سردار تنویر الیاس کیوں ناکام ہوئے؟


آزاد کشمیر کی الیکشن مہم میں بیرسٹر نے جہانگیر ترین کی مدد سے اپنی مرضی کے امیدواروں کھڑے کیے۔ بھرپور الیکشن مہم چلی لیکن بیرسٹر سلطان نہ صرف خود الیکشن ہار گئے بلکہ آزاد کشمیر سے پی ٹی آئی کو ایک بھی نشست نہ ملی۔ عمران خاں نے ایک محفل میں کہا کہ وفاق میں پی ٹی آئی کی جب حکومت ہوگی تو کشمیر ہماری جھولی میں پکے ہوئے پھل کی ماند آگرے گا۔ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی صدارت سنبھالنے کے بعد اگرچہ بیرسٹر سلطان عمران خاں سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے لیکن دونوں کے درمیان کبھی دوستانہ تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ بقول نصیر ترابی کے کیفیت کچھ رہی وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی۔

عمران خان جلسوں میں بیرسٹر سلطان کا نام تک لینا گورا نہ کرتے حالانکہ بیرسٹر خون پسینہ ایک کر کے کشمیر کے طول و عرض میں ان کے لیے عظیم الشان جلسے منعقد کراتے۔ خان نے کبھی بھی دل سے بیرسٹر کو ایک لیڈر کے طور پر قبول نہ کیا۔

بیرسٹر دھڑے کی سیاست کرتے ہیں وہ پارٹی کے اندر بھی دھڑا بنا کر کھیلتے ہیں۔ پارٹی کے اندر جو نظریاتی یا پرانے لوگ تھے وہ رفتہ رفتہ بیرسٹر کے خلاف متحرک ہو گئے کیونکہ وہ نظر انداز ہو رہے تھے۔ پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو آزاد کشمیر میں پارٹی کے نظریاتی لوگ متحرک ہو گئے۔ انہیں مرکزی پارٹی کی بھی پشت پناہی حاصل تھی۔ یوں بیرسٹر سلطان اور نظریاتی ورکروں اور لیڈروں کے درمیان زبردست خلیج پیدا ہو گئی۔ راجہ مصدق خان جو پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے، الگ دفتر لگاتے جب کہ بیرسٹر اپنی محفل ایک اور دفتر کے سبزہ زار پر سجاتے۔

اس کشمکش میں سردار تنویر الیاس ایک متبادل آپشن کے طور پر منظر عام پر ابھرے۔ بیرسٹر سلطان نے خطرہ بھانپ کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ الیکشن نہ لڑیں۔ بلکہ الیکشن کے بعد صدر آزاد کشمیر بن جائیں لیکن تنویر الیاس ہٹ کے پکے نکلے۔

بیرسٹر سلطان کے پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ کے ساتھ بھی سازگار مراسم نہ تھے۔ اس کے برعکس وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کی تنویر الیاس سے گاڑھی چھنتی تھی۔ دونوں کے مشاغل اور دلچسپیاں بھی ایک جیسی تھیں۔ شب بھر مشغول رہتے اور دن بھر محو استراحت رہتے۔ علی امین نے بھی اپنا بوریا بستر سینٹارس میں منتقل کر لیا۔ کشمیر کے معاملات میں علی امین اسٹبلشمنٹ کے ساتھ فوکل پرسن تھے۔ تنویر الیاس نے سینٹارس میں پی ٹی آئی کی دوسری صف کی لیڈرشپ کو مدعو کرنا شروع کر دیا۔ تحفے تحائف کا تبادلہ کیا جانے لگا۔ بیرسٹر سلطان محمود سے شاکی اور نئی لیڈرشپ کے متمنی لوگ ان کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔

تنویر الیاس کے پاس مالی وسائل بھی بے محابا تھے اور روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہانے کا دم خم بھی۔ بتدریج بیرسٹر سلطان کے مرکزی دفتر میں لوگوں کی آمد رفت کم ہوتی گئی جہاں وہ قہوے کی پیالی اور بسکٹوں سے مہمانوں کی تواضع کرتے۔ اس کے برعکس سینٹارس میں دن رات لنگر چلتا۔

