مصنوعی ذہانت
آج کل مصنوعی ذہانت کا بہت چرچا ہے ۔اِس کے ساتھ اِس کے نقصانات وغیرہ کے بارے میں بھی بہت باتیں ہو رہی ہیں۔لیکن اِن سب کے باوجود مصنوعی ذہانت کی ترقی جاری ہے۔
لیکن مصنوعی ذہانت کو بناتے بناتے انسان خود کھوکھلا ہو گیا ہے۔مثلا موبائل فون ہماری بہت زیادہ ضرورت کی اور انتہائی مفید چیز ہے لیکن اس کے بہت سارے نقصان بھی ہیں۔جیسے راہ چلتے لوگ موبائل کی سکرین پر اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ کسی کھلے مین ہول میں گر کر یا سڑک پر آتی جاتی گاڑی سے ٹکڑا کر حادثہ کروا بیٹھتے ہیں۔لوگ ہر وقت اپنے موبائل کی سکرینوں میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ماں باپ، بہن بھائی یا دیگر عزیزو اقارب سے براہ راست بات چیت کرنے، اُن کی خبر گیری کرنے کے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتے۔یوں رشتوں کی مظبوط ڈوری کمزور پڑ جاتی ہے۔یعنی کہا جا سکتا ہے کہ انسان مصنوعی ذہانت ایجاد کرتے کرتے خود مصنوعی ہو چکا ہے۔
ویسے اس سے بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہوگی۔ جب مصنوعی ذہانت ہر جگہ عام ہو جائے گی اور آج کل تو لوگ وزیروں کو کوس لیتے ہیں کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے لیکن پھر مصنوعی ذہانت کے ماہر روبوٹ آ جائیں گے جو اپنے اپنے شعبے کے ماہر ہوں گے اور کوئی نااہلی نہیں دکھائیں گے۔
لیکن ایک بات ہے، مصنوعی ذہانت کی وجہ سے بہت سی نوکریاں ختم ہوں گی تو خواتین کو گھر پر طرح طرح کے مزیدار کھانے پکانے کا وقت مل جائے گا۔لیکن دوسری طرف گھر میں کھانا پکانے صفائی ستھرائی کرنے کے لیے بھی خود کار روبوٹ ملیں گے تو نہ صرف گھریلو خواتین کےکرنے کے لیے کوئی کام باقی نہیں رہے گا بلکہ گھریلو ملازماؤں کی نوکریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔استاد محترم نصرت جاوید کے بقول”جان کی امان پاؤں تو عرض کروں”کہ یہ تو بڑا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوگا۔ اِن سب اچھے کاموں کا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ کسی کی بھی نوکری پائیدار نہیں رہے گی۔ یوں روبوٹ سے ہونے والی آسانیاں خریدنے کے لیے کسی کے پاس رقم نہیں رہے گی۔ویسےآج کل تو لوگ کوئی کھانا کھاتے وقت ہوٹل والے یا خاتون خانہ سے شکایت کرتے ہیں کہ اس میں نمک یا گھی یا مرچ وغیرہ تیز یا بہت کم ڈال دیے ہیں لیکن جب مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹ یہ کام کریں گے تو وہ کبھی ایسی غلطی نہیں کریں گے۔ نتیجے میں ہر وقت ایک جیسے ذائقے کے مزیدار کھانے ملیں گے۔ لیکن اُن کو کھا کھا کر تو خواتین اور مرد کھا کھا کر گارفیلڈ کی طرح خوب موٹے ہو جائیں گے اور اُن کا حال بھی شاید گارفیلڈ کی طرح ہو جائے گا کہ پہلی گارفیلڈ فلم میں جب مالک "جون” کمرے میں چوہا دیکھ کر گارفیلڈ کو کہتا ہے کہ "ارے گارفیلڈ، وہ دیکھو، چوہا، اُسے پکڑو”تو گارفیلڈ کہتا ہے کہ "جون تم ہی اسے پکڑ لو۔”


