ابا حضور کا کلام۔ بھائی جان سے خبریں


شام کا دھندلکا پھیل چکا تھا اور کار فیصل آباد کے ریلوے سٹیشن کی طرف رواں تھی۔ کار کی پچھلی نشست پر رنگین چمکتے کاغذوں میں لپٹا اور جھالر دار فیتوں میں لپٹا بڑا سا ٹوکرا بہت بڑی بڑی انتہائی عمدہ خوبانی لئے اپنی خوشبو سے ہمارے دل میں کچھ نکال کے چکھ یا اپنے لئے رکھ لینے کی خواہش کو مہمیز لگا رہا تھا۔ بائیں نشست پہ ہمارے کالج کے پہلے دن کے بنے دوست جو اب گھر کے فرد کی حیثیت رکھتے تھے، اکرم چوہدری براجمان تھے۔

وہ ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں ریسرچ افسر کی آسامی کے لئے منتخب ہو کے اپنی ذمہ داری سنبھالنے جا رہے تھے۔ اور چناب ایکسپریس پہ سوار ہو پہلے ”کوئے یار خاں“ میں چند گھنٹے رکنا تھا۔ یہ لذیذ خوبانی کا ٹوکرا ان دنوں وہاں اپنے بھائی کے پاس مقیم ان کی منگیتر کے لئے تھا۔ اور یہی وجہ رحیم یار خاں کی ”کوئے یار خان“ کا خطاب پانے کی تھی۔ ابھی کار پارک کر ہی رہے تھے اور سٹیشن کا ماحول سنسان دیکھ حیران ہو رہے تھے کہ ایک قلی نے کھڑکی میں جھانکتے خوش خبری سنائی کہ دو گھنٹے قبل ریلوے میں مکمل ہڑتال ہو چکی ہے۔

ہم پریشان تھے اور اکرم کی سٹؔی گم۔ انہیں چند گھنٹے در محبوب پہ رک اگلی صبح کوئٹہ ریڈیو پاکستان کے دفتر حاضری لگانی تھی۔ اچانک مجھے خیال آیا اور اسے کہا بھائی کل پی آئی اے کی فلائٹ کراچی براستہ کوئٹہ جانی ہے۔ فوری ریلوے ٹکٹ واپس کر پی آئی اے دفتر پہنچے اتفاقاً ایک ہی نشست بچی تھی۔ ٹکٹ لے گھر جانے کے لئے کار میں بیٹھے تو خوبانی کے ٹوکرے کو حسرت سے تکتے اکرم ”دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے“ کی تصویر بنے تھے اور ہمارے دل میں ان ہی خوبانیوں کی لذت چھا رہی تھی۔

صاف ظاہر ہے اب وہ کوئٹہ تو جانے سے رہے۔ گھر آتے ہی والدہ نے ماجرا سنا تو سب سے پہلے ٹوکرا کھولنے کا کہا اور کچھ اپنے انداز میں پھل فروش کو صلواتیں سناتے بتایا کہ اس کو اتنا نہیں پتہ کہ اتنی گرمی میں خوبانیوں بند کرنے کے لئے ارد گرد گیلا تازہ سبز چارہ ڈالنا ہوتا ہے اور اوپر ہوا کے لئے سوراخ چاہئیں۔ اب تو گلنا شروع ہو چکی لگتی ہیں۔ بیچاری خوبانیاں واقعی لب شیریں تک نہ پہنچ پانے کی حسرت میں پژمردہ ہو چکی تھیں۔

چنانچہ کچھ کھائی گئیں کچھ پہ فرج اور باقی پہ محلہ والوں کا نام قدرت کی طرف سے لکھا پایا۔ صبح ائر پورٹ کو نکلے تو اکرم پہلے خالی ٹوکرے اور اس میں پھیلے رنگین کاغذوں اور جھالر دار فیتوں کو حسرت سے دیکھتے رہے اور ریلوے سٹیشن کے پاس سے گزرتے اداس نگاہوں سے ادھر جھانک رہے تھے۔ ائر پورٹ پہ الوداع کہہ ہم دکان پہ بیٹھے ان خوبانیوں کی لذت یاد کرتے رہے۔ بتاتا چلوں کہ یہ کہانی انیس سو سڑسٹھ کے اوائل گرما کے خوبانیوں کے موسم کے خاصے گرم دن کی ہے۔

