ستار طاہر : ایک گمنام محقق اور ادیب


پاکستان میں ایک زمانے سے دانشوروں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ ہر کوئی دانشور ہونے یا بننے کا دعویٰ کر تا ہے۔ دانشور نہیں تو شاعر تو کہیں نہیں گیا۔ دو چار غزلیں کہیں یا پھر دو چار نظمیں لکھیں اور کچھ ادھر ادھر سے چرا لیا۔ چٹ پٹ سے پیسے پلے سے لگاٰئیں۔ اس کو چھاپے چڑھائیں۔ لو جی ایک شاعر تیار ہے۔ یہ ہی حال کچھ دانشوری کا ہے۔ کچھ لکھ لو چھپ ہی جاتا ہے۔ اگر آپ کے پاس چار پیسے ہیں تو آرٹ پیپر پر اپنی کتاب چھپوائیں اور بن جائیں دانشور۔ پھر آپ کی ہو گی بلے بلے اور گڈی ہو گی آپ کے تھلے۔

پاکستان کی نئی نسل کے کم لوگ ہی ستار طاہر کو جانتے ہوں گے۔ ستار طاہر ایک محقق، ادیب، مترجم اور صحافی تھے۔ میں بھی کوئی ستار طاہر کا بہت بڑا فین نہیں تھا۔ مجھے تو خود یہ پتا نہیں تھا کہ یہ کون ہے؟ کہاں کا رہنے والا ہے؟ ہاں ایک آدھ کتاب ضرور پرانی کتابوں کے سٹال سے خرید رکھی تھی۔ جو مجھے ان کی کتاب ملی اس کا نام تھا ”وائٹ پیپر“ ۔ تاریخ کا طالب ہونے کے ناتے جب اس کتاب پر میری نظر پڑی تو اس کی ورق گر دانی کی۔

اس کی فہرست کو بار بار دیکھا۔ کتاب کے مندرجات اہم تھے۔ اندر سے بھی ٹٹولا کہ اس کے اندر کیا ہے؟ کتاب دراصل ضیا دور حکومت کا کچا چھٹا ہے۔ اس دور پر لکھی گئی ایک اہم کتاب ہے۔ تاریخ اور سیاسیات سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو تو ضرور اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ایک عام قاری بھی اس سے استفادہ کر سکتا ہے۔ یہ کتاب پاکستان کی تاریخ پر ایک اہم دستاویز ہے۔ کتاب خرید لی جو اب میری لائبریری کا حصہ ہے۔ جستجو بڑھتی گئی کہ مصنف کی اور کتابوں کا بھی سراغ لگایا جائے۔ پرانی کتابوں کے لیے میں سر گرداں تو رہتا ہی تھا۔

سوشل میڈیا نے بھی اس ضمن میں بہت مدد کی۔ اب کیوں کہ بہت سے کام سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ہو رہے ہیں۔ کتابوں کا کاروبار بھی لوگ سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں۔ آن لائن کتابیں فروخت کرنے والوں سے رابطہ ہوا۔ ستار طاہر کی کوئی بھی کتاب نظر سے گزری وہ فوری خرید لی اور اپنی لائبریری کا حصہ بنا لیا۔ فیس بک پر دوستیاں بڑھیں تو ایک نئے دوست جو بنے ان کا نام اسلم ملک تھا۔ روز نامہ جنگ میں کام کرتے تھے۔ گزشتہ سال ہی وہ اپنی صحافیانہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے ہیں۔

جب ان کو فالو کیا تو پتا چلا کہ وہ تو علم اور معلومات کا ایک بحر بے کراں ہیں۔ ان کی تحریروں کو باقاعدگی سے پڑھنا شروع کیا جو علمی بھی ہوتی اور معلوماتی بھی۔ کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کی تصویر یہ تاثر پیش کرتی ہے کہ عجز و انکساری کا ایک پیکر ہیں۔ بہت ہی دھیما مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں۔ یہ تاثر ان کی تحریروں اور ان کی تصاویر سے بنا جو وہ بسا اوقات فیس بک پر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ فیس بک پر وقت گزرتا رہا۔

اسلم ملک صاحب کی تحریروں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ایک دن ان کی ایک تحریر جو ستار طاہر پر تھی نظر سے گزری۔ اس تحریر میں ستار طاہر کا مختصر تعارف دیا گیا تھا اور کوئی درجن بھر کتب کے نام بھی دیے گئے تھے۔ اس تحریر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ انہوں نے کم وبیش دو سو پچاس کتابیں لکھیں بشمول ان کتابوں کے جن کے انہوں نے غیر ملکی زبانوں سے اردو میں تراجم کیے ۔ یہ سب کچھ جان کر ایک طرف خوشی ہوئی کہ اتنا سارا کام ایک شخص نے تن تنہا کر دیا اور کسی کو اب خبر بھی نہیں ہے ان کی۔ دوسری طرف یہ سب جان کر پریشانی بھی ہوئی کہ ابھی تک کسی بھی پاکستانی یونیورسٹی کو یہ نصیب نہیں ہوا کہ کسی طالب علم سے ان پر ایم۔ اے یا ایم۔ فل کی کوئی تحقیق ہی کروائی جائے۔

ستار طاہر درج ذیل رسائل میں لکھتے رہے جن میں تخلیق، اردو ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ، کتاب اور سیارہ ڈائجسٹ شامل ہیں۔ انہوں نے بہت کچھ لکھا۔ بہت کچھ ان کی زندگی میں چھپ بھی گیا۔ اس کے باوجود ان کے بہت سے مضامین اور تراجم مختلف رسائل جرائد میں بکھرے پڑے ہیں۔ اگر کوئی ان کو ہی اکٹھا کرے تو کئی کتب بن سکتی ہیں؟ کوئی بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالنا پسند نہیں کرتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے طالب علم تن آسانی کا شکار ہیں۔ ان کو کسی ایسے موضوع کی تلاش ہوتی ہے جس پر کچھ محنت نا کرنی پڑے اور راتوں رات ڈگری ان کے ہاتھ میں آ جائے۔

ستار طاہر نے ایک گمنام زندگی گزاری۔ وہ قلم کا مزدور تھا۔ ساری عمر اس مزدوری کے ساتھ ہی جڑا رہا۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور میں خالد ہمایوں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے ستار طاہر کے بارے میں پوچھا تو وہ بڑے حیران ہوئے۔ وہ کہتے ہیں وہ ایک بہت ہی محنتی آدمی تھے۔ کتاب سے محبت کرتے تھے۔ ان کی جیب میں پیسہ ٹکتا نہیں تھا۔ جب بھی ان کے پاس پیسے آئے وہ فوری کتابیں خرید لیتے تھے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کوئی قدر نہیں کی جاتی۔

اسلم ملک صاحب نے پاکستانی دانشوروں، یونیورسٹی اساتذہ اور طلباء سے اپنی تحریر میں بھی گلہ کیا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی استاد ان پر کوئی ایم۔ اے یا ایم۔ فل کا مقالہ لکھواتا۔ لیکن کسی نے آج تک اس پر کان نہیں دھرا۔ ہمارے ہاں ایسے موضوعات کو کون تحقیق کے لیے چنے گا۔ انہوں نے کچھ مواد کی نشاندہی بھی جو ”تخلیق“ رسالہ نکالنے والے اظہر جاوید صاحب کے بیٹے سنان اظہر کے پاس موجود ہے۔

اظہر جاوید بھی ستار طاہر کے بہت اچھے دوست تھے۔ ستار طاہر کی وفات پر اظہر جاوید نے اسلام آباد سے نکلنے والے ایک رسالے ”ادبیات“ (1995) میں ان پر ایک مضمون بھی لکھا۔ مضمون کافی دلچسپ ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے ستار طاہر کے جاننے والوں اور دوستوں سے گزارش کی ہے کہ ”ستار طاہر جو تھا جیسا تھا، اس کو ایسا ہی پیش کرو۔ تم لوگ اس کے مرنے کے بعد اس کو فرشتہ بنانے پر کیوں تلے ہوئے ہو“ ۔

کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر شائع کرنے والوں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ یہاں میں ان کی چند ایک مشہور کتب کے نام لکھنے پر ہی اکتفا کروں گا۔ دنیا کی سو عظیم کتابیں۔ زیرو ہاور۔ زندہ بھٹو۔ مردہ بھٹو (ستار طاہر بھٹو کا بہت بڑا عاشق تھا) ۔ شہلا ہائری کی کتاب ”چاہت کا قانون“۔ ایران میں متع پر چونکا دینے والی کتاب۔ جس کی تلخیص ستار طاہر نے کی تھی۔ ای۔ ایم فوسٹر کے ہندوستان پر لکھے گئے انگریزی ناول A Passage to India کا ترجمہ ”آزادی سے پہلے“ کے نام سے کیا۔ سحر حلفیہ کے فلسطین پر لکھے گئے ناول کا ترجمہ ”مٹی خواب اور خون“ کے نام سے کیا۔ اسی طرح اور بے شمار اہم موضوعات پر قلم اٹھایا۔

حکومت پاکستان نے ان کی خد مات کے اعتراف میں 14 اگست 1996ء کو بعد از مرگ انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کار کردگی کا اعزاز عطا کیا۔ ستار طاہر جو ایک قلم کا مزدور تھا 25 مارچ 1993ء کو لاہور میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسلم ملک صاحب ہر سال ان کی پیدائش جو کہ یکم مئی 1940ء کے دن اور وفات کے دن اپنی تحریر ضرور فیس بک پر شیئر کرتے ہیں۔ ان کو شاید یہ امید ہے کہ کوئی نا کوئی اس قلم کے مزدور پر ضرور قلم اٹھائے گا اور اس کی تحریروں پر کچھ لکھے گا اور اس طرح یہ گمنام ادیب اور اس کی تحریریں لوگوں کے سامنے آ جائیں گی۔ گزشتہ سال بک کارنر جہلم والوں نے ستار طاہر کی دو کتابیں دوبارہ شائع کیں ہیں۔ ضرورت اس سے بڑھ کر ہے کہ ستار طاہر پر کوئی جامع قسم کا کام کروایا جائے۔

Facebook Comments HS