اکبر لاہوری کا پنجابی افسانہ: آپا


آپ شاید اکبر لاہوری کو نہ جانتے ہوں۔ میں بھی نہیں جانتا تھا۔ مگر آپ تو شاید منیر لاہوری کو بھی نہیں جانتے۔ میں جانتا ہوں۔ کوئی چالیس بیالیس برس پرانی بات ہے۔ میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ تب بی اے کے لئے لازمی اور منتخب مضامین کے علاوہ سو نمبر کا ایک اختیاری مضمون بھی چننا ہوتا تھا۔ اس کے لئے فارسی، عربی اور پنجابی کی فہرست موجود تھی۔ عربی میں مجھے دلچسپی نہیں تھی اور فارسی کے بارے میں رائے بنی کہ زیادہ تر طلبا فارسی اس لئے چنتے ہیں کہ آسانی سے پاس کر لیتے ہیں۔ درویش مشکل پسند تھا۔ پنجابی کا انتخاب کیا۔ وائس پرنسپل کے دفتر کے عقبی کمرے میں کوئی درجن بھر لڑکے پنجابی پڑھنے جمع ہوئے۔ یہاں ہمیں منیر لاہوری پڑھانے آئے۔ نوجوان تو نہیں، البتہ بھرپور جوان تھے۔ بوٹا سا قد۔ خالص لاہوری لہجہ، نرم گفتار۔ سادہ لباس۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ بظاہر بھولا بھالا استاد ہمیشہ کے لئے پنجابی ادب کی محبت میں مبتلا کر دے گا۔ منیر لاہوری نے ہمیں نصاب میں شامل شاعر اور نثر نگار اس دلکش انداز میں پڑھائے کہ شریف کنجاہی، منیر نیازی، انور علی، نواز، افشاں ملک، منظور وزیرآبادی اور خلیل آتش ہمیں اپنے دوست یار معلوم ہونے لگے۔ پنجابی لفظ کی پرتیں ہمارے اندر اتر گئیں۔ منیر لاہوری ایسے پیارے استاد تھے کہ انہوں نے ہمیں کسی زبان سے نفرت نہیں سکھائی، صرف اپنی زبان کی خوبصورتی سے تعارف کروایا۔ یہی ایک بڑے استاد کا نشان ہوتا ہے۔ ایک روز فرمایا کہ اکبر لاہوری پنجابی کا سب سے بڑا کہانی کار ہے۔ میں نے آہستگی سے کہا کہ مجھے تو انور علی کی نثر زیادہ اچھی لگتی ہے۔ یہ استاد سے اختلاف تھا لیکن نہایت شفقت سے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا، "اوہ وی بوہت وڈے نیں۔ ہر فنکار دا اپنا رنگ ہوندا اے۔” کس سلیقے سے کیسا باریک نکتہ سمجھایا تھا۔ دو برس کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا۔ ہم سب تیز تیز قدم اٹھاتے دنیا کے ہجوم میں گم ہو گئے۔ بہت برس بعد ایک دفعہ کسی سے منیر لاہوری صاحب کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ امریکا چلے گئے ہیں۔ مجھے افسوس ہوا کہ اب اس رچاؤ سے کون پنجابی ادب پڑھائے گا؟ آج ڈاکٹر عبدالعزیز ملک نے اکبر لاہوری کے افسانے آپا کا اردو ترجمہ ارسال کیا تو اکبر لاہوری کے ساتھ منیر لاہوری صاحب بھی یاد آئے۔ بڑا فنکار اپنے عہد کا محسن ہوتا ہے اور اچھا استاد زندگی کا احسان ہوتا ہے۔ اکبر لاہوری 1976ء میں وفات پا گئے تھے۔ میری دعا ہے کہ منیر لاہوری آج جہاں بھی ہوں، سلامتی اور خوشیوں کی چھایا ان پر سایہ فگن رہے۔ (و – مسعود)

٭٭٭       ٭٭٭

میں نہر کنارے سائیکل دوڑائے چلا جا رہا تھا کہ اچانک کہیں سے ایک آدمی نمودار ہوا اور سائیکل سے آ ٹکرایا۔ میں گرتے گرتے بچا اور سائیکل کو پٹڑی کے سہارے کھڑا کر کے، پیچھے پلٹا اور اسے اٹھانے لگا۔ وہ منہ کے بل گر پڑا تھا اور اب خود ہی اٹھ کر کپڑوں سے مٹی جھاڑ رہا تھا۔ میں بھی اس کے کپڑے جھاڑنے لگا۔ اس کی شکل و صورت دیکھی تو وہ پچیس تیس برس کا جوان تھا۔ اس نے انگریزی سوٹ پہنا ہوا تھا اور بوٹوں پر پالش بھی تازہ تھی لیکن انگریزی فیشن کے کپڑے اس پر اجنبی محسوس ہو رہے تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے اس نے انگریزی لباس، اپنا روپ بدلنے کے لیے پہنا ہوا ہو۔ میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا:

”معاف کرنا یار! مجھ سے بھول ہو گئی ہے۔ ایمان سے مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ سائیکل کیسے آپ سے جا ٹکرائی“

اس نے کہا ”آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! مجھے بھی کبھی معلوم نہیں ہو پایا کہ سائیکلیں مجھ پہ کیسے آ چڑھتی ہیں۔“ میں سمجھا مجھ سے مذاق کر رہا ہے۔ اس کے دانت نکالنے اور سوں سوں شڑکارے مارنے سے محسوس ہوا کہ وہ سیدھا سادہ اور بے وقوف ہے۔ مجھے اس پہ ترس آ گیا اور میں نے پوچھا:

” بھائی جان کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں آئی؟“

” چوٹ ووٹ تو نہیں آئی پر آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! جو میری آپا دیکھ لیتی تو میں نے کہنا تھا“ اوئے ربا! میں مر گیا تو پتا ہے کیا ہونا تھا۔ اس نے سلیپر اتارنا تھا اور دھڑا دھڑ تمھارے سر پہ بجتی، تو پھر مزا آنا تھا۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! ”

مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میں کسی پاگل خانے سے فرار سودائی سے ہم کلام ہوں پر اس کے پہناوے اور شکل و صورت نے میری حیرانی میں اضافہ کیا تو میں نے اس سے پوچھ ہی لیا ”کہاں ہے تمھاری آپا؟ وہ اتنی زور آور ہے کہ راہ جاتے مسافروں کو ، اپنے بھائی سے چڑ کر، پھینٹی لگا دیتی ہے۔“

کہنے لگا ”آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! میری آپا بہت زور آور ہے جی! تمھیں نہیں نہ پتا۔ یہاں بیٹھ جاؤ۔ میں تمھیں بتاتا ہوں اس سے تو دینا سائیں بھی ڈرتا ہے“ مجھے اس کی باتوں میں لطف محسوس ہوا۔ سیدھے سادے آدمی کی سیدھی سادی باتیں، اس میں کوئی تصنع نہ ریا، نہ چھپ چھپا، نہ سوچ بچار۔ ایسے جیسے سینہ کھول کر کف دست پہ رکھا ہو اور پھونکیں مار مار کر اس کی خوش بو چہار سو پھیلا رہا ہو۔ میں اس کے قریب ہوا اور استفسار کیا :

”دینا سائیں کون ہے؟“

” لو! آپ تو دینے سائیں کو بھی نہیں جانتے۔ بھلا اسے شہر میں کون نہیں جانتا۔ اس جیسا سخی کون ہے جو راہ جاتے راہیوں کو پانچ پانچ روپے کا سوٹا مفت لگوا دیتا ہے۔ دربار کے پیچھے اس کا ڈیرہ ہے۔ یہ دیکھیں! دو سگرٹوں میں، اس نے مجھے اپنے ہاتھ سے چرس بھر کر دی ہے۔“ جا پتر عیش کر ہمارے مال پہ ”ساتھ ہی اس نے نیفے میں سے سگرٹ نکالا، سلگایا اور مجھے صلح ماری۔ میں نے کہا:

