ججوں کا گٹھ جوڑ اور ریاست کی جڑیں
وہ دوست جو حقیقتاً تاریخ بیزار مگر بظاہر "تحریک بیدار” یا تحریک شہسوار نظر آتے ہیں، ان پر بہت ترس آتا ہے، ترس اس لئے نہیں آتا کہ وہ خالم بدہن ناقص العقل ہیں، ترس اس لئے آتا ہے کہ، پی ایچ ڈی، انجنئیرنگ اور ماڈرن ماسٹر ڈگریوں نے انہیں تحقیق کی روح نہیں دی، محض فیسوں کی ادائیگی کا ٹوکن تھما دیا۔ یہاں سے بات شروع کریں گے : "اجی آئین تو فوت ہوگیا، دفنانا اور قبر پر گھاس اگانا باقی رہ گیا ہے”۔ انہیں کون سمجھائے کہ آئین پچاس برس کا ہو چکا، گولڈن جوبلی 10 اپریل 2023 کو منائی جا چکی، دوستو! آپ کی گولڈن جوبلی بھی گھر، ریاست اور آپ کی توجہ کا منتظر آئین کب سے منا چکا۔ آپ کم از کم اتنا شعور تو کہیں سے مستعار ہی لے لیجئے کہ آئین ایک زندہ دستاویز کا نام ہے۔ اگر یہ شعور حاصل کرلیں تو پھر آپ کی معمولی سی کوشش آپ کو مکالمے کا ماہر بھی بنا دے گی، پھر صرف اتنا یاد رکھنا ہے کہ سیاسی مکالمہ تین بنیادی باتیں چاہتا ہے: 1۔ دستور سازی کا علم، 2۔ تاریخ سے آشنائی اور 3۔ معاشرتی آداب۔
عرض یہ بھی ہے، ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم سے آئین کا حلیہ بگاڑا تھا، اسے قتل نہیں کر سکا، پرویز مشرف نے بھی 17ویں آئینی ترمیم سے ناکام کوشش کی لیکن جب جب جمہور پسندوں کو موقع ملا انہوں نے کبھی 13ویں ترمیم اور کبھی 18ویں ترمیم سے اسے زندہ دستاویز ہی رکھا۔۔۔۔ اور آئین شکنوں کی ہزار کوششوں کے باوجود آئین زندہ ہی رہا۔ وہ جو عمران خان دور میں صدارتی نظام کا پھر سے ارادہ شروع ہوا تھا، میرے پیارے دوست اس وقت تو نہ بولے کہ یہ لوگ آئین کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں ان دوستوں کا قصور تھا ہی نہیں۔ دراصل انہیں تاریخ، آئین اور سماجی نزاکتوں کی تعلیم مطالعہ ہی نہیں دی گئی۔ پریکٹسز اور پروسیجرز کے چیلنجوں سے امریکہ جیسے آئین سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ آئین کبھی سوال اٹھاتا ہے، کہیں کہیں مخصوص معاملات میں خاموش رہتا ہے، کہیں آرٹیکلز آپس میں متصادم ملتے ہیں، بعض اوقات پاپولر سیاست کے خلاف بھی جاتا ہے۔ ایسے میں سیاسی قیادت اخلاقی معیار اور معاشرتی وقار کے تناظر میں فیصلہ لیتی ہے، بعد ازاں قانون سازی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔ آئین کے زندہ دستاویز ہونے کی یہ معتبر دلیل ہے! لیکن معاملہ کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب، نیوزی لینڈ اور اسرائیل کا بھی دیکھئے کہ وہاں تحریری آئین بھی نہیں تاہم اخلاقی معیار اور انسانی وقار ہی پر ممالک احسن انداز سے چل رہے ہیں کہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنی اپنی حدود کا پتہ ہے!
