میونسپل لائبریری اور بدذوق لائبریرین (2)


            

باہر معمول کی چہل پہل جاری تھی۔ دماغ کے کسی گوشے سے کوئی شاعر گنگنائے تھے۔ ”قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو“ اور قوم کتابوں میں کیا اترتی وہ تو شکم سیری کو خورش گاہوں میں گوڈے گوڈے پھنسی ہوئیٴ تھی۔ باقی رہ جانے والی نیلام گھروں کی رونق بڑھا رہی تھی۔ کشمیر روڈ پر لنڈے کی دکانوں پر ہجوم بتا رہا تھا کہ لنڈے کتاب میلوں پر بھاری ہیں۔ نیلام گھروں پر خوب گہما گہمی تھی۔ جیسے نیلام کنندہ مفت بانٹ رہا ہو۔

لوگ مختلف پہناوے پسند کرتے، نہیں بھی خریدتے تو ہماری طرح انگریزوں کی اترن دیکھ دیکھ آگے بڑھ رہے تھے۔ اترن کتاب و ادب پر حاوی تھی۔ شاید لنڈے کا سامان یخ بستہ ہواؤں، کہرے کی راتوں اور سردی کی شاموں میں طمانیت کا احساس دلاتا ہو۔ مگر کتاب تو زندگی اور رموز زندگی سکھاتی ہے۔ جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔ شعور و آگاہی دیتی ہے۔

کسی دانا نے کہا تھا: انسان قدرتی مناظر اور کتابوں کے مطالٔعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ لیکن اب انسان سمجھنے لگا ہے کہ اسے سیکھنے کی ضرورت نہیں اور یہی وجہ ہے اس نے کتاب سے رشتہ کمزور کر لیا۔ یہ تعلق کمزور پڑا تو اخلاقیات کے باب میں بھی گراوٹ آنے لگی۔ کیوں کہ کتاب وسعت ظرفی، کشادہ دلی سکھاتی ہے۔ مگر ہم جدیدیت کے مارے مزید جاہل ہو گئے۔ خیر سوچوں کے سمندر میں ڈوبے توہم گڑھی روڈ پر آ نکلے۔ یہاں بھی معمول کی بھیڑ تھی۔ بائیں ہاتھ میونسپل لائبریری کی پرانی عمارت کھڑی دیکھی جس کا بھاری بھرکم مضبوط دروازہ کھلا تھا۔ جہاں سے اوراق کی بو باہر نکل کر نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر ہال میں داخل ہوئے تو قدامت نے استقبال کیا۔ مگر لائبریری کی فضا پر سکوت چھایا ہوا تھا اور کتابیں اپنی قرار گاہ سے جھانک رہی تھیں۔

روزنامہ پرچہ جات کے تختوں پر اخباریں ڈوریوں سے بندھی ہوئی تھیں۔ مٹی کی دیوار کے آگے لگی برسوں پرانی الماریوں میں کتابیں بکھری پڑی تھیں۔ بے ترتیب کتابیں کسی مرد باذوق کی منتظر نوحہ کناں تھیں۔ کتابوں سے محبت کرنے والے ہاتھوں کے انتظار میں دروازے پر لگائے بیٹھی تھیں۔ میز کے پیچھے دو افراد بیٹھے ہیٹر پر ہاتھ تاپتے ہنس رہے تھے۔ ساتھ ایک جلتی سکرین میں جذب ہو کر آتش عشق کو ہوا دے رہے تھے۔ ہماری کھنکار پر سر اٹھایا مگر پھر محو ہو گئے۔ شاید ان کے اندر کا آتش جوان تھا۔ گرمی دل کے ماروں کو مصروف چھوڑ کر ہم ایک گوشے کی طرف بڑھ گئے۔ تاریخی عمارت کی مٹی سے مزین دیواریں صدیوں پرانی کہانی بیان کر رہی تھیں۔

فرش پر کندہ عبارت بتا رہی تھی کہ 1937 کی عمارت جو سردار گوپال سنگھ سیٹھی سکنہ حضرو کی یادگار ہے۔ اچھے وقتوں میں سکھوں کی عبادت گاہ تھی۔ جو اب میونسپل لائبریری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انسان اور کتاب کا رشتہ اس عمارت سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ اس لاوارث لائبریری میں غیر ذمہ دار ملازمین کے مطابق اٹھارہ ہزار کتب گرد میں اٹی ہوئی موجود ہیں۔ تاریخی عمارت کی الماریوں میں تاریخی خزانہ دیمک چاٹ رہا ہے۔ لائبریری کے غیر ذمہ دار فخر سے بتا رہے تھے کہ یہاں بہت پرانی پرانی کتب موجود ہیں جنہیں سال میں تین بار دھوپ لگائی جاتی ہے۔ جب کہ کتابوں کی خستہ حالت چیخ چیخ کر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی کہانی سنا رہی تھیں۔ اردو، انگریزی، عربی، اسلامی، سائنسی کتب آپس میں مدغم الٹی پڑی تھیں۔ بہت سے شیلف بے ترتیب دھول مٹی سے اٹے ہوئے تھے جس کا معنی تھا کہ کافی عرصہ سے کسی نے چھوا نہیں۔ کوئی دیکھ بھال نہیں۔

نایاب کتب کا خزانہ مٹ رہا ہے۔ تاریخی ثقافتی عمارت بے خیالی میں راہ عدم پر ہے۔ کتابوں کی حالت زار بتا رہی تھی کہ ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ کیا ہی اچھا ہو گر علم کے خزانے کو کوئی صاحب ذوق میسر آ جائے۔ پبلک لائبریری کی بنیاد بہت اچھی بات ہے۔ جتنے علم کے مراکز، کتب خانے، لائبریریاں زیادہ ہوں گی سماج میں مثبت بدلاؤ آئے گا اور لوگ علم و کتاب کی طرف متوجہ ہوں گے۔ لیکن جہاں علمی میراث محفوظ ہو اس لائبریری کے حال سے بے خبر بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کتابیں تنہائی کی ساتھی ہیں مگر میونسپل لائبریری کی کتب تنہائی کا شکار ہیں۔

گویا یہ صدی تنہائی کی صدی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کوئی صاحب اختیار میونسپل لائبریری میں کام چور ملازمین کی بدلی کر کے ان کی جگہ ایک دو لائبریرین تعینات کر دیں۔ جو قفل کھول کر ہیٹر ہی نہ تاپیں، کتابوں کو چھو کر محبت بھرا لمس ان زندہ لاشوں میں منتقل کر کے انہیں زندگی عطا کر دیں۔ ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہر شیلف پر رکھی ہر کتاب شکرگزار ہو گی۔ الماریوں کے خانے ٹٹولنے پر شبہ ہوا جیسے ڈھیروں کتابیں یہاں سے غائب ہوں۔

اردو کی خاصی کتب ایسی ہیں جو پہلے موجود تھیں مگر اب موجود نہیں۔ بہرحال ان کتب کی فہرست بنے، ریکارڈ ہو۔ بالترتیب شیلف سجے ہوں۔ کوئی آئے تو اس کو کتابوں کی آرائش ستائش پر مجبور کر دے۔ ہر نئی شائع ہونے والی کتاب موجود ہو۔ خیر یہ تو بس خیال ہیں اور خواب ہیں۔ بقول کسے : ”یہی ہے زندگی کچھ خواب، چند امیدیں“ ۔ خواب اور تعبیر کی کشمکش میں دیکھتے ہیں جیت کس کی ہوتی ہے۔

خوف مگر یہ ہے کہ یہ دو منزلہ خوبصورت عمارت، تاریخی اور قومی ورثہ اپنے ہی ہاتھوں دیکھتے، دیکھتے معدوم ہو جائے گا۔ اجڑی کتاب گاہ خستہ حالت میں آدم بو کا ورد کرتی وقت پورا کر رہی ہے۔ اگر توجہ نہ دی گیٴ تو تاریخی کتب کے غائب ہونے کے ساتھ ساتھ عمارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اوپری منزل پر رکھے شیلف بھی نوحہ خوانی میں مصروف تھے۔ ضخیم دیوان اپنے جسم پر لگے دیمک کا گلہ کر رہے تھے۔ اس قدر خوبصورت عمارت کی بے انتہا قیمتی کتابوں کی حشم آلود حالت دیکھ کر ٹٹولتے، کتابوں کے لمس سے روح کو سرشار کرتے آگے بڑھے تو دیوان مصحفی سے غلام ہمدانی مصحفی اپنا اک شعر گنگناتے نکل کر برابر آ کھڑے ہوئے۔ کہا: ”ہم غریبوں کی ہے یہی معراج“ پھر میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے گویا ہوئے:

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

میں ان سے آنکھیں ملائے بغیر آگے بڑھا تو آواز آئیٴ۔ کسی دانا نے کہا تھا ”وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں۔“ مانسہرہ میں شاید آب و ہوا کا ، مٹی کا اثر ہے جو کتابوں کو پس پشت ڈالا کہ آب و ہوا اور زمین کو انسان کے مزاج میں بہت دخل ہوتا ہے۔ لیکن یہ مفروضہ ہی ہو سکتا ہے۔ خیر وہ وقت انشا اللہ ہم ضرور دیکھیں گے جب مانسہرہ میں کتاب میلے سجیں گے۔ اور میلے لوٹے جائیں گے۔ نور کی نکہتیں پھیلتی ضرور دیکھیں گے۔ تب یک گونہ خوشی کا احساس ہو گا۔ تب کتاب سے سچی محبت کا پرتو چلے گا۔ لیکن اس کے لیے جینا ضروری ہے کیوں کہ زندگی مواقع بہم پہنچانے میں بخل سے کام نہیں لیتی۔ بخیل تو ہم واقع ہو جاتے ہیں۔

ہم کندھوں پر کتب سے لاتعلقی کا جو بھاری بھرکم بوجھ لائے تھے وہ بڑھ گیا تھا۔ بوجھل دل سے منوں وزنی قدم اٹھاتے ہم لائبریری کی سیڑھیاں اترنے لگے۔ پھر حسرت سے مڑ کر دیکھا کہ کاش تاریخ کے ایستادہ نشان میں دیمک کی خوراک بننے والے علمی خزانے کی کوئی حفاظت کر لے۔ اور ہم شام سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اس عزم کے ساتھ کہ کچھ بھی ہو جائے کتاب سے رشتہ قائم رکھنا ہے۔ یہ پھس پھسے میلے کتاب سے ہمارے دلوں کو میلہ نہیں کر سکتے۔ کوئی ایسا طبیب تو آئے گا جو ہمارے دل کے زخمی تاروں کو چھیڑنے کے بجائے دل کی رفو گری کرے گا۔

Facebook Comments HS