”نہیں میں سگرٹ نہیں پیتا اور چرس والا سگرٹ تو بالکل نہیں پیتا“ کہنے لگا :

” آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! تو پھر آپ شراب پیتے ہوں گے۔ دینا سائیں کہتا ہے جو چرس نہیں پیتے وہ شراب پیتے ہیں۔ بندہ نشے کے بغیر نہیں رہ سکدا۔ نشہ گیا تو بندے میں رہ کیا گیا؟“

میں نے کہا ”آپ مجھے یہ تو بتاؤ، دینا سائیں تمھاری آپا سے کیسے ڈرتا ہے؟ کہنے لگا

” میری آپا زور آور جو ہوئی۔ بدو بدی لوگوں سے جھگڑا کر لیتی ہے۔ میری آپا اور میں اکٹھے رہتے ہیں نا! اپنے بابے کے گھر میں۔ میرا بابا بہت اچھا تھا، ہمیں بڑا خوب صورت گھر بنا کے دے گیا ہے، مجھے اور میری آپا کو “

میں نے پوچھا : ”آپ کہاں رہتے ہیں؟“

کہنے لگا ”ہم پہلے اپنے گاؤں میں رہتے تھے۔ بہت خوب صورت ہے ہمارا گاؤں۔ ہمارے گاؤں کو کل عالم جانتا ہے۔ سارا پنجاب، پاکستان، ہندوستان، لاہور جانتا ہے۔ ہم وہاں کے چیمے ہیں، چھیمبے۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! وہاں کے بڑے چودھری نے کام بھیجا، تو میرا بابا راستے ہی سے لوٹ آیا۔ اسے بخار ہو گیا تھا نا! چودھری سے آ کر کہا۔ مجھے بخار ہو گیا ہے، میں کام پہ نہیں جا سکتا۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی!

ہیں جی! چودھری نے میرے بابے کو ڈنڈا مارا اور کہا تم حرام خور بڑے کام چور ہو گئے ہو۔ تمھارے مغز میں کوئی کیڑا کلبلاتا رہتا ہے۔ اپنے کمرے کا ملبہ اٹھاؤ اور آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! میرے بابے نے ملبہ بھی نہ اٹھایا۔ گھر کا بوریا بستر بیل پر لادا اور اوپر مجھے اور میری آپا کو بٹھا کے شہر آ گیا۔ یہاں آ کر میرے بابے نے لام ڈوری (لانڈری) کھول لی“

” لام ڈوری؟“ میں نے استفسار کیا ”لام ڈوری کیا ہوتی ہے؟“

کہنے لگا ”آپ کو یہ بھی نہیں پتا؟ لام ڈوری، جہاں لوگ آ کر اپنے کپڑے دھونے کے لیے دے جاتے ہیں اور میرے بابے نے اپنی لام ڈوری کا نام رکھا“ کوریشی لام ڈوری ”۔ میں نے پوچھا“ بابا کوریشی تو ہمارے گاؤں کے مولوی کو کہتے ہیں، ہماری لام ڈوری کوریشی کیسے بن گئی؟ بابے نے کہا ”آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! ۔ اوئے چپ کر کملیا! مولوی صاحب بھی اسی طرح کوریشی بن گئے ہیں جیسے ہماری لام ڈوری کوریشی بن گئی ہے“ تے آہو نا جی!

دیکھو نا جی! ہیں جی! ہمارا کام کافی چلا۔ بابا تاروں کی چھاؤں میں دریا کی سمت جاتا۔ ہمارا بیل کافی اتھرا سا تھا۔ ہمارے باپ کے بغیر کسی کے قابو نہیں آتا تھا۔ لوگ کہتے تھے تمھارا باب چھے کھیت مزدوروں جتنا کام کرتا اور اس کا بیل آٹھ بیلوں کے برا برا وزن اٹھا تا تھا۔ دونوں کی جوڑی انوکھی ہے۔ میں لام ڈوری میں بیٹھ کے کپڑے اکٹھے کرتا، آپا استری کرتی اور مدرسے پڑھنے بھی جاتی۔ میں نے مسجد میں صرف حرفوں کی پہچان سیکھی تھی پر میری آپا تو زیادہ پڑھ لکھ گئی ہے۔ چوداں چوداں، پندھراں پندھراں جماعتوں کو ہاتھ مارا ہے اور اب تو خود لوگوں کو پڑھانے جاتی ہے۔ بڑی ہشیار ہے میری آپا۔ جیسے ہماری لام ڈوری کوریشی ہو گئی تھی نا! اس دن سے میری آپا بھی کوریشی ہو گئی ہے اور کوریشی کہلاتی ہے۔ ”

میں نے کہا ”تمھارا بابا اب کہاں ہوتا ہے؟“

” وہ مر گیا ہے جی! ہم اسے گاؤں جا کر دفنا آئے تھے، مرتے ہوئے کہتا تھا، مجھے میرے ماں باپ کے ساتھ دفنانا۔ مرنے سے کچھ دن پہلے وہ ہمیں یہ (گھر) بنا کر دے گیا تھا، جہاں میں اور میری آپا رہتے ہیں۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! جب میرا بابا گھر بنانے لگا تو پڑوسی ہمیں جگہ نہیں خریدنے دیتے تھے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا ان کا کمرہ بن گیا تو امیر لوگ یہاں جگہ نہیں خریدیں گے اور ہماری کوٹھیوں کی قیمت گر جائے گی۔

آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! ہم نے تو یہاں رونق بنائی تھی۔ لوگ ہمیں کیوں روکتے تھے؟ مجھے تو پتا نہیں چلا، کیوں ہمیں روکتے تھے؟ میری آپا نے ان سے بہت باتیں کیں۔ کہتی تھی مرتے ہوئے اسے سینے پہ رکھ کے لے جانا ہے، ان زمینوں کو ۔ زندہ ہوتے ہوئے ہم سے الگ بسنے کا مطالبہ کرتے ہو تو مرنے کے بعد بھی الگ قبرستان میں قبر بنانا۔ پھر ہمارے بابے نے ہمیں کمرہ بنا دیا پر اس کے نیچے لام ڈوری نہیں بنائی۔ آپا نے اسے روک دیا تھا۔ کہنے لگی اب ہم یہ کام نہیں کریں گے۔ بڑی سخت ہے میری آپا۔ بابے کو لام ڈوری نہ بنانے دی“

” ہاں بھائی! ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے تیری آپا بڑی سخت ہے۔“ میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ”سخت کیوں نہ ہو“ اس نے ایک اور مثال دی ”جس بڑے چودھری نے ہمیں گاؤں سے نکالا تھا اس کی بیٹی کی یہاں شادی ہوئی ہے۔ اس کا بیاہ ہوا تو انھوں نے ہمیں بلایا تھا۔ آپا نے کہا“ ہم نہیں جاتے انھوں نے ہمیں کمی کمین سمجھ کے بلایا ہے۔ ”کوئی شہر دار سمجھ کے نہیں بلایا“ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! گاؤں میں سب ہمیں کمیں کہتے ہیں۔

ویسے تمام گاؤں کے لوگ فجر کے وقت مرغ کی بانگ کے ساتھ اٹھ کر اپنے کام کاج میں مصروف ہو جاتے ہیں، بیل جوتتے ہیں، گندم کے دانے الگ کرتے ہیں، کھیتوں کو پانی دیتے ہیں، بھوسے کی لپائی کرتے ہیں، جانوروں کو چارہ ڈالتے ہیں، ہر کوئی مٹی کے ساتھ مٹی ہوا ہوتا ہے۔ کسی کو سر میں خارش کرنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی۔ عورتیں کپاس چنتی ہیں، مکئی چھیلتی ہیں، گوبر تھاپتی ہیں، بالن ڈھوتی ہیں، پیستے پکاتے دن گزارتی ہیں۔ مرد جانوروں کو چراتے ہیں۔