حلقہ یاراں کو تو معلوم ہی ہے، سائفر کی بنیاد پر قاسم سوری نے اسمبلی کو بھاشن دے کر تحریک عدم اعتماد مسترد کردی، حتیٰ کہ عمران خان نے امریکی مداخلت کی نفی بھی کر دی، تحریک عدم اعتماد کی موجودگی میں آئینی اعتبار سے اسمبلیاں نہیں توڑی جاسکتی تھیں مگر عمران خان نے توڑیں، صدر نے بھی آئین فراموش کیا۔ کہاں ہے آرٹیکل 6؟ چلئے 90 دن میں الیکشن نہیں کرائے، اوکے، آرٹیکل 254 کو بھی چھوڑئیے، یہاں بھی لے آئیے آرٹیکل 6!
سپریم کورٹ نے 8 ستمبر 2015 کواردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر فوری رائج کرنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت دیا, تو کیا ہوا ؟ کالا باغ ڈیم بنانے کے عدالتی حکم کا کیا بنا تھا ؟ بطورِ چیف جسٹس لاہور جسٹس بندیال نے آرٹیکل 154 کا حوالہ دے کر کالا باغ ڈیم بنانے کا حکم دیا۔۔۔ کیا بن گیا؟
عدالت عظمیٰ اپنی تنخواہ تو خود بڑھا لیتی ہے کبھی کسی اور کی بھی بڑھائی؟ کیا عدالت عظمیٰ مشرف کے ایل ایف او کو جائز قرار نہیں دے چکی، کیا نظریہ ضرورت فارمولہ نہیں چلتا رہا ہے؟ آمروں کے کہنے پر ججوں نے پھر سے حلف نہیں لئے تھے، اس وقت آئین کہاں گیا تھا؟ لیکن جسٹس فخر الدین جی ابراہیم، جسٹس دراب پٹیل، جسٹس عبدالحفیظ میمن نے تو ضیائی آئین شکنی پر مارچ 1981 میں پی سی او پر حلف نہیں لیا۔۔۔۔
مشرف کے 1999 کے پی سی او کے تحت چیف جسٹس سپریم کورٹ سعید الزمان صدیقی، جسٹس میمون اے قاضی، جسٹس وجیہ الدین، جسٹس ناصر اے زاہد، جسٹس کے آر خان اور جسٹس منصور کمال نے استعفے دئیے مگر حلف نہیں اٹھایا۔ یہ وہ جسٹس ہیں جو تاریخ پاکستان میں سنہری حروف میں کندہ ہیں۔ جنہیں جسٹس ڈوگر، جسٹس ارشاد یا جسٹس ثاقب نثار کی طرح نہیں یاد کیا جاتا۔ علاوہ بریں، جسٹس منیر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس نسیم حسن شاہ جسٹس خواجہ شریف کو بھی چھوڑئیے… ایک سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے تو اپنی بیٹی کے ایف ایس سی میں نمبر تک لگوانے کا کمال کیا۔۔۔۔۔ 10 دسمبر 2008 کو ہندوستان ٹایمز نے اس کیس کے حوالے سے ‘All our daughters are special’ کی تنقیدی سرخی جمائی!