اکرم چوہدری کالج میں داخل ہوئے تو اکرم سلیمی کہلواتے۔ ہم ستیانہ روڈ پہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے سائیکل پہ کالج کے لئے نکلتے تو پیپلز کالونی میں مقیم، منشی والا کے رہنے والے اکرم، چک 192 اوجلہ کے سلیم اختر چوہدری اور لیہ کے قریبی گاؤں کے ملک رمضان راہ میں آ ملتے۔ اب کالج اور ہائی سکول جاتے تانگوں کی گرمی محسوس کی جاتی۔ اکثر کندھے سے کندھا ملائے تین چار اساتذۂ کرام سائیکلوں پہ آگے جا رہے ہوتے تو رستہ تبدیل کرنا پڑتا۔

انہی دوستیوں نے ہمیں گاؤں کی زندگی سے متعارف کرایا۔ چھٹی والے دن سائیکل پہ اکرم کے گاؤں پہنچ جاتے۔ ان کی امی کے قریب چولہے کے گرد بیٹھ ان کے پکائے لذیذ کھانے کھاتے۔ امرود کے باغ سے تازہ امرود توڑ کھائے جاتے۔ موسم میں گنے توڑ بیلنے کی لٹھ پہ بیٹھ چوسے جاتے اور گنڈیال میں تازہ بنے خصوصی ہمارے لئے میوہ، بادام، مونگ پھلی اور اخروٹ ڈال گھی سے بنے گڑ کی پیسیاں لائی جاتیں۔ ایک دو مرتبہ رات رہنے کا اتفاق ہوا تو سیکھنا پڑا کہ کیسے حوائج ضروریہ کے لئے کھیتوں میں جانا پڑتا ہے۔ اور مسجد کے کنویں سے چرخی چلاتے پانی نکال اس کے ڈول سے ساتھ بنے نہانے کے حمام کے اوپر بنی ٹنکی میں انڈیلا جاتا ہے اور پھر نہاتے وقت پائپ کے آگے ٹونٹی کی جگہ لکڑی کے تکؔے کو نکال، سنبھال کے رکھنا اور پھر دوبارہ گھسیڑ کے پانی بند کرنا۔ اور پھر نہانے کے بعد جسم پہ تیل ملنا۔ یہ نئے سبق بہت دلچسپ تھے۔

ہم کو تو بی اے کے بعد دکانداری کو ذریعۂ معاش بنانا پڑا اکرم ایم اے اکنامکس کر کے اکرم چوہدری بن زرعی یونیورسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے کسی ذیلی پروگرام میں ریسرچ افسر بن گئے، سلیم گاؤں کے چوہدری اور بعد میں ضلعی سیاست میں سرگرم اور ملک رمضان بی ای ڈی کرتے ملازمت کے ساتھ ساتھ پڑھتے دو تین ایم اے کر لاہور کے کالجوں کو رونق بخشتے رہے۔ میری دکان شہر فیصل آباد کے بالکل مرکز ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے ہونے کی وجہ سے سب دوستوں اور ان کے احباب کے لئے ملاقات اور محافل کا مرکز اور گھر ان کا اپنا گھر بنا رہا۔ لہذا سب دوستیاں قائم رہیں۔

اکرم چوہدری کو اس کی کولیگ نے کھانے پہ مدعو کیا تو وہاں ان کی چھوٹی بہن آئی ہوئی تھیں۔ چلمچی میں اس کا ہاتھ دھلانا کچھ یوں غضب ڈھا گیا کہ اکرم ہاتھ دھوتے دھوتے دل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور پھر اس کے بھائیوں کو اس رشتہ کے پروان چڑھانے پر راضی کرنے کے لئے اس خاکسار کو جو پاپڑ بیلنا پڑے وہ الگ داستان ہے۔ مگر ٹیپ کا بند یہ رہا کہ سب سے بڑے صفدر نبھائی سے عرض کیا کہ دیکھیں شادی آپ کی مرضی سے ہوئی تو معمولی شکایت یا عائلی زندگی کے مسائل میں ہر مسئلہ کی ذمہ داری اکرم آپ پہ ڈالے گا ”آپ لائے تھے۔ مجھے شکایت کیوں۔“ اس کی مرضی سے کرنے دیں۔ وہ پیسا بھی جا رہو ہو گا، رو بھی رہا ہو گا تو آپ کو کچھ کہہ نہ سکے گا ”خود لائے ہو خود بھگتو“ ۔ یہ تیر اتنا نشانے پہ لگا کہ اب وہ منگیتر تھے۔ کوئٹہ سے میرے ساتھ تو مہینہ میں ایک دو مرتبہ بات ہوتی مگر کوئے یار خاں کا فون اکثر گھنٹی بجاتا۔

میرا کاروباری سلسلہ میں کراچی کا پروگرام تھا۔ کوئٹہ میں دو روز کا سٹاپ لیتے کراچی کے لئے پی آئی اے کا ٹکٹ لیا۔ ان کے دفتر کے اوقات میں وہ دفتر پہ تھے اور میں شہر گھومتا رہا۔ آٹو پارٹس کے ایک دو دکاندار کراچی میں ملتے رہتے تھے۔ جا پہنچا اور انہوں نے شہر اور ہنہ جھیل سے آگے تک کے نظاروں سے دوستی کرا دی۔ شام کو دونوں دوست گھومتے پارک میں بیٹھے گپ لگا رہے تھے آفس کی بات چھڑی تو بات آفس کے ماحول میں دبی کچھ مسکراہٹوں کی طرف گئی۔

کہنے لگے جناب علامہ حضرت بہزاد لکھنوی کے چھوٹے صاحبزادے افسر بہزاد کوئٹہ ریڈیو پاکستان پہ اناؤنسر تھے ان دنوں حضرت بہزاد لکھنوی کا کلام زبان زد عام تھا ادھر ریڈیو پاکستان پہ خبرنامہ پڑھنے میں انور بہزاد کا ثانی نہیں تھا۔ اب اتفاق یوں ہوا کہ کوئٹہ ریڈیو پر شام کی خبروں سے پہلے حضرت بہزاد کا کلام سنایا گیا۔ افسر بہزاد اناؤنسر تھے اس کے بعد خبروں کا وقت تھا۔ اب اناؤنسمنٹ کرتے جناب افسر بہزاد نے لکھنوی آداب کا خیال کرتے جو علانیہ جملہ کہا وہ ( اگر یہ کسی نابغۂ روزگار بذلہ سنج ساتھی کی اختراع نہیں تھی تو) ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں یاد گار بن گیا۔

آواز گونجی۔ ”یہ ریڈیو پاکستان کوئٹہ ہے۔ ابھی آپ ابا حضور کا کلام سماعت فرما رہے تھے۔ اب محترم بھائی جان سے خبریں سنئے“ اس فقرے کی چاشنی ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی رہی ہے۔ خصوصاً جب ہمارے بھانجے نے نارتھ ناظم آباد میں گھر بنوایا اور ہر مرتبہ سخی حسن قبرستان میں واقع حضرت بہزاد لکھنوی کے مزار کے نزدیک سے گزرتے افسر بہزاد کی آواز کانوں میں خارش کرتی ہونٹوں پہ مسکراہٹ لے آتی۔

اگلا سال شادیوں کا تھا چھ مارچ کو اکرم کی بارات لئے حویلیاں ریلوے سٹیشن پہنچے اور سولہ مارچ کو خاکسار کی بارات لاہور روانہ ہو رہی تھی۔ اب ہمارے دوست میاں احسان الحق کی منگنی راولپنڈی ہو چکی تھی اور وہ سسرالی گھر جانے کی راہیں ڈھونڈنے میں کامیاب تھے۔ حسن اتفاق کہ ہماری اس بھابی ( خدا زندگی دے ) کا نام کوثر ہے چنانچہ رومان بھری خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہوا۔ وہاں سے آنے والوں کا تو پتہ نہیں مگر اسلامیات کے پروفیسر احسان کے بھیجے خط کی پہلی سطر کے درمیان میں، بسم اللہ الرحمان الرحیم، دائیں کونے میں سورۂ کوثر کی پہلی آیت جس میں کوثر کا لفظ ہے اور بائیں کونے میں، ”کیا احسان کی جزاء سوائے احسان کے کچھ ہے“ والی آیت کے طغرے جڑے ہوتے۔

