عمران خان ہی کیوں؟
پاکستان میں سیاست پر گفتگو عمران خان کا حوالہ یا ذکر کیے بغیر ممکن نہیں، اسے سابق کرکٹر کی حکمت عملی اور سیاسی چال کا حصہ سمجھیں یا پھر ایسے حالات کا نتیجہ جس میں انہیں ایک نوآموز لیڈر سے مقبول بنا دیا۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مارچ 2022 میں اگر عمران خان کی حکومت ہٹا کر عام انتخابات منعقد کرائے جاتے تو انہیں بری طرح شکست ہوتی جبکہ ایک عام رائے اور جائزوں میں بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ ایک برس کی اقتصادی پالیسیوں اور مہنگائی کی تیزی سے بڑھتی صورتحال کے باعث اتحادی حکومت کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے چیئرمین آگے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں پی ڈی ایم کی پے درپے ناکامیوں کا مسلسل فائدہ پہنچ رہا ہے اور شاید یہی ایک وجہ ہے جس کو بنیاد بنا کر الیکشن سے گریز یا فرار کے مختلف آئینی اور قانونی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کو اپنے دور اقتدار میں اس تنقید کا سامنا رہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر آئی اور اگر ریاست کے طاقتور ستون کی پشت پناہی ختم کردی جائے تو کہیں بھی دکھائی نہ دے بلکہ کسی بھی حلقے سے جیت نہ سکے، لیکن یہ حقیقت بھی آشکار ہو گئی کہ ایسا نہیں ہے، اداروں کی مخالفت کے باوجود ضمنی الیکشن میں تواتر سے کامیابی نے اس بات کو بھی غلط ثابت کر دیا، شاید یہی کامیابیاں عمران خان کو سیاسی طور پر مضبوط بنانے اور کسی سے بات نہ کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ انہیں مستقبل میں بھی اپنی واضح جیت دیوار پر لکھی دکھائی دے رہی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ ایک برس کے دوران سیاست نے کئی پہلو بدلے اس عرصے میں سوشل میڈیا پر بہت کچھ ہوا، اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت وی لاگ اور یوٹیوب چینل چلانے والوں کی اکثریت جنہیں بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے وہ عمران خان کے حمایت اور ان کی مخالفت کو موضوع بناتے ہیں۔ یعنی دونوں حوالوں سے عمران خان کا ذکر سننے میں ملتا ہے۔ عمران خان کے مخالفین جس قدر تنقید، طنز، نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں، کپتان کے حامی اسی شدت سے محبت پسندیدگی اور لگاؤ کا مظاہرہ کرتے ملیں گے۔ جس کا ایک رنگ گزشتہ کچھ مہینوں سے لاہور کے زمان پارک میں عمران خان کی رہائش کے باہر جمع ہونے والے کارکنوں اور چاہنے والوں کی حرکات و سکنات سے دیکھنے میں ملتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں جہاں پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی حقیقت بن چکی ہے وہیں اس میں بھی دوسری جماعتوں کی طرح جمہوری سوچ کا قدرے فقدان پایا جاتا ہے عمران خان کا اردگرد مشیروں کا حلقہ وسیع ضرور ہے لیکن فیصلے وہ بھی اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ اہم فیصلہ لیتے وقت وہ بھی نواز شریف اور آصف زرداری سے مختلف نہیں ہوتے۔ عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کا بیانیہ بڑا کامیاب رہا۔ سیاست کا یہی اسلوب ہے لوگ کسی نعرے کا تعاقب کرتے ہیں۔ دوسرے سیاست کا ایک اصول ہے کسی کا عمومی تاثر قائم ہو جائے کہ وہ جیت جائے گا یا وہ مقبول ہے ایک بڑی تعداد اسی تاثر سے مرعوب ہو کر ووٹ دیتی ہے۔ حکمرانی مل جانے کے بعد دعوؤں اور اعلانات کے ذریعے کام چلایا جاتا ہے۔