پاگل دل میں اکثر یہ مجرمانہ نیز معصومانہ خیال بھی آتا ہے کہ، کبھی کسی جج کو آئین شکنی یا بدعنوانی پر آج تک قید یا جرمانہ ہمارے ملک میں ہوا؟ باقی دنیا میں تو ہوتا ہے؟ تو، کیا ہمارا کوئی جج کرپٹ رہا ہی نہیں؟ پھر ہم عالمی رینکنگ میں حالیہ دنوں میں 129 ویں نمبر کے بعد 140 ویں نمبر تک کیوں گئے؟ کیا چیف جسٹس افتخار محمد نے اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کے کیس کا ازخود نوٹس لینے کے بعد جب اسے خود ہی سننا شروع کردیا تو اٹارنی جنرل کے دوسری دفعہ اعتراض کے باوجود کہ وہ اپنے بیٹے کے کیس کی سماعت نہیں کر سکتے، چیف جسٹس نے اس کے بعد اپنے آپ کو سماعت سے الگ کیا؟ اس "انقلابی جسٹس” کے دور میں فیصلے کم اور ججوں کے ریمارکس میڈیا میں جاتے اور ججز خوش ہوتے، واضح رہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے ججز ایسا احساس کمتری نہیں پالتے۔ افتخارِ محمد چوہدری تک مخصوص میڈیا کی رسائی تھی، اور آخری دن کی تقریب میں بھی وہی میڈیا تھا۔ رینٹل پاور کیسوں پر فیصلے ملکی نقصان کا باعث بنے۔ از خود نوٹس کے بےتحاشا شوق نے تب سے جڑ پکڑی، جبکہ عوام اسی طرح ہی روتے رہے۔
شرم کا مقام تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں، گر پرانی نہیں تو بالکل کل کی تاریخ تو ہمارے مہربانوں کی یاد داشت میں ہوگی، عمران خان سے زیادہ دھڑلے سے کسی کو جھوٹ بولتے، پوسٹ ٹروتھ شاہراہ پر چلتے اور گیس لائٹنگ مہم کا علمبردار دیکھا؟ جن کو گالیاں دیتا، ڈاکو کہتا تھا، انہیں اپنا صدر محض اقتدار کیلئے نہیں بنایا؟ کبھی کہا کہ میرے پاس اختیار ہی نہیں تھا، جرنیلوں کے پاس تھا۔ کبھی کہا کہ نیب اپنی مرضی کرتی تھی، کبھی کہتا ہے کہ فیئر ٹرائل تھا۔ کبھی غصے میں اسٹیٹس مین کا وقار پس پشت ڈال کر کہتا تھا کہ زرداری میری شست پر ہے، عین ان دنوں جب تحریکِ عدم اعتماد شباب پر تھی، میلسی جلسہ میں 6 مارچ 2022 کو کس نے کہا تھا کہ عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد چوروں کے ساتھ جو کروں گا، اس کیلیے وہ تیار ہو جائیں؟ ایسی کئی معیار سے گری گل افشانیاں عمران خان کے ہاں عام تھیں، اور ہیں!
پیارے دوستو! کیا دلیل ہے کہ مذہب جیسے حساس معاملے میں تغیر، ارتقا یا اجتہاد کو دخل نہیں رہا؟ تو پھر آئین کی سانسوں کے چلنے سے کسی کو کیا تکلیف؟ آئین بھی وقت کے سنگ سنگ بدلنے میں ارتقائی اور اجتہادی عنصر ہیں بشرطیکہ عام آدمی اور ریاست کی توقیر پامال نہ ہو۔ اگر مقننہ بہت اچھی نہیں تو عدلیہ کون سی دودھ کی دُھلی ہے؟ کیا عدلیہ اور انتظامیہ مقننہ کی چاہت میں اپنے لئے یا اپنے عزیزوں کے لئے سیاستدانوں کے ہاتھ نہیں چومتے؟ قانون ساز اور سیاست دان کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ انتظامیہ اور عدلیہ والے تو ہوتے ہیں۔ بہرحال تینوں کو ریاست ساز اور مردم شناس ہونا چاہئے۔ فرشتہ صفت ہونے کے دعویدار، انسان اور ریاست دونوں کی توہین کرتے ہیں۔ انسان کو انسان فرشتے سے بڑا اور بہتر لگتا ہے ! پی سی او پرست کمپلکس کے حامل ججز، آمریت پسند سیاستدان اور عاقبت نااندیش منتظم آدم خور تو ہو سکتے ہیں، انسان دوست نہیں، انسان دوستی کا منظم عمل جمہوریت ہے! مگر صاحب، آپ کے لئے خبر ہے جو بہت برس پہلے ن م راشد دے چکے
درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے
کہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں


