ہمارے ادب میں عورت استحصالی رویوں کا شکار رہی: طاہرہ اقبال



سرخیاں :
شناخت اسی فن پارے کو ملتی ہے، جس پر مصنف کے دستخط ثبت ہوں
ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک خلاق ذہن کا اظہارِ ذات ہے
صاحب اسلوب فکشن نگار، ڈاکٹر طاہرہ اقبال سے ایک منفرد بات چیت
انٹرویو نگار: اقبال خورشید


ان کا فکشن، ان کے پرقوت اسلوب کا عکاس ہے، جسے زبان پر ان کی گرفت، وسیع مشاہدہ اور مسلسل مطالعہ چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ایک روز اسد محمد خاں سے ہمارا مکالمہ ہوا، تو اپنی بابت کہنے لگے : ”بھئی، میں کہانی کو آخری وقت تک مانجھتا رہتا ہوں۔“

یعنی بہتر سے بہتر کرنے کی جستجو۔ اور سمجھ لیجیے، یہی معاملہ ڈاکٹر طاہرہ اقبال کا بھی ہے۔ یہ اٗن کی ریاضت ہی کا نتیجہ ہے کہ ہر سطر سانس لینے لگتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ عشروں سے شعبہ تدریس سے وابستہ، مگر وہ روایتی استاد نہیں۔ فکری جہت ان کے ہاں نمایاں۔ اردو کو انھوں نے ”نیلی بار“ جیسا ناول دیا، جس نے قارئین کو گرویدہ بنا لیا۔ اسلوب کے جس کا آج بھی چرچا ہے۔ ان کا تازہ ناول ”ہڑپا“ آج کل موضوع بحث۔ گزشتہ دنوں ان سے ایک اہم مکالمہ ہوا، جس میں ان کا فکری نظام اور ادب سے متعلق نظریات ابھر کر سامنے آئے۔ انٹرویو پیش خدمت ہے۔

اقبال: آپ کے فکشن نے بہتوں کو گرویدہ بنایا، خود کس فکشن نگار کا اسلوب بھایا، کسے پڑھنا پسند؟

طاہرہ اقبال: ادب عالیہ وقت کے تھپیڑوں سے ماورا ہوتا ہے، اور وقت کے دھارے پر رواں ہر عہد، ہر تبدیلی سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے، ایسا ہی ادب، ہر دور کا پسندیدہ ادب رہا ہے۔

میں اپنے طلبا سے کہا کرتی ہوں، ہر تحریر پڑھنے کے لیے نہیں ہوتی، کچھ تحریریں ذوق اور انتخاب کو خراب بھی کر دیتی ہیں۔ وقت کی سان پر پورا اترنے والا ادب پڑھیں اور جانیں کہ اس سے آگے لکھنے کے لیے کیا موجود ہے۔ میں بھی منٹو سے اسد محمد خاں، قرة العین حیدر سے شمس الرحمن فاروقی تک، سب کو پڑھتی ہوں اور سوچتی ہوں، یہ جو لکھ گئے ہیں، دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا۔ ہر اچھا لکھنے والا اپنا جہانِ رنگ و بُو رکھتا ہے، جو اسے دوسروں سے منفرد بنا دیتا ہے۔ بات وہیں سے آگے بڑھتی ہے، جہاں پہنچ چکی ہوتی ہے۔

اقبال: اسد محمد خاں سے احسن سلیم تک، جس نے نیلی بار پڑھا، اسے سراہا، متعدد ایڈیشن شایع ہوئے، کیا اس پذیرائی کی توقع تھی؟

طاہرہ اقبال: لکھنے والا اپنے بارے میں کبھی کوئی رائے یا فیصلہ نہیں دے سکتا ہے۔ اصل میں یہ قاری ہی ہے، جو مصنف کو اس کے لکھے سے متعارف کرواتا ہے۔ تخلیق دراصل خلاق ذہن کا اظہارِ ذات ہے۔ مصنف کبھی یہ سوچ کر نہیں لکھتا کہ اس تصنیف پر رد عمل کیسا آئے گا۔ کم ازکم میں کبھی کسی پلاننگ کے تحت نہیں لکھتی۔ اس لیے نتائج کا بھی علم نہیں ہوتا۔ ادیب جو لکھ رہا ہوتا ہے، اس میں بہت کچھ ایسا بھی درج ہو رہا ہوتا ہے، جسے وہ خود نہیں لکھتا، بس لکھا جا رہا ہوتا ہے۔ کیوں اور کیسے تخلیق کار کے پاس اس کا جواب اکثر نہیں ہوتا۔ کہانی اور کردار اپنی مہار اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھتے ہیں، اور تخلیق کار کو اپنے پیچھے پیچھے چلنے کا حکم صادر کرتے ہیں۔ تخلیق کار کے دماغ میں کبھی کا گونجتا ہوا کوئی جملہ، دیکھی ہوئی کوئی صورت، گزرا ہوا کوئی منظر یا واقعہ اسے انگلی سے پکڑ کر قلم کی نوک سے خود کو اظہار دینے لگتا ہے۔ پھر پتا نہیں کب یہ سب بھی اس کی گرفت سے نکل جاتے ہیں اور کسی خودکار نظام کے تحت کام کرنے لگتے ہیں۔ شروع ادیب کرتا ہے، خود کو ختم تحریر آپ کرتی ہے۔ ”نیلی بار“ کو بھی شروع میں نے کیا، ختم اس نے خود کو آپ کیا۔ اور پڑھنے والوں نے مجھے میرے لکھے سے متعارف کروایا۔

اقبال: اس وقت آپ کا نیا ناول ہڑپا زیر بحث ہے، اس کا خیال کیوں کر سوجھا اور تکمیل میں کتنا وقت لگا؟

طاہرہ اقبال: میرے گاؤں کے ارد گرد چھوٹے بڑے ٹیلے ٹبے ہوا کرتے تھے۔ میری والدہ کہا کرتیں کہ ان ٹیلوں کے نیچے پانچ ہزار برس پرانی کوئی تہذیب دفن ہے۔ چوں کہ ہمارا گاؤں ضلع ساہیوال میں واقع ہے، جہاں ہڑپا کھنڈرات موجود ہیں، میں نے اپنا پورا بچپن اس خیال میں گزارا کہ ہم ایک ایسی سطح زمین پر زندگی کرتے ہیں، جس کے نیچے ہزاروں برس پرانی کوئی تہذیب دفن ہے۔ ہم بچپن میں مٹی کے گھروندے بناتے تو ذرا سی کھدائی سے سوختہ مٹی کی ٹھیکریاں نکل آتیں، جو ظاہر ہے کہ بعد کے زمانے کی ہوں گی، لیکن جو ہڑپا میوزیم میں ظروف پڑے ہیں، ان سے فرق نہ تھیں۔ یہ خیال پورا بچپن ستاتا رہا کہ ہم بھی کسی روز ایسے ہی ٹیلوں تلے دفن ہو جائیں گے، اسی خیال نے ناول کی بنیاد رکھی۔ یہ ہڑپا کی منہ زور فطرت کی کہانی ہے، جو نگلتی اور پھر اگلتی ہے۔ حسن، جوانی، طاقت، اقتدار، دولت؛ یہ ناول ان ہی سب کا میدان کارزار ہے، پھر ہر شکست ہر موت میں سے سر اٹھا کر جی اٹھنے کی جو خو ہے، وہی اس ہڑپا کی بقا ہے۔ ہم راہی پرانی تھی، لکھنے میں تو یہی سال ڈیڑھ ہی لگا

اقبال: بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اردو ادب کا مستقبل مخدوش ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟

طاہرہ اقبال: ہر دور میں ایسی آرا سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی غزل کی گردن مار دینے کی خواہش ہوئی، کبھی ادب کی موت کا اعلان ہوا، لیکن جب تک انسان اور اس کے زیر ضمیر رہنے والے جذبات و احساسات موجود ہیں، روح کی بالیدگی کی حاجت بھی باقی ہے، اردو اور دیگر قومی زبانوں میں لکھنے والے ہمارے ہاں بہت ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ کیسا لکھا جا رہا ہے، یہ فیصلہ تو وقت کرے گا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کتابیں چھپ رہی ہیں، رسائل نکل رہے ہیں، سیمینار، کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں۔ اجلاس اور ادبی میلے برپا ہو رہے ہیں۔ یہ سب ادب کا زندگی سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں۔ زندگی کو ادب میں اور ادب کو زندگی میں موجود رہنا چاہیے۔

اقبال: سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات کو کیسے دیکھتی ہیں، کیا اس سے کتابوں کو فروغ ملا ہے، یا مطالعے میں کمی آئی ہے؟