سارے مرد عورتیں، بڑے چھوٹے تاروں کی چھاؤں میں اٹھتے ہیں اور دن ڈھلے گھر آتے ہیں۔ چاہے کوئی ساہو کار ہو یا کوئی کمیں ہو۔ ویسے ہمیں کمیں کہتے ہیں آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! یہ کیسی بات ہوئی ”اس کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں تھا، اگر ہوتا بھی تو میں کیسے سمجھا سکتا۔ پر یہ جاننے کے لیے مجھ میں یہ عجلت ضرورتھی کہ چودھری کی بیٹی کو بیاہ کے بلاوے پر کیا جواب بھیجا۔ میں نے پوچھا“ تم یہ بتاؤ تمھاری آپا چودھریوں کے بیاہ پہ گئی یا نہیں؟ ”

” کہنے لگی میں نے نہیں جانا وہاں۔ وہ راٹھ ہوں گے تو اپنے گھر ہوں گے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ آپا چودھری کی بیٹی غصے ہو گئی تو ؟ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! آپا نے سرخ آنکھیں نکال کر مجھے دیکھا اور کہا“ بیٹھ جا وے طوطیا ”جب وہ مجھ سے غصے ہو تو وہ مجھے یہی کہتی ہوتی ہے۔“ بیٹھ جا وے طوطیا ”کبھی کبھی پیار سے یوں بھی کہتی ہے“ طوطیا من موتیا ”ویسے میں اس سے بڑا ڈرتا ہوں۔ ایک دفعہ اس نے طوطے کی گردن مروڑ دی تھی“ ۔

” یہ کیوں؟“ میں نے بھی ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

کہنے لگا ”طوطا تب سے ہمارے پاس تھا جب سے ہمارے باپ کی لام ڈوری ( لانڈری) چلتی ہوتی تھی۔ طوطے کا پنجرہ دروازے کے ساتھ لٹک رہا ہوتا تھا اور گھر کی پچھلے جانب آپا استری کرتی ہوتی تھی۔ بابا آواز لگاتا تھا“ پتر گاہک لینے کے لیے کھڑا ہے اور تم نے ابھی کپڑے استری نہیں کیے۔ آپا نے جلدی جلدی کپڑے استری کر دینے۔ طوطا بھی ساری باتیں سنتا تھا۔ جو سنتا تھا وہی کہتا تھا جب بابے نے نیا گھر بنایا تو آپا نے لام ڈوری بند کرا دی۔

اب طوطے کا پنجرہ آپا کی باری میں لٹکا رہنے لگا۔ یہ تب کی بات ہے جب آپا پڑھانے جانے لگ پڑی تھی۔ ایک دن آپا کی سہیلیاں آئیں تو وہ ان کے لیے چائے بنانے لگ پڑیں۔ اوپر سے طوطا بولا ”پتر گاہک لینے کے لیے کھڑا ہے اور تم نے ابھی کپڑے استری نہیں کیے“ بس جی سہیلیوں کے جاتے ہی اس نے طوطے کی گردن مروڑ دی۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! کسی دن میری بھی گردن نہ مروڑ دے۔ ”میں نے اس کو تسلی دی“ نہیں، تمھاری تو وہ آپا ہوئی نا۔ دیکھیں تمھیں کیسے پیارے کپڑے سلوا کے دیے ہیں ”

کہنے لگا ”سلوا کے نہیں دیے، خود سی کے پہنائے ہیں۔ بڑی کاریگر ہے۔“

میں نے کہا ”وہ بات تو بیچ میں رہ گئی۔ تمھاری آپا چودھریوں کے بیاہ پہ نہیں جا رہی تھی۔ تم نے پوچھا تھا، کہیں چودھریوں کی بیٹی غصے نہ ہو جائے، تو پھر تمھاری آپا نے کیا کہا؟“

کہنے لگی ”بیٹھ وے طوطیا! میں کیا جانتی ہوں اس کتی کمینی کو “
” تو پھر کیا ہوا؟“ میں نے پوچھا