سیاست میں عوام کے اعصاب پر سوار ہو کر اپنی جگہ بنائی جاتی ہے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے خیالات بھی سیاسی قیادت سے متعلق ہوتے ہیں۔ عمران خان نے ماضی کے سیاستدانوں سے بیزار ایک بڑی تعداد کو اپنے پیچھے لگایا ہے جنہوں نے تبدیلی کے نعرے پر لبیک کہا مگر انہیں کپتان کی اننگز مطلب دور اقتدار پر مایوسی ہوئی۔ ملک کی معاشی بدحالی کے نتیجے میں لوگ پریشان ہو گئے۔ مارچ 2022 تک عمران خان کی پالیسیوں کا دفاع اور پشت پناہی کرنے والوں نے بھی ہاتھ کھڑے کرلئے تھے۔ مگر عمران خان کے مخالفین کی بدقسمتی کہہ لیں جہاں اتنی محنت سے انہیں منظر سے ہٹایا وہیں ان کی قسمت نے ایک بار پھر یاوری کی اور اقتدار سے اترنے کے باوجود ستارے دوبارہ چمکنے لگے۔ وہ اپنے مخالفین کے اعصاب پر سوار ہوچکے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور بھی عمران خان پر تنقید رہ چکا ہے۔
لوگوں کو سیاست اور اصل مسائل سے آگاہی دینے کے لئے انہیں عمران خان کی سیاسی انتظامی خامیاں دکھانا ضروری ہے لیکن آپ کے پاس متبادل کچھ ٹھوس نکات ہونے چاہئیں جنہیں بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ لڑا جائے۔ محض اخلاقی طور پر کمتر یا نیچا دکھا کر مخالف کی تذلیل کر کے اسے شکست دینے کی کوشش ایک ایسی حرکت ہے جسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
عمران خان کی غلطیوں اور بحیثیت انسان خامیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر افسوس یہ مخالفین کو فطری طور پر دکھائی دیتی ہیں حامی اور چاہنے والے یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کپتان کے ناقدین اس کے مخالفین کی خراب اور کمزور حکمت عملی پر مایوس ہو کر ان کی وکالت ترک کرنے لگے ہیں۔ بڑی وجہ طرز حکمرانی میں کوئی خاص فرق یا بہتری نہ لانا بھی ہے۔ عالمی اداروں کی تسلی کرنے میں پی ڈی ایم حکومت کو کامیابی نہیں ہو رہی۔ عوام گزشتہ چار سال سے زیادہ اس ایک سال میں خوار ہوچکے ہیں۔
انہیں دونوں میں فرق کرنا پڑے تو پی ٹی آئی میں زیادہ خرابی دکھائی نہیں دیتی۔ اس دور میں کرپشن کا شور اپوزیشن نے بہت مچایا لیکن اس سال میں توشہ خانہ والا کیس مضبوط بنیادوں پر نہیں کھڑا ہے۔ صرف میڈیا پر ایک تنقید کا سیلاب ہے جس میں ہر جائز اور ناجائز طریقے کا سہارا لیا جا رہا ہے یہاں تک کہ عمران خان کو منظر سے ہٹانے کی بات بھی محض الزام نہیں ایک بھرپور خواہش ہے۔
اس ساری صورتحال میں سابق کرکٹر نہ صرف سب کی توجہ کا بدستور مرکز ہے بلکہ حامی اور مخالفین دونوں کے اعصاب پر سوار ہیں۔ سیاست آئینی اور قانونی بحث میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ اداروں اور ان کے ذمہ داروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سیاسی مخاصمت کے نتیجے میں کئی راز افشاء ہوئے کئی اہم شخصیات بے نقاب ہوئیں۔ نئی نسل کسی مناسب سیاسی تربیت کی عدم دستیابی کے باوجود کچھ کچھ معاملات سے آگاہ ہوتی جا رہی ہے۔
انہیں علم ہو رہا ہے کہ خرابیوں کی اصل وجہ اور پس پردہ قوتیں کون تھیں جنہوں حالات اس نہج تک پہنچائیے۔ نوجوانوں کو خرابی کا تھوڑا بہت ادراک ہو چکا ہے اب اصل مسئلہ معاملات کو سدھارنے کا ہے۔ وہ ابھی کٹھن ہے کیونکہ تمام سیاسی قائدین موقع ملنے کے باوجود کچھ نہیں کر پائے۔ اب نئی نسل کی قیادت کون سنبھالے گا وہی راستے کا تعین کرے گا۔ عمران خان سے امید کرنا آسان نہیں محض گمان ہی کیا جا سکتا ہے۔