طاہرہ اقبال: ہر عمل کے منفی مثبت دونوں پہلو ہوتے ہیں۔ آج دوران تحقیق بیش تر کتب مختلف ویب سائٹس سے دستیاب ہوتی ہیں۔ ریختہ کا بڑا نام ہے۔ نایاب کتب ویب سائٹس پر پی ڈی ایف کی شکل میں موجود ہیں۔ جہاں تک غیر معیاری یا سرقہ مواد کا تعلق ہے، وقت انھیں بہا لے جائے گا۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ نئی نسل تحریر سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ کتاب بینی کو نقصان ضرور پہنچا، خصوصاً ڈائجسٹ ادب کو کہ ان کا قاری سوشل میڈیا سے وابستہ ہو گیا، لیکن سنجیدہ ادب آج بھی پڑھا جا رہا ہے۔ پہلے بھی کم لکھا جاتا تھا اور کم پڑھا جاتا تھا۔ آج بھی اسی رفتارِ کار سے ادب اور قاری موجود ہے، بلکہ سوشل میڈیا پر تشہیر زیادہ ہو جاتی ہے۔

اقبال: آپ ایک استاد ہیں، طویل عرصے سے اس شعبے سے وابستہ، نئے آنے والوں کو کیا مشورہ دینا چاہئیں گی؟

طاہرہ اقبال: اچھا ادب پڑھیں، کثرت سے پڑھیں، مستند ادیبوں کو پڑھیں اور سیکھیں کہ بات کہنے کا کیا ڈھب اختیار کیا گیا ہے۔ موضوعات وہی مخصوص ہیں، جو ہیر پھیر کر دہرائے جاتے ہیں۔ ادب میں کوئی موضوع چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، اسے بیان کرنے کا ڈھنگ اور ادیب کے اندر کا نقاد اسے چھوٹا بڑا بنا دیتا ہے۔ ریاضت کی اہمیت صرف موسیقی ہی میں نہیں ہے، ادب میں بھی لازمی شرط ہے۔ سب اس لیے نہیں لکھا جاتا کہ اسے چھپنا ہے، بہت سا کام محض مشق کے لیے ضروری ہے۔ اپنے لکھے پر بار بار نظر ثانی کرنا اور جملے میں الفاظ کو بدل بدل کر رکھنا اور اپنے کانوں سے تحریر کے ردھم کو سننا، سب مشق میں آتا ہے۔ لکھاری کے لیے روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنا ضروری ہے، یعنی لکھنا پڑھنا معمول کا حصہ ہونا چاہیے۔ اسے جزوقتی نہیں، کل وقتی کام سمجھنا چاہیے۔ ادب میں شناخت اسی فن پارے کو ملتی ہے، جس پر مصنف کے دستخط ثبت ہوں، اور اس کی شناخت کا اظہاریہ بنے۔ خصوصاً نثر بے پناہ محنت اور ریاضت مانگتی ہے۔

اقبال: کیا ہمارے ہاں خواتین کو یک ساں مواقع حاصل ہیں؟ اگر نہیں، تو اس مسئلے کے سدباب کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہئیں؟

طاہرہ اقبال: عورت خود بھی ایک اچھی کہانی ہے، اور اچھی کہانی کار بھی۔ لیکن ہمارے ادب میں عورت استحصالی رویوں کا شکار رہی ہے اور اسے باور کرایا گیا کہ عورت ایسی ہی ہے، جیسے مرد اسے سمجھتا یا جانتا ہے، اور خود عورت اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتی، جس قدر کہ مرد اسے جانتا ہے۔ اسی لیے شبنم شکیل نے کہا تھا:

کسی بھی لفظ نے تھاما نہیں ہے ہاتھ مرا
میں پڑھ کے دیکھ چکی آخری عبارت بھی

تب یہ عورت خود اپنا سائبان تھامے آگے بڑھتی ہے، اور ایک رائیگاں مسافت کے بعد اپنے ہونے کا اعتبار حاصل کرتی ہے۔ اگرچہ آج بھی عورت انتقام کی آگ بجھانے سے لے کر دل پشوری کے سب ہی مراحل سے گزر رہی ہے، لیکن اپنے استحصال کو رومانی کرب سمجھ کر حرز جاں نہیں بناتی، وہ تعطل کے کہرے میں اپنی سوچ اور فیصلے کا چراغ ضرور جلاتی ہے۔

دل کے دیے کی تیز ہوئی ہے بھڑک کے لو
یہ خوف ابرو باد سے آزاد ہو گا آج

یہی اعتماد آج عورت کو خود شناسی سے ہم کنار کر رہا ہے۔ ابر و باد کے خوف سے بریت کی خواہش مند آج کی عورت زمرد کے گلوبند کی آرائش سے چندھیائی نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات کے ہالے کی خود تزئین کار ہے۔