بیرسٹر سلطان محمود کے پاؤں کے نیچے سے چادر سرک رہی تھی۔ سیاست ان کے ہاتھ سے ایسے پھسل رہی تھی جیسے ریت مٹھی سے۔ بچاؤ کے لیے انہوں نے کافی ہاتھ پاؤں مارے۔ کئی مرتبہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے۔ جنرل باجوہ اپنے جاٹ بھائی بیرسٹر کی مدد بھی کرنا چاہتے تھے لیکن کوئی پوزیشن نہیں لے پاتے تھے۔ بیرسٹر کی باجوہ کے ساتھ میٹنگوں کا جنرل فیض کے ساتھی بہت برا مناتے۔ انہوں نے کئی بار بیرسٹر کو منع کیا کہ وہ انہیں بائی پاس نہ کریں۔ کچھ نشستوں میں بات توتکار تک بھی پہنچی۔ بیرسٹر کو یقین تھا کہ جنرل فیض اور ان کے ساتھی تنویر الیاس کا ساتھ دینے پر کمر بستہ ہوچکے ہیں لہٰذا ان کا سارا انحصار جنرل باجوہ کی حمایت پر تھا۔

الیکشن سے چند روز قبل بیرسٹر کو الیکشن مہم اور فیصلہ سازی کے سارے معاملات سے اچانک الگ تھلگ کر دیا گیا۔ وزیر اعظم ہاؤس یا بنی گالہ میں ہونے والی نشستوں میں انہیں رسماً دعوت دی جاتی لیکن ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ تنویر الیاس اور علی امین گنڈا پور نے پارٹی کی کمان مکمل طور پر سنبھال لی تھی۔ عمران خاں کے ساتھ ہونے والے کئی اہم اجلاسوں میں بیرسٹر سلطان کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ ایک بار عذر پیش کیا گیا کہ میٹنگ صبح سویرے تھی اور بیرسٹر سے رابطہ نہ ہوسکا۔ وقت کے وزیراعظم عمران خاں کے ساتھ تصویر تنویر الیاس کی سوشل میڈیا کی زینت بنتی تو لوگوں کو مستقبل کی سمت کا اشارہ ہوجاتا۔

گنڈا پور اور تنویر الیاس کئی الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں شامل کرانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ان دونوں کی بھرپور پشت پناہی کی اور انہیں الیکشن جیتنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ چنانچہ پی ٹی آئی کے زیادہ تر ٹکٹ ہولڈرز نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

تنویر الیاس نے پارٹی کی الیکشن مہم کے لیے وسائل فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ امیدواروں کو پارٹی نے جو فنڈز دیے ان کا بڑا حصہ تنویر الیاس نے فراہم کیا۔ میڈیا مہم کے لیے کروڑوں روپے علی امین گنڈا پور نے تنویر الیاس کی تجوری سے نکالے۔ وسطی باغ جہاں سے تنویر الیاس نے الیکشن جیتا وہاں خزانے کا منہ کھول دیا گیا۔ بہتی گنگا میں ہر ایک نے اشنان کیا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدیداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے مالی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا۔ چند ہفتے قبل جب کاروباری معاملات پر خاندان میں پھوٹ پڑی تو ان کے والد سردار الیاس خان اور بھائیوں نے ایک پریس نوٹ میں الزام لگایا کہ ان کی رضامندی کے بغیر تنویر الیاس نے مشترکہ کاروبار سے سیاست پر 10 ارب روپے پھونک ڈالے۔

الیکشن کے بعد خصوصی نشستوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو پی ٹی آئی کے پرانے نظریاتی لیڈروں بشمول اس کے بانی صدر راجہ مصدق خان کو پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ حتیٰ کہ انہیں مخصوص اور کشمیر کونسل کی نشستوں پر بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ زیادہ تر مخصوص اور کشمیر کونسل کی نشستیں دولت مند افراد کو منتخب کرایا گیا یا جن کی سفارش کسی بڑی شخصیت نے کی۔ ایسے ایسے لوگ بھی کشمیر کونسل کے رکن بن گئے جن کی شکلیں پی ٹی آئی کے کارکنان نے کبھی دیکھی بھی نہ تھیں۔

