سنہ 1973 کا آئین ایک جج نے دھوتی باندھ کر لکھا تھا


جب آئین دھوتی باندھ کر لکھا گیا:

90 ء کی دہائی کے آخر میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد قومی روزنامہ نوائے وقت میں جسٹس (ر) محمد الیاس نے 1973 ء کے آئین کی تیاری میں اپنی معاونت اور اسے ڈرافٹ کرنے کے حوالے سے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک مضمون میں کئی دلچسپ باتیں بھی تحریر کی تھیں۔ جسٹس محمد الیاس کے مطابق ”گرمیوں کے دنوں میں وہ راتوں کو جاگ کر آئین کی ڈرافٹنگ کا کام کرتے تھے۔

رات کے وقت قومی اسمبلی کے کمروں میں گرمی اور حبس بہت زیادہ ہوتی تھی۔ اس کے باعث ایک پیڈسٹل فین کے ہمراہ وہ قومی اسمبلی کی عمارت کی چھت پر چلے جاتے تھے۔

شدید گرمی کی وجہ سے وہ دھوتی باندھے ہوئے ہوتے۔ ان کا ایک اسٹینو گرافر اور ٹائپسٹ بھی رات کے وقت ان کے ہمراہ کام کرتے تھے۔ میز پر ان کے سامنے مختلف ممالک کے آئین اور قوانین کے مسودے پڑے ہوتے۔ جنھیں وہ پڑھتے۔ پھر ان کا موازنہ کرتے ہوئے اپنے نوٹس تیار کرتے۔ بعد ازاں وہ اسٹینو گرافر کو ڈکٹیشن دیتے تھے۔ جو شارٹ ہینڈ میں لکھے ہوئے ڈرافٹ کو نیٹ کرتا۔ جنھیں بعد میں ٹائپسٹ ٹائپ کرتا تھا۔

گرمیوں کے دنوں میں قومی اسمبلی کی چھت پر یہ ہمارا بلاناغہ اور کئی مہینوں پر مشتمل شیڈول رہا۔ ”جسٹس محمد الیاس کے مطابق آئین کی تیاری کے علاوہ انہوں نے پارلیمنٹری وفود کے ہمراہ بطور ممبر/ سیکرٹری قومی اسمبلی، ممبران اسمبلی کے ہمراہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ایران اور ترکی کے مطالعاتی دورے بھی کیے۔

ایک خاتون کو گالیاں دینے کے الزام میں چیف جسٹس کے ہاں طلبی:

جسٹس محمد الیاس 60 ء کی دہائی میں جن دنوں لاہور میں سول جج تعینات تھے۔ ان کے اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ایم آر کیانی کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنہ 2018 ء میں ”روزنامہ پاکستان“ میں ایس چوہدری نے یوں رقم کیا تھا۔ ”ایک دن سول جج چوہدری محمد الیاس کی عدالت میں تحریک پاکستان کی ایک خاتون لیڈر فاطمہ بیگم بطور گواہ پیش ہوئیں، تو چودھری الیاس نے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ان کو ڈانٹ ڈپٹ کر دی۔ وہ اس بدسلوکی پر رنجیدہ ہوئیں۔ وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم آر کیانی کے پاس پہنچ گئیں۔ اور ان سے کہا کہ چودھری محمد الیاس نوآموز سول جج ہیں، انہیں خواتین سے بات کرنی نہیں آتی اور انہوں نے مجھے گالیاں دی ہیں۔

یہ شکایت سنگین قسم کی تھی اور شکایت کنندہ خاتون بھی معتبر تھی۔ تاہم جسٹس کیانی نے سول جج کی فہمائش کرنے کے لئے بہت باوقار طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ و سیشن جج کو ایک چٹ یہ لکھ کر بھیجی ”کیا آپ مسٹر الیاس کو کہیں گے کہ وہ کسی دن اپنی عدالت کو جاتے ہوئے مجھے مل لیں۔ “

ڈسٹرکٹ و سیشن جج نے وہی چٹ چودھری الیاس کو بھیج دی۔ جب چودھری الیاس جسٹس کیانی کو ملے تو جسٹس نے پوچھا ”کیا فاطمہ بیگم آپ کے روبرو بطور گواہ پیش ہوئی تھی؟“

چودھری الیاس نے جواب اثبات میں دیا تو پوچھا گیا ”کیا آپ نے اس کو گالیاں دی تھیں؟“ چودھری الیاس نے کہا ”گالیاں تو نہیں دی تھیں البتہ جھڑکا ضرور تھا۔ کیونکہ وہ جرح میں وکیل کے سوالوں کے جواب ادب کے دائرے میں رہ کر نہیں دے رہی تھیں۔ “ اس پر جسٹس کیانی نے کہا ”میں نے آپ کی طرف سے اس سے معافی مانگ لی تھی۔ آپ کوشش کریں کہ آئندہ مجھے آپ کی طرف سے کسی بھی اور شخص سے معافی نہ مانگنی پڑے۔ “

”ہر اک کمال کے لیے عہد زوال ہے :“

رواں ماہ 1973 ء کے آئین کو بنے پچاس سال ہو گئے۔ قومی اسمبلی میں اس کی سلور جوبلی دھوم دھام سے منائی گئی۔ اس آئین کو بنانے والی کمیٹی اور اس وقت کی قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو تقاریر میں خوب خراج تحسین پیش کیا گیا۔ جو اسمبلی کے ریکارڈ میں محفوظ رہے گا۔ مگر کسی نے بھی حقیقی معنوں میں اس آئین کو ڈرافٹ کرنے والے جج کا نام نہیں لیا۔ مگر مجھے گرمیوں کی حبس زدہ راتوں میں دھوتی باندھ کر 1973 کا آئین لکھنے والا جج، جسٹس محمد الیاس بے اختیار یاد آیا۔ گویا یاد ماضی نے کیا کیا نقوش تاباں کر دیے۔

جسٹس (ر) محمد الیاس بنیادی طور پر ایک سیلف میڈ انسان تھے۔ گاؤں کے ایک عام سکول ٹیچر چوہدری کرم الٰہی کا بیٹا ہونے کے ناتے انہوں نے زندگی کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔ اپنی خداداد ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر انہوں نے ایک ایک سال کے دوران کئی کئی کلاسیں پاس کر کے کامیابیوں کے ریکارڈ قائم کیے۔ بطور جج ایک شاندار، باوقار اور بھرپور لائف گزاری۔ جسٹس محمد الیاس نے ریٹائرمنٹ کے بعد مضامین لکھنے کے علاوہ اردو اور پنجابی میں شاعری بھی کی۔ شاعری میں حمد اور نعت ان کا خاص موضوع رہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے۔

اپنی آخری عمر میں بینائی چلے جانے اور معمر ہونے کے باعث وہ کافی علیل رہے۔ پاکستانی عدلیہ کی عزت اور وقار کا باعث بننے والے جج، جسٹس (ر) محمد الیاس 90 سال کی عمر میں 16 فروری 2021 ء کو اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اپنی وصیت کے مطابق وہ مزار بابا شاہ جمال قبرستان لاہور میں اپنی اہلیہ کی مرقد کے ساتھ آسودۂ خاک ہیں۔

جو اقتدار سے ہوئے محروم جان لیں
ہر اک کمال کے لئے عہد زوال ہے
طے کیں بہت مسافتیں کہسار و دشت میں
الیاس اب تو گھر میں بھی چلنا محال ہے
(جسٹس (ر) محمد الیاس)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2