اقبال: اردو مزاحمتی شاعری میں کیا وہ قوت ہے کہ وہ ایک بار پھر سے فیض اور جالب کو جنم دے سکے؟

طاہرہ اقبال: فیض اور جالب گہرے جذبے اور بے لوث سوچ سے جنم لیتے ہیں۔ لفظ میں قوت اور تاثیر تبھی پیدا ہوتی ہے، جب اس کے پیچھے فکر کی قوت موجود ہوتی ہے۔ آج واہ واہ کی ہڑک زیادہ ہے۔ وقتی شہرت اور عمومی موضوعات کی ایک بھیڑ چال ہے۔ سنجیدگی کم ہے۔ جب شاعر ادیب خود کسی بڑے مسلک اور مزاحمتی رویے سے فطرتاً جڑا ہو، ارادتاً نہیں، تو لفظ اسی قوت سے پرزور اور پرتاثیر ہو جاتے ہیں، آج ادیب اس شدت اور حدت سے برسر پیکار تو ہے، لیکن کئی دوسرے ذرائع ابلاغ زیادہ موثر ہو رہے ہیں۔ اب انکشاف کا محکمہ ادیب کے پاس نہیں رہا۔ اس نوع کی خبر رسانی ادیب کا منصب بھی نہیں ہے، وہ ان حالات میں گھرے فرد کی ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی کش مکش کو پیش کرتا ہے، معلومات ادب کی ایک خاصیت ہو سکتی ہے، ادب نہیں۔ کوئی واقعہ یا نظریہ اس وقت تک ادب نہیں بنتا، جب تک اس میں عمل تفہیم، شدت اور تجربہ شامل نہ ہو۔

سوال: کیا، اکیسویں صدی کی تیز رفتاری میں ہمارا ادیب بے وقعت ہو گیا ہے؟

طاہرہ اقبال: ادیب کو کسی خاص مسلک کا حامل ادب تخلیق کرنے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی نہیں، بلکہ ایک خلاق ذہن کا اظہارِ ذات ہے۔ تخلیق کا عمل انفرادی ہے، اجتماعی نہیں۔ یہ کسی خارجی عمل کی نشر و اشاعت کا ذمہ دار بھی نہیں ہے۔ ادب کا بنیادی موضوع انسان اور اس کی ہفت پہلو زندگی ہے۔ لیکن یہ انسان کسی خطہ ارضی کو موضوع بناتا ہے، یوں وہ سماج اور افراد کے مسائل سے جڑ جاتا ہے۔

اقبال: اچھا، کیا ادبی کانفرنسوں، میلوں ٹھیلوں سے ادب کو فروغ مل رہا ہے؟ اس سرگرمی پر آپ کی رائے؟

طاہرہ اقبال: میرا خیال ہے کہ ان کے فروغ سے ادب کو یقیناً فائدہ ہے، کیوں کہ ادب جو کم لکھا جاتا ہے، کم پڑھا جاتا ہے، ان میلوں میں اسے عوامی سطح سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں عام زندگیوں کے قریب یہ میلے ٹھیلے ادیب اور ادب کے تعارف میں مددگار ہیں۔ میں گوشہ نشیں انسان ہوں، میرا خیال ہے، ان میلوں ٹھیلوں میں جو مخصوص لوگ نمایندگی کرتے ہیں، وہ کافی سوشل ہوتے ہیں۔ جو لوگ خود کو متعارف کروانے کا گر نہیں جانتے، وہ کبھی ان کا حصہ بھی نہیں بن سکتے۔ بہ ہرحال ان کے مثبت پہلو کو سراہنے کی ضرورت ہے۔

اقبال: ناولز کی سمت آنے والے نئے لوگوں کو آپ کا کیا مشورہ ہے؟

طاہرہ اقبال: پہلے ایک سوال میں اس حوالے سے چند باتیں آ چکی ہیں۔ یہاں یہی کہوں گی، ریاضت اور مشق کو شعار بنائیں، اپنے لکھے پر بار بار نظر ثانی کریں، کتاب چھپوانے میں جلدی نہ کریں، اپنے سینئر کو پڑھیں، اور بہت پڑھیں۔

نوٹ: یہ انٹرویو کتابی سلسلے ”بات چیت اقبال خورشید کے ساتھ“ کے لیے کیا گیا ہے۔ جلد یہ کتاب ڈیجیٹل شکل میں دست یاب ہوگی۔

Facebook Comments HS