الیکشن کے بعد علی امین گنڈاپور اور جنرل فیض کی ٹیم کی کوشش تھی کہ تنویر الیاس کو وزیراعظم کو منتخب کرایا جائے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے الیکشن مہم میں چلا چلا کر الزام لگایا تھا کہ عمران خاں نے کشمیر میں پارٹی ایک اے ٹی ایم مشین کو بیچ ڈالی ہے۔ عمران خاں نہیں چاہتے تھے کہ مخالفین تنویر الیاس سے رقم بٹورنے کا ان پر الزام لگائیں۔ انہوں نے بڑی مشکل سے ان ہی دنوں جہانگیر ترین سے جان چھڑائی تھی۔

جنرل باجوہ نے بیرسٹر سلطان کی سفارش ضرور کی لیکن جنرل فیض کو وہ ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔ بیرسٹر سلطان اور تنویر الیاس کے درمیان جاری کشمکش میں قرعہ سردار عبدالقیوم خان نیازی کے نام نکلا۔ پونچھ کے ایک سرحدی علاقے کے باسی اس سیاستدان کے کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ ایک دن وہ بھی وزیراعظم منتخب ہوسکتے ہیں۔ نیازی نو ماہ کے لگ بھگ وزیراعظم کی کرسی پر فائز ر ہے۔ تنویر الیاس نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ حکومت میں سینئر وزیر کے طور پر نامزد ہونے کے باوجود تنویر الیاس دفتر آئے اور نہ ہی کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کرتے۔ انہوں نے ایک گروپ بنا کر حکومت کی ناک میں دم کیے رکھا۔ علی امین گنڈا پوری اور عمران خاں نے بھی اصلاح احوال کے لیے کوئی کردار ادا نہ کیا۔ سردار نیازی کو میدان میں اتار کر اکیلا گھاگ شکاریوں کے آگے ڈال دیا گیا۔

اپریل 2022 میں عمران خاں کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کر دیا گیا۔ موقع غنیمت جان کر گنڈا پور اور تنویر الیاس نے پی ٹی آئی کے کچھ سینئر رہنماؤں کو قائل کیا کہ اگر قیوم نیازی کی جگہ تنویر الیاس کو وزیراعظم نہ بنایا گیا تو اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد پیش کر کے پی ٹی آئی مخالف حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ عمران خاں تازہ تازہ زخم خوردہ تھے۔ انہوں نے بغیر کسی تحقیق کے اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا گرین سگنل دے دیا۔

سردار تنویر الیاس وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ توقع تھی کہ وہ آزاد کشمیر میں تیز رفتار ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرانے کے لیے غیر معمولی جوش اور جذبے سے کام کریں گے۔ چونکہ ان کا تعلق کارپوریٹ ورلڈ سے تھا لہٰذا وہ اس تجربے کو کام میں لا کر اس چھوٹے سے خطے میں معاشی انقلاب برپا کریں گے۔ مقتدر حلقوں کو امید تھی کہ سردار تنویر الیاس جنرل باجوہ کی کشمیر پالیسی کے تحت رفتہ رفتہ آزاد کشمیر کا موجودہ اسٹیٹس ختم کرانے میں مدد گار ہوں گے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے تاریخی تعلق کو رفت گزشت کرانے میں معاونت کریں گے۔

اسی پس منظر میں انہوں نے سینٹ اور قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی نمائندگی کی بات بھی کی لیکن سازگار عوامی رسپانس نہ ملا۔ بعد ازاں انہیں ہدف دیا گیا کہ قوم پرست حلقوں کو انتظامی اور سیاسی طاقت کے ذریعے کچلیں۔ انہوں نے مظفرآباد میں ایک تقریب میں کہا کہ قوم پرست بھارت کے ایجنٹ ہیں اور میں مظفرآباد کو ان کے لیے تہاڑ جیل بنا دوں گا۔ تہاڑ جیل دہلی میں بطل جیل مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی دی گئی تھی۔ اسی جیل میں جناب یاسین ملک اور سینکڑوں حریت پسند کشمیری اسیر ہیں۔ ان کی اس گفتگو پر اس قدر سخت عوامی ردعمل آیا کہ تنویر الیاس اور ان کے ہینڈلرز کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 178 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood