سردار تنویر الیاس کیوں ناکام ہوئے؟
باجوہ کی باقیات چاہتی تھیں کہ آزاد کشمیر کو حاصل آئینی، مالی اور انتظامی اختیارات چھین لیے جائیں۔ تنویر الیاس نے اس سمت ابتدائی دنوں میں پیش رفت کرنا چاہی لیکن ابھی دو گام ہی چلے تھے کہ عوامی موڈ دیکھ کر یک دم پسپائی اختیار کرلی اور با اختیار آزاد کشمیر کا نعرہ مستانہ بلند کر دیا۔
مقتدرہ سے وعدے پورے نہ کرسکے تو رفتہ رفتہ ان کے اقتدار کی کشتی ہچکولے کھانے لگی۔ متلون مزاجی، بری حکمرانی اور کار حکومت کو وقت نہ دے سکنے کی بدولت مقتدر قوتوں کے لیے وہ ایک بوجھ بن چکے تھے۔ چنانچہ ساحر لدھیانوی کے بقول فیصلہ کیا گیا کہ چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
سردار تنویر الیاس کے اقتدار کا ایک سال وفاقی حکومت، اپنی کابینہ کے ساتھیوں، سرکاری ملازمین اور پی ٹی آئی کے مقامی عہدیداروں کے ساتھ لڑائیوں اور جھگڑوں کی نذر ہو گیا۔ عالم یہ تھا کہ وزیراعظم نے چار بار اپنا پرنسپل سیکرٹری بدلا۔ اسٹاف میں دو ماہ سے زیادہ کسی کو برداشت نہ کر پاتے۔
وہ زیادہ دیر کسی بھی شخص سے خوش نہیں رہ سکتے تھے۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ میرپور میں ایک تقریب میں بری طرح الجھ پڑے۔ بعد ازاں ایک طویل پریس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف کو ’کشمیر مخالف‘ قرار دیا۔
غیر متوازن طرزعمل کی وجہ سے وہ وفاقی حکومت کے ساتھ ادارہ جاتی روابط اور تعاون پر مبنی تعلقات کار استوار کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہے۔ ان کی نا اہلی کے نتیجے میں کشمیریوں کو بہت بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ وفاقی حکومت نے تنویر الیاس کی ضد میں ترقیاتی بجٹ کی فراہمی میں نمایاں کمی کی۔ خصوصی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاق سے مالی امداد نہ مل سکی۔ نتیجتاً معاشی سرگرمیوں سست پڑھ گئیں۔ بہت سے منصوبے ناکافی فنڈز کے باعث کھٹائی میں پڑھ گئے۔ مزید برآں ان کے دور میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا کوئی ایک بھی نیا منصوبہ شروع نہ کیا جا سکا۔ نتیجتاً خطے کی اقتصادی ترقی بری طرح جمود کا شکار ہوئی۔
بطور وزیراعظم وہ کم ہی آزاد کشمیر تشریف لے جاتے۔ ایک بار عمران خان نے انہیں فون کر کے کہا کہ وہ مظفرآباد جائیں۔ وہ زیادہ تر اسلام آباد میں قیام کرتے۔ اسلام آباد میں قائم کشمیر ہاؤس میں سرکاری افسران کے اجلاس طلب کرتے لیکن خود شرکت نہ کر پاتے۔ کابینہ کے اجلاس ایک نہیں درجنوں بار محض اس لیے لیٹ یا ملتوی ہو جاتے کہ موصوف دستیاب ہی نہ ہوتے۔ عالم یہ ہے کہ بارہ ماہ کے دوران اپنے آبائی ضلع پونچھ جانے کا وقت نہ نکال سکے۔
سائل فائلوں کے ساتھ دوڑتے۔ فائلوں کے انبار جمع ہو جاتے۔ سائلین کبھی اسلام آباد میں ان کا تعاقب کرتے اور کبھی مظفر آباد کے چکر کاٹتے۔ لوگ ان کے گھر اور دفتر میں صبح آ کر بیٹھتے اور رات گئے تک انہیں وزیراعظم کا دیدار نصیب نہ ہوتا۔ سینئر اہلکار انہیں سرکاری امور پر بریف کرنا چاہتے لیکن وہ موقع ہی نہ دیتے۔ باتوں کے ایسے دھنی کہ جو ہاتھ لگ جائے اس کے ساتھ گھنٹوں بے تکان اور بے ربط گفتگو کرتے۔ وہ صرف اور صرف اپنی آواز سے محبت کرتے۔ دوسرے کی بات توجہ سے سننے اور سمجھنے کا انہیں سلیقہ ہی نہ تھا۔
انہوں نے کشمیر میں ایک شاہانہ طرز سیاست متعارف کرایا۔ اکثر ہیلی کاپٹر یا گاڑٰیوں کے ایک بڑے قافلے میں سفر کرتے۔ سرکاری خزانہ کو مال مفت دل بے رحم کی طرح برتے۔ ارکان اسمبلی، سابق صدور، وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان کو سرکاری خزانے سے تقریباً ایک ارب کی لاگت سے بالکل نئی گاڑیاں فراہم کیں۔ مالی بحران کے باوجود اپنے اور صدر کے لیے پرتعیش مرسڈیز بینز کاروں کا آرڈر دیا۔ دوسری جانب ہزاروں بچے کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
پچاس کے لگ بھگ مشیروں، معاونین خصوصی اور رابطہ کاروں کی فوج ظفر موج بھرتی کی۔ جس میں سے اکثر کا کام نرگسیت کے شکار تنویر الیاس کی انا کو پھونک دینے کے سوا کچھ نہ تھا۔ حتیٰ کہ عمران خان کے خلاف ٹی وی پروگراموں میں بے سروپا گفتگو کرنے والے ایک ریٹائرڈ میجر روکھڑی کو اپنا خصوصی ایلچی برائے اسٹیبلشمنٹ بنائے رکھا۔ یہ شخص ٹی وی پر عمران خان پر لعن طعن کرتا اور رات کو تنویر الیاس کا حقہ بھرتا۔ روکھڑی ایک ادارے میں کسی ذمہ دار عہدے پر فائر ایک افسر کے ساتھ اپنا تعلق جتاتا اور انعام و اکرام پاتا۔ تنویر الیاس کے کر و فر آزاد کشمیر جیسے غریب اور پسماندہ علاقے کے وزیراعظم کے نہیں بلکہ برونائی کے سلطان جیسے تھے۔
عوامی اجتماعات میں وہ ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مذہبی کارڈ بھی بھرپور طریقہ سے کھیلتے۔ تقریبات میں درود شریف کے ورد کی تلقین کرتے لیکن جب حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کا ذکر آتا تو وہ اکثر پٹری سے اتر جاتے۔ اسمبلی اندر اور باہر ان پر کیچڑ اچھالتے۔ پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما چودھری لطیف اکبر کی سرعام تذلیل کی۔ بعد ازاں معافی مانگنے ان کے گھر چلے گئے۔ جو کوئی ان کے طرزعمل پر تنقید کرتا۔ اس کی قیمت لگاتے۔ بکنے پر تیار نہ ہوتا تو کردار کشی پر اتر آتے۔ دولت کا ایسا گھمنڈ کہ اللہ معاف کرے۔ اکثر کہتے کہ نون لیگ اور پی پی پی کی لیڈرشپ میری جیب میں ہے۔ کیونکہ میں ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہوں۔
خوش فہمی کا اس قدر شکار کہ اکثر کہتے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی میرے وزیراعظم بننے سے خوف زدہ ہے۔ ماہرین مدح سرائی سر ہلا ہلا ان کی مقبولیت کے راگ الاپتے۔ موصوف جلسوں میں غراتے کہ اگر مجھے نکلا گیا تو اس قدر مزاحمت ہوگی کہ لوگ مقبوضہ کشمیر بھول جائیں گے۔ عدالت نے نا اہل قراردیا تو آزاد کشمیر میں معمولی سا احتجاج بھی نہ ہوا۔ تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے بھی ان کی نا اہلی پر برا نہیں منایا۔ عمران خان نے ایک ٹویٹ تک کرنا گورا نہ کیا۔ آزاد کشمیر کی تحریک انصاف کے لیڈر اور کارکنوں کے لیے یہ خبر قطعاً اضطراب کا باعث نہ بنی۔
تنویر الیاس کے عروج و زوال کی کہانی نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے کہ اعلیٰ عہدوں صرف ان ہی لوگوں کو فائز کیا جانا چاہیے جن کی سیاسی تربیت اور عوامی خدمت کا تجربہ ہو۔ نہیں تو دو سال سے کم عرصے میں تیسرا وزیراعظم بنانا پڑتا ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو اس تجربہ سے سبق سیکھ کر پارٹی کی سطح پر فیصلہ سازی کا کوئی سائنٹیفک میکانزم بنانا چاہیے جس کی بنیاد سفارش اور پیسے کے بجائے خدمت اور کردار ہو۔
بیرسٹر سلطان نے پارٹی کی چھ برس تک قیادت کی تھی۔ فقط ضد، سفارش اور لکشمی کے زیر اثر فیصلہ نہ کیا جاتا تو وہ آج وزیراعظم ہوتے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی نیک نامی میں اضافہ ہوتا۔ انہیں یہ حالات نہ دیکھنے پڑتے۔
کہتے ہیں غلطی بانجھ نہیں ہوتی۔ عمران خان نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی میں جو غلطی کی اس کی انہوں نے ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام کو بھی بھاری قیمت چکانا پڑی۔
افسوس! سردار تنویر الیاس کا شمار ان وزرائے اعظم میں شمار ہو گا جو اس خطے کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑنے میں بری طرح ناکام ر ہے۔ وہ کوئی ایسی لیگیسی نہ چھور سکے جسے آئندہ نسلیں فخر سے یاد کرسکیں۔