کہنے لگا ”وہ نہ گئی تو میں چلا گیا۔ ہمارے گاؤں کے چودھری جو ہوئے۔ چودھریوں کی بیٹی نے اپنے ہاتھ سے مجھے سالن ڈال کر دیا، اس میں ڈھیر ساری بوٹیاں، اور کہا کھاؤ جتنا جی کرتا ہے۔ ویسے سب کے ساتھ بٹھا کر روٹی نہیں کھلائی۔ جب سب مہمان کھا بیٹھے تو دوسرے کمیوں کو رخصت کر کے مجھے ساتھ بٹھا کے کھانا کھلایا۔ ویسے بڑی اچھی ہے چودھریوں کی بیٹی۔ اس کا خاوند بھی بڑا اچھا ہے۔ پھل جنٹلمین ہے۔ سوٹ بوٹ پہنتا ہے۔ موٹر پہ چڑھے تو جٹوں کی طرح پنجابی بولتا ہے۔ میری آپا تو ہر کسی کے ساتھ گٹ مٹ، گٹ مٹ کرتی رہتی ہے۔ پنجابی بھی بولے تو میموں کی طرح آواز نکالتی ہے۔“

” چودھریوں کی بیٹی نے تمھاری آپا کا نہیں پوچھا؟“ میں نے یہ بات تو اس سے ضرور پوچھنی تھی۔

کہنے لگا ”جاتے ہی پوچھا تھا کہ تمھاری بہن نہیں آئی؟“ میں نے کہا وہ نہیں آتی۔ ”چودھری کی بیٹی کہنے لگی“ تو نہ آئے، سو دفعہ نہ آئے، میں کیا جانتی ہوں اس کتی کمینی کو آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! یہ عورتیں ایک دوسرے کی صحیح خبر رکھتی ہیں۔ میری آپا نے یہی کچھ کہا اور چودھریوں کی بیٹی نے بھی یہی کچھ کہا۔ ”

میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے کہا ”دل کو دل سے راہ ہوتی ہے“
کہنے لگا ”آپا بہت ڈاڈھی ہے۔ اس نے اپنے خصم کو بھی پشت پہ لات مار کے، گھر سے نکال دیا تھا۔“
میں نے پوچھا ”کہاں بیاہی ہوئی تھی تمھاری آپا؟“

کہنے لگا ”سڑک کی دوسری جانب چوبارے میں ایک بابو آ کر رہا۔ وہ بھی کسی گاؤں کا تھا۔ بڑا بانکا ٹیڈا۔ ہر وقت لشکا پشکا رہتا تھا۔ کسی دفتر میں نوکر تھا۔ کام سے آ کر سارا دن ریکارڈ لگائے رکھتا تھا۔ کبھی کبھی ریکارڈ کے ساتھ خود بھی گانے لگتا تھا۔ ایک دن میری آپا نے اس سے ریکارڈ منگوا بھیجا۔ میری آپا کے پاس بھی دو باجے ہیں ریکارڈ والے۔ ادھر آپا نے ریکارڈ چلایا تو بابو کھڑکی میں کھڑا ہو کر سہج سہج کر گانے لگا۔

اگلے دن آپا نے اس سے ایک اور ریکارڈ منگوا بھیجا۔ وہ خود ہی لے کر آ گیا۔ آپا نے اس سے کہا، اندر آجائیں، آپا نے اس کے سامنے باجے پر ریکارڈ چلایا تو وہ بھی سہج سہج کر گانے لگ پڑا، پھر نہ جانے اس کے دھیان میں کیا آیا۔ وہ نہایت عجز و انکسار سے میری آپا سے معافی مانگنے لگا، کہنے لگا مجھ سے بھول ہو گئی، مجھے آپ کے کمرے میں آ کر گانا نہیں چاہیے تھا۔ میری آپا کھڑ کھڑ ہنسنے لگی۔ جب وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے تو بہت خوب صورت لگتی ہے۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی!“ میں نے کہا ”تو پھر؟“

کہنے لگا ”پھر وہ اور آپا کبھی کبھی تماشا دیکھنے اکٹھے جانے لگے۔ سچی بات بتاؤں مجھے وہ بابو اچھا نہیں لگتا تھا“

