ساسانی سلطنت: برہنہ ہو کر سسک رہی ہیں صداقتیں سب


ساسانی سلطنت کا احوال تاریخ میں موجود ہے، اس سلطنت کا نظام شخصی، موروثی اور مطلق العنان تھا۔ بادشاہ ہی واضح قانون بھی تھا اور قانون نافذ کرنے والا بھی، عدالت ہو یا فوج ہر صیغے میں اسے اعلیٰ اختیارات حاصل تھے۔ وہ تمام دستوری اور قانونی بندشوں سے آزاد تھا۔ اس کی ذات رائے زنی اور تنقید سے بالا تھی۔ وہ اپنے اعمال میں خود مختار تھا اور کسی دینوی طاقت کے آگے جواب دہ نہ تھا۔ ملکی مصالح کے پیش نظر بوقت ضرورت اپنے امراء سے مشورے کرتا تھا لیکن کوئی فرد یا مجلس اس کی حاکمانہ حیثیت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی تھی۔ اس ”ساسانی“ سلطنت کے نئے جنم کے لیے ان دنوں ملک خداداد پاکستان میں تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ ایک شخص قانون سے بالاتر حیثیت رکھتا ہے جو وہ کہے اور جو اس کے حق میں کیا جائے وہی قانون ہے۔ اس کے لیے قانون کی ایک شق کی دو دو مختلف تشریحات کرنی پڑیں یا دو تین ججز بیٹھ کر آئین کو ری رائٹ کریں۔ ساسو ماں کی خواہش کو قانونی بنانے کے لیے داماد جی متحرک کیے گئے۔ ساس اور آس دونوں ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔

مغرب ہو یا مشرق ساس کا تذکرہ اس پھول کی طرح ہر جگہ ملتا ہے جسے کسی نام سے بھی پکاریں وہ پھول ہی رہتا ہے اسی طرح ساس ایک ایسا رشتہ ہے جو رشتوں کی جان ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ساس صرف ہمارے ہاں ہی پائی جاتی ہے مگر جب یہ فقرہ نظر سے گزرا اور ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ مغرب میں یہ بہت ہی مقبول ہے کہ ”آدم اور حوا دنیا کا وہ خوش قسمت ترین جوڑا تھا جن کی کوئی ساس نہیں تھی۔

ساس کو خوش دامن کہیں یا آج کی زبان میں مدر ان لاء، ہر تہذیب اور زبان میں سینکڑوں لطائف اس سے منسوب ہیں۔

گھر کی ساری رونق ساس سے ہے۔ دو دن گھر میں نہ ہوں تو گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ اگر بہوئیں انہیں اپنا استاد مان لیں تو کیا ہی اچھا ہو کل انہیں بھی ساس بننا ہے۔ پورا خاندان اور خاص طور پر داماد ساس کے دام ہمرنگ کا شکار ہوتا ہے۔ ایک لطیفہ کہیں پڑھا تھا کہ سکول کی چھٹیاں ہوئیں تو بچوں نے ابو سے وعدہ لیا کہ پہلے ہم دادا ابو اور دادو کی طرف جائیں گے۔ رات کا ”تخلیہ“ ہوا تو صبح سویرے ماں نے بچوں سے کہا کہ ابو سے بات ہو گئی ہے پہلے ہم نانو کی طرف چلیں گے۔ بچے بھاگم بھاگ ابو کی جانب لپکے ابو آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ دادو کی طرف جائیں گے۔

ابو نے کہا بیٹا میں نے بالکل وعدہ کیا تھا مگر بعض فیصلے بند دروازوں کے پیچھے بدلنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ آپ کی نانو نے بڑی محبت سے آپ کی ماما کو بلایا ہے۔

جب سے چائینیز کھانوں کا چلن عام ہوا ہے لوگ مختلف قسم کی ساسوں سے بھی متعارف ہوئے ہیں۔ چلی ساس سویا ساس ووسٹر شائر ساس مسٹرڈ ساس، ہاٹ ساس، گارلک ساس، جنجر ساس، سویا ساس، بار بی کیو ساس اور تیزی سے مقبولیت پاتے ہوئے پیزا ساس وغیرہ ہیں۔ ان انواع و اقسام کی ساسوں نے بھی لذت کام و دہن کو نئی راہیں دکھائیں۔

لیکن جس طرح کی ساسوں کا معاشرتی زندگی سے تعلق ہے۔ ان کا وجود کسی دلیل کا تو کیا کسی بھی وجہ کا محتاج نہیں ہے بندہ چاہے یا نہ چاہے یہ موجود ہوتی ہیں۔ ساس کے احکام کی پابندی سے ہی داماد کے لیے کچھ نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے لیکن اس میں بھی اسے ماں بیٹی مل کر ہاکی کے گیند کی طرح سمیع اللہ سے کلیم اللہ کی جانب بھگاتی ہیں۔ دوسری طرف لڑکے کو سسر کے پاس کچھ امان ملتی ہے۔ یہ دو ایسے مظلوموں کا اتحاد ہوتا ہے جن میں سے ایک ماں کے ہاتھوں ڈسا ہوتا ہے اور دوسرا بیٹی کے ہاتھوں۔