وقت کا پہیہ اکرم کو بہاولپور ریڈیو سٹیشن اور وہاں سے سیدھا لاہور ریڈیو سٹیشن لے گیا۔ اسی کی دہائی میں فیصل آباد ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہونے لگا تو اسٹیشن ڈائرکٹر اکرم چوہدری تھے اور محفلیں پھر لوٹ آئیں تھیں۔ اب ان میں بیگمات اور بچے بھی شامل تھے۔ یہاں سے ریڈیو پاکستان لاہور کے کئی سال انچارج رہنے کے بعد اسلام آباد میں ڈائرکٹر فنانس کے عہدے پہ چلے گئے تو رابطے کم ہو گئے۔ ہم کینیڈا منتقل ہونے کے جلد بعد سمیٹا سمیٹی کرنے پاکستان گئے تو وہ ریٹائر منٹ لے لاہور آ بسے تھے۔

بھابی کینسر کی مریضہ ہو چکی تھیں۔ بیٹی عنیزہ اپنے خالہ زاد ( غالباً ) کیپٹن عثمان فاروقی سے بیاہی جا چکی تھیں۔ بھابھی جلد ہی داغ مفارقت دے گئیں۔ اکرم فیصل آباد جڑانوالہ روڈ پہ کسی گاؤں میں زمین لے زمینداری کرنے تنہا وہاں آ بسے نومبر دو ہزار سات میرا آخری چکر پاکستان کا لگا تو لاہور میں آخری ملاقات ہوئی۔ واپسی کے بعد جلد ہی ان کے فون سے جواب آنا بند ہو گیا۔ سوشل میڈیا، فیس بک اور ہم سب کی نوازش نے اکثر دوستوں کے بچوں سے رابطہ کروا دیا مگر عنیزہ بیٹی تک نہ پہنچ پائے۔

ہاں چار پانچ برس قبل گھومتی گھامتی خبر نے کالج کے تمام دوستوں کی طرح اکرم کے بھی مستقل بسیرے پہ ڈیرہ ڈال لینے کا بتا دیا۔ چند ہفتہ قبل مہینہ میں ایک آدھ بار گھنٹہ دو گھنٹہ لگاتار گپ شپ لگانے والے کالج کے زمانے کے آخری دوست، خان محمد ( ستر کی دہائی کے گولڈن جیولرز والے ) بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ اس خبر نے میرے سامنے بڑی بیٹی کی شادی پر خصوصی بنوائی وہ تصویر نکال دی جس میں کالج کے بنے دس دوست ایک میز پر بیٹھے بشاش چہرے لئے وہ زمانہ دوہرا رہے تھے جب سائیکل پہ سوار کالج جاتے خوش گپیاں لگ رہی ہوتیں اور آگے کندھے سے کندھا ملائے نسبتاً آہستہ رفتار سے سائیکل چلاتے کالج کے اساتذہ نظر آ جاتے اور ہم راستہ تبدیل کر جاتے کہ اساتذہ سے آگے نکل جانا ہمارے لئے بے ادبی ہوتی۔ ہاں آج میں اس میز کے ایک کونے پہ خود کو اکیلے بیٹھے دیکھ رہا تھا۔

یو ٹیوب پہ پاکستانی چینل پہ خبر نامہ دیکھتے نیچے نظر پڑی تو نچلے چوکھٹے میں بیگم اختر کی تصویر اور نیچے بہزاد لکھنوی لکھا تھا۔

اب بیگم اختر کی پر سوز آواز گونج رہی تھی
میں ڈھونڈ رہا ہوں، میری وہ شمع کہاں ہے
جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے

اور پینسٹھ برس قبل سے شروع ہونے والی دوستیوں اور دلچسپیوں کی ہمیشہ جوان یادیں ڈھونڈ کے
گزری ہوئی دلچسپیاں،
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعء زندگی،
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر

گنگنا رہا تھا۔ بیگم اختر کی لے ختم ہونے پر چونک کے نظر اٹھائی تو سامنے پھر بہزاد لکھنوی کا نام تھا اور میں تصور میں افسر بہزاد کی آواز میں اعلان سننے لگ گیا۔
” یہ ریڈیو پاکستان کوئٹہ ہے۔ ابھی آپ ابا حضور کا کلام سماعت فرما رہے تھے، اب آپ محترم بھائی جان سے خبریں سنئے۔

 

Facebook Comments HS