” کیوں؟“ میں نے پوچھا

” ایک تو وہ میری آپا کو آپا نہیں کہتا تھا۔ کچھ اور کہتا تھا پر آپا کو برا نہیں لگتا تھا۔ ایک دن بھل بھلیکھے، میں اسے بہن جی کہ بیٹھا تھا۔ وہ غصے سے لال پیلی ہو گئی تھی۔ کہنے لگی۔ مر گئی ہے تمھاری بہن۔ مجھے پھر بہن جی نہ کہنا۔ آپا کہا کر ۔ کہاں سے پیچھے پڑ گیا ہے یہ پیدائشی پینڈو، لیکن بابو کو کچھ بھی نہیں کہتی تھی۔ اس کا نام پکارتی تھی۔ وہ آگے سے مسکراتا رہتا تھا۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! اسی طرح سارے لوگ میری آپا کے سامنے مسکراتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ غصے سے کوئی بھی بات نہیں کرتا۔ وہ اچھا بھلا بنا بنایا گوشت واپس کر دے تو بودی قصائی بھی مسکراتا رہتا ہے۔ کوئی اور بحث کرے تو بوٹیاں ان کے منھ پہ دے مارتا ہے، کہتا ہے میری طرف سے کتوں کو ڈال دیں، میں بنے ہوئے گوشت کا کیا کروں۔ میری آپا کے سامنے نہیں بولتا، اس کا کان تک نہیں ہلتا“

میں نے کہا ”آہو بھائی! رستم زماں گاما پہلوان جو ہوئی تمھاری آپا۔ بیچارے قصائی نے کیا کہنا ہے تمھاری آپا کو ، پر تمھیں بابو کیوں اچھا نہیں لگتا تھا؟“

جب بھی آتا تھا مجھے وہاں سے کھسکانے کی کرتا تھا۔ کبھی کہتا تھا جا سگرٹ لے کے آ۔ کبھی کہتا جا پان لے کے آ۔ کبھی کہتا اس شدائی کو پاگل خانے بھیجو، اس کا دماغ ٹھیک ہو۔ کبھی کہتا اس کے اوپر ایسے ہی روپے ضائع کر رہی ہو۔ اس کو سوٹوں بوٹوں کی کیا ضرورت ہے۔ اس کو کھدر کے کپڑے پہناؤ اور گامے شاہی جوتا خرید دو ، جو اسے اچھا بھی لگے۔ ایک دن میں نے سنا آپا کو کہ رہا تھا، یہ مکان فروخت کر دینا چاہیے۔ یہاں پڑوس اچھا نہیں۔

آپا نے کہا میرے باپ کے ہاتھوں کا بنا مکان مجھ سے چھوڑا نہیں جاتا، یہ سننا تھا کہ میرا دماغ پھر گیا۔ میں نے کہا اس بابو نے تو میری آپا سے ایک دن یہ بات منوا لینی ہے۔ آپا پتلی کی طرح اس کی تار پر ناچنے لگی تھی۔ اگر آپا نے یہ گھر بیچ دیا تو ہم کہاں جائیں گے۔ یہ گھر ہمیں اپنے باپ جتنا پیارا لگتا تھا آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! میں ایک دن صدقے دینے سائیں کے پاس گیا۔ وہ بڑا سیانا ہے۔ اس کا بڑا تویت ( تعویذ) دھاگا چلتا ہے۔ میں نے کہا سائیں کوئی ایسا تویت کر دے جو یہ بندہ میری آپا کی جان چھوڑ جائے۔ دینے سائیں نے ایک ہی سوٹے میں چرس کا دھواں سارے کمرے میں پھیلا دیا اور سلفے کی لاٹ میں سے مجھے دیکھ کر بتایا۔ دینا سائیں سلفے کی لاٹ میں سے عرش کی لکھتیں پڑھ لیتا ہے۔ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی!