لیکن ساس اپنی اس خاص خوبی یعنی چلی ساس کی وجہ سے ہمیشہ ہی پیچ و تاب کھاتی نظر آتی ہے۔ چلی ساس مرچوں والی ساس کو کہا جاتا ہے۔

انگریزی والے ساس میں 5 یا 6 مادر ساس ہیں اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں 1500 سے زائد ذیلی ساس پائے جاتے ہیں لیکن اردو والی ساس کے معاملے میں ماہر نفسیات اور سائنسدان ہنوز تحقیق میں مصروف ہیں۔ کہتے ہیں جس طرح ہر شخص کے انگوٹھے کا فنگر پرنٹ مختلف ہوتا ہے اسی طرح ہر ساس اپنی ذات میں یگانہ و جداگانہ ہوتی ہے۔ تشکیکات، مشکلات، تحقیقات مسدودات اور سازشات کی ڈگریاں ہر ساس کو بچے یا بچی کے نکاح نامہ کے ساتھ تفویض کردی جاتی ہے۔

باورچی خانہ ہر ساس کا دارالحکومت ہوتا ہے۔ جس میں کسی بہو کی حاکمیت کو غاصبانہ قبضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے اپنی تمام ”ساسانہ“ حکمت عملی بروئے کار لاتے ہوئے کسی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ کھانوں میں لذت و ذائقے کے لیے ساس ڈالے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی ساس ساس سے زیادہ ذائقہ نواز اور چٹپٹا نہیں ہوتا۔ اکثر اوقات تو آنسو نکل آتے ہیں۔ مان لیں کھانوں میں انگریزی اور گھروں میں اردو کی ساس سے زندگی میں مزا ہے۔

ساسو ماں کی آڈیو کیا لیک ہوئی عدالت کی محبت کا امتحان بن گئی ہے۔ نہ جانے اس موڑ پر محبت کس انجام سے دوچار ہو؟ آڈیو کے مرکزی کردار دو معزز گھریلو خواتین ہیں، مبینہ طور پر ایک چیف صاحب کی ساس، اور دوسری سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم کی زوجہ ہیں۔ مدر ان لا کی نجی گفتگو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گلشن کا کاروبار کیوں نہیں چلنے دیا جا رہا۔ پورا پورا خاندان چیف بن کر، فوری الیکشن کی خواہش اور موجودہ حکومت کے ’فوری خاتمے کے لئے تڑپ رہا ہے، چاہے مارشل لا ہی کیوں نہ آ جائے۔ آئین کی پاسداری کی محبت اور آئین شکنی سے نفرت کے حوالے سے ”عدلیہ“ کے حالیہ اور بہت سے دوسرے عدالتی فیصلوں کی منطق یہ ویڈیو سمجھا رہی ہے۔

دوسری آڈیو میں ثاقب نثار خواجہ طارق کو شہباز شریف کو نا اہل کرانے کے لیے یوسف رضا گیلانی کی توہین عدالت کے فیصلے کو پڑھنے اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو نکالنے جانے والے فیصلے سے راہ نمائی لینے کا زریں مشورہ دے رہے ہیں۔ دونوں آڈیوز سے واضح ہوتا ہے کہ ایک گروہ نے آئین اور انصاف سے بالا بالا جو ہائی برڈ نظام کھڑا کیا وہ اب تک متحرک ہے، اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹ گئی مگر ثاقب نثار اور ان کے مغبچے، ساس اور بیگمات ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جن اصحاب نے برہنہ آئین شکنی کی تھی وہ سزا سے بچنے کے لئے ’ساسانی‘ سلطنت کا احیا چاہتے ہیں، اور وہ بھی ستمبر میں ہونے والی ”ریٹائرمنٹس“ سے پہلے پہلے۔ وقت کم ہے اس لیے مسلسل ہیجان پیدا کیا جا رہا ہے، یہ بات واضح ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی کے نام پر افراتفری اور مارشل لا کے لیے بیگمات کے دل تڑپ رہے ہیں، آڈیو میں ساس صاحبہ فرماتی ہیں ’مارشل لا بھی وہ کم بخت لگانے کو تیار نہیں‘ ۔ آئین میں 90 دن کے نام پر فوری انصاف کے لیے جو بے قراری ہے وہ مارشل لاء کے لیے ساسو ماں کی بے تابی میں دکھائی دے رہی ہے تاکہ شخصی اور مطلق العنانی کی ایک بار پھر راہ ہموار ہو سکے۔ یہ ہے آئین کے محافظت میں جتے ہوئے لوگوں اور ان کی ”ساسانی“ سلطنت کا اصلی رنگ۔

نظام انصاف و عدل پر یہ نہ جانے کیسا زوال آیا
برہنہ ہو کر سسک رہی ہیں صداقتیں سب

Facebook Comments HS