علمی ادبی سرقہ


یوں تو ادبی اور علمی سرقے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مذہبی کتابوں پر بھی اور شاعری پہ اور ادیبوں پر بہت سے الزامات ہیں، کچھ ثابت ہیں اور کچھ نہیں بھی۔ اس میں بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کے نام بھی آتے ہیں۔ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ لوگ کسی اور کی تحریر کو چوری کرتے اور بڑی بے حیائی کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ شائع کروا لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی اس موضوع پر اثبات رسالے نے سرقہ نمبر شائع کیا جس کے ایڈیٹر اشعر نجمی صاحب ہیں جنہوں نے بڑی محنت سے سرقہ شدہ تحریروں کو کو اکٹھا کیا۔

کسی زمانے میں پاکستان اور ہندوستان میں ایک دوسرے کی فلموں اور موسیقی چوری کے الزامات لگتے تھے کیونکہ کسی رسالے میں چھپی تحریر تو کم ادھر ادھر پہنچتی تھی فلم دونوں طرف دیکھی جاتی تھی۔ کہ اب انٹرنیٹ کا دور ہے۔ اور بھی سافٹ ویئرز ہیں لیکن کسی تحریر کے دو جملے صرف گوگل پر لکھیں تو بہت حد تک ممکن ہے کہ وہ آپ کو اصل تحریر تک پہنچا دے۔ لیکن سرقہ باز پھر بھی باز نہیں آتے۔

پچھلے دنوں لینہ حاشر جو اپنی ذات میں انجمن ہیں اور ہمارے ہر دلعزیز شاعر انور مسعود صاحب کی بیٹی اور بھائی حاشر ابن ارشاد کی اہلیہ ہیں کا ایک مضمون ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ ایک صاحب نے اپنے نام سے چھاپ لیا۔ ان کو توجہ دلائی گئی تو عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق موصوف نے ایسی ایسی تاویلیں دیں اور وہ وہ فیس بک اکاؤنٹ اپنی گواہی میں پیش کیے جو واجب چھوڑ موجود بھی نہیں تھے۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ سرقہ باز اثبات سرقہ نمبر کے وہی ایڈیٹر اشعر نجمی تھے۔

عبیداللہ علیم کی ایک مشہور غزل ہے ”ویران سرائے کا دیا ہے جو کون و مکاں میں جل رہا ہے“ ویران سرائے کا دیا ان کی شاعری کی دوسری کتاب بھی ہے۔ ڈاکٹر عقیل عباس جعفری نے نشاندہی کی ہے کہ ایک صاحب عمر فرحت نے معمولی تبدیلی کے بعد یہ غزل اپنے نام سے چھپوا رکھی ہے۔

عدنان خان کاکڑ کی ایک پوسٹ سے علم ہوا کہ ان سے کسی نے گلہ کیا ہے کہ وسعت اللہ خاں کی ایک تحریر وسعت کی نہیں بلکہ روبینہ فہیم نامی کسی خاتون کی ہے جو 2018 میں جنگ اخبار میں شائع ہوئی۔ ”اماں کا دل ایسا ہی تھا“ وسعت اللہ خاں کی نمائندہ تحریروں میں سے ایک ہے جو بی بی سی میں 2014 میں شائع ہوئی تھی۔ روبینہ فہیم صاحبہ نے اپنے ابا کی تنخواہ بھی وہی رکھی جو وسعت صاحب کے ابا کی تھی یعنی ساڑھے تین سو روپے اور تو اور درزی بھی غفور ہی رکھا جو وسعت کی اماں کا درزی تھا۔ بلکہ آپا نصیبن اور ڈاکٹر محسن بھی روبینہ فہیم کو اپنی اماں کی وفات پر وہی ٹکرے جن کا تذکرہ وسعت کرچکے تھے۔ اس سے بھی مزے کی بات کہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار میں یہ تحریر حرف بہ حرف شائع ہوئی۔

مضامین کی چوری کی بات تو ہوئی اب ایک تصویر کے سرقے کا ماجرا بھی سن لیجیے۔ کینیڈا میں مقیم تسلیم الہی زلفی جو اپنے لئے فنون لطیفہ کے ادبی سکالر کا ٹائٹل استعمال کرتے ہیں، نے فیض صاحب کے ساتھ بعد از وفات رسم و راہ بڑھانے کے لئے ایک ضخیم کتاب ”فیض بیروت میں، جلاوطنی کا دوسرا پڑاؤ“ لکھی اور اس میں یاسر عرفات کے ساتھ فیض صاحب اور اپنی تصویر بھی شائع کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ویسی ہی تصویر اخبارات میں پہلے ہی شائع ہو چکی تھی لیکن اس میں زلفی صاحب کی جگہ معروف مجلے لوٹس کے مدیر معین بسیسو تھے (فیض خود بھی لوٹس کے مدیر رہے) ۔ زلفی صاحب کی تصویر اور کتاب کی حقیقت پر اشفاق حسین صاحب نے ایک کتاب ”فیض بیروت میں حقیقت یا افسانہ“ بھی لکھی جو پڑھنے لائق ہے۔

علمی یا ادبی سرقہ کتنا بڑا جرم ہے دوسری بہت سی باتوں کی طرح نہ ہمیں اس کا احساس ہے نہ ادراک۔ تعلیمی لحاظ سے یونیورسٹی لیول پر بھی آپ پرانے مقالے نکلوا کر دیکھ لیں، زیادہ تر سرقہ شدہ یا بغیر حوالے کے لکھے ملیں گے۔ اب سنا ہے ایچ ای سی کے پاس ایسے سافٹ وئیر موجود ہیں جو چوری شدہ تحریر کو پہچان لیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں یہ کتنا بڑا جرم ہے دو واقعات اس ضمن میں یاد آ گئے جو قارئین کی دلچسپی کے لئے تحریر کیے دیتا ہوں۔

کینیڈا میں بارہویں کلاس کی انگریزی کی کلاس میں ہماری استاد نے ایک اسائنمنٹ دی جس کے نمبر فائنل نمبروں کے لئے بہت اہم تھے۔ ہم سدا کے ہمیشہ دیر کردینے والے ٹھہرے، رات گئے یاد آیا کہ صبح اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے۔ ادھر ادھر سے مواد اٹھایا، چھاپا اور اگلی صبح جمع کرا دیا۔ دو دن بعد واپس ملا تو ایک بڑا سا صفر منہ چڑھا رہا تھا اور ساتھ لال پنسل سے اصل تحریر کے حوالے بھی درج تھے۔ حیران سے زیادہ پریشان ہوئے، خاتون استاد کی منت سماجت کی کہ ہمیں قواعد کا علم نہیں تھا ایک آخری موقع دیں، بہت مشکل سے ایک دن میں نیا ”اپنا“ مضمون جمع کرانے پر راضی ہوئیں، ساتھ نصیحت کی کہ یونیورسٹی میں ایسا کام نہ کرنا ورنہ یونیورسٹی سے نکال دیے جاؤ گے۔

جرمنی کے ایک بہت قابل شخص، جو اکنامکس اور ٹیکنالوجی کے وزیر رہ چکے تھے، کو 2011 میں اس بات پر بطور وزیر دفاع استعفی دینا پڑا کہ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں کچھ مواد بغیر حوالے کے شامل تھا۔ موصوف کی یونیورسٹی نے ان کی پی ایچ ڈی بھی کینسل کردی۔ یہ سکینڈل Guttenberg Plagiarism Scandal کے نام سے مشہور ہوا۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس وقت کی وزیر تعلیم نے ایک معروف جرمن رسالے (ڈیر شپیگل) کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ ”علمی سرقہ معمولی بات نہیں ہے“۔

دلچسپ بات یہ کہ اس کے بعد ایک بلاگر نے نشاندہی کی کہ خود وزیر تعلیم صاحبہ کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں بھی کچھ مواد سرقہ شدہ یا بغیر حوالے کے ہے۔ اتنا دباؤ آیا کہ 2013 میں چانسلر انجیلا میرکل کو اپنی اس معتمد ساتھی وزیر تعلیم کا بھی استعفی قبول کرتے بنی اور ڈوزلڈورف یونیورسٹی نے موصوفہ کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی منسوخ کردی۔ موصوفہ نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کی لیکن عدالت نے بھی یونیورسٹی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

Facebook Comments HS