” کیا کہا دینے سائیں نے؟“ میں نے پوچھا۔

” دینے سائیں نے کہا۔ کملیا یہ روگ دم درود، تویت دھاگے کے ساتھ جانے والا نہیں۔ یہ جوانی کا جن ہے۔ جوانی کا جن۔ اس وقت نہ تمھاری آپا کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور نہ اس کے کان سن رہے ہیں۔ اس لیے کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس نے برسے بغیر صاف نہیں ہونا، اگر یہ گھٹا برس گئی تو اس کا زور کم پڑ جائے گا اور پھر آسمان صاف ہو جائے گا۔ میرے رب نے چاہا تو بابو کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ اس بابو کی پینگ کو ہلارے لینے دو ۔ جب پورے ہلارے پہ آئے گی تب ٹوٹے گی۔ اور اسی طرح ہوا۔

ایک دن بادل چھایا ہوا تھا۔ دن دیہاڑے اندھیرا چھا گیا۔ اس دن بابو نے چار لوگ بلا کر میری آپا سے نکاح پڑھ لیا۔ کچھ دنوں بعد جب اس نے سگرٹ لینے بھیجا تو میری آپا نے کہا ”اس کام کے لیے نوکر رکھیں، میرا بھائی آپ کا ملازم نہیں“ ایک دن اس نے مجھے پان لینے کے لیے بھیجا تو آپا نے کہا ”آپ کو سگرٹ سے جو روکا تھا، ابھی مت نہیں آئی؟“ پھر بابو نے نوکری چھوڑ دی اور وہ ہمارے ہی چوبارے میں رہنے لگا۔ کہتا تھا ”میرے دفتر والے نہیں جانتے میں کتنا اونچا ہوں۔ ان میں سے کوئی میرے ٹخنے کو بھی نہیں پہنچتا۔“ میں فنکار ہوں ”آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! ویسے تو بابو چھوٹے قد کا تھا اور میرے سے بھی ایک انگلی چھوٹا ہی ہے۔ اس کے دفتر والے اس کے ٹخنوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتے تھے؟ وہ بالکل ہی بالشتیے ہوں گے؟ آپا یہ بات سن کر طیش میں آ گئی اور بابو کے گلے پڑ گئی۔ “ وے میں جانتی ہوں کہ تم کتنے فنکار ہو۔ ایسے ہی ٹوٹے جوتے کی طرح بڑھتے نہ جاؤ۔ تم نہ اونچے ہو، نہ فنکار ہو۔ تم نکھٹو اور حرام خور ہو۔ تم فارغ بیٹھ کر عورت کی کمائی کھانا چاہتے ہو، بے غیرت! اور کوئی بات نہیں ”کچھ دن گزرے تو بابو نے پھر کہا“ اس بھائی کو سوٹ بوٹ کی کیا ضرورت ہے۔ اس کو کھدر کے کپڑے پہناؤ اور اس کے لیے گامے شاہی جوتے منگواؤ ”آپا نے کہا“ بکواس نہ کرو جی! میرا بھائی ہے، میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ ”آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! جیسے لوگ تماشے میں بولتے ہیں۔ اس نے کہا میرے اور بھائی میں سے ایک کو چن لو“ میری آپا نے اس کی پشت پر لات مار کر اسے گھر سے نکال دیا اس کے بعد بابو ہمارے گھر داخل نہیں ہوا۔ دینے سائیں کی کرامتیں ہوئی نا! ”

”اب تمھاری آپا کیا کرتی ہے؟“ میں نے پوچھا۔

” کرنا کیا ہے، اسی طرح مدرسے جاتی ہے۔ بگھی پہ سیر کرتی ہے۔ مجھے کھلاتی پلاتی ہے، کسی کی بات نہیں سنتی۔“

اتنی دیر میں ایک بگھی آ کے رکی، کوچوان کی جگہ بیٹھی ہوئی، باگیں کھینچتی، چھانٹا ہلارتی، ایک بانکی اور پھرتیلی مٹیار نے بجلی کی طرح کڑک کر کہا ”یہاں بیٹھ گئے ہو طوطے۔ گھر نہیں جانا! ؟ اس کے منھ سے بس یہ نکلا“ آپا۔ ”اور وہ ایسے کان لٹکا کر اس کے پیچھے جا بیٹھا جیسے کوئی اصیل پالتو کتا ہو۔ وہ پیچھے دیکھے بغیر بولا“ آہو نا جی! دیکھو نا جی! ہیں جی! ”

مترجم: ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

Facebook Comments HS