی کر سکتا تھا ( طارق پہلے کمال کا ڈیزائنر تھا مگر پروڈکشن بلکہ ڈائریکشن کے عشق میں وہاں سے استعفی دے کر پروگرامز ڈپارٹمنٹ جو آئین کر لیا اور تھوڑے ہی عرصے میں اپنے نام کا سکہ جما دیا) ۔ ہماری حیران آنکھیں دیکھ کر بولا۔ مگر یہاں آفس میں ہم سکیورٹی کو انفارم کیے بغیر یوں تالے نہیں توڑ سکتے خصوصاً لڑکیوں کے کمروں کے تالے اور اس کی آنکھوں میں پھر شرارت کے جگنو ناچنے لگے۔

ہم نے جلدی سے شکریہ ادا کیا اور دروازے پر ہاتھ رکھا پھر پریشان ہو گئے کہ کھلا کمرہ چھوڑ کر اب ایڈیٹنگ کے لئے کیسے جائیں؟ جب ان دیکھا دشمن تالے میں ایلفی ڈال سکتا ہے تو ہماری ٹیپوں کو کیوں چھوڑے گا کہیں ان میں بھی ایفی؟ پہلے ہی کسی دل جلے نے میرے ڈیبیو نغموں اور پھر پہلی میوزیکل حمد و نعت کی ماسٹر ٹیپیں غائب کر دی تھیں۔ ان حالات میں کمرہ کھلا چھوڑنا تو سراسر حماقت ہو گی۔ طارق نے بھانپ لیا، بولا۔ ایک منٹ ٹھہرو! پھر اپنے کمرے میں گیا اور ایک نیا تالا اور چابی لے کر آیا۔ یہ میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر رکھا ہوا تھا، آج تمہارے کام آیا۔ اور یوں اس نے ہمارے کمرے کو تالا لگا کر ہماری دوستی کو ۔ ”لاک“ کر دیا

طارق، بہت خوش مزاج، ہنس مکھ، کشادہ دل اور بذلہ سنج انسان تھا، بلکہ واقعی وہ ”انسان“ تھا۔ بات بے بات ہنس پڑتا شاید کسی نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کی ہنسی اور مسکراہٹ بڑی دلکش ہے۔ پی ٹی وی کو اس نے بلاک بسٹر سیریل ”آنچ“ اور ”ادب سال بہ سال“ جیسے لاجواب اور لازوال بلکہ امر پروگرام دیے۔ مگر افسوس! ۔ جب خوبصورت شہزادی، بیہوش، خوبرو شہزادے کے پورے جسم میں چبھی سوئیاں نکال چکی تو بے چاری قسمت کی ماری شہزادی مارے تھکن کے نڈھال سی ہو گئی اور تھک کر سو گئی تو مکار کنیز نے، شہزادے کی آنکھوں کی سوئیاں نکالیں اور خود شہزادی بن بیٹھی۔ معصوم شیزادی منہ تکتی رہ گئی۔ ایسے ہی موقعوں کے لئے تو خسرو جی فرما گئے ہیں۔

کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلا!
آیا کتا کھا گیا کھیر تو بیٹھی ڈھول بجا!

”ادب سال بہ سال“ کمال کا پروگرام تھا ہر جگہ اسی کے ڈنکے بج رہے تھے کیا ادبی حلقے کیا عام ناظر، آنچ کے بعد یہ نیا Mile Stone سیٹ کر کے طارق نے تاریخ رقم کر دی تھی کہ اچانک جب یہ پروگرام اپنے عروج پر تھا تو طارق کا کوئٹہ ٹرانسفر ہو گیا۔ ایسا لگا کہ بلے کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور وہ پروگرام ایک جید ”کور ذوقے“ کو مل گیا اور آخری دو تین پروگرام ”لپیٹ“ کر وہ مکار کنیز، شہزادی بن بیٹھی اور ادب سال بہ سال کے تابوت میں کیلیں نہیں بلکہ میخیں ٹھوک دیں۔ اور دو تین سال کی تپسیا کا پھل یعنی ایوارڈ، طارق کے بجائے اسی کو ملا جس کے سو کالڈ ادبی ذوق کے ڈنکے زبردستی بھجوائے جا رہے تھے۔ قسمت کا یہ تیر، طارق نے بڑی خندہ پیشانی۔ حوصلے اور ہمت سے اپنے سینے میں اتارا۔ مگر پھر بھی کچھ نہ کہنے کے باوجود وہ بہت کچھ کہہ گیا۔ سہ گیا

پھر ایک دن وہ بھی شعیب منصور کی طرح نئے افق پر چمکنے کے لئے چلا گیا۔ اور نہ صرف ڈائریکشن بلکہ ایکٹنگ کے میدان میں بھی نئے جھنڈے گاڑنے لگا۔ کافی دنوں کے بعد ہم، اقبال پر پروگرام ”رہ نورد شوق“ کر رہے تھے۔ شکوہ کے لئے ہمیں کوئی بہت گمبھیر، کھرج والی بلکہ گھن گرج والی آواز چاہیے تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس سے پڑھوائیں کہ اچانک دماغ میں جھماکا سا ہوا اور طارق کو فون گھما دیا۔ طارق! آ سکتے ہو مصروف تو نہیں ہو؟

خلوص سے بولا کام کیا ہے؟ اقبال کی شکوہ پڑھنی ہے۔ ہنس کر بولا۔ ہاں! شکوے تو بہت سے ہیں۔ اچھا آتا ہوں۔ اور ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں وہ اسٹو ڈیو C میں پہنچ گیا، ہم نے اسکرپٹ سامنے رکھا، مسکرایا۔ یہ تو تقریباً از بر یاد ہے۔ خیر سامنے رکھ لیتا ہوں۔ پندرہ منٹ سے کم میں بھی ہم نے ریکارڈنگ کی تو اندازہ ہوا کہ ماشا اللہ اتنا دبنگ لب و لہجہ اس نرم گو انسان کا اپنا ہی تھا۔ ایک جذب کے عالم میں سحر انگیزی کے ساتھ کیا خوب پڑھا کہ مزہ آ گیا

نہ ریکارڈنگ سے پہلے نہ اس کے بعد اس نے کانٹریکٹ کا ذکر تک نہ کیا۔ جانتا تھا ناں کہ ہمارے قبیلے کے لوگ ( پروڈیوسر) کتنے بے بس اور مجبور ہوتے ہیں، جو بجٹ اپروو ہو گیا تو اس سے کم تو ارباب بست و کشاد کو گوارا ہے مگر اس سے ایک پائی بھی اوپر نہیں۔ ہم نے اظہار تشکر کے طور پر کہا۔ طارق! چائے تو پی کر جاؤ۔ ہنس پڑا، بولا۔ یہاں موت تو پہلے آ جائے گی مگر کینٹین کی چائے تو انتظار میں ہی مروا دیتی ہے۔ پھر ایک دم سنجیدہ ہوا۔ رفعت! ایک بہت ضروری کام ادھورا چھوڑ کر صرف تمہاری محبت میں آیا ہوں، پھر کبھی سہی۔ چائے ادھار رہی۔ جب تمہارے کمرے میں چائے بننے لگے گی تو پھر ملیں گے اور پئیں گے، چلتا ہوں۔ ہمارے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور رخصت ہوا۔

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے!
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

طارق! تم اس دنیائے فانی سے چلے تو گئے ہو مگر اب بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہو۔ جیتے رہو۔ وہاں بھی شاد رہو۔ آباد رہو۔ انشا اللہ ایک دن ضرور ملیں گے!

Facebook Comments HS